Prof-Muhammad Saghir Qamar

Prof-Muhammad Saghir Qamar Inspirations and Innovations Columnist Daily "khabrain"

حضرت عبداللہ بن مسعودؓ  نورِ علم و عمل کا مکمل پیکر       اسلام کی تاریخ میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کا نام ایک ایسے درخش...
02/04/2026

حضرت عبداللہ بن مسعودؓ
نورِ علم و عمل کا مکمل پیکر

اسلام کی تاریخ میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کا نام ایک ایسے درخشاں چراغ کی مانند ہے جس کی روشنی قیامت تک اہلِ ایمان کے دلوں کو منور کرتی رہے گی۔ آپؓ ان خوش نصیب لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا، اور پھر اپنی پوری زندگی دینِ حق کی خدمت، علمِ قرآن کی اشاعت اور عشقِ رسولؐ میں گزار دی۔
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کےقبولِ اسلام کا واقعہ بڑا ایمان افروز ہے۔۔ آپ مکہ کے قریب ایک گھاٹی میں عقبہ بن ابی معیط کی بکریاں چرا رہے تھے ت۔ اسی دوران رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابو بکر صدیقؓ وہاں سے گزرے۔ حضور اکرمؐ کو پیاس لگ رہی تھی۔ آپؐ نے عبداللہ بن مسعودؓ سےدودھ طلب فرمایا ۔ آپؓ نے نہایت ہی عجزسے عرض کیا کہ وہ اپنے مالک(عقبہ بن معیط)کی اجازت کے بغیر دودھ نہیں دے سکتے۔ حضورؐ نے ان سے ایک ایسی بکری طلب کی جو ہاتھ پھیرا جو دودھ دینے کے قابل نہ تھی۔اوہ ایک بکری پکڑ کر لائے۔رسول اللہ ﷺ نےبکری کے تھن پر ہاتھ پھیراتو اللہ کے حکم سے دودھ جاری ہو گیا۔ یہ معجزہ دیکھ کر حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کا دل مضطرب ہو گیا۔تھوڑی ہی دیر میں یہ دل نورِ ایمان سے بھر گیا اور وہ دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے۔ عبداللہ بن مسعودؓنے رسولاللہ ﷺ سے عرض کی یہ عمل مجھے بھی سکھا دیجیے۔
حضورؐ نے ان کے سر پر دستِ شفقت رکھتے ہوئے فرمایا"تم علم سکھانے والے پیارے بچے ہو"یہ بشارت بعد میں پوری امت نے حقیقت بنتے دیکھی۔حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کو بارگاہِ رسالتؐ میں خاص قرب حاصل تھا۔ انہیں یہ شرف حاصل تھا کہ بغیر اجازت حضورؐ کے گھر میں داخل ہو سکتے تھے۔ وہ حضورؐ کی ذاتی خدمت کرتے، جوتا مبارک اٹھاتے، مسواک سنبھالتے، اور سفر و حضر میں ہمہ وقت ساتھ رہتے۔ حضرت حذیفہؓ فرماتے ہیں کہ میں نے کسی کو عادات و اطوار میں رسول اللہؐ کے زیادہ مشابہ نہیں دیکھا جتنا ابن مسعودؓ کو۔
ابتدائے اسلام میں جب اسلام کا کھل کر اظہار جان لیوا خطرات سے خالی نہ تھا، اس وقت حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے بے مثال جرأت کا مظاہرہ کیا۔ وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے بیت اللہ کے پاس کھڑے ہو کر بلند آواز سے قرآن مجید کی تلاوت کی۔ کفارِ مکہ نے انہیں سخت اذیتیں دیں، مگر وہ ثابت قدم رہے۔
علمِ قرآن میں آپؓ کا مقام نہایت بلند تھا۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ": قرآن مجید کو ان چار افراد سے حاصل کرو سب سے پہلے عبداللہ ابن مسعودؓ کا نام ذکر فرمایا، بعد ازاں ابی بن کعب، سالم مولیٰ اور معاذ بن جبل ؓ کے اسمائے گرامی کا ذکر فرمایا۔ (بخاری و مسلم ) آپؓ قرآن کے نہ صرف حافظ تھے بلکہ اس کے معانی، شانِ نزول اور اسرار و حکمت سے بھی خوب واقف تھے۔ وہ فرمایا کرتے تھے کہ قرآن کی ہر آیت کے نزول کا پس منظر انہیں معلوم ہے۔ اس کے باوجود ان کی عاجزی کا یہ عالم تھا کہ فرماتے:
"اگر کوئی مجھ سے زیادہ علم والا ہو تو میں اس کے پاس جانے کو تیار ہوں۔"
میدانِ بدر میں بھی حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے اپنی شجاعت کا لوہا منوایا۔رسول کریمؐ کے بدترین دشمن ابوجہل کی گردن کاٹنے کا شرف بھی عبداللہ بن مسعود ؓ کو حاصل ہوا۔ دو ننھے بچے معاذؓ اور معوذؓ نے جب اپنی تلواروں سے ابوجہل کو گھائل کر دیا تو حضرت ابن مسعودؓ کا اس طرف سے گزر ہوا۔ حضرت ابن مسعودؓ کے پاس کارآمد تلوار نہ تھی۔ انہوں نے ابوجہل کی تلوار اٹھا لی۔ ابوجہل کی نظر ان پر پڑی تو وہ ان کے ارادے کو بھانپ گیا۔ اس نے کہا:
" اے بھیڑیں چرانے والے! تو نے مشکل کام کو ہاتھ ڈالا ہے۔ حضرت ابن مسعودؓ نے اس کے ساتھ ہی اس کی گردن کاٹ دی اور اس کا سر اور تلوار دونوں کو لا کر رسول اللہ ﷺکے قدموں میں ڈال دیا۔ رسول اللہؐ نے وہ تلوار آپ ہی کو عنایت فرما دی۔ وہ صرف علم کے میدان کے شہسوار نہیں بلکہ جہاد کے بھی مردِ میدان تھے۔آپؓ کی زندگی زہد و تقویٰ کا عملی نمونہ تھی۔ دنیا کی رغبت ان کے دل میں نہ تھی۔ حضرت عمرؓ نے ان کے بارے میں فرمایا: "یہ علم سے بھری ہوئی چھاگل ہیں"
حضرت حذیفہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہؐ کے عادات و اطوار میں عبداللہ بن مسعودؓ سے مشابہت رکھنے والا میں نے کسی کو نہیں دیکھا۔ رسول اللہؐ کے قریبی اصحاب کی نظر میں عبداللہ بن مسعودؓ درجات کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کے زیادہ قریب ہیں"
ایک اور موقعے پر حضور اکرمؐ نے ان کی باریک پنڈلیوں کے بارے میں فرمایا: "یہ میزان میں اُحد پہاڑ سے زیادہ بھاری ہیں"
حضرت عمرؓ نے 20 ھ میں حضرت عمار بن یاسرؓ اور عبداللہ بن مسعودؓ کو کوفہ بھیجا اور اہل کوفہ کو لکھا: میں نے عمار بن یاسر کو امیر اور عبداللہ بن مسعودؓ کو معلم بنا کر تمہارے پاس بھیجا ہے۔ یہ دونوں ہستیاں رسول اللہؐ کے برگزیدہ اصحاب اور اصحاب بدر میں سے ہیں۔ تم ان دونوں کی پیروی اور اطاعت کرو اور ان کے ارشادات عالیہ کو دھیان سے سنو۔ عبداللہ بن مسعود ؓ کو تو میں نے اپنے نفس پر ایثار کر کے تمہارے پاس بھیجا ہے۔"
یوں رسول اللہ ﷺ کی بشارت پوری ہو گئی کہ ’’تم خود علم سکھانے والے پیارے بچے ہو"
شقیق ابووائل بن ابی سلمہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہؐ کے صحابہ کرام کے حلقے میں بیٹھا ہوں۔ میں نے عبداللہ بن مسعودؓ کی بات سے انکار کرتے ہوئے کسی کو نہیں دیکھا اور نہ کسی صحابی نے آپ کا رد کیا۔ یعنی آپ فقاہت کے اس مقام پر فائز تھے کہ آپ کی رائے کے سامنے کسی کو صحابی کو کبھی رائے پیش کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔(طبقات ابن سعد)

حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ[اللہ کی تلوار]         اسلامی تاریخ کے سنہرے اوراق میں ایک نام اپنی پوری ہیبت، شان اور جل...
29/03/2026

حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ
[اللہ کی تلوار]
اسلامی تاریخ کے سنہرے اوراق میں ایک نام اپنی پوری ہیبت، شان اور جلال کے ساتھ ابھرتا ہے۔حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ۔
وہ مردِ میدان جس کی تلوار کبھی شکست سے آشنا نہ ہوئی، وہ سپہ سالار جس کی حکمتِ عملی نے بڑے بڑے لشکروں کو زیر کیا، اور وہ عاشقِ حق جسے نبی کریم ﷺ نے "سیفُ اللہ" یعنی اللہ کی تلوار کا عظیم لقب عطا فرمایا۔
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ قریش کے معزز قبیلے بنو مخزوم میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد ولید بن مغیرہ مکہ کے بااثر سردار تھے۔ عرب کے تپتے ریگزاروں میں پرورش پانے والا یہ نوجوان بچپن ہی سے جرات، قوت اور جنگی مہارت کا پیکر تھا۔ گھڑسواری، نیزہ بازی اور تلوار زنی میں وہ یکتا تھے۔ یہی صلاحیتیں بعد میں اسلام کے لیے ایک عظیم نعمت بنیں۔
ابتدائی دور میں وہ اسلام کے مخالفین میں شامل رہے۔ غزوۂ احد میں ان کی جنگی حکمت عملی نے جنگ کا رخ بدل دیا اور مسلمانوں کو شدید آزمائش سے گزرنا پڑا۔ یہی خالد، جن کی تلوار اُس وقت باطل کے لیے اٹھی تھی، تاریخ کے ایک عظیم موڑ پر وہ حق کے سپاہی بن گئے۔
صلح حدیبیہ کے بعد ان کے دل میں اسلام کی روشنی جلوہ گر ہوئی۔ وہ مدینہ منورہ حاضر ہوئے اور نبی کریم ﷺ کے دستِ مبارک پر اسلام قبول کیا۔ آقا ﷺ نے نہ صرف ان کے ماضی کو معاف فرمایا بلکہ ان کے لیے دعا بھی کی۔ یوں ایک عظیم جنگجو ایمان کے نور سے منور ہو گیا۔
غزوۂ موتہ میں ان کی قیادت نے تاریخ کا رخ بدل دیا۔ جب یکے بعد دیگرے تین کمانڈر شہید ہو گئے اور لشکر منتشر ہونے لگا تو حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے کمان سنبھالی۔ دشمن کی کثرت کے باوجود انہوں نے ایسی حکمت عملی اختیار کی کہ مسلمانوں کو محفوظ واپس لے آئے۔ اسی موقعے پر نبی کریم ﷺ نے انہیں "سیفُ اللہ" کا خطاب عطا فرمایا۔ اس معرکے میں ان کے ہاتھ سے نو تلواریں ٹوٹ گئیں، مگر ان کے عزم میں کوئی کمی نہ آئی۔
فتح مکہ، حنین اور طائف کے معرکوں میں بھی انہوں نے اپنی بہادری کے جوہر دکھائے۔ خلافتِ حضرت ابو بکر صدیق کے دور میں جب فتنۂ ارتداد نے سر اٹھایا تو عرب کے مختلف قبائل نے زکوٰۃ سے انکار کر دیا اور کئی جھوٹے مدعیانِ نبوت بھی کھڑے ہو گئے۔ یہ اسلام کے لیے ایک نہایت نازک اور فیصلہ کن مرحلہ تھا۔ایسے میں حضرت خالد بن ولید کو اس فتنہ کے خاتمے کے لیے میدان میں اتارا گیا۔ انہوں نے نہایت حکمت، جرات اور استقامت کے ساتھ ایک ایک بغاوت کو کچلا۔ خصوصاً جنگِ یمامہ میں مسیلمہ کذاب کے خلاف ان کی قیادت فیصلہ کن ثابت ہوئی۔ یہ وہ معرکہ تھا جس میں بڑے بڑے حفاظِ قرآن شہید ہوئے، مگر خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی ثابت قدمی نے اسلام کی بنیادوں کو متزلزل ہونے سے بچا لیا۔ یوں فتنۂ ارتداد ہمیشہ کے لیے دفن ہو گیا اور امتِ مسلمہ ایک بار پھر وحدت میں جڑ گئی۔پھر عراق اور شام کے میدان ان کی فتوحات کے گواہ بنے۔ فارسی اور رومی سلطنتوں کے غرور کو انہوں نے اپنی حکمت عملی سے خاک میں ملا دیا۔ خصوصاً جنگ یرموک میں ان کی قیادت نے ایک ناقابلِ یقین فتح کو ممکن بنایا، جہاں قلیل تعداد کے باوجود مسلمانوں نے ایک عظیم رومی لشکر کو شکست دی۔ عراق اور شام کے میدان ان کی فتوحات کے گواہ بنے۔ فارسی اور رومی سلطنتوں کے غرور کو انہوں نے اپنی حکمت عملی سے خاک میں ملا دیا۔ خصوصاً جنگ یرموک میں ان کی قیادت نے ایک ناقابلِ یقین فتح کو ممکن بنایا، جہاں قلیل تعداد کے باوجود مسلمانوں نے ایک عظیم رومی لشکر کو شکست دی۔
ان کی زندگی کا ایک درخشاں پہلو ان کی اطاعت اور عاجزی ہے۔ جب خلافتِ عمرفاروق رضی اللہ عنہ میں انہیں سپہ سالاری سے معزول کیا گیا تو انہوں نے نہ کوئی اعتراض کیا اور نہ دل میں ملال رکھا۔ وہ ایک عام سپاہی کی حیثیت سے اسی اخلاص کے ساتھ لڑتے رہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ منصب کے نہیں بلکہ اللہ کے لیے لڑنے والے تھے۔
حضرت خالد رضی اللہ عنہ کی دنیا سے بے رغبتی بھی قابلِ ذکر ہے۔ بے شمار فتوحات کے باوجود ان کے پاس دنیاوی مال و دولت نہ تھا۔ وفات کے وقت ان کے پاس صرف ایک گھوڑا، ایک تلوار اور چند ضروری اشیاء تھیں۔ یہ ان کے زہد اور اخلاص کی روشن مثال ہے۔
زندگی کے آخری لمحات میں انہوں نے اپنے جسم پر موجود زخموں کو دیکھ کر فرمایا کہ ان کے بدن کا کوئی حصہ ایسا نہیں جہاں تلوار یا نیزے کا نشان نہ ہو، مگر اس کے باوجود وہ بستر پر وفات پا رہے ہیں۔ یہ الفاظ ایک مجاہد کی حسرت ضرور ہیں، مگر درحقیقت یہ ان کی عظمت کی علامت ہیں کہ انہوں نے ہر میدان میں اپنا حق ادا کیا۔
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی سیرت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ انسان اگر اخلاص کے ساتھ اللہ کی طرف رجوع کرے تو اس کی زندگی کا رخ بدل سکتا ہے۔ وہ ہمیں سکھاتے ہیں کہ اصل کامیابی اللہ کی رضا میں ہے، نہ کہ عہدوں یا فتوحات میں۔
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ صرف ایک عظیم جرنیل نہیں بلکہ ایمان، شجاعت، حکمت اور اطاعت کا ایک مکمل پیکر ہیں۔وہ تلوار جو ہمیشہ حق کے لیے اٹھی اور جسے دنیا کبھی شکست نہ دے سکی۔

25/03/2026

حضرت زید بن حارثہؓ
غلامی سے رفعت تک

حضرت زیدؓ کا تعلق عرب کے معزز قبیلۂ قضاعہ سے تھا۔ آپؓ کے والد حارثہ بن شرحبیل اور والدہ سعدی بنت ثعلبہ تھیں۔ گویا نسب کے اعتبار سے آپ کسی ادنیٰ خاندان کے فرد نہ تھے، مگر تقدیر نے ایک ایسا موڑ لیا کہ بچپن ہی میں آپ اپنی والدہ کے ساتھ میکے گئے ہوئے تھے کہ بنو قین کے سواروں نے حملہ کر کے اس کمسن بچے کو اغوا کر لیا اور بازارِ عکاظ میں غلام بنا کر فروخت کر دیا۔ یوں ایک معزز گھرانے کا چشم و چراغ غلامی کے اندھیروں میں پہنچ گیا۔یہی اندھیرا اس کے لیے نورِ رسالت تک پہنچنے کا راستہ بن گیا۔
حکیم بن حزام نے آپ کو خرید کر اپنی پھوپھی حضرت خدیجہؓ کے سپرد کیا، اور یوں حضرت زیدؓ کو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آنے کا شرف حاصل ہوا۔ یہ وہ غلامی تھی جس پر ہزاروں آزادیاں قربان ہوتی ہیں، کیونکہ یہاں غلامی نہیں، محبت کی بادشاہی تھی۔
ادھر آپ کے والد حارثہ اپنے بیٹے کے فراق میں تڑپ رہے تھے۔ ان کے دل کی کیفیت ان اشعار میں جھلکتی ہے جو انہوں نے اپنے غم کے اظہار میں کہے:
بکیت علی زید ولم ادر ما فعل
احی فیرجی ام اتی دونہ الاجل
(میں زید کے لیےبہت رویا، مگر یہ نہ جان سکا کہ وہ زندہ ہے یا موت اسے لے گئی)
فواللہ ما ادری وان کنت سائلا
اغالک سہل الارض ام غالک الجبل
(خدا کی قسم! مجھے کچھ معلوم نہیں،زمین نے نگل لیا یا پہاڑ نے چھپا لیا؟)
فیالیت شعری ہل لک الدہر رجعة
فحسبی من الدنیا رجوعک لی بحل
(کاش! تو لوٹ آئے،یہی میرے لیے دنیا کی سب سے بڑی نعمت ہوگی)
یہ اشعار ایک باپ کے ٹوٹے ہوئے دل کی صدائیں تھیں، جو اپنے گمشدہ بیٹے کی تلاش میں بے قرار تھا۔

کچھ عرصہ بعد قبیلۂ کلب کے بعض افراد مکہ آئے۔انہوں نے حضرت زیدؓ کو پہچان لیا اور ان کے والد کو خبر دی۔ جب باپ کو یقین ہوا تو وہ اپنے بھائی کے ساتھ مکہ پہنچے۔ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ ہمارا بیٹا ہمیں واپس کر دیا جائے، ہم فدیہ دینے کو تیار ہیں۔ یہاں رسولِ رحمت ﷺ کا عدل اور اخلاق اپنی بلند ترین صورت میں جلوہ گر ہوتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "زید کو بلا لیتے ہیں، وہ خود فیصلہ کرے گا۔"
حضرت زیدؓ کو بلایا گیا۔ ایک طرف باپ اور چچا، دوسری طرف رسول اللہ ﷺ۔ فیصلے کااختیار ان کو دے دیا گیا۔ یہ محض ایک انتخاب نہ تھا، بلکہ محبت اور نسب کے درمیان ایک عظیم امتحان تھا۔ حضرت زیدؓ نے وہ فیصلہ کیا جس نے قیامت تک وفا کی تعریف بدل دی۔
انہوں نے کہا"میں آپ ﷺ پر کسی کو ترجیح نہیں دے سکتا… آپ ہی میرے ماں باپ ہیں۔"
یہ سن کر حارثہ حیران تو ہوئے،مگر یہ حیرت محبت کے سامنے سر جھکا گئی۔ رسول اللہ ﷺ نے اسی وقت خانہ کعبہ کے پاس گئے اور اعلان فرمایا " زید میرا بیٹا ہے، میں اس کا وارث ہوں اور یہ میرا وارث ہے۔"
یہ کیا مقام ہے، کیا اعزاز ہے۔ ایک غلام کو وہ مقام ملا جو بڑے بڑے سرداروں کے نصیب میں بھی نہ آیا۔
بعثتِ نبوی کے بعد حضرت زیدؓ ان خوش نصیبوں میں شامل ہیں جنہوں نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا۔ محققین کے مطابق وہ غلاموں میں سب سے پہلے ایمان لانے والے تھے۔ ان کی وفا اور اخلاص کا یہ عالم تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کا نکاح اپنی خاص خادمہ حضرت ام ایمنؓ سے کرایا، جن کے بطن سے حضرت اسامہ بن زیدؓ پیدا ہوئے۔وہی اسامہ جو اپنے والد کی طرح رسول ﷺ کے محبوب کہلائے۔
مدینہ کی زندگی میں بھی حضرت زیدؓ رسول اللہ ﷺ کے نہایت قریب رہے۔ انہیں متعدد مواقع پر سپہ سالاری کا شرف حاصل ہوا۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جس لشکر میں حضرت زیدؓ شریک ہوتے، امیر وہی ہوتے۔ آپؓ نہایت ماہر تیرانداز اور دلیر مجاہد تھے، اور بدر سے لے کر دیگر معرکوں تک ہر میدان میں اپنی بہادری کے جوہر دکھائے۔
8 ہجری میں غزوۂ موتہ کا موقع آیا۔ رسول اللہ ﷺ نے تین ہزار مجاہدین کے اس لشکر کا امیر حضرت زیدؓ کو مقرر فرمایا، اور ترتیب یہ رکھی کہ اگر وہ شہید ہو جائیں تو حضرت جعفرؓ اور پھر حضرت عبد اللہ بن رواحہؓ امیر ہوں گے۔ جب یہ لشکر ایک لاکھ کے رومی لشکر کے مقابل آیا تو بظاہر یہ ایک ناممکن مقابلہ تھا، مگر ایمان والوں کے لیے تعداد کی نہیں، یقین کی قوت فیصلہ کن ہوتی ہے۔
حضرت زیدؓ نے علم تھاما اور بے جگری سے دشمن کی صفوں میں داخل ہو گئے۔ گھمسان کی جنگ ہوئی، یہاں تک کہ ایک نیزہ ان کے جسم میں پیوست ہو گیا اور وہ جامِ شہادت نوش کر گئے۔ یوں وہ غلامِ رسول ﷺ اپنے آقا کی محبت میں جان دے کر ہمیشہ کے لیے امر ہو گئے۔
مدینہ میں رسول اللہ ﷺ نے ان کی شہادت کی خبر سنی تو آنکھیں اشکبار ہو گئیں۔ جب ان کی بیٹی رونے لگی تو آپ ﷺ بھی ضبط نہ کر سکے۔ کسی نے عرض کیا: “یا رسول اللہ! یہ کیا ہے؟” آپ ﷺ نے فرمایا: “یہ محبت ہے۔”
حضرت زید بن حارثہؓ کی زندگی ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ اصل عزت نسب میں نہیں، بلکہ وفا میں ہے؛ اصل مقام آزادی میں نہیں، بلکہ محبت میں ہے۔ اصل کامیابی دنیا میں نہیں، بلکہ رسول اللہ ﷺ کی نسبت میں ہے۔ وہ غلام نہیں تھے،وہ محبت کے تاجدار تھے، اور رہتی دنیا
تک وفا کی علامت رہیں گے۔

Veto power is not justice—it is power.In the so-called United Nations, a single powerful country can block the will of t...
23/03/2026

Veto power is not justice—it is power.

In the so-called United Nations, a single powerful country can block the will of the world, even while millions suffer and die. This system does not believe in equality; it places a few powerful states above international law.

It is an unjust, unethical mechanism pushing the world toward destruction—used by dominant powers, particularly the United States, to protect their interests and pressure weaker regions, especially the Muslim world.

This “law” is nothing but a shield for the powerful—where principles don’t matter, only interests do.

As for the United Nations… Inna lillahi wa inna ilayhi raji'un.




23/03/2026

حضرت ابو ایوب انصاریؓ
میزبان رسول ﷺ

تاریخِ اسلام کے اوراق میں کچھ نام ندہ مثال ہوتے ہیں۔ایسے کردار جو وقت کے سمندر میں ڈوبتے نہیں بلکہ ہر دور میں روشنی کے مینار بن کر ابھرتے ہیں۔ حضرت ابو ایوب انصاریؓ انہی درخشاں ہستیوں میں سے ایک ہیں، جن کی زندگی محبتِ رسول ﷺ، ایثار، جہاد اور علم کا حسین امتزاج ہے۔آپؓ کا اصل نام خالد بن زیدؓتھا۔ آپ قبیلہ خزرج کے معزز فرد تھے۔ اسلام کی پہلی کرن جب مدینہ پہنچی تو آپؓ ان خوش نصیبوں میں شامل تھے جنہوں نے مکـــہ میں عقبہ کے مقام پر رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ یہ بیعت عقبہ اولیٰ کہلاتی ہے۔ یہ وہ دن تھے جب مدینہ نے مکہ کے مظلوم مسلمانوں کو اپنے دل میں جگہ دینے کا عہد کیااور حضرت ابو ایوبؓ اس عہد کے سچے امین بن کر ابھرے۔
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ سنہ کا ہی گھر تھا جہاں ہجرت سے پہلے حضرت مصعب بن عمیرؓ ٹھہرے۔ وہی گھر جہاں قرآن کی آواز گونجتی، جہاں ایمان کی شمعیں روشن ہوتیں، جہاں دل بدلتے اور زندگیوں کا رخ پلٹ جاتا۔ گویا حضرت ابو ایوبؓ کا آستانہ اسلام کے ابتدائی تبلیغی مراکز میں سے ایک بن چکا تھا۔
پھر وہ تاریخی دن آیا…!!
مدینہ کی گلیاں منتظر تھیں، دل بے چین تھے، اور آنکھیں راستے پر جمی ہوئی تھیں۔ رسول اللہ ﷺ ہجرت فرما کر مدینہ میں داخل ہونے والے تھے۔ ہر شخص چاہتا تھا کہ حضور ﷺ اس کے گھر قیام کریں، ہر دروازہ امید سے کھلا تھا۔مگر فیصلہ زمین پر نہیں، آسمان پر ہونا تھا۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
“اونٹنی (قصواء)کو چھوڑ دو، یہ اللہ کے حکم سے خود ٹھہرے گی۔”
قصواءآگے بڑھتی رہی، گلیوں سے گزرتی ہوئی، لوگوں کے دلوں کو آزماتی ہوئی۔ پھر ایک جگہ رک کر بیٹھ گئی۔یہ حضرت ابو ایوب انصاریؓ کا گھر تھا۔یہ محض اونٹی کاقیام نہ تھا، یہ ایک گھر کی قسمت کا بدل جانا تھا۔یہ ایک انسان کے نصیب کا چمک اٹھنا تھا۔
حضرت ابو ایوبؓ فوراً آگے بڑھے، رسول اللہ ﷺکاسامان اٹھایا اور خوشی سے جھومتے ہوئے عرض کیا:"یا رسول اللہ ﷺ! یہ میرا گھر ہے، یہ میری جان ہے، سب کچھ آپ پر قربان!"
ابتدا میں حضور ﷺ گھر کےنچلے حصے میں قیام پذیر ہوئے اور حضرت ابو ایوبؓ اوپر رہنے لگے، مگر یہ بات ان کے دل کو بے چین رکھتی تھی۔ انہیں یہ گوارا نہ تھا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے اوپر رہیں۔

ایک رات پانی کا برتن گر گیا۔ اندیشہ ہوا کہ کہیں ایک قطرہ بھی نیچے نہ ٹپک جائے۔ حضرت ابو ایوبؓ اور ان کی زوجہ نے فوراً اپنی چادر سے پانی خشک کیا اور باقی رات دیوار کے ساتھ لگ کر گزارکہ کہیں بے ادبی نہ ہو جائے۔
صبح عرض کیا:"یا رسول اللہ ﷺ! ہم کیسے برداشت کریں کہ آپ نیچے ہوں اور ہم اوپر؟ خدا کی قسم! ہمیں یہ گوارا نہیں"
چنانچہ حضور ﷺ اوپر تشریف لے گئے اور وہ نیچے منتقل ہو گئے۔
حضرت ابو ایوبؓ نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں جوبھی کھانا پیش کیا، اس میں بھی ادب کا یہی عالم تھا۔ روایت ہے کہ جب حضور ﷺ کھانا تناول فرما لیتے تو حضرت ابو ایوبؓ اسی جگہ سے کھانا کھاتے جہاں حضور ﷺ کے ہاتھ مبارک لگے ہوتےتھے۔برکت کی تلاش میں، محبت کی شدت میں۔
ایک مرتبہ کھانے میں لہسن تھا، حضور ﷺ نے اسے پسند نہ فرمایا۔ حضرت ابو ایوبؓ فوراً گھبرا گئے کہ کہیں کوئی گستاخی نہ ہو گئی ہو۔ عرض کیا"یا رسول اللہ ﷺ! کیا یہ حرام ہے؟"
آپ ﷺ نے فرمایا"نہیں، مگر مجھے اس کی بو پسند نہیں"
یہ سن کر حضرت ابو ایوبؓ نے عرض کیا:
“پھر مجھے بھی وہ چیز پسند نہیں جو آپ کو ناپسند ہو۔”یہ عشق کا وہ درجہ ہے جہاں انسان اپنی پسند کو بھی محبوب کی پسند پر قربان کر دیتا ہے۔
حضرت ابو ایوبؓ صرف میزبان نہ تھے، وہ میدانِ جہاد کے شہ سواربھی تھے۔ غزوہ اُحد، خندق، خیبر،ہر معرکے میں وہ شریک رہے۔ جب بھی آواز دی گئی، وہ لبیک کہتے ہوئے سب سے آگے نظر آئے۔
وصالِ نبوی ﷺ کے بعد بھی ان کی زندگی جہاد سے عبارت رہی۔ خلافتِ راشدہ کے ادوار میں بھی وہ مختلف محاذوں پر شریک ہوتے رہے۔ عمر بڑھتی گئی، جسم کمزور ہوتا گیا، مگر عزم جوان رہا۔پھر وہ وقت آیا جب قسطنطنیہ کی عظیم مہم کا اعلان ہوا۔
یہ ایک طویل، کٹھن اور خطرناک سفر تھامگر حضرت ابو ایوبؓ نے اس میں شرکت کا فیصلہ کیا۔ لوگوں نے عرض کیا:
“آپ بوڑھے ہو چکے ہیں، اب آرام کیجیے۔”
مگر انہوں نے قرآن کی آیت پڑھی:
اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّ ثِقَالًا وَّ جَاهِدُوْا بِاَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِؕ-ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(التوبہ)
"نکل نکلو( اللہ کی راہ میں)خواہ ہلکے ہو یا بوجھل، اور اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ جہاد کرو۔ یہ تمہارے لیے بہتر ہے، اگر تم جانتے ہو۔"

اور فرمایا:
“ہمیں حکم دیا گیا ہے، ہم رک نہیں سکتے۔”
یہ وہ ایمان تھا جو بڑھاپے کو بھی جوان بنا دیتا ہے۔کار زارِ قسطنطنیہ میں جب ان کی بیماری شدت اختیار کر گئی اور وفات کاوقت قریب آیا تو انہوں نے ایک عجیب وصیت کی:
“جب میں وفات پا جاؤں تو مجھے لشکر کے آگے لے جانا، جہاں تک ممکن ہو دشمن کی سرزمین میں دفن کرنا۔”
چنانچہ آپؓ کو شہر کی فصیلوں کے قریب دفن کیا گیا۔1453ء میں سلطان محمد فاتح نے قسطنطنیہ کو فتح کیا توسب سے پہلے سلطان فاتح نےآپؓ کی قبر تلاش کا عمل شروع ۔ اس وقت کے جید روحانی بزرگ اور سلطان فاتح کے استاد الشمس الدین نے ایک جگہ کی نشاندہی کی۔ تاریخی روایات میں ہے کہ آپ نےاس جگہ نور دیکھا۔ دو ہاتھ گہری زمین کھو دی گئی تو وہاں ایک پتھر برآمد ہوا، جس پر عبرانی زبان میں حضرت ابو ایوب انصاری کا نام لکھا تھا۔
تر انہیں ایوب سلطان کے نام سے پکارتے ہیں ۔ترک اس کو اپنا اعزاز سمجھتے ہیں:
بس است قسطنطنیہ را ایں
شرفکہ در آغوشِ او ابوایوب است
ایک بھی روایت ملتی ہے:"قسطنطنیہ را زین فخر
بسکہ ابوایوب اندر او خفتہ است
"قسطنط(استنبول) کے لیے یہی عزت کافی ہے کہ اس کی آغوش میں ابو ایوب انصاریؓ آرام فرما ہیں۔"
حضرت ابو ایوبؓ کی زندگی ہمیں یہ سکھاتی ہے:
کہ محبت صرف دعوے کا نام نہیں،عمل کا نام ہے۔
علم صرف الفاظ نہیں،کردار کا نام ہے۔ جہاد صرف میدان میں نہیںنیت میں ہوتا ہے۔وہ ایک میزبان تھےمگر ان کی میزبانی نے تاریخ بدل دی۔وہ ایک صحابی تھےمگر ان کا کردار ایک امت کے لیے معیار بن گیا۔وہ ایک عاشق تھےاور ان کا عشق آج بھی ایمان کو زندہ کرتا ہے۔
صدیوں پہلےمدینہ میں ایک دروازہ کھلا تھا… اور اس دروازے سے تاریخ اندر داخل ہو گئی تھی۔

حضرت ابو الہیثم مالک بن التیہان رضی اللہ عنہ            [ذوالسیفین۔۔دوتلواروں والے]تاریخ کے اوراق جب کھلتے ہیں تو بعض نا...
18/03/2026

حضرت ابو الہیثم مالک بن التیہان رضی اللہ عنہ
[ذوالسیفین۔۔دوتلواروں والے]
تاریخ کے اوراق جب کھلتے ہیں تو بعض نام صرف پڑھے نہیں جاتے، بلکہ دل پر اترتے محسوس ہوتے ہیں۔ پھر وہیں ٹھہر جاتے ہیں۔ انہی تابندہ ناموں میں ایک نام حضرت ابو الہیثم مالک بن التیہان انصاری رضی اللہ عنہ کا ہے۔ ایک ایسا درخشاں جوہر جس میں توحید کی چمک، شمشیر کی جرأت، محبتِ مصطفیٰ ﷺ کی حرارت اور ایثار کی لطافت یکجا ہو گئی تھیں۔جب عرب کے افق پر شرک کے بادل اس طرح چھائے تھے کہ سچائی کی کوئی کرن دکھائی نہ دیتی تھی، تب بھی ان کے سینے میں توحید کا خاموش چراغ روشن تھا۔ وہ ان معدودے چند نفوس میں سے تھے جو بتوں کے سامنے جھکنے کو اپنی فطرت کے خلاف سمجھتے تھے۔ گویا ان کے دل میں پہلے ہی سے وہ زمین تیار تھی جہاں اسلام کا بیج پڑتے ہی ایک تناور درخت بن جانا تھا۔
جب حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ مدینہ آئے اور اسلام کی خوشبو مدینہ کی گلیوں میں پھیلنے لگی، تو ابو الہیثمؓ نے اسے محض سنا نہیں۔اپنے دل میں اتار لیا۔ پھر وہ بابرکت رات آئی جسے تاریخ بیعتِ عقبہ اول کے نام سے جانتی ہے۔
وہ رات… جب چند نفوس نے اپنے ہاتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھا کرتاریخ کا رخ موڑ دیا۔ایک زمانے سے ٹکرانے کاعزم کرلیا۔
ابو الہیثمؓ صرف بیعت کرنے والے نہ تھے، بلکہ مدینہ میں اسلام کے ایک مضبوط ستون بننے والے تھے۔
میدانِ کارزار میں ان کا ذکر آتا ہے تو الفاظ خود سنبھل کر چلتے ہیں۔کیوں کہ یہاں ایک ایسا مردِ مجاہد کھڑا ہے جو دونوں ہاتھوں میں تلواریں لیے، دشمن کے لشکروں میں اس طرح اترتا ہے جیسے بجلی بادلوں کو چیرتی ہے۔اسی لیے تو انہیں ذوالسیفین کہا گیا۔ یہ لقب محض دو تلواروں کانہیں
یہ دو جہتوں کا استعارہ تھا،ایک ہاتھ میں جرأت، دوسرے میں یقین۔
غزوہ بدر ہو یا احد، خندق ہو یا دیگر معرکے۔۔۔وہ ہر جگہ ایک فولادی دیوار کی مانند کھڑے نظر آتے ہیں۔
ان کی تلواریں صرف جسموں کو نہیں چیرتیں،
بلکہ باطل کے غرور کو بھی پارہ پارہ کر دیتی تھیں۔
میزبانِ رسول ﷺ — جہاں محبت عبادت بن گئی۔
ان کی زندگی کا سب سے لطیف، سب سے دلنشین باب وہ ہے جب ان کا گھر محبتِ رسول ﷺ کا مرکز بن گیا۔
ایک روز رسول اللہ ﷺ، حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بھوک کی شدت سے مجبور ہو کر اپنے اپنے گھروں سے نکلے۔ فقر نے عظمت کے دروازے پر دستک دی۔
وہ چلتے چلتے ابو الہیثمؓ کے گھر پہنچے۔ یوں ایک عام سا گھر، تاریخ کا ایک روشن باب بن گیا۔
ابو الہیثمؓ گھر پر نہ تھے…اہلیہ نے بتایا کہ وہ میٹھے پانی کی تلاش میں گئے ہیں۔
جب وہ واپس آئےکندھے پر پانی کی مشک تھی، چہرے پر تھکن کے آثار۔ جونہی نگاہ حضور ﷺ پر پڑی…تو گویا وقت تھم گیا۔مشک ایک طرف رکھ دی،
آنکھوں میں آنسو بھر آئے،
زبان پر بس ایک ہی فقرہ تھا:
“میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں!”
پھر وہ اپنے مہمانوں کو باغ میں لے گئے۔
ایک شاخ کاٹی جس میں ہر طرح کی کھجوریں تھیں—کچی بھی، پکی بھی۔عرض کیا" یارسول اللہ جوپسند ہو،تناول فرمائیے۔
پھر پانی پیش کیا، پھر قربانی کی۔
یہ سب کچھ ایک ایسے دل سے نکل رہا تھا جس میں محبت کا سیلاب تھا۔
جب سب سیر ہو گئے، تو حضور ﷺ نے فرمایا:
“یہ سایہ، یہ ٹھنڈا پانی، یہ عمدہ کھانا۔یہ سب نعمتیں ہیں، اور ان کا حساب ہوگا…”
ابو الہیثمؓ صرف بہادر ہی نہ تھے، وہ دیانت کے پیکر بھی تھے۔اسی لیے حضور ﷺ نے انہیں خیبر کے باغات کے پھلوں کا اندازہ لگانے کی ذمہ داری سونپی۔یہ معمولی کام نہ تھا۔یہ اعتماد کی وہ مہر تھی جو صرف اہلِ صدق کو دی جاتی ہے۔
انہوں نے اس ذمہ داری کو اس طرح نبھایا جیسے کوئی امانت نہیں، عبادت ادا کر رہا ہو۔
وقت گزرتا گیا، عہد بدلتے گئے،
مگر ابو الہیثمؓ کا دل نہ بدلا۔
وہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ کھڑے رہے۔
حق کے ساتھ، اصول کے ساتھ۔
جنگِ صفین (۳۷ ہجری)…جہاں تلواریں صرف جسموں سے نہیں، تاریخ سے ٹکرا رہی تھیں۔وہیں ابو الہیثمؓ نے اپنی جان پیش کر دی۔یہ موت نہ تھی
یہ وفا کی تکمیل تھی۔
کہ جو زندگی حق کے لیے گزاری جائے،
اس کا خاتمہ بھی حق پر ہی ہوتا ہے۔
ایک زندگی، کئی سبق
حضرت ابو الہیثمؓ کی زندگی ہمیں یہ سکھاتی۔بہادری ہتھیار سے نہیں، یقین سے پیدا ہوتی ہے
محبتِ رسول ﷺ صرف الفاظ نہیں، عمل مانگتی ہے۔
وفاداری کا آخری درجہ… قربانی ہے۔وہ نہ کسی تخت کے وارث تھے، نہ کسی سلطنت کے مالک۔
جو شخص اپنے رب، اپنے رسول ﷺ اور حق کے ساتھ سچا ہو جائے،
وہ وقت کی گرد میں نہیں کھوتا—بلکہ زمانے کی پیشانی پر نقش ہو جاتا ہے۔

حضرت بلالؓ                  [مؤذنِ رسول ﷺ]رسول اللہﷺ کے جاں نثار اورناقابلِ شکست لوگوں میں ایک نام حضرت بلال حبشی رضی ال...
17/03/2026

حضرت بلالؓ
[مؤذنِ رسول ﷺ]

رسول اللہﷺ کے جاں نثار اورناقابلِ شکست لوگوں میں ایک نام حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ کا بھی ہے۔آپؓ کا خاندان حبشہ سے مکہ آ کر آباد ہوا تھا اور آپؓ کی پیدائش بھی مکہ ہی میں ہوئی۔ بظاہر آپؓ ایک سیاہ فام غلام تھے، مگر جب رحمتِ دو جہاں ﷺ کے پیغام کی روشنی نے آپؓ کے قلبِ منوّر کو چھو لیا تو وادیٔ بطحا کے گورے گورے سرداروں کی ساری چمک ماند پڑ گئی۔حضرت بلالؓ سابقون الاولون میں سے تھے۔ روایات کے مطابق اسلام قبول کرنے والوں میں آپؓ کا شمار ساتویں نمبر پر ہوتا ہے۔ اس زمانے میں مکہ میں غلام کی حیثیت کچھ بھی نہ تھی۔ کمزور پر ظلم کرنا طاقتور کا حق سمجھا جاتا تھا۔ مگر ایک غلام کا ظلم کے سامنے سر نہ جھکانا اہلِ مکہ کے لیے حیران کن بات تھی۔
اُمیّہ بن خلف آپؓ کا آقا تھا۔ لیکن تن کے کالے اور من کے اُجلے بلالؓ نے جب ایک اللہ کو ماننے کا اعلان کیا تو گویا غلاموں کی دنیا میں یہ صدا گونج اٹھی کہ 'کوئی انسان کسی انسان کا غلام نہیں'۔
جب آپؓ کے قبولِ اسلام کی خبر عام ہوئی تو مکہ کے سردار آپؓ پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑنے لگے۔ ایک دن اُمیّہ بن خلف نے طنزیہ انداز میں پوچھا:
“بلال! کیا تم نے کوئی نیا آقا ڈھونڈ لیا ہے؟ تم کس کی عبادت کرتے ہو؟”
حضرت بلالؓ جو سکینت پا چکے تھے، جواب دیا:
“میں محمد ﷺ کے خدا کی عبادت کرتا ہوں۔”
یہ سن کر اُمیّہ کی آنکھوں میں خون اتر آیا۔ تشدد کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوا جس کی مثال تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ کھانا پینا بند کر دیا گیا۔ مکہ کی تپتی ہوئی زمین پر ننگے بدن گھسیٹا جاتا۔ کبھی سینے پر بھاری پتھر رکھ دیا جاتا اور اُمیّہ چیخ کر کہتا:
“کہو! لات اور عُزّیٰ تمہارے خدا ہیں!”
مگر ہر بار جواب ایک ہی ہوتا:
“اَحد… اَحد!”
یہ اب صرف ایک لفظ نہ تھا بلکہ ایمان کی ایک گونج تھی۔
روز کا معمول بن گیا۔ دوپہر کی تپتی دھوپ میں بلالؓ کو باہر لایا جاتا، جلتی ہوئی ریت پر لٹا دیا جاتا اور سینے پر بھاری چٹان رکھ دی جاتی۔ کوڑے برسائے جاتے، زخم بنتے، خون بہتا، مگر اُمیّہ کے ہر سوال کے جواب میں صرف ایک صدا بلند ہوتی:
“اَحد… اَحد!”
ایک بارامیہ نے آپ کو ایک دن اور ایک رات بھوکا رکھا اور پھر تپتی ریت پر لٹا کر مارنا شروع کر دیا۔ لیکن چٹانوں کے نیچے دبے ہوئے بھی بلالؓ کی زبان پر وہی نغمہ تھا:
“اَحد… اَحد!”
بنو جمح کے محلے میں یہ ظلم سب کے سامنے ہو رہا تھا۔ بچے تک اس ظلم سے واقف ہو چکے تھے۔ حضرت ابو بکر صدیقؓ بھی اسی محلے میں رہتے تھے۔ وہ روز یہ منظر دیکھتے اوران کادل خون کے آنسو روتا۔
ایک دن اُمیّہ نے بلالؓ کے گلے میں رسی ڈال کر محلے کے بچوں کے حوالے کر دیا۔ وہ انہیں مکہ کی پتھریلی گلیوں میں گھسیٹتے پھرتے۔ کبھی رسّی جھٹکے سے کھینچتے تو بلالؓ منہ کے بل گر پڑتے۔ کبھی ٹھوکریں مارتے۔ نوکیلے پتھروں کی رگڑ سے جسم پر نئے زخم بنتے اور پرانے زخم پھر سے کھل جاتے۔ پورا بدن لہو لہان ہو جاتا۔
دوپہر کی تپتی دھوپ میں ان کے کپڑے اتار کر لوہے کی زرہ پہنا دی جاتی اور دھوپ میں کھڑا کر دیا جاتا۔ ایک روز دہکتے کوئلوں پر لٹا کر سینے پر پتھر رکھ دیا گیا۔
اسی دوران ایک دن بزرگ ورقہ بن نوفل کا گزر ہوا۔ انہوں نے “احد، احد” کی صدا سنی تو رک گئے اور بلند آواز سے کہا:
“بلال! بے شک وہ ایک ہی ہے!”
پھر اُمیّہ سے مخاطب ہو کر بولے:
“خدا کی قسم! اگر تم نے اسے مار ڈالا تو میں اس کی قبر کو زیارت گاہ بنا دوں گا۔”
لیکن اُمیّہ باز نہ آیا۔ کوڑے برساتا اور پوچھتا:
“محمد ﷺ کے خدا سے پھر جاؤ گے یا نہیں؟”
مگر جواب ہمیشہ ایک ہی رہتا:
“اَحد… اَحد!”
بالآخر ایک دن حضرت ابو بکر صدیقؓ کا دل اس ظلم کو دیکھ کر تڑپ اٹھا۔ انہوں نے اُمیّہ سے کہا:
“اس بے گناہ پر اتنا ظلم نہ کرو۔ اگر تمہیں اس سے کوئی فائدہ نہیں تو اسے مجھے بیچ دو۔”
اُمیّہ نے طنزیہ انداز میں کہا:
“اپنا غلام فطاس رومی اور سات سو پینتیس چاندی کے سکے دے دو تو لے جاؤ۔”
حضرت ابو بکرؓ نے فوراً کہا:
“مجھے منظور ہے۔”
یوں حضرت بلالؓ کو خرید کر آزاد کر دیا گیا۔ اسی وقت حضرت زید بن حارثہؓ نے خوشخبری سنائی:
“بلال! اب تم آزاد ہو۔”
مشرکین ہنسنے لگے۔ اُمیّہ نے کہا:
“ابنِ ابی قحافہ! میں تو اسے سو درہم میں بھی بیچ دیتا۔”
حضرت ابو بکرؓ نے جواب دیا:
“دھوکا میں نے نہیں، تم نے کھایا ہے۔ میرے نزدیک یمن کی بادشاہی بھی اس کے مقابلے میں کچھ نہیں۔”
حضرت ابو بکرؓ اور حضرت زیدؓ نیم مردہ بلالؓ کو سہارا دے کر اپنے گھر لے آئے۔ کئی دن تک وہ بے ہوشی کی حالت میں رہے۔ مرہم لگایا جاتا، ٹھنڈے پانی کے پھاہے رکھے جاتے، دعائیں کی جاتیں۔
حضرت ابو بکرؓ نے بتایا:
“رسول اللہ ﷺ تین دن مسلسل تمہارے لیے دعا کرتے رہے۔ جب تمہارا بخار اترا تو آپ ﷺ بہت خوش ہوئے۔”
کیا کبھی کسی نے سوچا کہ کائنات کی سب سے عظیم ہستی ایک حبشی غلام کی صحت پر اس قدر خوش کیوں تھی؟
اس لیے کہ اسلام کا پیغام یہی تھا:
نہ کوئی گورا، نہ کوئی کالا
نہ کوئی آقا، نہ کوئی غلام۔
یوں حضرت بلالؓ ہمیشہ کے لیے رسول اللہ ﷺ کے دامنِ رحمت سے وابستہ ہو گئے اور تاریخ نے دیکھا کہ وہی غلام بعد میں اسلام کے پہلے مؤذن بنے اور ان کی آواز میں “اللہ اکبر” کی صدا مدینہ کی فضاؤں میں گونجنے لگی۔
اور دنیا نے پہلی بار دیکھا کہ
جو کل غلام تھا
آج وہ ایمان کی بلندیوں پر کھڑا ہے۔
جس روز مکہ فتح ہوا۔رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بلال کو حکم دیا کہ کعبے کی چھت پر کھڑے ہوکر اللہ کی کبریائی بیان کرو،مکہ کے وہ سردار جو غلاموں سے نفرت کرتے تھے، دم سادھے کھڑے تھے اور اسی مکہ کی زمین پر "احد ،احد" کی ضربیں لگانے والا آج بیت اللہ کی چھت پر کھڑا اللہ اکبر اللہ اکبر کی صدائیں بلند کررہاتھا۔
رضي الله عنهم ورضوا عنه ❗️❗️

حضرت زاہر بن حرام الاشجعی رضی اللہ[رسول اللہ کے دیہاتی دوست]مدینہ کی گلیوں میں اس دن معمول کی سی چہل پہل تھی۔ بازار میں ...
16/03/2026

حضرت زاہر بن حرام الاشجعی رضی اللہ
[رسول اللہ کے دیہاتی دوست]
مدینہ کی گلیوں میں اس دن معمول کی سی چہل پہل تھی۔ بازار میں لوگ اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھے۔ کہیں کھجوروں کے ٹوکرے رکھے تھے، کہیں عطر فروش اپنی دکانیں سجا رہے تھے، کہیں قافلوں سے آئے ہوئے بدوی اپنی دیہی پیداوار بیچ رہے تھے۔ انہی لوگوں کے درمیان ایک سادہ سا آدمی بھی کھڑا تھا۔ وہ صحرا کی فضا کا پروردہ تھا۔ چہرے پر وہ چمک نہ تھی جسے عرب معاشرہ حسن کا معیار سمجھتا تھا، مگر دل میں ایمان کی روشنی تھی۔ یہ حضرت زاہر بن حرام الاشجعی رضی اللہ عنہ تھے۔
وہ قبیلۂ اشجع سے تعلق رکھتے تھے، جو غطفان کی ایک شاخ تھا۔ زندگی کا بیشتر حصہ بادیہ[دیہات] میں گزرا تھا۔ سادہ مزاج، کم گو اور بے تکلف انسان تھے۔ مدینہ آتے تو زیادہ دیر قیام نہ کرتے، مگر جب بھی آتے تو اپنے ساتھ صحرا کی کوئی نہ کوئی سوغات ضرور لاتے۔ کبھی جنگلی شہد، کبھی کھجوریں، کبھی سبزیاں یا کوئی دیہی تحفہ۔ اور جب وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے تو ان کی آنکھوں میں ایک عجیب سی عقیدت جھلکتی تھی۔رسول اللہ ﷺ بھی انہیں بے حد محبت دیتے تھے۔ جب وہ واپس بادیہ کی طرف لوٹتے تو آپ ﷺ انہیں شہر کی چیزیں عطا فرماتے۔کبھی کپڑا، کبھی کوئی اور ضرورت کا سامان۔ یوں بادیہ اور شہر کے درمیان محبت کا ایک خاموش سا پل قائم تھا۔
نبی کریم ﷺ فرمایا کرتے تھے:
“زَاهِرٌ بَادِيَتُنَا وَنَحْنُ حَاضِرُوهُ”
“زاہر ہمارا بدوی بھائی ہے اور ہم اس کے شہری بھائی ہیں۔”
ایک روایت میں یہ الفاظ بھی ملتے ہیں کہ آلِ محمد ﷺ کا دیہاتی بھائی زاہر بن حرام ہے۔
مگر حضرت زاہر رضی اللہ عنہ کی زندگی کا وہ لمحہ جو تاریخ میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو گیا، مدینہ کے اسی بازار میں پیش آیا۔
ایک روزوہ بازار میں کچھ سامان بیچنے میں مصروف تھے۔ رسول اللہ ﷺ وہاں تشریف لائے۔ حضرت زاہر رضی اللہ عنہ کو خبر نہ ہوئی۔ آپ ﷺ نے پیچھے سے آ کر محبت بھرے انداز میں انہیں اپنے بازوؤں میں لے لیا۔ اچانک اس گرفت پر وہ گھبرا گئے اور بول اٹھے:
“کون ہے؟ مجھے چھوڑ دو!”
جب انہوں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ یہ تو رسول اللہ ﷺ ہیں۔ بس پھر کیا تھا،وہ اسی طرح آپ ﷺ کے سینے سے لگے رہے۔
نبی کریم ﷺ نے مزاحیہ انداز میں فرمایا:
“مَنْ يَشْتَرِي هٰذَا الْعَبْدَ؟”
“کون ہے جو اس غلام کو خریدے؟”
بازار کے لوگ مسکرا اٹھے۔ حضرت زاہر رضی اللہ عنہ نے نہایت سادگی سے عرض کیا:
“یا رسول اللہ! پھر تو آپ مجھے سستا ہی پائیں گے۔”
یہ الفاظ دراصل ان کے دل کی ایک خاموش کسک تھے۔ وہ جانتے تھے کہ عرب معاشرے میں حسن و جمال کو بڑی اہمیت دی جاتی ہے اور وہ ظاہری حسن میں میں نہیں باطنی خوبیوں سےمالامال تھے۔
رسول اللہ ﷺ نے فوراً ان کے دل پر مرہم رکھ دیا۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
“لٰكِنَّكَ عِنْدَ اللّٰهِ لَسْتَ بِكَاسِدٍ”
“لیکن اللہ کے نزدیک تم بے قیمت نہیں ہو۔”
یہ ایک انسان کے دل کی گہرائیوں میں اتر جانے والی روشنی تھی وہ عرب معاشرے کی تفریق سے مدھم ہڑچکی تھی۔ یہ اعلان تھا کہ انسان کی اصل قیمت اس کے چہرے سے نہیں بلکہ اس کے ایمان اور اخلاص سے ہوتی ہے۔
حضرت زاہر رضی اللہ عنہ وہ خوش نصیب صحابی ہیں جنہیں غزوۂ بدر میں شرکت کا شرف بھی حاصل ہوا۔ بدری صحابہ کی فضیلت اسلامی تاریخ میں مسلم ہے۔ قرآن نے ان کے اخلاص اور قربانیوں کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ ان کی زندگی کے بڑے کارنامے تاریخ کی ضخیم کتابوں میں نہیں ملتے۔ نہ کسی بڑی مہم کی قیادت، نہ کوئی طویل خطبہ، نہ کوئی سیاسی کردار۔ مگر اس کے باوجود ان کا نام زندہ ہے۔
اس لیے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی محبت کو پا لیا تھا۔تاریخ کا یہ اصول عجیب ہے کہ بعض لوگ بڑے کارناموں کے باوجود گم ہو جاتے ہیں اور بعض لوگ صرف محبتِ رسول ﷺ کی وجہ سے ہمیشہ کے لیے یادگار بن جاتے ہیں۔حضرت زاہر رضی اللہ عنہ بھی انہی خوش نصیبوں میں سے تھے۔وہ بادیہ کے ایک سادہ انسان تھے، مگر رسول اللہ ﷺ کے دل کے قریب تھے۔ دنیا کی نظر میں شاید وہ معمولی تھے، مگر اللہ کے ہاں ان کی قدر بہت زیادہ تھی۔یہی اس واقعے کا سب سے بڑا سبق ہے۔حضرت زاہر بن حرام الاشجعی رضی اللہ عنہ کی زندگی کا پیغام ہے کہ اگر دل میں اخلاص ہو اور محبتِ رسول ﷺ سچی ہو تو ایک سادہ انسان بھی تاریخ کے صفحات میں ہمیشہ کے لیے زندہ ہو جاتا ہے۔
رضی اللہ عنہ !!☆

Address

Rawalpindi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Prof-Muhammad Saghir Qamar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Prof-Muhammad Saghir Qamar:

Share

Category