02/04/2026
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ
نورِ علم و عمل کا مکمل پیکر
اسلام کی تاریخ میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کا نام ایک ایسے درخشاں چراغ کی مانند ہے جس کی روشنی قیامت تک اہلِ ایمان کے دلوں کو منور کرتی رہے گی۔ آپؓ ان خوش نصیب لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا، اور پھر اپنی پوری زندگی دینِ حق کی خدمت، علمِ قرآن کی اشاعت اور عشقِ رسولؐ میں گزار دی۔
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کےقبولِ اسلام کا واقعہ بڑا ایمان افروز ہے۔۔ آپ مکہ کے قریب ایک گھاٹی میں عقبہ بن ابی معیط کی بکریاں چرا رہے تھے ت۔ اسی دوران رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابو بکر صدیقؓ وہاں سے گزرے۔ حضور اکرمؐ کو پیاس لگ رہی تھی۔ آپؐ نے عبداللہ بن مسعودؓ سےدودھ طلب فرمایا ۔ آپؓ نے نہایت ہی عجزسے عرض کیا کہ وہ اپنے مالک(عقبہ بن معیط)کی اجازت کے بغیر دودھ نہیں دے سکتے۔ حضورؐ نے ان سے ایک ایسی بکری طلب کی جو ہاتھ پھیرا جو دودھ دینے کے قابل نہ تھی۔اوہ ایک بکری پکڑ کر لائے۔رسول اللہ ﷺ نےبکری کے تھن پر ہاتھ پھیراتو اللہ کے حکم سے دودھ جاری ہو گیا۔ یہ معجزہ دیکھ کر حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کا دل مضطرب ہو گیا۔تھوڑی ہی دیر میں یہ دل نورِ ایمان سے بھر گیا اور وہ دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے۔ عبداللہ بن مسعودؓنے رسولاللہ ﷺ سے عرض کی یہ عمل مجھے بھی سکھا دیجیے۔
حضورؐ نے ان کے سر پر دستِ شفقت رکھتے ہوئے فرمایا"تم علم سکھانے والے پیارے بچے ہو"یہ بشارت بعد میں پوری امت نے حقیقت بنتے دیکھی۔حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کو بارگاہِ رسالتؐ میں خاص قرب حاصل تھا۔ انہیں یہ شرف حاصل تھا کہ بغیر اجازت حضورؐ کے گھر میں داخل ہو سکتے تھے۔ وہ حضورؐ کی ذاتی خدمت کرتے، جوتا مبارک اٹھاتے، مسواک سنبھالتے، اور سفر و حضر میں ہمہ وقت ساتھ رہتے۔ حضرت حذیفہؓ فرماتے ہیں کہ میں نے کسی کو عادات و اطوار میں رسول اللہؐ کے زیادہ مشابہ نہیں دیکھا جتنا ابن مسعودؓ کو۔
ابتدائے اسلام میں جب اسلام کا کھل کر اظہار جان لیوا خطرات سے خالی نہ تھا، اس وقت حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے بے مثال جرأت کا مظاہرہ کیا۔ وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے بیت اللہ کے پاس کھڑے ہو کر بلند آواز سے قرآن مجید کی تلاوت کی۔ کفارِ مکہ نے انہیں سخت اذیتیں دیں، مگر وہ ثابت قدم رہے۔
علمِ قرآن میں آپؓ کا مقام نہایت بلند تھا۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ": قرآن مجید کو ان چار افراد سے حاصل کرو سب سے پہلے عبداللہ ابن مسعودؓ کا نام ذکر فرمایا، بعد ازاں ابی بن کعب، سالم مولیٰ اور معاذ بن جبل ؓ کے اسمائے گرامی کا ذکر فرمایا۔ (بخاری و مسلم ) آپؓ قرآن کے نہ صرف حافظ تھے بلکہ اس کے معانی، شانِ نزول اور اسرار و حکمت سے بھی خوب واقف تھے۔ وہ فرمایا کرتے تھے کہ قرآن کی ہر آیت کے نزول کا پس منظر انہیں معلوم ہے۔ اس کے باوجود ان کی عاجزی کا یہ عالم تھا کہ فرماتے:
"اگر کوئی مجھ سے زیادہ علم والا ہو تو میں اس کے پاس جانے کو تیار ہوں۔"
میدانِ بدر میں بھی حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے اپنی شجاعت کا لوہا منوایا۔رسول کریمؐ کے بدترین دشمن ابوجہل کی گردن کاٹنے کا شرف بھی عبداللہ بن مسعود ؓ کو حاصل ہوا۔ دو ننھے بچے معاذؓ اور معوذؓ نے جب اپنی تلواروں سے ابوجہل کو گھائل کر دیا تو حضرت ابن مسعودؓ کا اس طرف سے گزر ہوا۔ حضرت ابن مسعودؓ کے پاس کارآمد تلوار نہ تھی۔ انہوں نے ابوجہل کی تلوار اٹھا لی۔ ابوجہل کی نظر ان پر پڑی تو وہ ان کے ارادے کو بھانپ گیا۔ اس نے کہا:
" اے بھیڑیں چرانے والے! تو نے مشکل کام کو ہاتھ ڈالا ہے۔ حضرت ابن مسعودؓ نے اس کے ساتھ ہی اس کی گردن کاٹ دی اور اس کا سر اور تلوار دونوں کو لا کر رسول اللہ ﷺکے قدموں میں ڈال دیا۔ رسول اللہؐ نے وہ تلوار آپ ہی کو عنایت فرما دی۔ وہ صرف علم کے میدان کے شہسوار نہیں بلکہ جہاد کے بھی مردِ میدان تھے۔آپؓ کی زندگی زہد و تقویٰ کا عملی نمونہ تھی۔ دنیا کی رغبت ان کے دل میں نہ تھی۔ حضرت عمرؓ نے ان کے بارے میں فرمایا: "یہ علم سے بھری ہوئی چھاگل ہیں"
حضرت حذیفہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہؐ کے عادات و اطوار میں عبداللہ بن مسعودؓ سے مشابہت رکھنے والا میں نے کسی کو نہیں دیکھا۔ رسول اللہؐ کے قریبی اصحاب کی نظر میں عبداللہ بن مسعودؓ درجات کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کے زیادہ قریب ہیں"
ایک اور موقعے پر حضور اکرمؐ نے ان کی باریک پنڈلیوں کے بارے میں فرمایا: "یہ میزان میں اُحد پہاڑ سے زیادہ بھاری ہیں"
حضرت عمرؓ نے 20 ھ میں حضرت عمار بن یاسرؓ اور عبداللہ بن مسعودؓ کو کوفہ بھیجا اور اہل کوفہ کو لکھا: میں نے عمار بن یاسر کو امیر اور عبداللہ بن مسعودؓ کو معلم بنا کر تمہارے پاس بھیجا ہے۔ یہ دونوں ہستیاں رسول اللہؐ کے برگزیدہ اصحاب اور اصحاب بدر میں سے ہیں۔ تم ان دونوں کی پیروی اور اطاعت کرو اور ان کے ارشادات عالیہ کو دھیان سے سنو۔ عبداللہ بن مسعود ؓ کو تو میں نے اپنے نفس پر ایثار کر کے تمہارے پاس بھیجا ہے۔"
یوں رسول اللہ ﷺ کی بشارت پوری ہو گئی کہ ’’تم خود علم سکھانے والے پیارے بچے ہو"
شقیق ابووائل بن ابی سلمہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہؐ کے صحابہ کرام کے حلقے میں بیٹھا ہوں۔ میں نے عبداللہ بن مسعودؓ کی بات سے انکار کرتے ہوئے کسی کو نہیں دیکھا اور نہ کسی صحابی نے آپ کا رد کیا۔ یعنی آپ فقاہت کے اس مقام پر فائز تھے کہ آپ کی رائے کے سامنے کسی کو صحابی کو کبھی رائے پیش کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔(طبقات ابن سعد)