28/09/2026
*شہادت معصومہ قم، یوم عزا عقیدت و احترام کیساتھ منایا گیا.*
*حضرت فاطمہ بنت امام موسیٰ کاظم کے شبیہہ تابوت کی برآمدگی، جامعہ المرتضی میں مرکزی مجلس خواتین*
*معصومہ قم علم و علم و تقوی فضائل و کمالات کا سرچشمہ ہیں۔ سید بنت علی موسوی کا خطاب*
اسلام آباد( ) سربراہ ٹی این ایف جے علامہ آغا سید حسین مقدسی کے اعلان کے مطابق قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی کا قائم کردہ عالمگیر یومِ عزا بسلسلہ شہادت فاطمہ معصومہ قم سلام اللہ علیہا عقیدت و احترام سے منایا گیا، اس موقع پر ملک بھر کے امام بارگاہوں اور عزاخانوں میں مجالس عزا و جلوس کا انعقاد کیا گیا۔ ام البنین ڈبلیو ایف، گرلز گائیڈ، سکینہ جنریشن، انجمن دختران اسلام رجسٹرڈ کے زیر انتظام اور مہتممات و متولیات مرکزی امام بارگاہ جامعۃ المرتضی دختران قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی کے زیر اہتمام بسلسلہ شہادت حضرت فاطمہ معصومہ قم ؑبنت امام موسیٰ کاظمؑ خواہر حضرت امام علی رضاؑ مرکزی امامبارگا ہ جامعۃ المرتضیٰ جی نائن فوراسلام آباد میں یوم عزا کے سلسلے میں مرکزی مجلس عزا برائے خواتین منعقدہوئی جس میں کثیرتعداد میں خواتین نے شرکت کرکے بارگاہ رسالت وامامت میں پرسہ پیش کیا۔ مجلس سے خطاب کرتے ہوئے خطیبہ آل نبی سیدہ بنت علی موسوی نے کہاکہ حضرت فاطمہ معصومہؑ نے ابتدا ہی سے ایسے ماحول میں پرورش پائی جہاں والدین اور بھائی سب کے سب اخلاقی فضیلتوں سے آراستہ تھے،عبادت و زہد، پارسائی اور تقوی، صداقت اور حلم، مشکلات و مصائب میں صبر و استقامت، جود و سخا، رحمت و کرم، پاکدامنی اور ذکر و یاد الہی، اس پاک سیرت اور نیک سرشت خاندان کی نمایاں خصوصیات تھیں،سب برگزیدہ اور بزرگ اور رشد و ہدایت کے پیشوا، امامت کے درخشان گوہر اور سفینہ بشریت کے ہادی و ناخدا تھے۔انہوں نے کہاکہ حضرت معصومہؑ علم و تقوی اور اخلاقی فضائل کا سرچشمہ ہیں۔ بنت علی موسوی نے کہاکہ حضرت امام موسی کاظم ؑ کے فرزندحضرت امام علی رضا ؑکے بعد علمی اور اخلاقی حوالے سے حضرت سیدہ معصومہ ؑ کا علمی اور اخلاقی مقام سب سے بلند ہے، جو حضرت سیدہ معصومہ کے ناموں اور القاب اور ان کے بارے میں آئمہ کی زبان مبارک سے بیان ہونے والی تعاریف و توصیفات سے آشکار ہے اور اس حقیقت سے واضح ہوتا ہے کہ سیدہ معصومہ بھی ثانی زہرا حضرت زینب کی مانند (عالمہ غیر مْعَلَّمہ)ہیں۔ انہوں نے کہاکہ امام جعفر صادق علیہ السلام کے فرمان کے مطابق خدا کا حرم مکہ جبکہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کاحرم مدینہ اور امیر المؤمنین علی ابن ابیطالبؑ کا حرم کوفہ ہے اس طرح فرمان صادق ہے کہ سب جان لیں کہ قم ہم اہل بیت کا حرم ہے، جنت کے آٹھ دروازوں میں سے تین دروازے قم کی جانب کھلتے ہیں میرے جگرپاروں میں سے ایک معظمہ خاتون جن کا نام فاطمہ قم میں رحلت فرمائیں گی جن کی شفاعت سے ہمارے تمام چاہنے والے وارد بہشت ہونگے۔ مجلس سے آپا سیدہ حسین ، سیدہ بنت موسیٰ موسوی، لواء زینب موسوی، ابتہاج زینب موسوی ، شذرہ بتول موسوی ، نگہت جعفری و دختران ، میمونہ رباب کاظمی ، صائمہ سدرہ نقوی، ابریز فاطمہ، نادیہ زہرا اور عریشہ کاظمی نے بارگاہ رسالت و امامت میں نذرانہ عقیدت پیش کیا, اختتام مجلس تابوت حضرت معصومہ قم سلام اللہ علیھا برآمد ہوا ، مختلف ماتمی سنگتوں نے ماتمداری کا پرسہ پیش کیا۔ امام بارگاہ زین العابدین سیٹلائٹ ٹاؤن راولپنڈی میں انجمن فیض پنجتن کے زیر اہتمام مجلس سے خطاب کرتے ہوئے خطیب فاتح فرات سیدہ لبوہ حیدر زیدی نے کہاکہ قم میں حضرت معصومہؑ کریمہ اہلبیت کا روضہ آج بھی مرجع خلائق ہے جہاں ہر خاص و عام حاضری دیتا ہے اورآپ کے روضے کے نزدیک عالم اسلام کی عظیم ترین دینی درسگاہ روضہ امام رضا قائم ہے ایسی درسگاہ جو علمی اور دینی اہداف کے علاوہ استقامت، پائیداری اوراسلامی قیام کے مرکز کے طور پر پہچانی جاتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ حضرت امام علی رضا ؑ نے اپنی زندگی میں ہی آپ کی منزلت بیان کرتے ہوئے فرمایا تھا جو شخص بھی معصومہ کی قم میں زیارت کرے گا اس نے گویا میری مشہد میں زیارت کی۔ در ایں اثناء علامہ سیدوقارحسین نقوی القمی کے زیراہتمام مرکز علیؑ مسجد سٹیلائٹ ٹاؤن میں مجلس عزا وماتمداری کانعقاد کیاگیا جس میں مختلف ماتمی دستوں نے ماتمداری کی۔ قبل ازیں مجلس سے خطیب فاتح فرات علامہ سید قمر حیدر زیدی نے کہا کہ حضرت فاطمہ معصومہ وہ عظیم المرتبت خاتون ہیں جن کااسم مبارک فاطمہ اورآپ کا مشہورترین لقب معصومہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ قم المقدسہ میں آپ کے مدفون ہونے کی وجہ سے آپ معصومہ قم کے نام سے معروف ہیں،فاطمہ معصومہ قمؑ کے پدر بزرگوار حضرت امام موسی کاظم ؑ اورآپ حضرت امام رضاعلیہ السلام کی ہمشیرہ گرامی ہیں، حضرت فاطمہ بنت امام موسیٰ کاظم کی شفاعت سے محبان محمدؐ وآل ؑ محمدؐ وارد بہشت ہونگے۔ علامہ قمر زیدی نے کہا کہ حضرت معصومہ قم ؑ ایسے پاک و پاکیزہ ماحول میں پرورش کے سبب علم و معرفت و کمال کے اعلیٰ درجے پر فائز ہوئیں اوروہ مقام حاصل کرلیا کہ آپ کو محدثہ، شفیعہ، معصومہ اورکریمہ کے خطاب سے یاد کیا جانے لگا تھا۔ علامہ قمر زیدی نے یہ بات زور دیکر کہی کہ خواتین عالم کے لیے اسوہ فاطمہ معصومہ قم دنیا و آخرت میں نجات کی ضمانت ہے۔ مجلس عزا سے مولانا ملک اجلال حیدری ، اواب حیدر موسوی، زیاف حیدر کاظمی، سید شبر عباس نقوی ، سید قاسم رضوی ، سید زین العابدین، نزابت علی، علی احمد نے بارگاہ معصومہ قم میں نذرانہ عقیدت پیش کیا۔ بعد ازاں ماتمی سنگت دربار سخی شاہ چن چراغ ، ماتمی سنگت سخی معصوم بادشاہ جھنگی سیداں، ماتمی سنگت امام علی رضا ائی نائن ، ماتمی دستہ حیدر کرار اور ماتمی دستہ ابو الفضل العباس نے ماتمداری کا پرسہ پیش کیا. مجلسِ عزا و پرسہ داری میں جڑواں شہروں کے ماتمی عزاداروں بانیان ، مذہبی عمائدین اور نمایاں دینی شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی اس موقع پر دسترخوان امام موسیٰ کاظم و امام ضامن کا وسیع انتظام کیا گیا۔