21/12/2022
چین کا دنیا کے ساتھ تجارتی اور معاشی تعلق بہت پرانا ہے۔ آج سے ہزاروں سال قبل چین اور وسطی ایشیا کی ریاستوں کے مابین تجارت کے لئے سلک روڈ کا استعمال کیا جاتا تھا۔ پھر یہی رستہ آگے چل کر بحیرہ روم سے ہوتے ہوئے یورپ کے ساحلوں تک جا پہنچا، ادھر چین سے افغانستان، ایران اور برصغیر تک بھی اس شاہراہ کی رسائی پھیل گئی۔ اس طرح چین کے ساتھ ان تمام ممالک اور خطوں کی تجارت پروان چڑھنا شروع ہوئی۔ چین کا ریشم دوسرے ممالک تک پہنچا اور دوسرے خطوں کی مصنوعات چین میں آئیں۔ ثقافتوں کا تبادلہ ہوا اور لوگ ایک دوسرے کے قریب آئے۔
2013 میں چین نے اسی تاریخی سلک روڈ کو دوبارہ زندہ کرنے کے لئے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کا تصور پیش کیا۔ اس منصوبے کے تحت ایشیا ، یورپ ، افریقہ ، اور جنوبی امریکہ کے بیشتر ممالک کو روڈ، ریلوے اور سمندری راستوں کے ذریعے ایک دوسرے سے جوڑا جا رہا ہے، تاکہ تجارت کو فروغ دیا جا سکے، ممالک کے مابین روابط آسان ہو سکیں، یہ خطے چینی مصنوعات سے فائدہ اٹھا سکیں اور ساتھ ہی ساتھ ان ممالک کی تجارتی مصنوعات با آسانی بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی حاصل کر سکیں۔
بی آر آئی کے اس عظیم منصوبے کے تحت چین کے ساتھ وسط ایشیا، اور یورپ کی رسائی ممکن بنائی گئی ہے۔ مشرق میں انڈو پیسیفک روٹ کے ممالک سے ہوتے ہوتے ہوئے جنوبی ایشیا کے ممالک اور پھر مشرق وسطی اور افریقہ ، اور یہاں سے آگے جنوبی امریکہ کے دور دراز کے ممالک۔ دنیا کے مختلف براعظموں میں موجود یہ تمام ممالک دنیا کی کل آبادی کا ساٹھ فیصد سے زیادہ بنتے ہیں ۔ چین نے ان ممالک کے ساتھ مل کر ساری دنیا کے لئے ایک ہم نصیب معاشرے کا خواب دیکھا ہے۔ جس کے تحت تمام ممالک کو ترقی حاصل کر نے کے مواقع میسر آئیں اور ان میں بھی خوشحالی آ سکے۔چین نے پائیدار اقتصادی ترقی اور انسانی تہذیب میں ترقی کے لیے دنیا بھر کے لوگوں کو جوڑنے کے لیے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کا یہ تاریخی اقدام اٹھایا ہے تاکہ عالمی اقتصادی ترقی، علاقائی اور اقتصادی انضمام کو فروغ دیا جا سکے۔
چین ان ممالک کی ترقی کے لئے ان کے مختلف منصوبوں میں سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو سرمایہ کاری کی مثالوں میں بندرگاہیں، انفراسٹرکچر، ریلوے، سڑکیں، پل، سرنگیں ،ہوائی اڈے، ڈیمز، توانائی کے منصوبے، اور دیگر شامل ہیں۔ دنیا بھر میں بیشتر تجارتی سامان سمندری راستے سے ہی جاتا ہے مگر اس سامان کو پہنچنے میں مہینوں لگ جاتے ہیں ۔ مثال کے طور پر اگر چین سے سامان سمندری راستے سے یورپ بھیجا جائے تو وہ ساوتھ چائنہ سمندر سے ہوتے ہوئے انڈوپیسیفک روٹ اور انڈین اوشین سے گزرتا ہوا بحر احمر میں جائے گا، وہاں سے نہر سویز کے راستے بحر روم اور پھر یورپ پہنچے گا اور اس سارے عمل میں مہینوں لگ جائیں گے۔ مگر چین سے یورپ تک ریلوے کی تعمیر نے اس کام کو نہایت آسان بنا دیا ہے۔ مغربی چین سے وسط ایشیا کے ممالک اور یورپ تک فریٹ ٹرین سروس بھرپور انداز میں کام کر رہی ہے۔ یوریشیا میں، دسمبر 2022 تک، چین اور یورپ کے درمیان روزمرہ کا تجارتی سامان لے جانے والی ٹرینوں کی تعداد پندرہ سو سے زیادہ ہو چکی ہے ۔ بی آر آئی کے تحت چین-یورپ ریل فریٹ لنک کے اب تک 82 مختلف روٹس کامیابی سے چل رہے ہیں اور یہ یورپ کے 24 ممالک کے 196 شہروں کو لنک کر رہے ہیں۔
جنوب مشرقی ایشیا میں، چین-لاؤس ریلوے ، چین اور لاؤس کے شہروں کو جوڑتا ہے۔ لاوس جو پہلے ایک غربت زدہ ملک تھا اب اس رابطے کی وجہ سے اس کی تجارت میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ اسی طرح انڈونیشیا میں چین کی مدد سے جگارتا-بانڈونگ ہائی سپیڈ ریلوے کی تکمیل ہو چکی ہے جس سے آمدورفت اور تجارت میں بہتری کے وسیع امکانات ہیں ۔ افریقہ جو کہ بہت عرصے سے ایک پسماندہ براعظم رہا ہے، بی آر آئی کے مختلف منصوبوں کی بدولت یہاں بھی خوشحالی آ رہی ہے۔
اسی طرح کی بیسیوں مثالیں ہیں کہ جن میں چین مختلف ممالک اور خطوں تک رسائی کو آسان بنا رہا ہے، اور ترقیاتی منصوبوں کی بدولت ان خطوں کی معیشت مضبوط ہو رہی ہے۔ یہی چین کے ہم نصیب معاشرے کے خواب کی تعبیر ہے۔worldfact is all about fact