~Intikhaab-E-Sukhan~

~Intikhaab-E-Sukhan~ یہ سخن جو ہم نے رقم کیے یہ ہیں سب ورق تیری یاد کے Urdu literature say behtareen intekhaab. We don't own the posts we share.

Read the best of the Urdu Writers, the best Urdu novels, the best Urdu dramas, the best urdu afsanay, and other most beautiful creations in Urdu literature ever.

ایک بات زندگی بھر یاد رکھنا اور وہ یہ کہ کسی کو دھوکا دینا اپنے آپ کو دھوکا دینے کے مترادف ہے۔ دھوکے میں بڑی جان ہوتی ہے وہ مرتا نہیں ہے۔ گھوم پھر کر ایک روز واپس آپ کے پاس ہی پہنچ جاتا ہے کیونکہ اس کو اپنے ٹھکانے سے بڑی محبت ہے اور وہ اپنی جائے پیدائش کو چھوڑ کر کہیں رہ نہیں سکتا۔

اشفاق احمد

کسی مشاعرے میں ایک نو مشق شاعر اپنا غیر موزوں کلام پڑھ رہے تھے۔اکثر شعراء آدابِ محفل کو ملحوظ رکھتے ہوئے خاموش تھے لیکن جوش صاحب پورے جوش و خروش سے ایک ایک مصرعے پر دادو تحسین کی بارش کیے جا رہے تھے۔گوپی ناتھ امن نے ٹوکتے ہوئے پوچھا: قبلہ، یہ آپ کیا کر رہے ہیں؟
جوش صاحب نے بہت سنجیدگی سے جواب دیا: منافقت۔اور پھر داد دینے میں مصروف ہو گئے۔

جوش ملیح آبادی

"Duniya main insaan ki entry jaisay marzi hoo, lakein Exit shaandaar hona chayein...tragic ,dramatic.." By:Umera Ahmed
From :Man O Salwa

Intikhab e Sukhan is an Urdu Adab page. Where we are able, we put references to th author and book.. If you enjoy our page, please let your friends know about us

10/09/2026

حمزہ کے ننھے ہاتھوں میں دو سرخ سیب تھے۔

باپ نے مسکرا کر کہا:

’’بیٹا، ایک سیب مجھے دے دو۔‘‘

حمزہ نے فوراً ایک سیب دانتوں سے کاٹ لیا۔

باپ نے کچھ کہنا چاہا ہی تھا کہ بچے نے دوسرا سیب بھی کاٹ لیا۔

اس کے چہرے کی مسکراہٹ بجھ گئی۔

اس نے دل ہی دل میں سوچا، میں نے تو صرف ایک سیب مانگا تھا…

وہ خاموشی سے بچے کے پاس بیٹھ گیا۔

حمزہ نے دونوں سیب غور سے دیکھے۔ پھر اچانک ایک سیب باپ کی طرف بڑھا دیا۔

’’ابو، یہ والا لے لیں۔‘‘

باپ نے حیرت سے پوچھا:

’’کیوں؟‘‘

بچے نے معصومیت سے کہا:

’’یہ زیادہ میٹھا ہے۔‘‘

باپ کچھ دیر اسے دیکھتا رہا۔

اس نے سیب لیا، مگر اس سے پہلے اپنے بیٹے کو سینے سے لگا لیا۔

اسے پہلی بار احساس ہوا کہ ہم اکثر کسی کے عمل کو دیکھ کر اس کی نیت کا فیصلہ کر لیتے ہیں، جبکہ کہانی کا آخری جملہ ہمیں ابھی معلوم ہی نہیں ہوتا۔

شاید زندگی کے بہت سے رشتے بھی اسی طرح ٹوٹتے ہیں۔

ہم آدھی بات دیکھتے ہیں، پورا فیصلہ سنا دیتے ہیں۔

اور کبھی کبھی…

جس ہاتھ کو ہم خودغرض سمجھ رہے ہوتے ہیں، وہ دراصل ہمارے لیے زیادہ میٹھا سیب بچا رہا ہوتا ہے۔

10/09/2026

میرے والد مرتے وقت اپنے کمرے کی کھڑکی سے باہر دیکھ رہے تھے۔ 🥹💔

باہر نیم کا درخت تھا، جس کے نیچے کبھی ہماری سائیکلیں کھڑی رہتی تھیں، اور ذرا دور وہ پرانی سڑک تھی جس پر والد صاحب نے شاید اپنی زندگی کے آخری پینتیس برس گاڑی چلائی تھی۔

میں نے ان کی انگلیاں دبائیں۔

انہوں نے میری طرف دیکھا۔

آنکھوں میں پہچان تھی یا نہیں، میں آج تک فیصلہ نہیں کر سکا۔

"گاڑی کی چابی کہاں ہے؟"

یہ ان کے آخری جملوں میں سے ایک تھا۔

میں نے نظریں جھکا لیں۔

"ابو، گاڑی نہیں چلانی۔"

وہ ناراض ہو گئے۔

"میں نے کہا ہے چابی دو۔ عدالت کا وقت ہو رہا ہے۔"

میں نے کچھ نہیں کہا۔

عدالت کو ریٹائر ہوئے انہیں گیارہ برس ہو چکے تھے۔

اور ڈرائیونگ چھوڑے ہوئے شاید ایک ہفتہ بھی نہیں۔

---

میرے والد وکیل تھے۔

پھر جج بنے۔

لوگ انہیں **جسٹس سلیم محمود** کہتے تھے۔

گھر میں وہ صرف ابو تھے۔

اور بڑھاپے نے ان دونوں آدمیوں کے درمیان عجیب سا فاصلہ پیدا کر دیا تھا۔

جسٹس سلیم محمود کی یادداشت میں فیصلے محفوظ تھے، مقدمات محفوظ تھے، قانون کی دفعات محفوظ تھیں، بڑے بڑے لوگوں کے نام محفوظ تھے۔

مگر ابو...

وہ اپنی عینک کہاں رکھتے تھے، بھول جاتے تھے۔

دوپہر کو پوچھتے کہ کھانا کب ملے گا، حالانکہ ابھی کھا کر اٹھے ہوتے۔

امی کو کبھی بہن سمجھتے، کبھی کسی پرانے مقدمے کی گواہ۔

اور مجھے دیکھ کر غصے سے کہتے:

"تمہیں کس نے حق دیا میری گاڑی روکنے کا؟"

"ابو، آپ بھول جاتے ہیں۔"

"میں کچھ نہیں بھولتا!"

یہ جملہ وہ اتنے یقین سے کہتے کہ چند لمحوں کے لیے مجھے خود شک ہونے لگتا۔

شاید واقعی وہ نہیں بھولتے۔

شاید بھولنے والا میں ہوں۔

وہ شخص جس نے میرے ہاتھ میں پہلی بار قلم دیا تھا۔

جس نے مجھے عدالت لے جا کر کہا تھا:

"بیٹا، آدمی کی اصل پہچان یہ نہیں کہ وہ کتنا طاقتور ہے۔ اصل پہچان یہ ہے کہ طاقت اس کے ہاتھ میں آ کر دوسروں کے ساتھ کیا کرتی ہے۔"

وہی آدمی اب کبھی کبھی پانی کا گلاس اٹھا کر بھول جاتا تھا کہ پینا کیوں تھا۔

اور میں...

میں تھک گیا تھا۔

سچ کہوں تو بہت تھک گیا تھا۔

---

ان کی وفات سے کچھ ماہ پہلے ایک دن انہوں نے گاڑی نکال لی۔

امی نے مجھے فون کیا۔

"تمہارے ابو پھر گاڑی لے کر نکل گئے ہیں۔"

میں دفتر سے اٹھا اور سڑکوں پر انہیں تلاش کرتا رہا۔

جب ملے تو گاڑی ایک دکان کے باہر کھڑی تھی۔

وہ اندر بیٹھے اخبار پڑھ رہے تھے۔

میں نے دروازہ کھولا۔

"ابو!"

انہوں نے غصے سے اخبار تہہ کیا۔

"تم یہاں کیوں آئے ہو؟"

"آپ کو لینے۔"

"میں بچہ نہیں ہوں۔"

میں خاموش رہا۔

انہوں نے گاڑی اسٹارٹ کی۔

میں نے چابی نکال لی۔

پھر جو ہوا، وہ شاید میری زندگی کی سب سے بڑی شرمندگی ہے۔

انہوں نے مجھے ایسی نظروں سے دیکھا جیسے میں ان کا بیٹا نہیں، ان کا مخالف وکیل ہوں۔

"میری چیزیں مجھ سے چھیننے لگے ہو؟"

میں کچھ کہہ نہ سکا۔

اس رات وہ مجھ سے بات نہیں کرتے رہے۔

اور میں اپنے کمرے میں بیٹھا یہ سوچتا رہا کہ میں جس باپ کو بچا رہا ہوں، وہ میرے لیے کہاں چلا گیا ہے؟

---

وہ ایک سال پہلے مر گئے۔

اور میں نے محسوس کیا کہ آدمی صرف اس دن نہیں مرتا جب اس کی سانس رکتی ہے۔

کبھی کبھی وہ بہت پہلے مر جاتا ہے۔

جب اس کے اپنے لوگ اسے یاد کرنے سے تھک جاتے ہیں۔

---

جنازے میں شہر بھر کے لوگ تھے۔

مسجد کا صحن بھر گیا تھا۔

وہ لوگ بھی آئے جنہیں میں جانتا تھا۔

وہ بھی جنہیں میں نہیں جانتا تھا۔

کسی نے کہا:

"جسٹس صاحب نے میرا مقدمہ جتوایا تھا۔"

کسی نے کہا:

"انہوں نے میری نوکری بچائی تھی۔"

ایک بوڑھا شخص آیا اور میرے ہاتھ چوم کر بولا:

"بیٹا، آپ کے ابو بڑے آدمی تھے۔"

مجھے ان جملوں سے کوئی خاص تسلی نہیں ہوئی۔

میرے لیے تو وہ آخری دنوں والا آدمی تھے۔

وہی جو چابی مانگتا تھا۔

وہی جو چیختا تھا۔

وہی جو کبھی مجھے پہچانتا تھا، کبھی نہیں۔

مجھے اپنے باپ کا وہ آدمی یاد ہی نہیں آ رہا تھا جسے باقی دنیا یاد کر رہی تھی۔

---

تعزیتی ریفرنس میں ہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔

پرانے ساتھی، وکیل، جج، سرکاری افسر، شاگرد، رشتے دار...

اسٹیج پر ان کی تصویر رکھی تھی۔

سیاہ کوٹ۔

سفید بال۔

وہی آنکھیں جن میں جوانی میں شاید عدالت کا پورا کمرہ خاموش ہو جاتا تھا۔

ایک سابق چیف جسٹس نے ان کے بارے میں بات کی۔

ایک معروف وکیل نے ان کی دیانت داری کا ذکر کیا۔

پھر ایک خط پڑھا گیا۔

ملک کے ایک بڑے سیاست دان کا۔

اس میں لکھا تھا کہ نوجوانی میں جب وہ قانون پڑھنے کا سوچ بھی نہیں رہے تھے، میرے والد نے ان سے ایسی گفتگو کی تھی جس نے ان کی زندگی کا رخ بدل دیا۔

لوگ تالیاں بجاتے رہے۔

میں خاموش بیٹھا رہا۔

میرے اندر کچھ ہلکا سا ضرور ہوا، مگر مکمل نہیں۔

پھر پروگرام کے آخر میں منتظم نے کہا:

"اگر کوئی اور بھی کچھ کہنا چاہے تو تشریف لائے۔"

ہال میں چند لمحے خاموشی رہی۔

پھر پچھلی صفوں سے ایک عورت اٹھ کھڑی ہوئی۔

وہ تقریباً ساٹھ برس کی ہوں گی۔

سادہ سا لباس۔

سر پر دوپٹہ۔

ان کے ساتھ ایک نوجوان لڑکا اور ایک نوجوان لڑکی تھی۔

وہ تینوں آہستہ آہستہ اسٹیج کی طرف بڑھے۔

میں نے امی کی طرف دیکھا۔

امی نے نفی میں سر ہلایا۔

میری بہن نے بھی۔

ہم میں سے کوئی انہیں نہیں جانتا تھا۔

عورت مائیک کے سامنے کھڑی ہوئی۔

اس نے ہال کو دیکھا۔

پھر میرے والد کی تصویر کو۔

اور مسکرائی۔

"آپ لوگ مجھے نہیں جانتے۔"

اس کی آواز میں لرزش تھی، مگر الفاظ صاف تھے۔

"لیکن میں آپ کے والد کو بہت اچھی طرح جانتی تھی۔"

ہال بالکل خاموش ہو گیا۔

---

"تقریباً تیس سال پہلے کی بات ہے۔"

وہ بولی۔

"میں ایک اکیلی عورت تھی۔"

اس نے ذرا توقف کیا۔

"میرے شوہر دنیا میں نہیں تھے۔ آمدنی بہت کم تھی۔ اور میرے گھر میں ایک بچہ تھا... جو میرا خون نہیں تھا، مگر میری جان تھا۔"

لڑکے نے سر جھکا لیا۔

"میں اسے گود لینا چاہتی تھی۔"

وہ مسکرائی۔

"لیکن مجھے قانون کا کچھ پتا نہیں تھا۔ کاغذوں کا کچھ پتا نہیں تھا۔ عدالتوں کا کچھ پتا نہیں تھا۔ بس اتنا جانتی تھی کہ اگر میں اسے اپنا نام نہ دے سکی تو شاید ایک دن کوئی اسے مجھ سے لے جائے گا۔"

ہال میں کسی نے کھانسی تک نہیں کی۔

"لوگوں سے پوچھا تو کسی نے کہا، اگر اچھا وکیل چاہیے اور پیسے نہیں ہیں تو سلیم محمود کے پاس جاؤ۔"

میری گردن خود بخود سیدھی ہو گئی۔

وہ میری طرف دیکھ رہی تھی۔

"میں ڈرتے ڈرتے ان کے دفتر گئی۔"

وہ ہنس دی۔

"باہر بیٹھ کر تقریباً آدھا گھنٹہ سوچتی رہی کہ اندر جاؤں یا نہیں۔ آخرکار چپڑاسی نے کہا، بی بی، اگر کام ہے تو اندر جائیں۔ یہاں بیٹھنے سے کام نہیں ہوگا۔"

ہال میں ہلکی سی مسکراہٹ پھیلی۔

"میں اندر گئی۔ آپ کے والد نے میری بات سنی۔ بہت دیر تک سنی۔"

وہ خاموش ہوئی۔

"پھر انہوں نے کہا: 'بچے کو تم نے پال رکھا ہے؟'"

"میں نے کہا: 'جی۔'"

"پوچھا: 'وہ تمہیں ماں کہتا ہے؟'"

"میں نے کہا: 'جی۔'"

"انہوں نے فائل بند کی اور کہا: 'پھر باقی کام قانون کرے گا۔ تم فکر نہ کرو۔'"

عورت کی آواز بھر آئی۔

"انہوں نے میرا مقدمہ لڑا۔"

وہ ذرا جھکی۔

"اور میں اپنے بچے کو قانونی طور پر اپنا بیٹا بنا سکی۔"

لڑکے نے پہلی بار سر اٹھایا۔

میں اسے دیکھنے لگا۔

وہ میرے باپ کو نہیں، باپ کی تصویر کو دیکھ رہا تھا۔

---

"مقدمہ ختم ہوا تو میں نے پوچھا، فیس کتنی ہے؟"

عورت نے مسکرا کر سر ہلایا۔

"آپ کے والد نے کہا: 'فیس؟'"

پھر اس نے والد کی آواز کی نقل کرتے ہوئے کہا:

"'یہ کام فیس کے لیے نہیں کیا۔'"

ہال میں کئی لوگ مسکرائے۔

"میں نے کہا، 'لیکن صاحب، کچھ تو لے لیجیے۔'"

وہ ہنس پڑے تھے۔

"انہوں نے کہا: 'بی بی، یہ اچھا کام ہے۔ اچھے کام کی قیمت نہیں لگاتے۔'"

عورت کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔

"پھر کہا تھا..."

وہ چند لمحے بول نہ سکی۔

میں آگے کو جھک گیا۔

"انہوں نے کہا تھا:"

"'وکیل اگر کسی کو اس کا حق دلانے کے بعد بھی صرف اپنی فیس گنے، تو وہ وکیل ہے۔ لیکن اگر کبھی کبھی کسی کو اس کی پوری زندگی واپس دے دے... تو شاید وہ انسان بھی ہے۔'"

میرے سینے میں کچھ ٹوٹا۔

---

عورت نے اپنے ساتھ کھڑے لڑکے کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔

"یہ وہی بچہ ہے۔"

ہال میں ایک گہری سانس کی آواز ابھری۔

"آج اس کی عمر بتیس سال ہے۔"

لڑکے کی آنکھیں نم تھیں۔

"اور چند سال بعد مجھے محسوس ہوا کہ اسے ایک بہن چاہیے۔"

عورت نے ہلکی سی ہنسی کے ساتھ کہا:

"ماں ہونے کے باوجود میں ایک بار پھر قانون سے ڈر گئی۔"

کچھ لوگ مسکرائے۔

"لیکن میں دوبارہ آپ کے والد کے پاس گئی۔"

اس بار میری آنکھیں تصویر سے ہٹ نہیں رہی تھیں۔

"انہوں نے دوسری بچی کا مقدمہ بھی اسی طرح لڑا۔"

وہ لڑکی آگے بڑھی۔

"یہ وہ بچی ہے۔"

ہال میں تالی بجی۔

ایک آدمی نے شاید بے اختیار اپنے آنسو پونچھے۔

عورت بولتی رہی۔

"دوسری بار بھی میں نے فیس دینی چاہی۔"

اس نے سر ہلایا۔

"انہوں نے پھر نہیں لی۔"

پھر وہ میری طرف دیکھ کر بولی:

"آپ کے والد نے ہم سے کہا تھا: 'بچوں کو گھر ملتا دیکھنا میری فیس ہے۔'"

---

ہال میں اب کوئی اپنی آنکھیں چھپانے کی کوشش نہیں کر رہا تھا۔

وہ عورت بولی:

"میں نے اپنے بچوں کو ہمیشہ بتایا کہ وکیل صرف عدالت میں دلائل نہیں دیتے۔"

"کبھی کبھی وہ ٹوٹے ہوئے لوگوں کو بھی جوڑتے ہیں۔"

"میں نے انہیں بتایا کہ ایک مسلمان، ایک انسان، ایک باپ، ایک وکیل..."

اس نے تصویر کی طرف دیکھا۔

"کبھی کسی اجنبی کے لیے بھی اتنا بڑا دروازہ کھول سکتا ہے کہ اس کے بعد اس اجنبی کو کبھی اجنبی رہنے کی ضرورت نہ پڑے۔"

وہ لڑکے کی طرف متوجہ ہوئی۔

"میرے بیٹے نے یونیورسٹی میں قانون پڑھنے کا فیصلہ کیا ہے۔"

ہال میں پھر سرگوشی سی ہوئی۔

"اور میری بیٹی..."

اس نے لڑکی کا ہاتھ تھاما۔

"وہ لاء اسکول میں ہے۔"

اس بار تالیاں بہت دیر تک بجتی رہیں۔

تعزیتی مجلس میں تالیاں اچھی نہیں لگتیں۔

مگر اس دن کسی کو پروا نہیں تھی۔

وہ تالیاں میرے والد کے لیے نہیں تھیں۔

وہ اس نیکی کے لیے تھیں جس کا انہیں خود بھی شاید کبھی اندازہ نہیں تھا کہ وہ کتنی دور تک جائے گی۔

---

عورت نے مائیک دوبارہ تھاما۔

"میں آپ سب سے ایک بات کہنے آئی تھی۔"

وہ میری طرف دیکھ رہی تھی۔

"آپ نے اپنے والد کو بہت سے لوگوں میں تقسیم کیا ہوگا۔"

میں نے آنکھیں جھکا لیں۔

"کسی کے لیے وہ جج تھے۔"

"کسی کے لیے وکیل۔"

"کسی کے لیے استاد۔"

"کسی کے لیے دوست۔"

پھر اس نے اپنے دونوں بچوں کو دیکھا۔

"لیکن ہمارے لیے..."

اس کی آواز ٹوٹ گئی۔

"وہ وہ شخص تھے جس نے ہمیں ایک خاندان بنا دیا۔"

خاموشی۔

"آپ شاید ان کے بارے میں سب کچھ نہیں جانتے۔"

اس نے مسکرا کر کہا۔

"لیکن ہم جانتے ہیں۔"

پھر وہ پیچھے ہٹی۔

لڑکا آگے بڑھا۔

اس نے میرے والد کی تصویر کو سلام کیا۔

لڑکی نے بھی۔

اور تینوں آہستہ آہستہ ہال سے باہر جانے لگے۔

---

میں اپنی نشست پر بیٹھا رہا۔

امی میرے برابر تھیں۔

میری بہن دوسری طرف۔

اور میرے سامنے میرے والد کی تصویر۔

اچانک مجھے وہ سب کچھ یاد آنے لگا جو برسوں سے میرے ذہن کے کسی اندھیرے کمرے میں بند پڑا تھا۔

مجھے وہ دن یاد آیا جب ایک غریب آدمی ہمارے گھر آیا تھا اور ابو نے امی سے کہا تھا:

"کھانا کھلایا ہے؟"

مجھے یاد آیا جب ایک طالب علم کی فیس انہوں نے خاموشی سے جمع کروائی تھی۔

مجھے یاد آیا کہ عید پر ان کے پاس آنے والے لوگوں کی قطار کیوں کبھی ختم نہیں ہوتی تھی۔

مجھے یاد آیا کہ وہ اکثر کہتے تھے:

"کسی کا کام ہو جائے تو اس سے شکریہ مت مانگو۔ بس دعا کرنے دو۔"

مجھے یاد آیا کہ میں بچپن میں پوچھتا تھا:

"ابو، آپ سب کی مدد کیوں کرتے ہیں؟"

وہ اخبار سے نظریں اٹھائے بغیر کہتے:

"بیٹا، آدمی کو زندگی میں دو چیزیں ضرور چھوڑنی چاہییں۔ ایک اچھا نام، دوسری کسی کے دل میں اپنے لیے جگہ۔"

تب میں نہیں سمجھا تھا۔

آج سمجھ آیا۔

---

تعزیتی مجلس ختم ہو چکی تھی۔

لوگ جا رہے تھے۔

کرسیاں خالی ہو رہی تھیں۔

میز پر پڑے گلاس اٹھائے جا رہے تھے۔

اور میں پہلی بار اپنے والد کے ساتھ اکیلا تھا۔

میں نے تصویر کے قریب جا کر اسے دیکھا۔

وہی سیاہ کوٹ۔

وہی سنجیدہ چہرہ۔

مگر اب مجھے اس تصویر کے پیچھے ایک اور چہرہ نظر آ رہا تھا۔

وہ آدمی جو کسی غریب عورت سے فیس نہیں لیتا تھا۔

وہ آدمی جو دو بچوں کو قانونی کاغذوں سے زیادہ، ایک خاندان دیتا تھا۔

وہ آدمی جو عدالت میں لوگوں کے مقدمے لڑتا تھا۔

اور شاید زندگی بھر خاموشی سے ایک اور مقدمہ بھی لڑتا رہا تھا۔

**اس مقدمے کا نام تھا: انسان کو انسان سے ملانا۔**

میں نے تصویر کے سامنے کھڑے ہو کر پہلی بار اپنے والد سے معافی مانگی۔

اس لیے نہیں کہ میں نے ان کی گاڑی روک لی تھی۔

اس لیے نہیں کہ میں ان کے غصے سے تنگ آ گیا تھا۔

اس لیے بھی نہیں کہ میں نے ان کے بھولنے کو ان کی پوری زندگی سمجھ لیا تھا۔

بلکہ اس لیے کہ میں نے ایک وقت کے لیے یہ مان لیا تھا کہ میرے باپ کی آخری شکل ہی ان کی اصل شکل ہے۔

میں غلط تھا۔

بڑھاپا آدمی سے بہت کچھ چھین لیتا ہے۔

یادداشت بھی۔

آواز بھی۔

اختیار بھی۔

مگر اس کی پوری زندگی نہیں چھین سکتا۔

اگر اس نے اچھا کیا ہو تو...

اس کی نیکی اس کے بعد بھی زندہ رہتی ہے۔

کبھی کسی اجنبی کے بچوں میں۔

کبھی کسی شاگرد کے فیصلے میں۔

کبھی کسی بوڑھے کی دعا میں۔

اور کبھی...

اپنے بیٹے کی آنکھوں میں۔

میں نے تصویر کو آخری بار دیکھا۔

مجھے یوں لگا جیسے ابو پھر سے وہی پرانی بات کہہ رہے ہوں:

"بیٹا، آدمی کی اصل پہچان یہ نہیں کہ وہ کتنا طاقتور تھا۔"

"اصل پہچان یہ ہے کہ اس کی طاقت سے کتنے کمزور لوگ محفوظ ہوئے۔"

میں مسکرا دیا۔

اور بہت دیر بعد...

مجھے اپنا باپ واپس مل گیا۔

افسانہ: اصلی شخصیت
انتخاب سخن

10/09/2026

💥مجھے افسوس ہے کہ تمہیں یہ بات بتیس سال بعد سمجھ آئی کہ تم میری زندگی کی سب سے قیمتی چیز تھیں۔‘‘ 🥹💔

بتیس سال کی شادی میں پہلی بار سلیم نے اپنی بیوی سے کہا تھا:

’’اگر تمہیں میرے ساتھ رہنا اتنا ہی مشکل لگتا ہے تو طلاق لے لو۔‘‘

اور نائلہ نے بھی پہلی بار جواب دینے میں دیر نہیں کی۔

’’ٹھیک ہے۔‘‘

بس ایک لفظ۔

مگر بعض لفظ جب بتیس سال بعد بولے جائیں تو گھر کی دیواروں میں برسوں سے لٹکی ہوئی تصویریں بھی جیسے کانپ جاتی ہیں۔

ان کے دونوں بیٹے اسی رات گھر پہنچے۔

بڑا بیٹا، جو لاہور میں اپنی کمپنی چلاتا تھا، اور چھوٹا، جو اسلام آباد میں ڈاکٹر تھا، دونوں نے الگ الگ اپنے باپ کو سمجھایا۔

’’ابو، آپ دونوں پاگل ہو گئے ہیں؟‘‘

سلیم خاموش بیٹھے رہے۔

نائلہ دوسرے کمرے میں بیٹھی رو رہی تھی۔

بات طلاق تک پہنچ چکی تھی۔

اور وجہ؟

نہ دوسری عورت۔

نہ جائیداد۔

نہ پیسہ۔

نہ کوئی پرانا راز۔

صرف ایک سوال۔

’’آپ نے مجھے شادی کی رات منہ دکھائی میں کیا دیا تھا؟‘‘

سلیم کو یہ سوال سمجھ ہی نہیں آیا تھا۔

’’کیا مطلب؟‘‘

نائلہ نے الماری کھولی، پرانے کپڑوں اور شادی کے جوڑوں کے نیچے سے ایک چھوٹا سا ڈبہ نکالا۔

’’دیکھیں۔‘‘

ڈبہ خالی تھا۔

’’میری بہن کو اس کے شوہر نے سونے کی انگوٹھی دی تھی۔ خالہ کو چوڑیاں ملی تھیں۔ صائمہ کو ہار ملا تھا۔ ہر عورت اپنی منہ دکھائی سنبھال کر رکھتی ہے۔ میری شادی کی رات آپ نے مجھے کچھ نہیں دیا۔‘‘

سلیم ہنس پڑے۔

’’نائلہ، تمہیں بتیس سال بعد یہ بات یاد آئی ہے؟‘‘

وہ ہنسی نہیں۔

’’مجھے یاد نہیں آئی۔ مجھے یاد دلائی گئی ہے۔‘‘

سلیم کا چہرہ بدل گیا۔

’’کس نے؟‘‘

’’کل صائمہ آئی تھی۔‘‘

یہ نام سنتے ہی سلیم خاموش ہو گئے۔

صائمہ نائلہ کی پرانی سہیلی تھی۔

اس شام بات یہاں ختم ہو جانی چاہیے تھی۔

مگر نہیں ہوئی۔

صائمہ نے جاتے جاتے بس اتنا کہا تھا:

’’نائلہ، ایک بات بتاؤ… سلیم نے تمہیں شادی کی رات منہ دکھائی میں کچھ نہیں دیا تھا؟‘‘

نائلہ نے ہنس کر کہا تھا:

’’نہیں۔‘‘

صائمہ نے حیرت سے آنکھیں پھیلائی تھیں۔

’’کچھ بھی نہیں؟‘‘

’’نہیں۔‘‘

صائمہ نے چند لمحے اسے دیکھا۔

پھر بہت معمولی انداز میں کہا:

’’عجیب ہے۔ میں تو ہوتی تو کبھی نہ بھولتی۔‘‘

یہی وہ جملہ تھا۔

نائلہ نے اس رات پہلی مرتبہ اپنی بتیس سالہ شادی کو پیچھے مڑ کر دیکھا۔

اور اسے سب کچھ کم نظر آنے لگا۔

سلیم نے کبھی زیور نہیں دیا تھا؟

دیا تھا۔

شادی کے تیسرے سال سونے کی چوڑیاں۔

پانچویں سال والدین کے لیے عمرے کے ٹکٹ۔

ساتویں سال وہ چھوٹا سا پلاٹ جس پر بعد میں گھر بنا۔

دسویں سال، جب نائلہ کی کمر کا آپریشن ہوا، سلیم نے تین ہفتے دکان بند رکھی تھی۔

بچوں کی پیدائش کے بعد ہر عید پر وہ اس کے لیے کچھ نہ کچھ لاتے تھے۔

مگر عجیب بات تھی۔

اس رات کے بعد نائلہ کو وہ سب یاد نہیں آ رہا تھا۔

اسے صرف ایک خالی ڈبہ نظر آ رہا تھا۔

اور خالی ڈبے کے اندر ایک سوال۔

’’تمہیں ملا کیا تھا؟‘‘

سلیم نے غصے میں کہا:

’’میں نے بتیس سال تمہیں دیا کیا ہے؟‘‘

نائلہ کا چہرہ سرخ ہو گیا۔

’’یہی تو مسئلہ ہے! تم سمجھتے ہو جو تم نے دیا وہ کافی ہے۔ کبھی یہ نہیں سوچا کہ مجھے کیا چاہیے تھا۔‘‘

’’تو بتا دیتیں!‘‘

’’ہر چیز بتانی پڑتی ہے؟‘‘

سلیم نے میز پر ہاتھ مارا۔

’’بتیس سال سے تو بتا رہی تھیں کہ خوش ہو!‘‘

نائلہ چیخی:

’’کیونکہ میں خوش تھی!‘‘

کمرے میں خاموشی چھا گئی۔

پھر سلیم نے وہ جملہ کہہ دیا جس نے بتیس سال کی محبت کو ایک لمحے کے لیے اجنبی بنا دیا۔

’’تو پھر اب کیا چاہیے؟‘‘

نائلہ نے آنسو پونچھے۔

’’اب؟ کچھ نہیں۔‘‘

اسی رات دونوں الگ کمروں میں سوئے۔

اور اگلے دن ان کے بیٹوں نے گھر سنبھال لیا۔

طلاق نہیں ہونے دی۔

مگر صلح بھی نہیں ہوئی۔

وہ ایک ہی گھر میں رہتے تھے۔

ایک ہی دسترخوان پر کھانا کھاتے تھے۔

ایک دوسرے کے سامنے سے گزرتے تھے۔

مگر بات نہیں کرتے تھے۔

پھر ایک ہفتے بعد سلیم میرے پاس آئے۔

وہ کرسی پر بیٹھے رہے اور کافی دیر تک فرش کو دیکھتے رہے۔

میں نے پوچھا:

’’آپ دونوں میں اصل مسئلہ کیا ہوا؟‘‘

انہوں نے کہا:

’’مجھے بھی نہیں معلوم۔‘‘

پھر اچانک ان کی آنکھیں بھر آئیں۔

’’بس ایک سوال نے میری پوری زندگی مشکوک کر دی۔‘‘

میں نے کہا:

’’کون سا سوال؟‘‘

انہوں نے میری طرف دیکھا۔

’’آپ نے اپنی بیوی کو کبھی بتایا کہ وہ آپ کے لیے کیا ہے؟‘‘

وہ خاموش ہو گئے۔

میں نے نائلہ کو فون کیا۔

وہ بھی رو پڑیں۔

کافی دیر تک دونوں ایک دوسرے کی شکایتیں کرتے رہے۔

پھر میں نے صائمہ کا ذکر کیا۔

دوسری طرف خاموشی چھا گئی۔

نائلہ نے آہستہ سے کہا:

’’مجھے نہیں معلوم اس نے یہ بات کیوں کہی تھی۔‘‘

میں نے پوچھا:

’’اور اگر وہ نہ کہتی؟‘‘

نائلہ نے فوراً جواب نہیں دیا۔

کافی دیر بعد بولیں:

’’تو شاید میں کبھی سوچتی ہی نہیں کہ مجھے کیا نہیں ملا۔‘‘

سلیم نے پہلی مرتبہ اس گفتگو میں اپنی بیوی کو مخاطب کیا۔

’’نائلہ۔‘‘

وہ خاموش ہوئیں۔

’’میں نے تمہیں منہ دکھائی نہیں دی تھی۔‘‘

’’ہاں۔‘‘

’’لیکن میں نے تمہیں کبھی چھوڑا بھی نہیں۔‘‘

دوسری طرف سے سسکی کی آواز آئی۔

سلیم بولتے رہے۔

’’مجھے یاد نہیں تھا کہ شادی کی رات کیا ہوا تھا۔ مجھے صرف یہ یاد ہے کہ اگلے دن تم میرے ساتھ ناشتے پر بیٹھی تھیں اور تمہارے بال کھلے ہوئے تھے۔ تم بہت ڈری ہوئی تھیں۔ میں نے کہا تھا فکر نہ کرو، میں ہوں نا۔‘‘

نائلہ رونے لگیں۔

سلیم کی آواز بھی بھیگ گئی۔

’’شاید وہی میری منہ دکھائی تھی… مگر میں اتنا بے وقوف تھا کہ اسے تحفہ سمجھ ہی نہیں سکا۔‘‘

نائلہ نے پہلی بار ہنسنے کی کوشش کی۔

’’اور میں اتنی بے وقوف تھی کہ بتیس سال بعد ایک خالی ڈبہ دیکھ کر سب کچھ بھول گئی۔‘‘

دونوں طرف خاموشی رہی۔

پھر نائلہ نے پوچھا:

’’سلیم؟‘‘

’’ہاں؟‘‘

’’اس دن غصے میں جو میری چاولوں کی پلیٹ تم پر گری تھی… کپڑے خراب ہوئے تھے؟‘‘

سلیم ہنس پڑے۔

’’کپڑے بھی۔ عزت بھی۔‘‘

نائلہ بھی ہنسنے لگیں۔

کمرے کے باہر کھڑے دونوں بیٹوں نے ایک دوسرے کو دیکھا۔

بڑے نے آہستہ سے کہا:

’’لگتا ہے امی ابو واپس آ گئے ہیں۔‘‘

---

کچھ دن بعد نائلہ نے اپنی سہیلی صائمہ سے ملاقات کی۔

صائمہ نے معمول کے مطابق پوچھا:

’’اب کیسی ہو؟‘‘

نائلہ نے مسکرا کر کہا:

’’بہتر۔‘‘

’’سلیم سے صلح ہو گئی؟‘‘

’’ہاں۔‘‘

صائمہ نے حیرت سے پوچھا:

’’اتنی جلدی؟‘‘

نائلہ نے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔

’’ایک سوال نے ہمارا گھر توڑ دیا تھا۔ ایک جواب نے بچا لیا۔‘‘

صائمہ خاموش ہو گئی۔

نائلہ اٹھنے لگیں تو صائمہ نے ہاتھ پکڑ لیا۔

’’میں نے تو بس بات کی تھی۔‘‘

نائلہ نے نرمی سے اپنا ہاتھ چھڑایا۔

’’ہاں۔ بات ہی تو تھی۔‘‘

وہ دروازے تک گئیں، پھر پلٹ کر بولیں:

’’لیکن کبھی کبھی انسان کے پاس گھر توڑنے کے لیے پتھر نہیں ہوتے… صرف سوال ہوتے ہیں۔‘‘

---

اس رات نائلہ نے اپنی الماری کھولی۔

وہی پرانا ڈبہ نکالا۔

اب بھی خالی تھا۔

اس نے اسے کچھ دیر دیکھا۔

پھر ڈبہ واپس رکھنے کے بجائے سلیم کے سامنے لے آئی۔

’’اس میں کچھ رکھ دیں۔‘‘

سلیم نے حیرت سے پوچھا:

’’کیا؟‘‘

نائلہ نے کہا:

’’جو بتیس سال پہلے نہیں رکھ سکے تھے۔‘‘

سلیم مسکرائے۔

اگلی صبح نائلہ نے ڈبہ کھولا تو اس میں ایک چھوٹی سی پرچی تھی۔

صرف ایک جملہ:

’’مجھے افسوس ہے کہ تمہیں یہ بات بتیس سال بعد سمجھ آئی کہ تم میری زندگی کی سب سے قیمتی چیز تھیں۔‘‘

نائلہ نے پرچی تہہ کی، ڈبے میں رکھی اور الماری بند کر دی۔

اس دن پہلی بار اسے خالی ڈبہ خالی نہیں لگا۔

اسے سمجھ آ گیا تھا کہ بعض چیزیں دیر سے ملتی ہیں، مگر اگر محبت زندہ ہو تو دیر ہمیشہ بہت دیر نہیں ہوتی۔

اور بعض لوگ ہماری زندگی میں زہر لے کر نہیں آتے۔

وہ صرف ایک ایسا سوال لے کر آتے ہیں…

جس کے بعد ہمیں اپنی خوشیوں کی قیمت نظر آنا بند ہو جاتی ہے۔

اس لیے ہر سوال کا جواب دینا ضروری نہیں ہوتا۔

کچھ سوالوں کو وہیں چھوڑ دینا چاہیے جہاں وہ پیدا ہوئے ہوں۔

ورنہ ممکن ہے آپ اپنی پوری زندگی کے سکون کو صرف اس لیے کھو دیں کہ کسی نے آپ سے پوچھ لیا تھا:

’’تمہیں آخر ملا کیا ہے؟‘‘

افسانہ: منہ دکھائی
©️ انتخاب سخن

09/09/2026

💥 میرے بیٹے نے خودکشی کی تو اس کی عمر صرف بیس سال تھی۔ 🥹💔

یہ جملہ میں آج بھی کسی کو بتاتے ہوئے مکمل نہیں کر پاتی۔
زبان یہاں آ کر رک جاتی ہے۔

لوگ سمجھتے ہیں، ماں اپنے بیٹے کی موت کا ذکر کرتے کرتے شاید ایک دن عادی ہو جاتی ہے۔

نہیں۔

ماں اپنے بچے کی موت کی عادی نہیں ہوتی۔
وہ صرف خاموش ہونا سیکھ جاتی ہے۔

میرا بیٹا حارث بہت خوب صورت تھا۔
اتنا کہ جب وہ چھوٹا تھا تو محلے کی عورتیں اسے دیکھ کر کہتیں:

"ماشاءاللہ! بالکل فلمی ہیرو لگتا ہے۔"

وہ ہنستا تو اس کے گالوں میں دو چھوٹے سے گڑھے پڑتے تھے۔

ذہین بھی تھا، شرارتی بھی، اور عجیب طرح سے زندہ دل۔

اور میں؟

میں اس کی ماں کم، اس کی دنیا زیادہ تھی۔

حارث اور اس کے سوتیلے والد مجھے مذاق میں "کوکی ماں" کہتے تھے۔

کیونکہ میری ایک عادت تھی۔

حارث کی زندگی میں کوئی مسئلہ آتا، میں فوراً اسے حل کر دیتی۔

اس کا کوئی دوست نہیں؟

میں اس کے دوستوں کو گھر بلا لیتی۔

گرمیوں کی چھٹیاں ہوتیں تو گھر کے تین کمرے لڑکوں سے بھرے ہوتے۔ کوئی صوفے پر سو رہا ہے، کوئی فرش پر، کوئی فریج کھول کر کھڑا ہے۔

میں خوش ہوتی۔

مجھے لگتا، میرا بیٹا خوش ہے۔

اس کی کسی لڑکی سے بات نہیں بن رہی؟

میں اپنی سہیلیوں کی بیٹیوں کے بارے میں سوچتی۔

"حارث، فلاں کی بیٹی ہے نا، بہت اچھی بچی ہے۔ مل لو۔"

اسے کالج میں کسی مضمون میں مشکل پیش آ رہی ہے؟

میں کالج فون کر دیتی۔

استاد سے بات کرتی۔

کسی طرح اس کے لیے اضافی وقت نکلوا لیتی۔

وہ امتحان میں ناکام ہوتا تو میں کہتی:

"کوئی بات نہیں، اگلی بار کر لینا۔"

اس کا دل ٹوٹتا تو میں اس کے پاس بیٹھ جاتی۔

اس کے غصے کو لفظ دیتی۔

اس کے دکھ کو سمجھنے کی کوشش کرتی۔

اس کی ہر الجھن کا جواب میرے پاس ہوتا۔

یا مجھے ایسا لگتا تھا۔

میں نفسیاتی مشاورت کا کام کرتی تھی۔

لوگ میرے پاس اپنے مسائل لے کر آتے اور میں انہیں سکھاتی کہ اپنے جذبات کو کیسے سمجھنا ہے۔

شاید یہی میری سب سے بڑی غلط فہمی تھی۔

میں سمجھ بیٹھی تھی کہ اپنے بیٹے کے جذبات بھی میں اس کی طرف سے سنبھال سکتی ہوں۔

میں اس کی ماں تھی۔

مجھے کیا خبر تھی کہ ماں ہونا کسی انسان کو زندگی سے بچانے کی گارنٹی نہیں ہوتا۔

میں نے اسے پیسے دیے۔

گاڑی دی۔

گاڑی خراب ہوتی تو ٹھیک کروائی۔

بال کٹوانے ہوتے تو خود لے کر جاتی۔

کپڑے خریدتی۔

اس کے جوتے دیکھ کر کہتی:

"یہ والے اچھے ہیں، لے لو۔"

وہ ذرا سا تھک جاتا تو میں کہتی:

"تم آرام کرو، میں کر لیتی ہوں۔"

اسے کسی سے مسئلہ ہوتا تو میں بیچ میں آ جاتی۔

کسی نے اس کا دل دکھایا تو مجھے لگتا جیسے میرے اپنے دل پر چوٹ لگی ہو۔

میں نے اسے دنیا سے بچا لیا۔

بس ایک چیز نہیں سکھائی۔

دنیا سے لڑنا۔

اور شاید یہی میری سب سے بڑی غلطی تھی۔

حارث کو میں نے گھر پر پڑھایا تھا۔

مجھے ڈر تھا کہ اسکول میں بچے اسے تنگ کریں گے۔

کوئی اس کا مذاق اڑائے گا۔

کوئی اس کے نمبر زیادہ لے جائے گا۔

کوئی اسے رد کر دے گا۔

میں اس کے لیے ایک ایسی دنیا بنانا چاہتی تھی جہاں اسے صرف محبت ملے۔

اور آہستہ آہستہ…

وہ دنیا اس کے لیے بہت چھوٹی ہو گئی۔

اسے ہر چیز آسان ملی تھی۔

اس لیے پہلی مشکل اسے پہاڑ لگتی تھی۔

پہلی ناکامی شکست۔

پہلی بے رخی، نفرت۔

پہلا انکار، اپنی ذات کا انکار۔

اور مجھے اس وقت یہ بات سمجھ نہیں آئی۔

حارث میری واحد اولاد تھا۔

واحد۔

میں نے اسے پیدا کرنے سے پہلے چار بچے کھوئے تھے۔

چار بار امید بندھی۔

چار بار گھر میں خاموشی اتری۔

چار بار میں نے اپنے اندر ایک خالی جگہ بنتے محسوس کی۔

پھر حارث آیا۔

میرا معجزہ۔

میرا بچہ۔

میری پوری دنیا۔

میں شاید اس لیے اسے چھوڑنا ہی نہیں چاہتی تھی کہ زندگی نے مجھے پہلے بہت کچھ چھین لیا تھا۔

مجھے ڈر تھا کہ اگر میں نے ذرا سا ہاتھ ڈھیلا کیا…

تو یہ بھی مجھ سے چھین لیا جائے گا۔

چنانچہ میں نے اسے مضبوطی سے پکڑ لیا۔

اتنا مضبوط…

کہ اسے خود اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا ہی نہ آیا۔

پھر وہ بیس سال کا ہوا۔

اور زندگی نے پہلی مرتبہ اسے وہ دکھایا جو میں برسوں سے اس سے چھپاتی آئی تھی۔

ایک دوست نے اسے چھوڑ دیا۔

کسی نے اسے دھوکا دیا۔

کالج میں اس کے نتائج خراب ہوئے۔

ایک ایسی جگہ جہاں وہ ہمیشہ کامیاب سمجھا جاتا تھا، وہاں اسے پہلی بار ناکامی ملی۔

اور شاید سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ تھی کہ اس بار میں مسئلہ حل نہیں کر سکتی تھی۔

میں نے کوشش کی۔

ہمیشہ کی طرح۔

"حارث، فکر نہ کرو۔"

"میں بات کرتی ہوں۔"

"یہ مسئلہ حل ہو جائے گا۔"

"ہم کسی اور کالج میں دیکھ لیتے ہیں۔"

"گاڑی کی فکر نہ کرو۔"

"پیسے چاہیے ہوں تو بتاؤ۔"

وہ مجھے دیکھتا رہا۔

پھر بہت آہستہ سے بولا:

"امی… ہر چیز حل نہیں ہوتی۔"

میں ہنس دی۔

"ماں ہوں تمہاری۔ میرے ہوتے ہوئے کیوں نہیں ہوگی؟"

وہ کچھ نہیں بولا۔

بس مجھے دیکھتا رہا۔

ایسی نظروں سے جنہیں میں آج بھی یاد کرتی ہوں تو میرا دل بیٹھنے لگتا ہے۔

اس رات وہ میرے کمرے کے دروازے پر آیا۔

"امی؟"

"ہاں؟"

"اگر میں کبھی ناکام ہو جاؤں تو؟"

میں نے فوراً کہا:

"تو میں تمہیں اٹھا لوں گی۔"

وہ چند لمحے خاموش رہا۔

پھر بولا:

"اگر آپ نہ ہوئیں تو؟"

میں نے ہنس کر کہا:

"تو میں کہیں نہیں جا رہی۔"

یہ میری زندگی کا سب سے بے بس جھوٹ تھا۔

میں واقعی کہیں نہیں جانا چاہتی تھی۔

مگر اگلی صبح…

حارث چلا گیا۔

ہمیشہ کے لیے۔

اس کے جانے کے بعد گھر میں اس کی ہر چیز اپنی جگہ موجود رہی۔

اس کے جوتے۔

اس کی گھڑی۔

اس کی کتابیں۔

اس کی الماری میں لٹکے کپڑے۔

باتھ روم میں اس کا تولیہ۔

اور میری الماری میں ایک پرانی قینچی…

جس سے میں اس کے بال کاٹا کرتی تھی۔

میں کئی دن تک اس کے کمرے میں جاتی رہی۔

مجھے لگتا تھا وہ ابھی دروازہ کھول کر کہے گا:

"کوکی ماں، چائے بناؤ۔"

مگر دروازہ نہیں کھلا۔

ایک دن میں نے اس کی میز صاف کرنا شروع کی۔

ایک دراز میں مجھے ایک پرانی کاپی ملی۔

میں نے کھولی۔

پہلے صفحے پر صرف ایک جملہ لکھا تھا۔

"امی مجھے بہت محبت کرتی ہیں۔"

میں رو پڑی۔

پھر نیچے اگلی سطر پڑھی۔

"شاید اسی لیے میں اتنا کمزور ہوں۔"

میرے ہاتھ کانپنے لگے۔

اگلے صفحے پر لکھا تھا:

"مجھے امی سے شکایت نہیں۔
وہ میری ہر تکلیف اپنے اوپر لے لیتی ہیں۔
بس کبھی کبھی میرا دل چاہتا ہے کہ وہ مجھے تکلیف میں دیکھیں… اور کچھ نہ کریں۔"

میں نے کاپی بند کر دی۔

مگر کہانی ختم نہیں ہوئی تھی۔

آخری صفحے پر صرف ایک جملہ تھا۔

"میں چاہتا ہوں ایک دن میں کوئی مسئلہ خود حل کروں، چاہے غلط ہی کیوں نہ ہو۔"

میں فرش پر بیٹھ گئی۔

پہلی بار مجھے سمجھ آیا کہ میں نے اپنے بیٹے کو زندگی کی ہر مشکل سے بچایا تھا۔

مگر اسی کے ساتھ…

میں نے اسے زندگی کے لیے تیار نہیں کیا تھا۔

میں اسے گرنے سے بچاتی رہی۔

اور وہ یہ سیکھ ہی نہ سکا کہ گر کر دوبارہ کیسے اٹھتے ہیں۔

لوگ آج بھی مجھ سے کہتے ہیں:

"آپ نے تو بہت اچھی ماں بننے کی کوشش کی۔"

میں مسکرا دیتی ہوں۔

کیا جواب دوں؟

ہاں۔

میں نے کوشش کی تھی۔

میں اس کی بہترین ماں بننا چاہتی تھی۔

لیکن اب سمجھ آتا ہے…

بچے کو صرف یہ سکھانا کہ دنیا کتنی ظالم ہے، کافی نہیں۔

اسے یہ بھی سکھانا پڑتا ہے کہ دنیا ظالم ہو سکتی ہے، مگر وہ پھر بھی اس دنیا میں کھڑا رہ سکتا ہے۔

اسے ہر بار بچانا محبت نہیں ہوتا۔

کبھی کبھی محبت کا مطلب ہوتا ہے…

اسے گرنے دینا۔

اسے ناکام ہونے دینا۔

اسے اپنا مسئلہ خود حل کرنے دینا۔

اسے کسی کے انکار کے بعد بھی آئینے میں اپنا چہرہ دیکھنے دینا۔

اور سب سے بڑھ کر…

اسے یہ یقین دینا کہ اگر وہ زندگی میں کبھی بری طرح ٹوٹ بھی جائے تو اس کی زندگی کی قیمت کم نہیں ہو جاتی۔

حارث کو یہ یقین میں دے سکتی تھی۔

مگر میں نے اسے صرف یہ یقین دیا کہ میں اسے کبھی ٹوٹنے نہیں دوں گی۔

اور جب زندگی نے اسے توڑ دیا…

تو اسے لگا شاید وہ بچنے کے قابل ہی نہیں رہا۔

آج بھی جب کوئی ماں اپنے بچے کے لیے ہر راستہ صاف کرتی دیکھتی ہوں تو میرا دل چاہتا ہے اسے روک کر کہوں:

"اس کا راستہ ہمیشہ صاف مت کرو۔"

کچھ کانٹے رہنے دو۔

کچھ دروازے بند رہنے دو۔

کچھ لوگ اسے رد کر دیں۔

کچھ امتحانوں میں وہ ہار جائے۔

کچھ راتیں وہ رو کر گزارے۔

کیونکہ ماں کا کام بچے کو ایسی دنیا دینا نہیں جہاں اسے کبھی تکلیف نہ ہو۔

ماں کا کام اسے اتنا مضبوط بنانا ہے کہ تکلیف کے باوجود وہ اگلی صبح اٹھ سکے۔

حارث بیس سال کا تھا۔

اور میں آج بھی اس عمر کی ماں ہوں۔

بس فرق اتنا ہے کہ اب میرے گھر میں ایک بیٹا نہیں…

ایک سبق رہتا ہے۔

اور اس سبق کا نام ہے:

محبت کرو۔

بے حساب کرو۔

مگر اپنے بچے کی جگہ زندگی مت جیو۔

ورنہ ایک دن…

زندگی جب اسے اکیلا چھوڑ دے گی،

تو شاید وہ خود کو بھی اکیلا سمجھ بیٹھے۔

افسانہ: غلط فہمی
©️ انتخاب سخن

08/09/2026

💥 میری بیوی ہر جمعے کہتی تھی، کہیں چلتے ہیں۔ میں کہتا تھا، کام بہت ہے۔"
"وہ انتظار کرتے کرتے ختم ہو گئی۔'"💔🥹

جمعے کی صبح عائشہ نے شوہر کو سوتے دیکھا تو آہستہ سے پردہ کھینچ دیا۔

دسمبر کی دھوپ کمرے کی دہلیز تک آ کر رک گئی تھی۔

وہ کچھ دیر دروازے پر کھڑی رہی، جیسے کوئی ضروری بات یاد کرنے کی کوشش کر رہی ہو۔ پھر واپس پلٹی، دوپٹہ درست کیا اور بولی:

"سلمان…"

سلمان نے کمبل کے اندر سے کروٹ بدل لی۔

"ہوں؟"

"بازار جا رہی ہوں۔ گھر میں کچھ چیزیں ختم ہیں۔"

"ہاں، چلی جاؤ۔"

"شام کو نسرین آ رہی ہے۔"

سلمان نے آنکھیں کھولے بغیر کہا،
"اچھا۔"

"اس کے شوہر بھی ساتھ ہوں گے۔"

اب سلمان نے ایک آنکھ کھولی۔

"تو؟"

عائشہ ایک لمحے کو خاموش رہی۔

"گھر ذرا بکھرا ہوا ہے۔ واپس آ کر اکیلی سب نہیں کر پاؤں گی… تم بس اٹھ کر تھوڑا سا—"

سلمان نے کمبل چہرے تک کھینچ لیا۔

"عائشہ، آج جمعہ ہے۔ پورا ہفتہ کلینک میں کھڑا رہتا ہوں۔ آج تو سونے دو۔"

وہ کچھ کہنا چاہتی تھی۔

پھر شاید اسے یاد آ گیا کہ اس گھر میں بہت سی باتیں کہنے سے پہلے ہی ختم ہو جاتی ہیں۔

"ٹھیک ہے۔"

وہ چلی گئی۔

سلمان پھر سو گیا۔

اسے معلوم نہیں تھا کہ بعض اوقات انسان کی زندگی کا سب سے بڑا نقصان کسی بڑے فیصلے سے نہیں ہوتا۔

صرف ایک چھوٹے سے "نہیں" سے ہو جاتا ہے۔

---

دو گھنٹے بعد دروازے کی گھنٹی بجی۔

سلمان کی آنکھ کھلی۔

گھر میں عجیب سی خاموشی تھی۔

اس نے جلدی سے قمیض پہنی، بال ہاتھ سے درست کیے اور دروازہ کھولا۔

سامنے عائشہ تھی۔

اس کے ساتھ نسرین اور اس کا شوہر کھڑے تھے۔

نسرین کے ہاتھ میں مٹھائی کا ڈبہ تھا۔

"السلام علیکم!"

"وعلیکم السلام۔"

سلمان نے مسکرا کر راستہ دیا۔

عائشہ اندر داخل ہوئی۔

اس کی نظر ڈرائنگ روم پر پڑی۔

صوفے پر بچوں کے کپڑے پڑے تھے۔ چائے کے کپ پڑے تھے۔ کل رات کے کھلونوں کی ایک ٹوکری الٹی ہوئی تھی۔

وہ چند لمحے وہیں کھڑی رہی۔

پھر اس نے سلمان کو دیکھا۔

صرف دیکھا۔

نہ شکایت۔

نہ غصہ۔

نسرین نے شاید کچھ محسوس کر لیا تھا۔

"ارے عائشہ، چھوڑو بھی… ہم تو اپنے ہی گھر کے لوگ ہیں۔"

عائشہ مسکرا دی۔

"ہاں… بس ابھی طبیعت کچھ خراب تھی، اس لیے گھر نہیں سنبھال سکی۔"

سلمان کا دل ایک دم بیٹھ گیا۔

اسے یاد آیا کہ طبیعت اس کی خراب تھی۔

عائشہ کی نہیں۔

عائشہ مڑ کر کچن میں چلی گئی۔

پانی کا نل چلا۔

پھر برتنوں کی آواز آنے لگی۔

سلمان جانتا تھا…

وہ رو رہی تھی۔

لیکن مہمانوں کے سامنے عورتیں اکثر اپنے آنسو بھی برتنوں کے شور میں چھپا لیتی ہیں۔

---

رات کو نسرین کے جانے کے بعد عائشہ نے بچوں کے کپڑے تہہ کیے۔

سلمان دروازے کے پاس کھڑا اسے دیکھتا رہا۔

"عائشہ…"

"ہوں؟"

"ناراض ہو؟"

وہ کپڑا تہہ کرتی رہی۔

"نہیں۔"

"پکا؟"

اس نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا:

"آپ کو میری ناراضی کب سمجھ آئی ہے؟"

سلمان خاموش ہو گیا۔

عائشہ نے کپڑے الماری میں رکھے اور لائٹ بند کر دی۔

"سو جائیں۔ کل آپ نے کلینک جانا ہے۔"

وہ سو گئی۔

یا شاید سونے کی کوشش کرتی رہی۔

سلمان دیر تک چھت کو دیکھتا رہا۔

پھر اسے بچوں کے کمرے میں ایک شاپنگ بیگ نظر آیا۔

اس نے بیگ کھولا۔

اندر ایک گھڑی تھی۔

وہی گھڑی۔

جس کی تصویر اس نے دو ماہ پہلے موبائل پر عائشہ کو دکھائی تھی۔

"دیکھو، کتنی اچھی ہے۔"

عائشہ نے تب کہا تھا:

"پیسے بچ جائیں تو لے لیجیے گا۔"

سلمان نے پوچھا تھا:

"میرے لیے لاؤ گی؟"

عائشہ ہنس دی تھی۔

"آپ کے لیے کون لائے گا؟"

وہ گھڑی اب اس کے ہاتھ میں تھی۔

اس کے نیچے ایک چھوٹا سا کاغذ رکھا تھا۔

صرف چار لفظ تھے:

"آپ کو پسند تھی نا؟"

سلمان کافی دیر تک وہیں بیٹھا رہا۔

پھر پہلی بار اسے محسوس ہوا کہ شاید اس گھر میں وہ واحد شخص نہیں جو تھکتا ہے۔

---

اگلے دن کلینک جاتے ہوئے سلمان نے گاڑی ایک چائے کے کھوکھے کے پاس روک دی۔

سردی تیز تھی۔

ایک بوڑھا شخص کڑاہی میں گرم گرم جلیبی نما میٹھا تل رہا تھا۔

"بھائی، سو روپے کی دے دو۔"

بوڑھے نے ہنستے ہوئے کہا:

"سو روپے میں اب صرف خوشبو ملتی ہے، بیٹا۔"

سلمان بھی ہنس پڑا۔

بوڑھے نے اسے غور سے دیکھا۔

"خیال کہیں اور ہے؟"

سلمان نے چونک کر پوچھا:

"کیوں؟"

بوڑھا گرم میٹھا کاغذ میں ڈالتے ہوئے بولا:

"جو آدمی جلیبی لیتے ہوئے قیمت نہیں پوچھتا، وہ یا تو بہت خوش ہوتا ہے… یا بہت پریشان۔"

سلمان پہلی بار کسی اجنبی کے سامنے بیٹھ گیا۔

پتا نہیں کیوں۔

شاید اس لیے کہ اجنبی کے سامنے آدمی اپنی کمزوریاں آسانی سے مان لیتا ہے۔

باتوں باتوں میں سلمان نے اسے عائشہ کا ذکر کیا۔

بوڑھا خاموش ہو گیا۔

پھر اس نے کڑاہی کا چمچ ایک طرف رکھا۔

"بیوی تھی میری بھی۔"

سلمان نے اسے دیکھا۔

"اب؟"

بوڑھے نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا:

"اب صرف یاد ہے۔"

کچھ دیر بعد بولا:

"میری بیوی ہر جمعے کہتی تھی، کہیں چلتے ہیں۔ میں کہتا تھا، کام بہت ہے۔"

وہ ہنسا۔

"پھر ایک دن اس نے کہا، 'کام ختم ہو جائے تو بتا دینا۔'"

سلمان خاموش رہا۔

"میں نے سمجھا مذاق کر رہی ہے۔"

بوڑھے نے کاغذ کا ایک ٹکڑا سیدھا کیا۔

"کام ختم ہو گیا… مگر وہ انتظار کرتے کرتے ختم ہو گئی۔"

سلمان کے ہاتھ رک گئے۔

"بیماری تھی؟"

"ہاں۔"

"آپ کو معلوم نہیں تھا؟"

"معلوم تھا۔"

بوڑھے نے نظریں اٹھائیں۔

"بس یقین نہیں تھا کہ وقت اتنا کم رہ گیا ہے۔"

وہ جملہ سلمان کے اندر کہیں اتر گیا۔

---

اس دن کلینک میں مریض بہت تھے۔

مگر سلمان ہر مریض کے چہرے کے پیچھے ایک ہی چہرہ دیکھ رہا تھا۔

عائشہ کا۔

شام کو وہ گھر آیا تو ہاتھ میں ایک چھوٹا سا ڈبہ تھا۔

عائشہ نے دروازہ کھولا۔

"یہ کیا ہے؟"

"مشبک۔"

"کیوں؟"

"بس۔"

"اتنے مہنگے کیوں لے آئے؟"

سلمان نے جوتے اتارتے ہوئے کہا:

"آج تمہارے ساتھ چائے پینی ہے۔"

عائشہ نے اسے ایسے دیکھا جیسے اسے یقین ہی نہ آیا ہو۔

"آپ کو بخار تو نہیں؟"

سلمان ہنس پڑا۔

کافی دن بعد دونوں ایک ساتھ ہنسے تھے۔

---

اس کے بعد سلمان نے کوئی بڑا انقلاب نہیں کیا۔

بس چھوٹی چھوٹی چیزیں بدلنے لگا۔

صبح کلینک پہنچ کر ایک پیغام:

"ناشتہ کیا؟"

دوپہر میں فون:

"آج گھر میں کیا بن رہا ہے؟"

جمعے کو:

"آج کہاں چلنا ہے؟"

عائشہ پہلے پہل حیران ہوتی رہی۔

پھر عادی ہو گئی۔

اور سلمان کو آہستہ آہستہ سمجھ آنے لگا کہ محبت ہمیشہ بڑے تحفوں کی محتاج نہیں ہوتی۔

کبھی وہ صرف اتنی ہوتی ہے کہ آدمی اپنا موبائل میز پر رکھ کر دوسرے شخص کی بات سن لے۔

---

ایک جمعے کو دونوں بازار گئے۔

عائشہ نے بچوں کے کپڑے لیے۔

گھر کے لیے پردے۔

سلمان کے لیے ایک سویٹر۔

پھر عائشہ نے دکاندار سے کہا:

"بس، اب کچھ نہیں لینا۔"

سلمان نے پرس دیکھا۔

تنخواہ کا تقریباً سارا حصہ خرچ ہو چکا تھا۔

پرس میں صرف دس روپے بچے تھے۔

واپسی پر عائشہ نے خاموشی سے پوچھا:

"سارے پیسے خرچ ہو گئے؟"

"ہاں۔"

"اب؟"

"اب کیا؟"

"مہینے کے آخر تک؟"

سلمان نے دس روپے کا نوٹ نکالا۔

اسے دیکھا۔

پھر سامنے ایک چھوٹی سی مٹھائی کی دکان نظر آئی۔

"چلو۔"

"کہاں؟"

"مشبک لینے۔"

عائشہ نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔

"صرف دس روپے ہیں۔"

سلمان نے اس کی انگلیاں اپنی انگلیوں میں لے لیں۔

"تو دس روپے کی ہی لے لیتے ہیں۔"

"اور گھر کیسے جائیں گے؟"

سلمان مسکرایا۔

"پیدل۔"

"اتنا دور؟"

"آج پہلی بار وقت ہے۔"

عائشہ اسے دیکھتی رہی۔

سلمان نے دکان سے دس روپے کی مشبک لی۔

دونوں سڑک پر چل پڑے۔

سردی تھی۔

دھوپ ڈھل رہی تھی۔

عائشہ نے آہستہ سے کہا:

"سلمان…"

"ہوں؟"

"وہ گھڑی یاد ہے؟"

سلمان مسکرایا۔

"ہاں۔"

"اس دن آپ نے پہلی بار مجھے دیکھا تھا۔"

سلمان نے اس کی طرف دیکھا۔

"نہیں عائشہ۔"

وہ رک گئی۔

سلمان نے اس کا ہاتھ مضبوطی سے تھام لیا۔

"اس دن پہلی بار مجھے سمجھ آیا تھا کہ میں تمہیں دیکھتا ہی کب ہوں۔"

عائشہ کچھ نہ بولی۔

بس مشبک کا ڈبہ دونوں کے درمیان تھا۔

اور دس روپے کا وہ آخری نوٹ…

جس کی قیمت اس دن ختم ہو گئی تھی۔

مگر ان دونوں کے درمیان ایک پورا گھر بچ گیا تھا۔

کچھ رشتے ٹوٹتے نہیں، بس توجہ مانگتے مانگتے خاموش ہو جاتے ہیں۔
اور کبھی کبھی دس روپے کی مٹھائی، پوری زندگی کی سب سے مہنگی نصیحت بن جاتی ہے۔

افسانہ: دس روپے
©️ انتخاب سخن

Address

Office # 2/22, Silk Centre Rehmanabad
Rawalpindi
46000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ~Intikhaab-E-Sukhan~ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share