10/05/2026
💛 “اُس دن میری ماں نے ایک جار نہ کھلنے پر مجھ سے معافی مانگی… اور میں پہلی بار سمجھا 🥹 میں کتنا دور آ چکا ہوں…” 💛
میرا نام ارسلان ہے۔ عمر بیالیس سال۔
اور پچھلے مہینے… میری ماں نے مجھ سے ایک ایسی بات پر معافی مانگی… جس پر اُسے کبھی شرمندہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔
وہ ایک عام سا دن تھا۔
آفس کی ای میلز… بچوں کا ہوم ورک… کچن میں جلتی ہوئی روٹی کی ہلکی سی خوشبو…
ماں کا فون آیا۔
میں نے “ignore” کر دیا۔
پھر آیا۔
میں نے دوبارہ “ignore” کر دیا۔
میں نے خود سے کہا،
“بعد میں کال کر لوں گا…”
وہ “بعد میں”… کھنچتا چلا گیا۔
رات کو جب میں نے کال کی…
تو اُس نے پہلی بیل پر فون اٹھا لیا۔
ایسا لگا جیسے وہ فون ہاتھ میں لیے بیٹھی تھی۔
“السلام علیکم بیٹا… میں نے سوچا تنگ نہ کروں…”
میں تھکا ہوا تھا۔
“کیا ہوا امی؟ سب ٹھیک ہے؟”
وہ آہستہ سے بولیں،
“کچھ نہیں… بس ایک جار نہیں کھل رہا تھا… لیکن اب کھل گیا… سوری، بار بار فون کر دیا…”
“سوری…؟”
یہ لفظ میرے دل میں کہیں چبھ گیا۔
میں نے پوچھا،
“آپ معافی کیوں مانگ رہی ہیں؟”
چند سیکنڈ خاموشی رہی…
پھر اُن کی آواز ہلکی سی ٹوٹ گئی،
“بس… میں نہیں چاہتی کہ میں بوجھ بنوں… تمہاری اپنی زندگی ہے… اور میں… میں اب بوڑھی ہو رہی ہوں…”
وہ ہنسنے کی کوشش کر رہی تھیں…
مگر وہ ہنسی نہیں تھی…
وہ آنسو روکنے کا طریقہ تھا۔
“مجھے ایسی چھوٹی چھوٹی چیزوں کے لیے تمہیں تنگ نہیں کرنا چاہیے…”
میں وہیں ساکت ہو گیا۔
گھر کی ہر آواز رک گئی۔
ٹی وی… بچے… برتن… سب خاموش۔
صرف ایک بات گونج رہی تھی—
میری ماں…
وہ عورت جس نے دو دو نوکریاں کر کے مجھے پڑھایا…
جس نے میرے بخار میں ساری رات جاگ کر میرا سر تھاما…
آج ایک جار کے لیے خود کو بوجھ سمجھ رہی تھی۔
میں نے فوراً چابی اٹھائی،
“امی، میں آ رہا ہوں…”
وہ گھبرا گئیں،
“نہیں بیٹا، تکلیف نہ کرو—”
لیکن میں نکل چکا تھا۔
جب میں اُن کے کچن میں داخل ہوا…
وہ میز کے پاس بیٹھی تھیں…
وہی جار سامنے رکھا تھا…
اور آنکھوں میں چھپائے ہوئے آنسو۔
میں نے آہستہ سے کہا،
“امی… آپ کبھی مجھے تنگ نہیں کرتیں…”
انہوں نے نظریں جھکا لیں،
“میں بس تمہیں مصروف نہیں کرنا چاہتی تھی…”
یہ جملہ…
مجھے اندر سے توڑ گیا۔
کیونکہ کہیں نہ کہیں…
میں واقعی مصروف ہو گیا تھا۔
میں بھول گیا تھا کہ کبھی…
میری پوری دنیا اُن کے گرد گھومتی تھی۔
اور آج…
اُن کی دنیا صرف میرے ایک فون کال پر آ کر رک گئی تھی۔
میں نے وہ جار آسانی سے کھول دیا۔
پھر ہم بیٹھ گئے۔
ایک گھنٹہ…
پھر دو گھنٹے…
کوئی خاص بات نہیں تھی…
بس پرانی یادیں… محلے کی خبریں… ایک اشتہار جس پر وہ ہنسی تھیں…
مگر اُس دن…
ہم دونوں کے اندر کچھ نرم ہو گیا۔
جانے سے پہلے…
انہوں نے مجھے گلے لگایا۔
ہاتھ ہلکے سے کانپ رہے تھے۔
“آنے کا شکریہ…” وہ آہستہ سے بولیں،
“میں تمہیں یاد کرتی ہوں…”
بس وہی لمحہ تھا…
جب میں نے خود سے وعدہ کیا—
میں اپنی ماں کو کبھی بڑھاپے پر شرمندہ نہیں ہونے دوں گا۔
اب میں ہر ہفتے جاتا ہوں۔
کوئی خاص وجہ نہیں…
کبھی سبزی لے جاتا ہوں…
کبھی چائے…
اور کبھی صرف خود کو۔
اور ہر بار…
وہ دروازے پر کھڑی ہو کر ہاتھ ہلاتی ہیں…
جب تک میں نظروں سے اوجھل نہیں ہو جاتا۔
بالکل ویسے ہی…
جیسے میں کالج جاتا تھا۔
کیونکہ سچ یہ ہے—
ہم چاہے کتنے ہی بڑے ہو جائیں…
ماں باپ کے لیے ہم ہمیشہ اُن کی پوری دنیا رہتے ہیں۔
اور وہ…
بس ہماری تھوڑی سی توجہ چاہتے ہیں۔
پیسے نہیں…
مہنگے تحفے نہیں…
صرف وقت۔
صرف موجودگی۔
صرف ایک آواز—
“امی، میں ہوں…”
آج اگر وقت ہے…
تو اُن کے پاس چلے جاؤ۔
کیونکہ ایک دن…
جار تو وہیں پڑا ہوگا…
مگر اُسے کھلوانے والی آواز…
ہمیشہ کے لیے خاموش ہو چکی ہوگی۔ ❤️