31/05/2026
مہاجرینِ جموں کی سیاست میں اُبھرتا ہوا نام عبدالخطیب چوہدری کی انتخابی مہم کیوں توجہ حاصل کر رہی ہے؟
آزاد جموں و کشمیر کے مہاجر حلقوں کی سیاست ہمیشہ سے منفرد رہی ہے۔ یہاں صرف سیاسی جماعتیں ہی نہیں بلکہ خاندان، برادریاں، مہاجرت کی تاریخ، ذاتی کردار اور عوامی روابط بھی انتخابی نتائج پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی انتخابات قریب آتے ہیں تو کچھ ایسے نام سامنے آتے ہیں جو خاموشی سے عوامی توجہ حاصل کرنا شروع کر دیتے ہیں۔
حلقہ LA-39 جموں 6 میں اس وقت ایسا ہی ایک نام عبدالخطیب چوہدری کا ہے، جو اپنی متحرک انتخابی مہم، عوامی رابطوں اور سادہ اندازِ سیاست کی وجہ سے سیاسی حلقوں میں موضوعِ گفتگو بن چکے ہیں۔
عبدالخطیب چوہدری کا تعلق مہاجرینِ جموں کی اُس کمیونٹی سے بتایا جاتا ہے جس نے برسوں سے اپنی شناخت، نمائندگی اور مسائل کے حل کے لیے جدوجہد کی ہے۔ قریبی حلقوں کے مطابق وہ ایک نرم مزاج، تعلیم دوست اور سماجی معاملات میں دلچسپی رکھنے والی شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے حامی انہیں صرف ایک سیاستدان نہیں بلکہ ایک ایسے امیدوار کے طور پر پیش کرتے ہیں جو عوام کے درمیان رہ کر ان کے مسائل کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔
گزشتہ چند ماہ کے دوران واہ کینٹ، راولپنڈی، کلر سیداں، اسلام آباد اور دیگر مہاجر آبادیوں میں ان کی سیاسی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ کبھی وہ نوجوانوں کے ساتھ بیٹھے نظر آتے ہیں، کبھی بزرگوں سے ملاقات کرتے دکھائی دیتے ہیں اور کبھی مختلف برادریوں کے نمائندوں کے ساتھ مشاورت کرتے ہوئے۔
ان کی شخصیت کا ایک پہلو جو لوگوں کو متاثر کرتا ہے وہ ان کا نسبتاً سادہ اور غیر روایتی انداز ہے۔ بڑے پروٹوکول اور سیاسی نمود و نمائش کے بجائے وہ عوامی ملاقاتوں اور براہِ راست رابطے کو ترجیح دیتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے نوجوان ووٹر انہیں ایک مختلف سیاسی چہرے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
عبدالخطیب چوہدری کی سیاسی اہمیت اس وقت مزید بڑھ گئی جب انہوں نے آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس میں شمولیت اختیار کی۔ مسلم کانفرنس آزاد کشمیر کی تاریخی اور نظریاتی جماعت سمجھی جاتی ہے اور کشمیری سیاست میں اس کا کردار ہمیشہ اہم رہا ہے۔ جماعتی قیادت نے بھی عبدالخطیب چوہدری کی شمولیت کو خوش آئند قرار دیا جبکہ انہوں نے خود اسے نظریے اور عوامی خدمت کے سفر کا حصہ قرار دیا۔
ان کی انتخابی مہم کا سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ وہ بڑے بڑے دعوؤں کے بجائے بنیادی مسائل پر بات کرتے ہیں۔ ان کے پوسٹرز اور عوامی پیغامات میں بار بار چار الفاظ نظر آتے ہیں:
تعلیم، صحت، روزگار اور انصاف۔
یہ وہ مسائل ہیں جو آج ہر گھر کی ضرورت بن چکے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ نوجوان طبقہ ان کے بیانیے میں دلچسپی لیتا دکھائی دیتا ہے۔
حلقہ LA-39 جموں 6 خود بھی ایک انتہائی اہم اور حساس حلقہ ہے۔ یہاں ووٹ صرف انہی افراد کے پاس ہے جن کے خاندان جموں اور لداخ سے ہجرت کرکے پاکستان آئے تھے۔ اس لیے یہاں سیاست صرف ترقیاتی منصوبوں تک محدود نہیں رہتی بلکہ مہاجر شناخت، تاریخی وابستگی اور نمائندگی کا سوال بھی ساتھ جڑا ہوتا ہے۔
عبدالخطیب چوہدری اپنی تقاریر میں بار بار مہاجرینِ جموں کے مسائل، نوجوانوں کے مستقبل اور عام آدمی کی مشکلات کا ذکر کرتے ہیں۔ ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ وہ ایک ایسے امیدوار ہیں جو اسمبلی میں جا کر صرف سیاسی بیانات نہیں بلکہ عوامی مسائل کو مؤثر انداز میں اٹھانا چاہتے ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ان کی سب سے بڑی طاقت ان کا عوامی رابطہ اور نسبتاً صاف سیاسی امیج ہے۔ جبکہ سب سے بڑا چیلنج روایتی سیاسی جماعتوں کے مضبوط انتخابی نیٹ ورکس ہیں، جو کئی برسوں سے اس حلقے میں موجود ہیں۔
سوشل میڈیا پر بھی عبدالخطیب چوہدری کی انتخابی مہم تیزی سے نمایاں ہو رہی ہے۔ مختلف سیاسی کارکن، نوجوان اور سماجی شخصیات ان کے جلسوں اور ملاقاتوں کی تصاویر شیئر کر رہے ہیں۔ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ صرف انتخابی امیدوار نہیں بلکہ ایک سیاسی شناخت بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا کہ وہ انتخابی میدان میں کس حد تک کامیاب ہوں گے، کیونکہ مہاجر حلقوں کی سیاست ہمیشہ پیچیدہ اور غیر متوقع رہی ہے۔ تاہم ایک بات واضح ہے کہ انہوں نے مختصر عرصے میں خود کو حلقہ LA-39 جموں 6 کی سیاسی گفتگو کا اہم حصہ بنا لیا ہے۔
آنے والے دن فیصلہ کریں گے کہ عوام ان پر کتنا اعتماد کرتے ہیں، لیکن موجودہ صورتحال میں عبدالخطیب چوہدری ایک ایسے امیدوار کے طور پر سامنے آ رہے ہیں جو شائستگی، عوامی رابطے اور بنیادی مسائل کے بیانیے کے ساتھ انتخابی میدان میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اور شاید یہی وجہ ہے کہ آج مہاجرینِ جموں کی سیاسی محفلوں میں ایک سوال بار بار سنائی دیتا ہے:
کیا عبدالخطیب چوہدری صرف ایک امیدوار ہیں، یا آنے والے وقت میں مہاجر سیاست کا ایک مضبوط نام بن سکتے ہیں؟
KahutaVoice Special Political Feature
Abdul Khateeb Choudhary