27/07/2025
اگر کل تک آپ نے صرف چیٹ جی پی ٹی کو ایک باتونی اسسٹنٹ سمجھا تھا تو آج جان لیجیے، چیٹ جی پی ٹی ایجنٹ وہی اسسٹنٹ ہے، مگر اب وہ آپ کی بجائے خود سوچ کر کام بھی نمٹاتا ہے۔
انسٹرکشنز دو، وہ خود فیصلہ کرے گا کہ پہلے کیا کرنا ہے، کہاں سے ڈیٹا لانا ہے، کس فائل کو کھولنا ہے، کوڈ چلانا ہے یا ای میل بھیجنی ہے، اور آخر میں مکمل رزلٹ آپ کے سامنے لا کے رکھ دے گا۔ یہ سب آٹومیٹڈ۔
یہ ایجنٹ اصل میں ہے کیا؟
ایک سافٹ ویئر بیرہ (بحریہ) سمجھیں جو زبان، کوڈ، انٹرنیٹ اور ڈیٹا بیس سب سے جڑ کر کام کرتا ہے۔
آپ ٹاسک بتاتے ہیں: ’’میرے اسٹور کی سیلز رپورٹ بنا دو اور کم منافع والے آئٹمز الگ دکھاؤ۔‘‘
وہ پہلے سوچتا ہے، پھر منصوبہ بناتا ہے، پھر قدم بہ قدم فائلیں پڑھتا، فارمولے چلاتا، گراف کھینچتا، اور آخر میں ایک جامع فائل تھما دیتا ہے۔
یہ چلتا کیسے ہے؟
اندرونِ خانہ تین چیزیں ساتھ ملتی ہیں:
۱ چیٹ جی پی ٹی کا دماغ
۲ ٹولز تک رسائی (کوڈ رَن کرنے کی طاقت، ویب سرچ، ڈیٹا بیس کنکشن وغیرہ)
۳ آٹو میٹڈ اینالیسز (ہر قدم کے بعد چیک کرنا کہ کام درست ہو رہا ہے یا نہیں)
یوں یہ ایجنٹ ایک چھوٹے پروجیکٹ منیجر کی طرح پوری دلجمعی سے کام سنبھالتا ہے۔
کِن شعبوں کی نیند اُڑنے والی ہے؟
ڈیٹا انٹری اور بنیادی رپورٹنگ: گولڈمین سَیکس کے تخمینے کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 300 ملین جابز براہِ راست یا بالواسطہ آٹومیشن کے دائرے میں آ سکتی ہیں۔
کال سینٹر سپورٹ: ٹیسلا اور ڈِسکارڈ جیسی کمپنیاں پہلے ہی ایجنٹ پر مبنی چیٹ بوٹس سے ہزاروں کالز کا لوڈ کم کر چکی ہیں۔
جونیئر پروگرامنگ اور کوالٹی ٹیسٹنگ: ایک حالیہ اسٹینفرڈ ایم آئی ٹی مطالعے میں، کوڈ والی ٹیمیں جب ایجنٹ استعمال کرتی ہیں تو پروڈکشن رفتار 2.7 گُنا بڑھ گئی۔
بنیادی اکاؤنٹنگ و بک کیپنگ: آٹومیشن ٹولز بینک اسٹیٹمنٹ سے لے کر ٹیکس فائل تک خود بھرتے دکھائی دے رہے ہیں۔
پھر کرنا کیا ہے؟
مسئلے حل کرنے کی سوچ اپناؤ، فائلیں گھسيٹنے کا وقت گیا۔
ڈیجیٹل سکل سیٹ وسیع کرو: ڈیٹا اینالیٹکس، آٹومیشن ورک فلو ڈیزائن، بنیادی کوڈنگ۔
ایجنٹ سے دوستی کرو:
چھوٹے کام اسے دو، اور رزلٹ دیکھو۔
غلطی پکڑو تو فیڈ بیک دو۔
چھوٹے ٹاسکس کرواتے کرواتے اتنا ٹرین کرو کہ بڑے پروجیکٹ پر منتقل ہو سکو۔
جہاں کبھی ہم فخر سے کہتے تھے ’’میں ایکسل ماسٹر ہوں‘‘ وہاں اب جملہ بدلنے جا رہا ہے:
’’میں اے آئ