04/08/2026
شکست صرف ایک نتیجہ ہے، انجام نہیں!
عبدالخطیب چوہدری صاحب!
تاریخ گواہ ہے کہ زندگی میں کوئی بھی بڑی کامیابی پہلی کوشش میں نہیں ملی۔ دنیا کے بے شمار رہنما، سائنسدان، کھلاڑی اور عظیم شخصیات بار بار ناکام ہوئیں، مگر انہوں نے ہمت نہیں ہاری، اسی لیے آج تاریخ ان کے نام سے لکھی جاتی ہے۔
آپ جانتے تھے کہ مقابلہ ایسے سیاستدانوں سے ہے جو برسوں سے اس میدان کے کھلاڑی ہیں، جن کے پاس مضبوط سیاسی ڈھانچے، وسائل اور طویل تجربہ موجود تھا۔ اس کے باوجود آپ نے میدان چھوڑنے کے بجائے عوام کے درمیان جانے کا فیصلہ کیا۔ یہی فیصلہ آپ کی اصل جیت ہے۔
یاد رکھیں، جو شخص میدان میں اترنے سے ڈر جائے، وہ کبھی تاریخ نہیں بناتا۔ تاریخ ہمیشہ وہی لکھتے ہیں جو حالات سے ٹکراتے ہیں۔
اور ایک مشہور مثال یہ بھی ہے کہ ابراہم لنکن متعدد انتخابات ہارنے کے بعد بالآخر امریکہ کے صدر بنے۔ اگر وہ ہر شکست کے بعد ہمت ہار جاتے تو شاید تاریخ انہیں کبھی یاد نہ رکھتی۔
یہ الیکشن ایک مرحلہ تھا، پوری منزل نہیں۔
آپ نے ثابت کیا کہ حوصلہ، جرات اور عوام سے رابطہ کسی بھی سیاستدان کا سب سے بڑا سرمایہ ہوتا ہے۔ آج اگر نتیجہ آپ کے حق میں نہیں آیا تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ کل بھی ایسا ہی ہوگا۔
یاد رکھیں! درخت ایک دن میں تناور نہیں بنتا، دریا ایک لمحے میں راستہ نہیں بناتا، اور بڑے سیاسی سفر ایک انتخاب سے ختم نہیں ہوتے۔
جو لوگ میدان نہیں چھوڑتے، وقت ایک دن کامیابی ان کے قدموں میں رکھ دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ آپ کو استقامت، عزت اور آئندہ ہر امتحان میں کامیابی عطا فرمائے۔ آمین۔