28/07/2026
اربوں ڈالر کا قرضہ لینا ترقی نہیں کہلاتا بلکہ اسے "ادھار" کی رقم پر زندہ رہنا کہتے ہیں۔ عطاء تارڑ نے کہا۔ "پاکستان کی ترقی دشمن کو ہضم نہیں ہوتی"۔۔۔ شہباز شریف کہتے ہیں کہ پاکستان کو ترقی سے کوئی روک نہیں سکتا۔۔۔۔۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کہتے ہیں کہ مخالفانہ پروپیگنڈہ پاکستان کی ترقی کو پٹڑی سے نہیں اتار سکتا اور احسان اقبال کہتے ہیں کہ عمـــران خان نے ملک کو دیوالیہ کیا کیونکہ 2022 میں عمــران خان ڈیزل اور پیٹرول کو بہت کم ریٹ پر فروخت کرتے ہیں۔
اگر ہم نے بھی عمران خان کی طرح کیا تو ملک دیوالیہ ہو جائے گا، مریم نواز کشمیریوں کو کہہ رہی ہیں کہ مجھے باقی صـوبوں والے پنجاب گورنمنٹ سے مانگ رہی ہے کہ ہمیں مریم نواز دے دیں ملک کا یہ حال ہے جب کہ دوسری طرف پاکستان نے سعـــــودی عــــرب سے موخـر ادائیـگی پر 6.7 بلـین ڈالر مالیت کے تیل کی درخواست کی، امریکہ سے دس بلین ڈالر قرضے کی درخواســــت کی اور چین سے کہا کہ وہ اپنے قرضے موخر کرے۔میں پٹواریوں سے صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں، کہ معاشی ترقی اس کو کہتے ہیں ؟ ن لیگ سیاسی نعرے آپ لوگوں کو متاثر کر سکتے ہیں لیکن ہمیں نہیں کیونکہ ہم سب کچھ جانتے ہیں۔۔۔۔ اس وقت انہیں 220 روپے فی لیٹر پٹرول ملتا ہے اور وہ اسے 335 روپے فی لیٹر فروخـت کرتے ہیں۔ یہ باقی رقم ان قرضے میں چلے جاتے ہیں جو ہم نے کبھی لیے ہی نہیں، آپ یقین نہیں کریں گے لیکن یہ سچ ہے کہ ن لیگ حکومت نے صرف 4 سالوں میں 48 کھرب روپے کا قرضہ لیا ہے اگر آپ انکو ترقی کہتے ہیں تو ہم افسوس ہی کرسکتے ہیں۔۔ مہنگائی تو پھر بھی ہم کسی نہ کسی طرح برداشت کرلیں گے۔۔ لیکن ملک میں آمن بھی نہیں ہے جو ہم سب کا آئینی حق ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!
منقول
کاپی