26/04/2026
لال حویلی راولپنڈی کے اندرون شہر کی ایک مشہور تاریخی اور سیاسی عمارت ہے۔ اس کی کہانی صرف ایک مکان کی نہیں بلکہ محبت، تقسیمِ ہند، سیاست اور تنازعات کی کہانی بھی ہے۔
ابتدا کیسے ہوئی؟
مقامی روایات کے مطابق یہ حویلی برصغیر کی تقسیم سے پہلے ایک دولت مند ہندو تاجر دھن راج سہگل نے تعمیر کروائی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ اس نے یہ عمارت ایک مسلمان خاتون بدھن بائی کے لیے بنوائی، جن سے اس کے تعلقات مشہور تھے۔ بعض روایات میں یہ بھی آتا ہے کہ حویلی کے اندر مندر اور مسجد دونوں موجود تھے، تاکہ دونوں اپنے اپنے مذہب پر قائم رہ سکیں۔
تقسیم ہند کے بعد
1947 کے بعد اصل مالکان ہندوستان چلے گئے۔ اس کے بعد حویلی کی ملکیت اور استعمال میں تبدیلیاں آئیں، اور وقت کے ساتھ یہ عمارت زوال کا شکار بھی ہوئی۔
شیخ رشید اور لال حویلی
بعد میں شیخ رشید احمد کا نام اس حویلی سے جڑ گیا۔ روایت ہے کہ وہ نوجوانی میں اسی علاقے میں کتابوں کی دکان کرتے تھے اور بعد میں اس عمارت کو حاصل کر لیا۔ پھر یہی جگہ ان کی سیاسی شناخت بن گئی۔ لال حویلی برسوں تک ان کا سیاسی مرکز رہی، جہاں سے جلسے، پریس کانفرنسیں اور سیاسی سرگرمیاں چلتی رہیں۔ �
جدید دور کے تنازعات
2023 میں وقف املاک بورڈ نے ملکیت کے تنازع پر لال حویلی کو سیل کیا، جس کے بعد عدالتوں میں معاملہ گیا۔ بعد میں لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ نے ڈی سیل کرنے کا حکم دیا اور ملکیت کے معاملے پر دوبارہ سماعت کا کہا۔ �
کیوں مشہور ہے؟
لال حویلی تین وجوہات سے مشہور ہے:
پرانی راولپنڈی کی تاریخی عمارت
محبت اور مذہبی ہم آہنگی کی پرانی داستان
شیخ رشید کی سیاست کا علامتی مرکز
مختصر انداز میں
لال حویلی راولپنڈی کی وہ عمارت ہے جو پہلے ایک رومانوی داستان سے مشہور ہوئی، پھر تقسیم ہند کی تاریخ دیکھی، اور بعد میں پاکستانی سیاست کی علامت بن گئی۔
اگر آپ چاہیں تو میں �لال حویلی کے اندر کی پرانی ساخت، �خفیہ کمروں، اور �مشہور قصوں کے بارے میں بھی بتا سکتا ہوں۔