KahutaVoice

KahutaVoice کہوٹہ کی خوبصورتی، خبریں اور مقامی ثقافت سب کچھ ایک جگہ! کہوٹہ وائس' کو فالو کریں اور اپنے پیارے شہر کہوٹہ کی آواز بنیں۔

02/09/2026
1993 سے 2026 تک… 33 سال کا فرق! 1993 میں 651.50 روپے میں یہ سب کچھ مل جاتا تھا،اور آج 2026 میں انہی پیسوں میں شاید صرف ا...
02/09/2026

1993 سے 2026 تک… 33 سال کا فرق!
1993 میں 651.50 روپے میں یہ سب کچھ مل جاتا تھا،
اور آج 2026 میں انہی پیسوں میں شاید صرف ایک کلو گھی آئے! 🤔
مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی کہاں سے کہاں پہنچا دی؟
آپ کے خیال میں 1993 بہتر تھا یا 2026؟ 👇

#1993 #2026

برطانیہ دنیا کا امیر اور ترقی یافتہ ملک ہے لیکن برطانوی ہائی کمشنر عشائیہ میں ٹیکسی میں آتی ہیںپاکستان غریب اور ترقی پذی...
02/09/2026

برطانیہ دنیا کا امیر اور ترقی یافتہ ملک ہے لیکن برطانوی ہائی کمشنر عشائیہ میں ٹیکسی میں آتی ہیں
پاکستان غریب اور ترقی پذیر ملک ہے لیکن اس کے باوجود ہمارے غیرمنتخب حکمران اسی تقریب میں مہنگی ترین گاڑیوں میں پہنچتے ہیں، یہ فرق ہے، محمد زبیر کی تنقید

والدین کا سوال، جواب کون دے گا؟کہوٹہ: تین ماہ کی گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد بچوں کے ہاتھ میں ڈائریاں تھما کر دو ماہ کی فیس ...
02/09/2026

والدین کا سوال، جواب کون دے گا؟
کہوٹہ: تین ماہ کی گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد بچوں کے ہاتھ میں ڈائریاں تھما کر دو ماہ کی فیس جمع کروانے کی ہدایت کیوں؟
جب بچے ابھی دوبارہ سکول گئے ہی نہیں، تعلیمی سرگرمیاں مکمل طور پر بحال نہیں ہوئیں اور گرمیوں کی چھٹیوں کا دورانیہ بھی غیر معمولی طور پر طویل رہا، تو والدین سے دو ماہ کی فیس یکمشت وصول کرنے کی منطق کیا ہے؟
والدین کا کہنا ہے کہ اگر سکول بند تھے تو اس عرصے کی فیس کس بنیاد پر وصول کی جا رہی ہے؟ جبکہ دوسری جانب بچوں کی تعلیم، کتابوں، یونیفارم اور دیگر اخراجات پہلے ہی والدین پر اضافی بوجھ بن چکے ہیں۔
محکمہ تعلیم سے والدین کا مطالبہ ہے کہ اس معاملے کی وضاحت کی جائے کہ چھٹیوں کے دوران فیس وصول کرنے کا قانونی جواز کیا ہے اور نجی سکولوں کو اس حوالے سے کیا ہدایات جاری کی گئی ہیں؟
سوال سادہ ہے، جواب کون دے گا؟
#تعلیم #والدین #پنجاب

کیا آپ کا بیٹا یا بیٹی کلاس نہم کے کسی مضمون میں ناکامہو گئے ہیں یا کسی بھی وجہ سے کم نمبر آئے ہیں تو پریشان ہونے کی ضرو...
02/09/2026

کیا آپ کا بیٹا یا بیٹی کلاس نہم کے کسی مضمون میں ناکام
ہو گئے ہیں یا کسی بھی وجہ سے کم نمبر آئے ہیں تو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں آج ہی انتخاب کریں رفاہ اکیڈمی کلر سیداں
جہاں تجربہ کار اساتذہ کی زیر نگرانی تمام طلباء و طالبات پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے.





کہوٹہ: خاتون مبینہ تشدد کے بعد جاں بحق، ورثاء کا پوسٹ مارٹم رپورٹ تبدیل کرنے اور انصاف نہ ملنے کا الزام چھوٹے بچوں کے سر...
01/09/2026

کہوٹہ: خاتون مبینہ تشدد کے بعد جاں بحق، ورثاء کا پوسٹ مارٹم رپورٹ تبدیل کرنے اور انصاف نہ ملنے کا الزام

چھوٹے بچوں کے سروں سے ماں کا سایہ اٹھ گیا… مگر اہلِ خانہ آج بھی انصاف کے منتظر!
کہوٹہ کے محلہ گریڈ اسٹیشن میں ثمینہ اصغر کی 23 اگست کو مبینہ تشدد کے بعد موت نے کئی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ مقتولہ کے اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ ثمینہ کو پہلے بھی مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا، تاہم 23 اگست کو ہونے والے شدید تشدد کے بعد وہ جانبر نہ ہو سکیں۔
مقتولہ کے بھائی نعمان اصغر کے مطابق، ان کی بہن کے چھوٹے بچے آج ماں سے محروم ہو چکے ہیں اور خاندان انصاف کے لیے دربدر ہے۔
اہلِ خانہ نے الزام عائد کیا ہے کہ واقعے کے بعد ہسپتال انتظامیہ نے پولیس کو بروقت اطلاع نہیں دی، جبکہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں مبینہ تشدد کے نشانات واضح طور پر درج نہیں کیے گئے۔
ورثاء کے مطابق پوسٹ مارٹم کے دوران ڈاکٹر وسیم نے مبینہ طور پر انہیں بتایا تھا کہ جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں، تاہم بعد میں رپورٹ میں تبدیلی کی گئی۔
اہلِ خانہ کا مزید الزام ہے کہ پولیس نے مقتولہ کی ساس اور نند کو حراست میں لینے کے بعد رہا کر دیا، جبکہ ان کے مطابق تاحال تھانہ کہوٹہ میں مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔

❓ سوال یہ ہے کہ اگر ایک ماں مبینہ تشدد کے بعد جان سے چلی گئی اور اس کے بچے ماں کے بغیر رہ گئے، تو انہیں انصاف کب ملے گا؟
مقتولہ کے ورثاء نے آئی جی پنجاب، آر پی او راولپنڈی، سی پی او راولپنڈی اور دیگر اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے، شفاف تحقیقات کرانے، مبینہ ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی اور انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ صرف ایک خاندان کا نہیں، انصاف کے نظام پر ایک بڑا سوال ہے۔
اگر آپ بھی سمجھتے ہیں کہ ثمینہ اصغر کے بچوں کو انصاف ملنا چاہیے تو اس آواز کو آگے پہنچائیں۔

کہوٹہ مین بازار روڈ: ٹھیکیدار کو وارننگ نوٹس جاریکہوٹہ کے تاجروں، صحافیوں، وکلا اور شہریوں کی شکایات کے بعد اسسٹنٹ کمشنر...
01/09/2026

کہوٹہ مین بازار روڈ: ٹھیکیدار کو وارننگ نوٹس جاری

کہوٹہ کے تاجروں، صحافیوں، وکلا اور شہریوں کی شکایات کے بعد اسسٹنٹ کمشنر کہوٹہ شرین گل کی ہدایات پر میونسپل کمیٹی نے مین بازار روڈ اور بیوٹیشن پروگرام کے ٹھیکیدار کو سست روی، ناقص کام اور بغیر منصوبہ بندی کام شروع کرنے پر وارننگ نوٹس جاری کر دیا۔
ٹھیکیدار کو کام کی رفتار فوری تیز کرنے اور منصوبہ جلد مکمل کرنے کی ہدایت۔

⚠️ مزید غفلت یا ناقص کارکردگی پر قانونی کارروائی کی وارننگ!
اب کام تیز ہوگا یا وارننگ بھی صرف کاغذ تک محدود رہے گی؟

کہوٹہ مین بازار روڈ پر اہم پیش رفت!کہوٹہ تاجران ایکشن کمیٹی، معززین علاقہ اور مقامی سیاسی قیادت کی اسسٹنٹ کمشنر شرین گل ...
01/09/2026

کہوٹہ مین بازار روڈ پر اہم پیش رفت!

کہوٹہ تاجران ایکشن کمیٹی، معززین علاقہ اور مقامی سیاسی قیادت کی اسسٹنٹ کمشنر شرین گل سمیت متعلقہ افسران سے اہم میٹنگ ہوئی۔
میٹنگ میں مین بازار بیوٹیشن پروگرام اور سڑک کی کھدائی میں تاخیر پر تاجروں اور شہریوں کی مشکلات کا معاملہ اٹھایا گیا۔
اسسٹنٹ کمشنر شرین گل نے ٹھیکیدار کی سخت سرزنش کرتے ہوئے منصوبہ جلد مکمل کرنے کی ہدایت اور مزید تاخیر کی صورت میں قانونی کارروائی کی وارننگ دے دی۔
ٹھیکیدار نے بارشوں کے باعث کام متاثر ہونے پر معذرت کرتے ہوئے کام تیز کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ مین بازار کی سڑک کب مکمل ہوتی ہے؟

#کہوٹہ

Address

Rawalpindi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when KahutaVoice posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to KahutaVoice:

Shortcuts

Share