~Intikhaab-E-Sukhan~

~Intikhaab-E-Sukhan~ یہ سخن جو ہم نے رقم کیے یہ ہیں سب ورق تیری یاد کے Urdu literature say behtareen intekhaab. We don't own the posts we share.

Read the best of the Urdu Writers, the best Urdu novels, the best Urdu dramas, the best urdu afsanay, and other most beautiful creations in Urdu literature ever.

ایک بات زندگی بھر یاد رکھنا اور وہ یہ کہ کسی کو دھوکا دینا اپنے آپ کو دھوکا دینے کے مترادف ہے۔ دھوکے میں بڑی جان ہوتی ہے وہ مرتا نہیں ہے۔ گھوم پھر کر ایک روز واپس آپ کے پاس ہی پہنچ جاتا ہے کیونکہ اس کو اپنے ٹھکانے سے بڑی محبت ہے اور وہ ا

پنی جائے پیدائش کو چھوڑ کر کہیں رہ نہیں سکتا۔

اشفاق احمد

کسی مشاعرے میں ایک نو مشق شاعر اپنا غیر موزوں کلام پڑھ رہے تھے۔اکثر شعراء آدابِ محفل کو ملحوظ رکھتے ہوئے خاموش تھے لیکن جوش صاحب پورے جوش و خروش سے ایک ایک مصرعے پر دادو تحسین کی بارش کیے جا رہے تھے۔گوپی ناتھ امن نے ٹوکتے ہوئے پوچھا: قبلہ، یہ آپ کیا کر رہے ہیں؟
جوش صاحب نے بہت سنجیدگی سے جواب دیا: منافقت۔اور پھر داد دینے میں مصروف ہو گئے۔

جوش ملیح آبادی

"Duniya main insaan ki entry jaisay marzi hoo, lakein Exit shaandaar hona chayein...tragic ,dramatic.." By:Umera Ahmed
From :Man O Salwa

Intikhab e Sukhan is an Urdu Adab page. Where we are able, we put references to th author and book.. If you enjoy our page, please let your friends know about us

10/05/2026

💛 “اُس دن میری ماں نے ایک جار نہ کھلنے پر مجھ سے معافی مانگی… اور میں پہلی بار سمجھا 🥹 میں کتنا دور آ چکا ہوں…” 💛

میرا نام ارسلان ہے۔ عمر بیالیس سال۔

اور پچھلے مہینے… میری ماں نے مجھ سے ایک ایسی بات پر معافی مانگی… جس پر اُسے کبھی شرمندہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔

وہ ایک عام سا دن تھا۔
آفس کی ای میلز… بچوں کا ہوم ورک… کچن میں جلتی ہوئی روٹی کی ہلکی سی خوشبو…

ماں کا فون آیا۔
میں نے “ignore” کر دیا۔

پھر آیا۔
میں نے دوبارہ “ignore” کر دیا۔

میں نے خود سے کہا،
“بعد میں کال کر لوں گا…”

وہ “بعد میں”… کھنچتا چلا گیا۔

رات کو جب میں نے کال کی…
تو اُس نے پہلی بیل پر فون اٹھا لیا۔

ایسا لگا جیسے وہ فون ہاتھ میں لیے بیٹھی تھی۔

“السلام علیکم بیٹا… میں نے سوچا تنگ نہ کروں…”

میں تھکا ہوا تھا۔
“کیا ہوا امی؟ سب ٹھیک ہے؟”

وہ آہستہ سے بولیں،
“کچھ نہیں… بس ایک جار نہیں کھل رہا تھا… لیکن اب کھل گیا… سوری، بار بار فون کر دیا…”

“سوری…؟”

یہ لفظ میرے دل میں کہیں چبھ گیا۔

میں نے پوچھا،
“آپ معافی کیوں مانگ رہی ہیں؟”

چند سیکنڈ خاموشی رہی…
پھر اُن کی آواز ہلکی سی ٹوٹ گئی،

“بس… میں نہیں چاہتی کہ میں بوجھ بنوں… تمہاری اپنی زندگی ہے… اور میں… میں اب بوڑھی ہو رہی ہوں…”

وہ ہنسنے کی کوشش کر رہی تھیں…
مگر وہ ہنسی نہیں تھی…
وہ آنسو روکنے کا طریقہ تھا۔

“مجھے ایسی چھوٹی چھوٹی چیزوں کے لیے تمہیں تنگ نہیں کرنا چاہیے…”

میں وہیں ساکت ہو گیا۔

گھر کی ہر آواز رک گئی۔
ٹی وی… بچے… برتن… سب خاموش۔

صرف ایک بات گونج رہی تھی—

میری ماں…
وہ عورت جس نے دو دو نوکریاں کر کے مجھے پڑھایا…
جس نے میرے بخار میں ساری رات جاگ کر میرا سر تھاما…

آج ایک جار کے لیے خود کو بوجھ سمجھ رہی تھی۔

میں نے فوراً چابی اٹھائی،
“امی، میں آ رہا ہوں…”

وہ گھبرا گئیں،
“نہیں بیٹا، تکلیف نہ کرو—”

لیکن میں نکل چکا تھا۔

جب میں اُن کے کچن میں داخل ہوا…
وہ میز کے پاس بیٹھی تھیں…

وہی جار سامنے رکھا تھا…
اور آنکھوں میں چھپائے ہوئے آنسو۔

میں نے آہستہ سے کہا،
“امی… آپ کبھی مجھے تنگ نہیں کرتیں…”

انہوں نے نظریں جھکا لیں،
“میں بس تمہیں مصروف نہیں کرنا چاہتی تھی…”

یہ جملہ…
مجھے اندر سے توڑ گیا۔

کیونکہ کہیں نہ کہیں…
میں واقعی مصروف ہو گیا تھا۔

میں بھول گیا تھا کہ کبھی…
میری پوری دنیا اُن کے گرد گھومتی تھی۔

اور آج…
اُن کی دنیا صرف میرے ایک فون کال پر آ کر رک گئی تھی۔

میں نے وہ جار آسانی سے کھول دیا۔

پھر ہم بیٹھ گئے۔

ایک گھنٹہ…
پھر دو گھنٹے…

کوئی خاص بات نہیں تھی…
بس پرانی یادیں… محلے کی خبریں… ایک اشتہار جس پر وہ ہنسی تھیں…

مگر اُس دن…
ہم دونوں کے اندر کچھ نرم ہو گیا۔

جانے سے پہلے…
انہوں نے مجھے گلے لگایا۔

ہاتھ ہلکے سے کانپ رہے تھے۔

“آنے کا شکریہ…” وہ آہستہ سے بولیں،
“میں تمہیں یاد کرتی ہوں…”

بس وہی لمحہ تھا…
جب میں نے خود سے وعدہ کیا—

میں اپنی ماں کو کبھی بڑھاپے پر شرمندہ نہیں ہونے دوں گا۔

اب میں ہر ہفتے جاتا ہوں۔
کوئی خاص وجہ نہیں…

کبھی سبزی لے جاتا ہوں…
کبھی چائے…
اور کبھی صرف خود کو۔

اور ہر بار…
وہ دروازے پر کھڑی ہو کر ہاتھ ہلاتی ہیں…
جب تک میں نظروں سے اوجھل نہیں ہو جاتا۔

بالکل ویسے ہی…
جیسے میں کالج جاتا تھا۔

کیونکہ سچ یہ ہے—

ہم چاہے کتنے ہی بڑے ہو جائیں…
ماں باپ کے لیے ہم ہمیشہ اُن کی پوری دنیا رہتے ہیں۔

اور وہ…
بس ہماری تھوڑی سی توجہ چاہتے ہیں۔

پیسے نہیں…
مہنگے تحفے نہیں…

صرف وقت۔
صرف موجودگی۔
صرف ایک آواز—
“امی، میں ہوں…”

آج اگر وقت ہے…
تو اُن کے پاس چلے جاؤ۔

کیونکہ ایک دن…
جار تو وہیں پڑا ہوگا…

مگر اُسے کھلوانے والی آواز…
ہمیشہ کے لیے خاموش ہو چکی ہوگی۔ ❤️

10/05/2026

🔥 “نکاح کی میز پر اُس نے میری آنکھوں میں دیکھ کر کہا—‘اگر واقعی محبت ہے… تو اپنی پوری زندگی میرے نام کر دو’… اور اُس لمحے مجھے پہلی بار سمجھ آیا کہ یہاں دل نہیں… قیمت لگ رہی ہے…” 🔥

میرا نام حماد ہے۔ عمر چھبیس سال۔

میں اُن لڑکوں میں سے ہوں جو خواب بڑے دیکھتے ہیں… مگر جیب میں صرف ہمت ہوتی ہے۔

میں نے اُس سے محبت کی تھی۔ سادگی سے… سچائی سے… بغیر کسی حساب کے۔ وہ بھی ٹھیک تھی۔ باوقار… سمجھدار… ایسی کہ لگتا تھا زندگی اُس کے ساتھ آسان ہو جائے گی۔ گھر والوں نے بات کی… رشتہ منظور ہوا… اور پھر وہ دن آیا جب صرف ایک “رسم” طے ہونی تھی۔

میں نے سوچا بس عام سا حق مہر ہوگا… عزت کے لیے… برکت کے لیے۔ مگر اُس دن جو رقم میز پر رکھی گئی… وہ صرف رقم نہیں تھی… وہ ایک دیوار تھی میرے اور اُس کے درمیان۔

“ایک کروڑ روپے…”

کمرہ خاموش ہو گیا۔ میرے والد نے پہلی بار نظریں جھکا لیں۔ وہ آدمی جس نے ساری زندگی میرے لیے دنیا کا سامنا کیا… اُس دن کچھ بول نہ سکا۔ اور مجھے لگا یہ خاموشی میری نہیں… ہر اُس مرد کی ہے جسے محبت کے نام پر آزمایا جاتا ہے۔

میں نے ہمت کر کے کہا، “اتنا زیادہ… کیوں؟”

اُن کی والدہ بولیں، “ہماری بیٹی کی قدر ہے… ہم سستی نہیں کریں گے…”

میں نے اُس کی طرف دیکھا۔ میں چاہتا تھا وہ کہے، “یہ سب ضروری نہیں…” لیکن اُس نے آہستہ سے کہا، “اگر کم ہوا… تو میری بےعزتی ہوگی…”

وہ لمحہ تھا… جہاں محبت پہلی بار کمزور پڑ گئی۔

میں ابھی کیریئر شروع کر رہا تھا۔ تنخواہ چھوٹی… خواب بڑے۔ میں نے کہا، “مجھے وقت دے دیں… میں سب بنا لوں گا…” جواب آیا، “ہم انتظار نہیں کر سکتے…”

میں نے کہا، “چلیں کاغذ پر لکھ لیتے ہیں… اگر کبھی کچھ ہوا تو میں پوری ذمہ داری لوں گا…”

وہ خاموش رہی… پھر ایک سوال کیا، “اگر اُس وقت تمہارے پاس کچھ نہ ہوا تو؟”

یہ سوال نہیں تھا… یہ فیصلہ تھا کہ میں کافی نہیں ہوں۔

پھر مجھے کہا گیا، “اپنے والدین سے کہو… وہ دے دیں گے…”

وہ لمحہ جب مجھے لگا کہ میں بیٹا نہیں… ایک ذریعہ ہوں۔ ایک ATM… ایک ذمہ داری… جس کا کام صرف دینا ہے۔

کافی بات چیت کے بعد رقم کم ہوئی… مگر سچ یہ تھا کہ وہ اب بھی اتنی تھی کہ اگر میں سب دے بھی دیتا… تو اپنی زندگی صفر سے شروع کرتا۔

میں نے اُس کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا، “اگر تمہیں کبھی میری ضرورت پڑی… جان کا مسئلہ ہوا… تو میں سب کچھ دے دوں گا… بغیر سوچے… لیکن یہ… یہ میرے کل کو جلا دینے جیسا ہے… صرف یہ ثابت کرنے کے لیے کہ میں تم سے محبت کرتا ہوں…”

اُس نے فوراً کہا، “تو تم محبت نہیں کرتے…”

اور اُس دن رشتہ ختم ہو گیا۔

میں گھر آیا… خاموشی ساتھ تھی… مگر ایک عجیب سا سکون بھی۔ کیونکہ میں نے پہلی بار خود کو بچایا تھا۔

کچھ دن بعد مجھے ایک حقیقت سمجھ آئی… ہمارے معاشرے میں مرد کو ہمیشہ دینے والا سمجھا جاتا ہے۔ وہ کمائے… وہ برداشت کرے… وہ ثابت کرے… اور اگر وہ رک جائے… تو اُسے کمزور کہا جاتا ہے۔

لیکن سچ یہ ہے… ہر مرد امیر نہیں ہوتا… مگر ہر مرد کے پاس عزت ہوتی ہے۔ اور جب محبت اُس کی عزت سے مہنگی ہو جائے… تو وہ محبت نہیں رہتی۔

آج اگر کوئی مجھ سے پوچھے، “کیا تم نے غلط کیا؟” تو میں صرف اتنا کہتا ہوں… میں نے محبت کو نہیں چھوڑا… میں نے اُس شرط کو چھوڑا… جس میں محبت نہیں تھی۔

کیونکہ اصل محبت… آپ سے سب کچھ مانگتی نہیں… آپ کے ساتھ مل کر سب کچھ بناتی ہے۔ ❤️

09/05/2026

“میری بیوی میرے سامنے بیٹھی تھی… اور میں اسے کھو رہا تھا—کسی اور کے ساتھ نہیں بلکہ اپنے ہی۔۔۔۔۔ 💔”

“میں تم سے بات کر رہی ہوں…”
“ہوں… ایک منٹ…”

یہ “ایک منٹ” کبھی ختم نہیں ہوا۔

علی کو لگا یہ کوئی بڑی بات نہیں۔
وہ روز کی طرح بستر پر لیٹا تھا…
ایک ہاتھ میں موبائل…
انگلیاں ریلز پر چل رہی تھیں…

اور سامنے…
اس کی بیوی مریم… چپ بیٹھی تھی۔

پہلے وہ بات کرتی تھی۔
پھر سوال پوچھتی تھی۔
پھر انتظار کرتی تھی۔

اور اب…
وہ صرف دیکھتی تھی۔

خاموش۔

علی کو یاد بھی نہیں کہ آخری بار اس نے مریم کی آنکھوں میں دیکھ کر کب بات کی تھی۔
لیکن اسے ہر نئی ویڈیو یاد تھی۔

ہر میم… ہر کلپ… ہر اسکرول۔

ایک رات… مریم نے آہستہ سے کہا،
“تم بدل گئے ہو…”

علی ہنسا،
“یار، ڈرامہ نہ کرو… میں یہی ہوں…”

لیکن وہ یہی نہیں تھا۔

وہ جسم سے وہیں تھا…
دل کہیں اور۔

اسی رات…
مریم اس کے پاس آئی…
اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا۔

“علی… مجھے تم سے بات کرنی ہے…”

اس نے بغیر دیکھے کہا،
“بس یہ ویڈیو ختم ہونے دو…”

وہ ویڈیو ختم ہوئی…
پھر دوسری شروع ہو گئی۔

اور اس کے ساتھ…
ان کا رشتہ بھی آہستہ آہستہ ختم ہونا شروع ہو گیا۔

چند ہفتوں بعد…
گھر میں خاموشی بڑھنے لگی۔

کھانے کی میز پر…
دو پلیٹیں…
دو موبائل…
اور زیرو گفتگو۔

بیڈروم میں…
دو لوگ…
مگر درمیان میں ایک تیسرا—
موبائل۔

ایک رات…
علی نے سر اٹھا کر دیکھا۔

مریم سو رہی تھی…
یا شاید سونے کی اداکاری کر رہی تھی۔

اس کے ہاتھ میں بھی فون تھا۔

وہ بھی اسکرول کر رہی تھی۔

علی نے پہلی بار عجیب سا محسوس کیا۔

“یہ کب ہوا…؟”

وہ جو لڑکی اس کے ایک “ہوں” پر ناراض ہو جاتی تھی…
آج خود اس کی طرح ہو گئی تھی۔

اب وہ بھی بات نہیں کرتی تھی۔

صرف اسکرین سے بات کرتی تھی۔

چند دن بعد…
علی گھر آیا تو مریم کچن میں نہیں تھی۔

نہ ہال میں۔

نہ بیڈروم میں۔

صرف ایک پرچی تھی۔

“میں کہیں نہیں جا رہی…
بس تھوڑی دیر کے لیے خود کو ڈھونڈنے جا رہی ہوں۔
تم سے نہیں ہاری…
تمہارے فون سے ہار گئی ہوں…”

علی کے ہاتھ سے موبائل گر گیا۔

پہلی بار…
خاموشی نے اسے کاٹا۔

اس نے فوراً کال کی۔

“مریم… سنو…”

دوسری طرف سے آواز آئی،
“اب میں مصروف ہوں… بعد میں بات کرتی ہوں…”

وہی جملہ۔

وہی انداز۔

جو وہ ہمیشہ بولتا تھا۔

علی بیٹھ گیا۔

اسے پہلی بار سمجھ آیا—

بے وفائی ہمیشہ کسی تیسرے انسان سے نہیں ہوتی…
کبھی کبھی ایک چھوٹی سی اسکرین بھی رشتہ چرا لیتی ہے۔

اس رات…
علی نے موبائل بند کیا۔

پہلی بار۔

گھر خاموش تھا…
لیکن دل شور کر رہا تھا۔

اگلے دن…
وہ مریم کے پاس گیا۔

کوئی لمبی تقریر نہیں کی۔

صرف اس کا ہاتھ پکڑا…
اور آہستہ سے کہا،

“میں تمہیں کھو رہا تھا… اور مجھے پتہ بھی نہیں چلا…”

مریم نے اس کی طرف دیکھا۔

لمبے عرصے بعد…
آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر۔

“رشتہ ایک دن میں نہیں ٹوٹتا علی…”
وہ آہستہ بولی،
“روز تھوڑا تھوڑا مر جاتا ہے…”

خاموشی چھا گئی۔

پھر اس نے اس کا ہاتھ تھوڑا مضبوطی سے تھام لیا۔

“لیکن اگر دونوں چاہیں…
تو دوبارہ زندہ بھی ہو سکتا ہے…”

اس دن کے بعد…
انہوں نے ایک چھوٹا سا اصول بنایا—

بیڈروم میں موبائل نہیں۔
کھانے پر موبائل نہیں۔

اور روز… کم از کم ایک گھنٹہ—
صرف ایک دوسرے کے لیے۔

شروع میں عجیب لگا۔
خاموشی بھی ہوئی۔
جھگڑے بھی ہوئے۔

لیکن آہستہ آہستہ…

وہ ہنسی واپس آ گئی
جو کبھی گم ہو گئی تھی۔

وہ باتیں واپس آ گئیں
جو “ایک منٹ” میں کھو گئی تھیں۔

اور وہ رشتہ…
جو اسکرین کے پیچھے مر رہا تھا…
دوبارہ سانس لینے لگا۔

کیونکہ سچ یہ ہے—

موبائل ہمیں دنیا سے جوڑتا ہے…
لیکن اگر احتیاط نہ کریں…
تو ہمیں اپنے ہی لوگوں سے توڑ دیتا ہے۔

آج رات…
فون سائیڈ پر رکھ کر دیکھو…

شاید جس شخص کو تم نظر انداز کر رہے ہو…
وہ تمہاری پوری دنیا ہو۔ ❤️

09/05/2026

🔥 “میرے نکاح کے دن… چار سو مہمانوں کے سامنے… میرے ہونے والے سسرال نے میری ماں کو ذلیل کیا… اور وہ شخص جس سے میں نکاح کرنے والی تھی… ہنس پڑا…” 🔥

مجھے وہ ہنسی پہلے سنائی دی… درد بعد میں محسوس ہوا۔

حمزہ ملک—وہ لڑکا جس کے ساتھ چند لمحوں بعد میرا نکاح ہونا تھا—
وہ کھڑا مسکرا رہا تھا…
جب اس کی ماں میری ماں کی عزت کو سب کے سامنے روند رہی تھی۔

“یہ ماں نہیں ہے…” اس کی خالہ نے اونچی آواز میں کہا،
“یہ تو وہ عورت ہے جو لوگوں کے گھروں میں کام کرتی رہی… اسے یہاں کس نے بٹھا دیا؟”

ہال میں سناٹا چھا گیا۔

میری ماں… شگفتہ بی بی… دروازے کے قریب کھڑی تھیں۔
سادہ کپڑے… ہاتھ میں ایک پرانا سا پرس…
نہ زیور… نہ دکھاوا…

صرف خاموش وقار۔

میں نے حمزہ کی طرف دیکھا۔
میں نے انتظار کیا۔

صرف ایک لفظ…
ایک جملہ…
سب کچھ بچا سکتا تھا۔

وہ کہہ سکتا تھا،
“یہ میری ہونے والی ساس ہیں…”

وہ کہہ سکتا تھا،
“حد میں رہیں…”

لیکن اس نے ہنس کر اپنے دوست کی طرف دیکھا…
اور سر جھکا لیا۔

وہ چھوٹی سی ہنسی…
میرے دل پر ہتھوڑے کی طرح لگی۔

میرے اندر کچھ ٹوٹ گیا۔

“میری ماں یہاں بیٹھیں گی…” میں نے صاف کہا۔

حمزہ کی ماں نے طنز سے کہا،
“یہ جگہ خاندان والوں کے لیے ہے… ہر کسی کے لیے نہیں…”

کچھ لوگ چونکے…
کچھ نے نظریں چرا لیں…

کوئی آگے نہ آیا۔

نکاح پڑھانے والے صاحب خاموش ہو گئے۔
فضا میں عجیب سا بوجھ آ گیا۔

اور میری ماں…

وہ اب بھی نہیں روئیں۔

یہی سب سے زیادہ تکلیف دہ تھا۔

ان کی آنکھیں صرف مجھے دیکھ رہی تھیں…
جیسے کہہ رہی ہوں،
“بیٹا… برداشت کر لو…”

لیکن آج… میں برداشت نہیں کر سکتی تھی۔

میں نے دوپٹہ سنبھالا…
اور مائیک کی طرف بڑھی۔

“یہ نکاح نہیں ہوگا…”

چار سو لوگ ساکت رہ گئے۔

حمزہ نے فوراً میرا ہاتھ پکڑا،
“پاگل ہو گئی ہو؟ تمہیں اندازہ ہے تم کیا کر رہی ہو؟”

میں نے اس کی گرفت دیکھی…
پھر اس کی آنکھوں میں جھانکا۔

“ہاں…” میں نے آہستہ کہا،
“میں آج پہلی بار صحیح فیصلہ کر رہی ہوں…”

اس کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔

اسی لمحے… میری ماں آہستہ آہستہ میری طرف آئیں۔

ہر قدم… باوقار۔
ہر نظر… ان پر جمی ہوئی۔

انہوں نے میرے گال کو چھوا…
وہی ہاتھ… جنہوں نے مجھے اکیلے پالا تھا۔

پھر وہ میرے قریب جھکیں…
اور آہستہ سے کہا—

“بیٹا… میں کمزور نہیں ہوں…”

میں نے حیرت سے انہیں دیکھا۔

انہوں نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا،
“میں نے بس کبھی دکھایا نہیں…”

پیچھے سے حمزہ کے والد کی آواز آئی،
“ڈرامہ ختم کریں… نکاح شروع کریں…”

میری ماں نے پہلی بار سر اٹھا کر انہیں دیکھا۔

اور پھر… اپنے پرس سے ایک پرانا سا موبائل نکالا۔

سادہ… بٹن والا۔

انہوں نے نمبر ملایا…
اور بس ایک جملہ کہا—

“فوری طور پر تمام ادائیگیاں روک دیں…”

پہلے ویڈنگ منیجر کا چہرہ بدلا۔
پھر کیٹرر کا۔
پھر ہال کے مالک کا۔

چند لمحوں میں… ماحول بدل گیا۔

کچھ لوگ تیزی سے فون کرنے لگے۔
کسی نے اسٹیج کے پیچھے جا کر بات کی۔
لائٹس مدھم ہو گئیں۔

حمزہ کے والد نے غصے سے کہا،
“یہ کیا ہو رہا ہے؟”

ہال کے مینیجر نے آ کر آہستہ کہا،
“سر… اس ایونٹ کی بکنگ… اور ادائیگی… شگفتہ بی بی کے گروپ کی طرف سے ہے…”

ایک لمحے کے لیے…
وقت رک گیا۔

“کیا؟” حمزہ کی ماں کی آواز کانپ گئی۔

مینیجر نے سر جھکا کر کہا،
“جی… اور حکم آیا ہے کہ ادائیگیاں روک دی جائیں…”

حمزہ نے میری طرف دیکھا…
پہلی بار اس کی آنکھوں میں شرمندگی تھی۔

لیکن اب دیر ہو چکی تھی۔

میری ماں نے سکون سے کہا،
“ہم نے کبھی اپنی حیثیت کا شور نہیں مچایا… کیونکہ ہمیں انسانیت عزیز تھی…”

پھر ان کی آواز تھوڑی سخت ہوئی،
“لیکن آج آپ نے عزت کو کمزوری سمجھ لیا…”

پورا ہال خاموش تھا۔

میں نے پہلی بار اپنی ماں کو اس طرح دیکھا…
مضبوط… باوقار… بے خوف۔

انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا۔

“چلو بیٹا…”

ہم مڑ گئے۔

پیچھے سے آوازیں آ رہی تھیں…
وضاحتیں… معافیاں… گھبراہٹ…

لیکن میں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔

کیونکہ اس دن…

میں نے صرف ایک نکاح نہیں روکا تھا…
میں نے اپنی ماں کی عزت بچائی تھی…

اور خود کو بھی۔ ❤️

©️ ~Intikhaab-E-Sukhan~

09/05/2026

❤️ جب میں نے پہلی بار نوکری شروع کی… میں نے خود سے وعدہ کیا تھا کہ ہر دو ہفتے بعد امی ابو سے ملنے جاؤں گا… مگر پھر 💔…

میرا نام حمزہ ہے۔
اور میں اُن لوگوں میں سے تھا جو سمجھتے ہیں کہ “بعد میں مل لیں گے”… جیسے وقت کہیں رک کر ہمارا انتظار کرتا ہو۔

شروع میں سب ٹھیک تھا۔
پہلے دو ہفتے… پھر ایک مہینہ… پھر دو…
پھر زندگی نے اپنی رفتار تیز کر لی۔

آفس دیر تک…
ویک اینڈ دوستوں کے ساتھ…
اور ہر بار خود کو یہی تسلی..
“امی ابو سمجھتے ہیں… آخر والدین ہیں…”

امی کبھی کبھی کال کرتیں۔
“بیٹا کھانا وقت پر کھا لیا کرو…”
اور پیچھے سے ابو کی آواز آتی،
“اسے کہو گھاس کافی لمبی ہو گئی ہے… آ کے کاٹ جائے!”

میں ہنستا…
“آ جاؤں گا ابو، جلد…”

پھر فون بند…
اور میں پھر اسی شور میں گم… جہاں سب کچھ تھا، سوائے وقت کے۔

ایک جمعہ کی شام تھی۔
میں گاڑی میں بیٹھا فون اسکرول کر رہا تھا۔
دوستوں کے ساتھ ڈنر پلان تھا…

اچانک ایک تصویر سامنے آ گئی۔

میری گریجویشن کی۔
امی ابو ساتھ کھڑے تھے…
ایسے مسکرا رہے تھے جیسے میں نے انہیں دنیا جیت کر دے دی ہو۔

اور نہ جانے کیوں…
اندر کہیں ایک آواز آئی..

“جا کر مل آؤ…”

بس… میں نے گاڑی موڑ لی۔

کوئی تحفہ نہیں…
کوئی خاص وجہ نہیں…
صرف دل کا اشارہ تھا۔

گھر پہنچا تو ابو برآمدے میں جھاڑو لگا رہے تھے۔
مجھے دیکھ کر رُکے…
پھر ہلکا سا مسکرائے،
“راستہ بھول گئے ہو کیا؟”

میں ہنسا،
“نہیں… بس دل کر گیا…”

امی کچن سے دوڑتی ہوئی آئیں، ابھی بھی ایپرن پہنے ہوئے۔
“پہلے بتا تو دیتے…”
لیکن اُن کی آنکھیں کہہ رہی تھیں..
شکر ہے نہیں بتایا…

کھانا سادہ تھا۔
بچا ہوا چکن… آلو… روٹی۔

مگر اُس دن…
وہ کسی ہوٹل کے کھانے سے زیادہ قیمتی لگا۔

ہم نے کھایا…
ہنسے…
وہی پرانی باتیں دوبارہ سنیں…

ابو نے وہی پرانے مذاق کیے…
امی نے اپنے گلاب کے پودوں کی کہانی سنائی...

اور نہ جانے کب…
وقت آہستہ ہو گیا۔

کھانے کے بعد میں نے ابو کے ساتھ برآمدے کی لائٹ ٹھیک کی۔
انہوں نے مجھے پیچ کس پکڑایا…

میں نے محسوس کیا..
اُن کے ہاتھ پہلے جیسے مضبوط نہیں رہے تھے۔

جب بلب جل اٹھا…
وہ مسکرائے،
“لگتا ہے ابھی بھی اچھی ٹیم ہیں ہم…”

میرے دل میں کچھ ہلکا سا ٹوٹا…
اور کچھ جُڑ بھی گیا۔

واپس جاتے ہوئے امی نے ایک ڈبہ پکڑایا،
“پائی ہے… راستے میں بھوک لگ جائے تو…”

پھر گلے لگایا…
اس بار تھوڑا زیادہ دیر تک۔

اور آہستہ سے کہا،
“اگلی بار اتنا انتظار نہ کرو…”

میں نے اس بار وعدہ نہیں کیا…
میں نے عمل کیا۔

اب میں ہر دو ہفتے بعد جاتا ہوں۔
کبھی کھانے پر…
کبھی صرف چائے پر…

اب ہمیں کسی بہانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔

ہر بار جب جاتا ہوں…
ایک نئی چیز نظر آتی ہے..

ابو کے بال تھوڑے اور سفید…
امی کی ہنسی تھوڑی نرم…
اور دیوار پر لگی گھڑی… جو یاد دلاتی ہے..

وقت کسی کے لیے نہیں رکتا…

میں پہلے سمجھتا تھا محبت بڑی چیزوں کا نام ہے..
تحفے…
خاص دن…
مہنگے ڈنر…

لیکن نہیں۔

محبت وہ ہے
جو بغیر وجہ کے دروازہ کھٹکھٹائے…
جو برآمدے کی لائٹ ٹھیک کرے…
جو ایک سادہ ڈبے میں پائی لے کر گھر لوٹے…
اور جاتے ہوئے تھوڑی دیر اور رُک جائے۔

کیونکہ ایک دن…

وہ برآمدہ تو ویسا ہی ہوگا…
لائٹ بھی جل رہی ہوگی…

مگر دروازہ کھولنے والی آوازیں…
شاید نہ ہوں… ❤️

©️ ~Intikhaab-E-Sukhan~

09/05/2026

💊 “میرا نام Anh ہے۔ میری عمر 82 سال ہے۔ میں Tampa کے ایک فارمیسی ڈرائیو تھرو ونڈو پر بیٹھتی ہوں… بارہ سال سے۔ لوگ سمجھتے ہیں ہم صرف دوائیں گنتے ہیں… مگر میں لوگوں کے زخم پڑھتی ہوں…” 💊

میرا نام Anh ہے۔
عمر بیاسی سال۔
Tampa کی ایک فارمیسی کے ڈرائیو تھرو میں ایک چھوٹے سے شیشے کے بوتھ میں بیٹھی ہوں… پچھلے بارہ سال سے۔

اندر والے کاؤنٹر پر نہیں…
وہاں لوگ دوائیں لیتے ہیں۔
میرے پاس لوگ اپنی تھکن، اپنی خاموشیاں، اپنی ادھوری کہانیاں لے کر آتے ہیں۔

لوگ کہتے ہیں فارماسسٹ صرف گولیاں گنتے ہیں…
مگر میں نے آنکھوں میں آنسو گنے ہیں۔

وہ عورت… جو antidepressants لیتے ہوئے نظریں چرا لیتی ہے۔
وہ بوڑھا آدمی… جو رسید پڑھنے کے لیے آنکھیں سکیڑتا ہے کیونکہ عینک بھول آیا ہوتا ہے۔
وہ نرس… جو بارہ گھنٹے کی ڈیوٹی کے بعد اپنی ہی بلڈ پریشر کی دوا لینے آتی ہے۔

میں سب دیکھتی ہوں… مگر کچھ کہتی نہیں۔

ایک منگل کا دن تھا۔

ایک نوجوان ماں آئی۔
پیچھے کار سیٹ میں اس کا بچہ زور زور سے رو رہا تھا۔
اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے جب اس نے کارڈ مجھے دیا۔

“Please… جلدی کریں…” اُس نے آہستہ سے کہا۔

میں نے فوراً نسخہ تیار کیا۔

مگر جب میں نے دوا کا تھیلا اسے دیا… تو میں نے ایک چھوٹا سا کام کیا۔

میں نے اپنے پین سے تھیلے پر لکھ دیا:

“تم بہت اچھا کر رہی ہو… تمہارا بچہ خوش نصیب ہے۔”

وہ رک گئی۔

کچھ سیکنڈ… بس مجھے دیکھتی رہی۔

پھر اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔

“مہینوں سے… کسی نے مجھے یہ نہیں کہا…”
وہ بولی… اور جلدی سے گاڑی لے کر چلی گئی۔

اس رات مجھے نیند نہیں آئی۔

مجھے اپنی بیٹی یاد آئی…
California میں رہتی ہے…
تین سال سے نہیں ملی۔

نرسنگ ہوم نے میری ساری جمع پونجی لے لی تھی۔
اور وہ… اپنی زندگی میں مصروف ہو گئی۔

اس رات… میں نے خود کو پہلی بار واقعی تنہا محسوس کیا۔
ایسا لگا جیسے میں اپنی ہی زندگی میں ایک سایہ ہوں۔

اگلے دن… میں نے ایک اور تھیلے پر لکھا:

“آہستہ چلیں… آپ اکیلے نہیں ہیں۔”

پھر اگلے دن…

“یہ وقت بھی گزر جائے گا… ہمت رکھیں۔”

میں نے کسی کو نہیں بتایا۔
بس خاموشی سے لکھتی رہی…

جیسے کوئی ماں لنچ باکس میں چھوٹا سا نوٹ رکھ دیتی ہے۔

پھر ایک دن… کچھ بدل گیا۔

ایک آدمی واپس آیا۔

اس نے خالی بوتل مجھے دی… اور بولا،

“میں واپس آیا ہوں… صرف شکریہ کہنے کے لیے…”

میں نے حیرت سے دیکھا۔

وہ بولا،
“پچھلے ہفتے… میں گھر جا رہا تھا… سب ختم کرنے کے لیے… پھر آپ کا لکھا دیکھا— ‘آپ اکیلے نہیں ہیں’… اور میں رک گیا…”

وہ شیشے کے اس پار جھک کر مجھے گلے لگانا چاہتا تھا۔

میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔

اس دن کے بعد…

لوگ صرف دوائیں لینے نہیں آئے…
وہ اپنے دل کے ساتھ آنے لگے۔

ایک لڑکے نے 5 ڈالر اور نوٹ چھوڑا:
“آپ نے مجھے دیکھا… میں مدد لے رہا ہوں…”

ایک نرس نے لالی پاپ چپکا دیا:
“آپ کی مہربانی کے لیے… مجھے آج اس کی ضرورت تھی…”

ایک صبح… میرے بوتھ پر ایک کاغذ چپکا تھا:
“10 وجوہات کہ آپ اہم ہیں…”

میرا باس بھی نوٹس لینے لگا۔

پہلے وہ ڈرا… کہ میں اصول توڑ رہی ہوں۔

پھر اس نے دیکھا…

لوگ دس منٹ زیادہ انتظار کر رہے تھے… صرف مجھ سے بات کرنے کے لیے۔

ایک آدمی آموں کی ٹوکری چھوڑ گیا (میرا پسندیدہ!)
نوٹ کے ساتھ: “شکریہ… آپ نے مجھے دیکھا…”

فارمیسی کی ریٹنگ 40% بڑھ گئی۔

پچھلے ہفتے… مجھے ایک خط ملا۔

وہی نوجوان ماں۔

اس کا بچہ اب دو سال کا تھا۔

“آپ نے لکھا تھا ‘تمہارا بچہ خوش نصیب ہے’… وہ اب صحت مند ہے… خوش ہے… میں اسے آپ کی کہانی سناتی ہوں… وہ آپ کو ‘Note Lady’ کہتی ہے…”

میں مسکرا دی۔

میں نے کبھی نہیں سوچا تھا…
کہ ایک چھوٹی سی بات… کسی کی زندگی بدل سکتی ہے۔

میں تو بس ایک بوڑھی عورت ہوں…
جو گولیاں گنتی ہے۔

مگر سچ یہ ہے…

مہربانی مفت ہوتی ہے۔
تین لفظ لکھنے میں کچھ نہیں جاتا۔

“میں تمہیں دیکھ رہا ہوں…”
کبھی کبھی یہی کسی کو زندہ رکھ دیتا ہے۔

آج Tampa میں سات فارماسسٹ بھی نوٹس لکھتے ہیں۔

کوئی Spanish میں لکھتا ہے: “Eres importante”
کوئی Vietnamese میں: “Bạn không đơn độc”

میری بیٹی پچھلے مہینے آئی۔

کہنے لگی،
“Mom… آپ Facebook پر famous ہو گئی ہیں…”

میں ہنس دی۔

کیونکہ یہ شہرت کی کہانی نہیں ہے…

یہ ان خاموش لمحوں کی کہانی ہے…
جب کسی کو لگتا ہے…
کہ وہ نظر آ رہا ہے۔

اگر آپ اس کہانی سے ایک چیز لے جائیں تو یہ لے جائیں—

اوپر دیکھیں…
بات کریں…
لکھ دیں…

آپ کو نہیں پتا…
آپ کے تین لفظ… کس طوفان کو تھام لیں گے۔

یہ دنیا ٹوٹی ہوئی ہے…

مگر شاید…
ہم اسے ٹھیک کر سکتے ہیں…

ایک نوٹ کے ذریعے… ایک دل کے ذریعے… ایک لمحے کے ذریعے۔

09/05/2026

اٹھارہ سال کی شادی کے بعد مجھے کبھی یہ خیال نہیں آیا تھا کہ مجھے اپنے ہی شوہر سے اپنے فون کا پاسورڈ چھپانا پڑے گا۔ 💔

احمد ہمیشہ کہتا تھا، “میں حساب کتاب میں تم سے بہتر ہوں…”
اور میں مان لیتی تھی۔

گھر کے اخراجات… کارڈ… بینک… سب اُس کے پاس تھا۔
میں بس خرچ کرتی… اور زندگی چلتی رہتی۔

پہلی بار مجھے عجیب تب لگا…
جب ایک دن اُس نے مسکراتے ہوئے کہا،
“آج پھر تم نے آفس جاتے ہوئے وہی کافی لی…”

میں چونک گئی،
“آپ کو کیسے پتا؟”

وہ ہنسا،
“کارڈ کی نوٹیفکیشن آتی ہے… فراڈ سے بچاؤ کے لیے رکھا ہے…”

بات معقول تھی۔
میں نے خود کو سمجھا لیا۔

پھر ہماری بیٹی، حنا، نے گاڑی چلانا شروع کی۔
ایک دن احمد نے casual انداز میں کہا،
“میں نے اُس کے فون میں ٹریکنگ ایپ لگا دی ہے…”

“اُسے بتایا بھی ہے؟” میں نے فوراً پوچھا۔

وہ ذرا سا جھنجھلایا،
“ضروری نہیں… بچے خود نہیں سمجھتے… ہمیں سمجھنا پڑتا ہے…”

میں خاموش ہو گئی۔
شاید اُس دن میں نے پہلی بار اپنی آواز خود دبا دی تھی۔

مگر مجھے نہیں پتا تھا…
یہ خاموشی ایک دن میرے اپنے خلاف استعمال ہوگی۔

پچھلے ہفتے میں کام سے واپس آئی تو احمد نے ایسے ہی کہا،
“وہ تصویریں میں نے بھیج دی ہیں…”

میں رک گئی،
“کون سی تصویریں؟”

“جو تم نے میری بہن کے پروجیکٹ کے لیے لی تھیں…”

میرا دل ایک لمحے کو رک گیا،
“آپ نے میرا فون کب لیا؟”

وہ چند سیکنڈ چپ رہا… پھر وہی چہرہ…
جیسے کوئی پکڑا گیا ہو۔

“کتنے عرصے سے؟” میری آواز اب نرم نہیں رہی تھی۔

“بس… کچھ مہینوں سے…”

“کیا؟”

“میں نے تمہاری گوگل فوٹوز میں ایکسس لے لیا تھا… بس آسانی کے لیے…”

آسانی کے لیے۔

یعنی میرے ہر لمحے تک رسائی…
میری ہر تصویر… ہر یاد… ہر وہ چیز جو میں نے کبھی کسی سے شیئر نہیں کی…

سب… اُس کے لیے “آسانی” تھی۔

اُس رات ہماری لڑائی ختم نہیں ہوئی۔

وہ بار بار یہی کہتا رہا،
“تمہیں کیا مسئلہ ہے؟ تمہارے پاس چھپانے کو کیا ہے؟”

اور میں پہلی بار یہ سوچ رہی تھی…
کہ شاید مسئلہ واقعی چھپانے کا نہیں…
محفوظ رہنے کا ہے۔

اگلے دن میں نے سب پاسورڈ بدل دیے۔

گھر میں ایک عجیب سا سکوت آ گیا۔

وہ کچھ دیر بعد بولا،
“تم مجھے سزا دے رہی ہو…”

میں نے اُس کی آنکھوں میں دیکھ کر آہستہ سے کہا،

“نہیں احمد… میں خود کو واپس لے رہی ہوں…”

وہ ہنسا نہیں۔
ناراض بھی نہیں ہوا۔
بس خاموش ہو گیا۔

اور اُس کی یہ خاموشی…
پہلی بار مجھے ڈرانے لگی۔

دو دن بعد… میں رات کو پانی لینے اٹھی تو دیکھا…
وہ ڈرائنگ روم میں بیٹھا تھا۔

میرے پرانے فون کے ساتھ۔

وہی فون جو میں نے سال پہلے بدل دیا تھا۔

میری سانس رک گئی،
“یہ آپ کے پاس کہاں سے آیا؟”

وہ چونکا نہیں۔
جیسے اُسے پتا تھا میں آؤں گی۔

“یہ تو گھر میں ہی تھا…” اُس نے آرام سے کہا۔

“اور آپ…؟”

“میں بس دیکھ رہا تھا…”

“کیا؟”

اُس نے فون میری طرف بڑھایا۔

“یہ…”

میں نے سکرین دیکھی…
اور میرے ہاتھ کانپ گئے۔

وہ میری پرانی تصویریں تھیں۔

وہ نہیں…
وہ خاص تصویریں۔

میرے کالج کے دن…
میری وہ مسکراہٹ جو شادی کے بعد کہیں کھو گئی تھی…

اور ایک تصویر…

جس میں میں ہنس رہی تھی…
دل سے۔

میں نے آہستہ سے پوچھا،
“آپ یہ کیوں دیکھ رہے ہیں…؟”

اُس نے پہلی بار نظریں جھکا لیں۔

“کیونکہ میں یہ ڈھونڈ رہا تھا…”

“کیا؟”

“وہ عورت… جس سے میں نے شادی کی تھی…”

کمرے میں خاموشی پھیل گئی۔

میرے اندر کا غصہ… ایک لمحے کو رکا۔

“تو اس کے لیے آپ نے میری زندگی کھول کر رکھ دی؟”

وہ آہستہ سے بولا،
“میں تمہیں کھو رہا تھا… اور مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کیسے روکوں…”

میں تلخی سے ہنس دی،
“تو آپ نے مجھے قید کر لیا؟”

وہ چپ رہا۔

پھر آہستہ سے بولا،

“میں نے کبھی سوچا ہی نہیں… کہ جسے میں بچانے کی کوشش کر رہا ہوں… وہ مجھ سے ہی بچنے لگے گی…”

یہ وہ جملہ تھا…
جس نے مجھے توڑ بھی دیا… اور روک بھی لیا۔

میں اُس کے سامنے بیٹھ گئی۔

“احمد… محبت کنٹرول نہیں ہوتی…”

وہ پہلی بار ٹوٹا،
“مجھے ڈر لگتا تھا…”

“کس بات کا؟”

“کہ تم دور ہو رہی ہو… کہ تمہیں میری ضرورت نہیں رہی…”

میں نے گہری سانس لی۔

“اور آپ نے کیا کیا؟
میرے ہر دروازے پر تالا توڑ دیا…”

وہ خاموش رہا۔

پھر بہت دیر بعد بولا،
“اگر میں سب کچھ ختم کر دوں… سب ایکسس… سب عادتیں… تو کیا تم واپس آ جاؤ گی؟”

یہ سوال آسان نہیں تھا۔

میں نے فوراً جواب نہیں دیا۔

کیونکہ کچھ چیزیں…
صرف وعدوں سے ٹھیک نہیں ہوتیں۔

میں نے بس اتنا کہا،

“میں کہیں گئی ہی نہیں تھی احمد…
آپ نے مجھے خود سے دور کر دیا تھا…”

وہ سر جھکا کر بیٹھ گیا۔

اور اُس لمحے…
پہلی بار…

وہ شوہر نہیں…
ایک خوفزدہ انسان لگا۔

اور میں…

میں نے پہلی بار محسوس کیا—

کہ کچھ رشتے ٹوٹتے نہیں…
بس سانس لینا بند کر دیتے ہیں۔

اور انہیں زندہ کرنے کے لیے…
کنٹرول نہیں… اعتماد چاہیے ہوتا ہے۔

کہانی یہیں ختم نہیں ہوئی…

کیونکہ اگلے دن…

اس نے واقعی سب ایکسس ختم کر دیے۔
میرے سامنے۔

اور پہلی بار پوچھا،

“کیا میں تمہارا فون لے سکتا ہوں…؟”

میں نے فون اُس کے ہاتھ میں دیا…

اور آہستہ سے کہا،

“اب تم پوچھ کر لوگے…
تو شاید میں خود دے دوں…”

اور یہی فرق ہوتا ہے—

قید اور تعلق میں۔

©️ ~Intikhaab-E-Sukhan~

08/05/2026

کبھی خود سے سچائی کے ساتھ پوچھیں… ہماری زندگی میں سب سے قیمتی انسان کون ہے؟

اکثر جواب وہ نہیں ہوتا جو ہمیں مشورے دیتا ہے…
نہ وہ جو ہر مسئلے کا حل لے کر آتا ہے…
نہ وہ جو ہمیں “ٹھیک” کرنے کی کوشش کرتا ہے…

بلکہ وہ ہوتا ہے…
جو ہمارے درد کے ساتھ بیٹھ جاتا ہے۔

وہ… جو خاموشی میں ہمارا ساتھ دیتا ہے،
جب الفاظ بے معنی ہو جاتے ہیں۔

وہ… جو ہمارے زخموں کو چھیڑتا نہیں،
بس ایک نرم لمس سے یہ احساس دلاتا ہے کہ ہم اکیلے نہیں ہیں۔

وہ… جو ہمارے ساتھ اُس لمحے میں کھڑا رہتا ہے
جب نہ وہ کچھ ٹھیک کر سکتا ہے…
نہ ہم خود کو سنبھال سکتے ہیں۔

اصل دوست وہ نہیں جو راستہ دکھائے…
بلکہ وہ ہے جو اندھیرے میں ہمارے ساتھ چلنے کو تیار ہو۔

کیونکہ کبھی کبھی…
ہمیں جواب نہیں چاہیے ہوتے—
بس ایک ساتھ چاہیے ہوتا ہے۔

Address

Office # 2/22, Silk Centre Rehmanabad
Rawalpindi
46000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ~Intikhaab-E-Sukhan~ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share