21/12/2025
زیر نظر تصویر امرتسر میں موجود جلیاں والا باغ کی ہے جہاں 1919 میں جنرل ڈائر کے حکم پر نہتے ہندوستانیوں پر اندھا دھند فائرنگ کی گئی اور نتیجہ میں انگریز سرکار کے مطابق 381 ہلاکتیں ہوئی اور 1100
زخمی ہوئے ، مگر آزاد زرائع کہتے ہیں کہ 12 سو سے زیادہ لوگ قتل ہوئے اور تین ہزار سے زیادہ شدید زخمی ہوئے جبکہ معذور ہونے والے تین سو سے زیادہ تھے، میں تصویر میں جس مقام پر کھڑا ہوں اس داخلی راستے سے جنرل ڈائر 80 گورکھا فوجیوں کے ساتھ داخل ہوا تھا ، اور پچاس فوجیوں نے جنرل ڈائر کے حکم پر گولی چلائی تھی اور اس خوفناک فائرنگ کا دورانیہ دس منٹ سے پندرہ منٹ کے بیچ کا تھا ، دوستوں اُس روز سے ایک دن پہلے پنجاب کے شورش زدہ علاقوں بشمول امرتسر میں کرفیو لگا دیا گیا تھا ، اُس دور میں سوشل میڈیا تو تھا نہیں اس لئے صبح ہوئی تو ستر فی صد پنجابیوں کو علم نہ تھا کہ رولٹ ایکٹ نافذ ہوچکا ہے ، 21 مارچ تھی بیساکھی کا میلہ تھا ، جلیانوالہ باغ میں ہندو مسلم اور سکھ جمع ہوئے ، یہ ایک خفیہ مٹنگ تھی جس کا مقصد انگریز سرکار کے جبر اور قبضہ کے خلاف اگلا لائحۂ عمل بنانا تھا ، عزت نفس کے مارے ہندوستانی اس باغ میں جمع ہوئے تھے، کہ اس کی خبر کسی طرح جنرل ڈائر کو ہوگئی اور اُس نے وہ ظلم ڈھایا کہ آج تک انگریز شرمسار ہے ، فائر کے حکم پر گھورکھا فوجیوں سے گولیاں چلوائی گئیں ، باغ میں موجود کنویں میں سے بعد میں 130 کے قریب لاشیں نکالی گئیں یہ وہ ہندوستانی تھے جن کا خیال تھا کہ شاید ہم کنویں میں چھلانگ لگا کر جان بچا سکیں گے مگر افسوس ایسا کہ ہوا ، دوستوں گورکھا فوجی کا مطلب ہے نیپال کا باشندہ جو گورکھ پور کے علاقے کا رہنے والا ہو ، اب سمجھ نہیں آئی کہ اس قہر کو ڈھانے کے لئے گورکھا فوج کیوں استمال کی گئی ؟
ڈائر نے نہ جلسہ ختم کرنے کو کہا اور نہ مُنتشر ہونے کا حکم دیا ، بس گولی چلوا دی تھری ناٹ تھری این فیلڈ بولٹ ایکشن رائفلز بارود اگل رہی تھیں اور بے گناہ ہندوستانی جان بچانے کے لئے ادھر اُدھر بھاگ رہے تھے، باغ کے پانچ دروازوں میں سے چار کو لاک کر دیا گیا تھا تاکہ جانی نقصان زیادہ ہو ، اس سانحہ کے بعد جنرل ڈائر نے بیان دیا کہ اس کا مقصد ہجوم کو مُنتشر کرنا نہیں بلکہ ہندوستانیوں کو سزا دینا تھا ، آج بھی جب آپ اس مقام پر جائیں تو تخیل کے کانوں سے اُن بے گنا نہتے پنجابیوں کی چیخ و پکار سنائی دیتی ہے ، میں دوہزار تین میں رفیع پیر تھیٹر کے ساتھ ڈرامہ “ پاٹے خان “ پرفارم کرنے امرتسر گیا تھا ، یہ تصویر اسی وقت کی ہے ،
از قلم افتخار افی