29/05/2025
کائنات میں ہر طرف شور ہی شور ہے۔ رات کے وقت آسمان میں آپ جو ستارے دیکھ رہے ہیں۔۔ یہ آپ کو خاموش لگتے ہیں لیکن بالکل بھی خاموش نہیں ہیں،،،،، ان میں سے بعض 105 ڈیسی بیل بعض 110 ڈیسی بیل بعض 95 ڈیسی بیل جیسے آوازیں پیدا کرتے ہیں۔ اور تو اور ہمارا سورج بھی خاموش نہیں ہے۔۔ بلکہ سائنسدانوں کے مطابق وہ بھی سو ڈیسی بیل آواز پیدا کرتا ہے۔۔لیکن آخر کیا وجہ ہے کہ ہمیں یہ شور سنائی نہیں دیتا؟ دراصل اس کی وجہ درمیان میں خلاء کا وجود ہے۔ اس وجہ سے وہ "آوازیں" ہم تک نہیں پہنچ رہی ہیں۔اگر ہمارے درمیان خلاء نہ ہوتا تو ہم ستاروں کے اس شور سے کب کے مرچکے ہوتے، کیونکہ سورج میں دھماکے ہوتے ہیں،، اور کوئی عام دھماکے نہیں، بلکہ سورج میں مسلسل ہائیڈروجن ہیلیئم گیس میں تبدیل ہوتا ہے، اور ہر ایک سیکنڈ میں اتنی توانائی ضائع ہوتی ہے جو ہم ہزار سالوں میں بھی وہ پیدا نہیں کرسکتے جن کی وجہ سے نہ صرف روشنی اور درجہ حرارت پیدا ہوتا ہے، بلکہ 100 ڈیسی بیل کی آواز بھی پیدا ہوتی ہے چونکہ روشنی کے لیے میڈیم کوئی معنی نہیں رکھتی۔۔ اس وجہ سے وہ تو زمین پر پہنچ جاتی، لیکن آواز کے لیے میڈیم کی ضرورت پڑتی ہے، اس وجہ سے وہ اللہ بلاک کرتا ہے،،،،، وہ جانتا ہے کہ یہ شور میری مخلوق برداشت نہیں کرپائے گی لہذا اس شور کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بلاک کیا۔
کیا آواز سے ہم مرسکتے ہیں؟ ہم جانتے ہیں کہ نائس پالوشن دماغ پر برے اثرات مرتب کرتے ہیں،،،،، مسلسل آواز انسان کو مکمل پاگل کرسکتی ہے،،،،،، اس وجہ سے ہسپتال اور سکول جیسی جگہوں کے پاس ہارن بجانا منع ہے، کیوں کہ یہ ڈیسٹربنس پیدا کرتا ہے چونکہ یہ آوازیں عام طور شدید قسم کی نہیں ہوتیں،،،،،، اس وجہ سے یہ آواز یا آوازیں ہم مار نہیں سکتے،،،، لیکن اگر آواز شدید قسم کی ہو تو صرف ہم نہیں بلکہ پہاڑوں کو بھی ریزہ ریزہ کرسکتی ہے، لیکن وہ کونسی آواز ہے،،، اور کس طرح پیدا ہوگی ؟ کیا وہ آواز ہم پیدا کرسکتے ہیں؟؟ چونکہ آواز پیدا کرنے کے لیے انرجی چاہیے ہوتی ہے اور ہمارے پاس سورج جتنی انرجی نہیں ہے، لہٰذا وہ آواز کم از کم ہم پیدا نہیں کرسکتے،جس سے پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں کیونکہ وہ آواز پیدا کرنے کے لیے سورج سے بھی زیادہ انرجی درکار ہوگی۔
کیوں کہ سورج بھی 100 ڈیسی بیل آواز پیدا کرتا ہے لیکن جن پر پہاڑ اور سب کچھ ریزہ ریزہ ہوگا،، اس کی رینج 1100 ڈیسی بیل ہے،،،،،،،،، اگر ہم نے 1100 ڈیسی بیل آواز پیدا کی جو کہ ہمارے لیے ناممکن ہے،،،،،، تو سب کچھ سیکنڈوں میں تباہ ہوگا، زمین پر کچھ بھی نہیں بچے گا،،،،، بلکہ زمین بھی ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گی۔ بڑے بڑے پہاڑ ریزہ ریزہ ہوکر خلاء میں بکھر جائیں گے۔
لیکن محض آواز سے یہ کیوں ہوگی؟ کیا آواز میں بھی اتنی طاقت ہوتی ہے؟ جی ہاں آواز انرجی کی ایک قسم ہے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ 1100 ڈیسی بیل آواز اس قدر خوف ناک اور شدید ہوتی ہے کہ ہوا "مالیکیولز" دباؤ کی وجہ سے نہ صرف ٹوٹ جاتے ہیں،،، بلکہ پلازما میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔۔ کیونکہ یہ آواز عام آواز نہیں ہوگی بلکہ یہ دھماکہ خیز یعنی شاک ویوز جیسی ہوگی، جو کائنات میں ہر طرف بہت زیادہ توانائی چھوڑیں گی،،،، جن کو ہم لوگ موجودہ ٹیکنالوجی سے کنٹرول نہیں پائے گی،، کیونکہ ٹیکنالوجی خود اس شاک ویوز سے ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گی اس آواز سے زمین پر کچھ نہیں بچے گا۔۔۔ بلکہ آواز بھی اپنے آپ کو تباہ اور فنا کردے گی آواز خود کو کیسے تباہ کرسکتی ہے ؟
ہم جانتے ہیں، کہ آواز لہروں کی صورت میں ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کرتی ہے،،،، لیکن 1100 ڈیسی بیل پر دباؤ اس قدر زیادہ اور شدید ہوگا کہ ہوا مزید آواز کو نہیں سنبھال سکے گی،،،، اس کا سادہ سا مطلب یہ ہے،، کہ ہماری طرح ہوا بھی ہر دباؤ کو ایک جگہ سے دوسری جگہ نہیں لے جا سکتی،میں زیادہ سے زیادہ بیس تیس کلو گرام وزن تو آسانی کے ساتھ اٹھا سکتا ہوں،،،،،،، لیکن ایک لاکھ کلو گرام وزن تو نہ میں خود اٹھا سکتا ہوں، اور نہ آپ لوگوں میں سے کوئی اٹھا سکتے ہیں۔۔۔۔۔یہ لیمٹ سے بہت زیادہ باہر ہے آواز کے لیے بھی یہ آواز لیمٹ سے باہر ہے،، یہ آواز وہ ہوا ہی ختم کرتے ہیں جن میں آواز سفر کرتی ہے۔ ہم اس قدر کمزور مخلوق ہیں کہ 194 ڈیسی بیل سے اوپر کی آواز سے پہلے ہی شاک ویوز بن جائیں گے۔ کیونکہ 194 ڈیسی بیل پر، ہوا میں "شدید قسم" کے دباؤ کے بلبلے بنتے ہیں،،،،،، جن کو صرف ہم نہیں بلکہ زمین پر کوئی بھی جاندار برداشت نہیں کرپائیں گے،،،،،، اس آواز سے پہاڑ ریزہ ریزہ نہیں ہوں گے سمندر میں زلزلہ آئے گا۔ سمندر کے مخلوق بھی شاید نہیں بچے گے، لیکن زمین پھر بھی قائم رہے گی۔۔۔۔ لیکن 1100 ڈیسی بیل پر نہ صرف بڑے بڑے پہاڑ ریزہ ریزہ ہونگے، بلکہ خود زمین بھی نہیں بچے گی کیونکہ یہ کوئی معمولی آواز نہیں ہے اس آواز پر ہر طرف شدید لہریں تباہی مچا دیں گی،،، اور یہ تباہی گھنٹے یا منٹوں میں نہیں ہوگی، بلکہ سیکنڈوں میں ہوگی۔ اگر یہ آواز زمین پر پیدا کی جائے تو نہ صرف پوری زمین ہل سکتی ہے۔۔ بلکہ اس کی فضاء تک بکھر سکتی ہے اور یہ کوئی مزاق نہیں ہے۔
سائنسدانوں کا خیال ہے،، کہ 1100 ڈیسی بیل آواز سے ایک چھوٹا بلیک ہول بھی وجود میں آسکتا ہے۔۔۔۔۔ بتانے کا مقصد یہ تھا کہ ہم انتہائی کمزور مخلوق ہیں۔۔ اگر کائنات کا مالک چاہے تو وہ ہم سب کو ایک آواز سے بھی مار سکتا ہے کیوں کہ وہ اس چیز پر قادر ہے۔
آج کل فلسسطین میں اسسسسسرائیل کے لوگ کس قدر ظلم کرتے ہیں۔ شہید ہونے والے فلسسسطینیوں کی تعداد ہزاروں سے لاکھوں تک پہنچ گئی،، لیکن اسسرائیل کے لوگ باز نہیں آئے اور نہ آنے والے ہیں۔۔ یا اللّٰہ ہم پیسے بھیجنے اور دعائیں دینے کے علاوہ کچھ نہیں کرسکتے،،،،،،،،،،، اور مزید برداشت بھی نہیں کرسکتے تو کچھ کر ہم بےبس ہوگئے ہیں۔کیوں کہ ہمارے "حکمران" کچھ کرتے نہیں اور ہم کر نہیں سکتے،،،، یا اللہ میں نے زندگی میں کبھی بھی خود کو اس قدر بےبس نہیں دیکھا خون کھول رہا ہے لیکن کچھ کر نہیں سکتا، کاش میں اس کے علاوہ بھی کچھ کرسکتا تھا کاش۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!