22/05/2026
اوپن یونیورسٹی امتحانات: 40 سال سے زائد عمر طلبہ کے لیے الگ انتظام وقت کی ضرورت:
Allama Iqbal Open University سے تعلیم حاصل کرنے والے 40 سال سے زائد عمر کے متعدد طلبہ نے امتحانی نظام میں بہتری کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے لیے الگ امتحانی انتظامات کیے جائیں تاکہ وہ زیادہ پُرسکون ماحول میں امتحان دے سکیں۔
طلبہ کا کہنا ہے کہ اوپن یونیورسٹی ملک بھر کے اُن افراد کے لیے ایک بہترین تعلیمی ادارہ ہے جو مختلف مجبوریوں، مالی مسائل، گھریلو ذمہ داریوں یا ملازمت کی وجہ سے اپنی تعلیم مکمل نہیں کر سکے۔ یہی وجہ ہے کہ بڑی تعداد میں عمر رسیدہ افراد بھی تعلیم کا سفر دوبارہ شروع کرتے ہیں تاکہ اپنے خواب پورے کر سکیں۔
تاہم امتحانات کے دوران جب 40، 45 یا 50 سال عمر کے طلبہ کو 18 سے 22 سال کے نوجوان طلبہ کے ساتھ ایک ہی ہال میں بٹھایا جاتا ہے تو بہت سے افراد ذہنی دباؤ، جھجھک اور شرمندگی محسوس کرتے ہیں۔ بعض طلبہ کے مطابق وہ خود کو غیر آرام دہ محسوس کرتے ہیں، جس کی وجہ سے امتحان پر مکمل توجہ دینا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔
طلبہ نے مطالبہ کیا ہے کہ اوپن یونیورسٹی سینئر طلبہ کے لیے الگ ہال، یا خصوصی نشستوں کا انتظام کرے تاکہ وہ عزت، اعتماد اور سکون کے ساتھ اپنے امتحانات مکمل کر سکیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تعلیم کسی بھی عمر میں حاصل کرنا باعثِ فخر ہے اور ایسے طلبہ کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے، نہ کہ انہیں احساسِ جھجھک کا سامنا کرنا پڑے۔
شہری اور سماجی حلقوں نے بھی اس مطالبے کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ Allama Iqbal Open University کو عمر رسیدہ طلبہ کی نفسیاتی اور سماجی کیفیت کو مدنظر رکھتے ہوئے امتحانی نظام میں مثبت تبدیلی لانی چاہیے تاکہ ہر عمر کے افراد باعزت انداز میں تعلیم حاصل کر سکیں۔
کیا آپ بھی اس مطالبے سے اتفاق کرتے ہیں؟ اپنی رائے دیں
AAllama Iqbal Open University