Knowledge of World

Knowledge of World 🌍Knowledge of World📚|Unlocking global wisdom and insights.Dive into the wealth of knowledge with us

شجرہِ نسب کو کیسے تلاش کر سکتے ہیں ؟ محکمہ مال کے ریکارڈ میں موجود قیمتی راز .......اگر کسی کو اپنا شجرہ نسب معلوم نہیں ...
06/09/2025

شجرہِ نسب کو کیسے تلاش کر سکتے ہیں ؟
محکمہ مال کے ریکارڈ میں موجود قیمتی راز .......

اگر کسی کو اپنا شجرہ نسب معلوم نہیں ہے تو آپ اپنے آباؤ اجداد کی زمین کا خسرہ نمبر لے کر (اگر خسرہ نمبر نہیں معلوم تو موضع اور یونین کونسل کا بتا کر بھی ریکارڈ حاصل کر سکتا ہے ) اپنے ضلع کے محکمہ مال آفس میں جائیں یہ آفس اکثر ضلعی کچہریوں میں ہوتا ہے اور جہاں قدیم ریکارڈ ہوتا ہے اس کو محافظ خانہ کہا جاتا ہے ۔ محافظ خانہ سے اپنا 1872ء / 1880ء یا 1905ء کا ریکارڈ (بندوبست) نکلوائیں ۔1872ء / 1880ء یا 1905ء میں انگریز نے جب مردم شماری کی تو انگریزوں کو کسی قوم سے کوئی غرض نہ تھی ہر ایک گائوں میں جرگہ بیٹھتا جس میں پٹواری گرداور چوکیدار نمبردار ذیلدار اس جرگہ میں پورے گائوں کو بلاتا تھا۔ ہر ایک خاندان کا اندراج جب بندوبست میں کیا جاتا تو اس سے اس کی قوم پوچھی جاتی اور وہ جب اپنی قوم بتاتا تو پھر اونچی آواز میں گاؤں والوں سے تصدیق کی جاتی اسکے بعد اسکی قوم درج ہوتی۔ یاد رہے اس وقت کوئی شخص اپنی قوم تبدیل نہیں کرسکتا تھا بلکہ جو قوم ہوتی وہی لکھواتا تھا۔ بے شمار اقوام ان بندوبست میں درج ہیں ..... اپنے ضلع کے محکمہ مال میں جاکر اس بات کی تصدیق بھی کریں اور اپنا شجرہ نسب وصول بھی کریں ۔وہی آپکے پاس آپکی قوم کا ثبوت ہے خواہ آپ کسی بھی قوم میں سے ہوں اگر آپ کے بزرگوں کے پاس زمین تھی تو ان کا شجرہ نسب ضرور درج ہو گا ۔
ہندوستان میں سرکاری سطح پر زمین کے انتظام و انصرام کی تاریخ صدیوں پرانی ہے ، جو شیر شاہ سوری سے لے کر اکبر اعظم اور انگریز سرکار سے لے کر آج کے دور تک پھیلی ہوئی ہے۔ پنجاب میں انگریز حکمرانوں نے محکمہ مال کا موجودہ نظام 1848ء میں متعارف کرایا ۔
محکمہ مال کے ریکارڈ کی ابتدائی تیاری کے وقت ہر گائوں کو ’’ریونیو اسٹیٹ‘‘ قرار دے کر اس کی تفصیل، اس گائوں کے نام کی وجہ ، اس کے پہلے آباد کرنے والے لوگوں کے نام، قومیت ،عادات و خصائل،ان کے حقوق ملکیت حاصل کرنے کی تفصیل ، رسم و رواج ، مشترکہ مفادات کے حل کی شرائط اور حکومت کے ساتھ گائوں کے معاملات طے کرنے جیسے قانون کا تذکرہ، زمینداروں ، زراعت پیشہ ، غیر زراعت پیشہ دست کاروں ، پیش اماموں تک کے حقوق و فرائض ،انہیں فصلوں کی کاشت کے وقت شرح ادائیگی اجناس اور پھر نمبردار، چوکیدار کے فرائض وذمہ داریاں ، حتیٰ کہ گائوں کے جملہ معاملات کے لئے دیہی دستور کے طور پر دستاویز شرط واجب العرض تحریر ہوئیں جو آج بھی ریونیو ریکارڈ میں محفوظ ہیں۔
جب محکمہ کا آغاز ہوا تو سب سے پہلے زمین کی پیمائش کی گئی۔ سابق پنجاب کے ضلع گڑگانواں ،کرنال وغیرہ سے بدون مشینری و جدید آلات پیمائش زمین شروع کر کے ضلع اٹک دریائے سندھ تک اس احتیاط اور عرق ریزی سے کی گئی کہ درمیان میں تمام ندی نالے ،دریا، رستے ، جنگل ، پہاڑ ، کھائیاں ، مزروعہ ، بنجر، آبادیاں وغیرہ ماپ کر پیمائش کا اندراج ہوا۔ ہر گائوں کی حدود کے اندر زمین کے جس قدر ٹکڑے ، جس شکل میں موقع پر موجود تھے ان کو نمبر خسرہ ،کیلہ الاٹ کئے گئے اور پھر ہر نمبر کے گرد جملہ اطراف میں پیمائش ’’کرم‘‘ (ساڑھے5فٹ فی کرم) کے حساب سے درج ہوئی۔ اس پیمائش کو ریکارڈ بنانے کے لئے ہر گائوں کی ایک اہم دستاویز’’ فیلڈ بک‘‘ تیار ہوئی۔ جب ’’ریونیو اسٹیٹ‘‘ (حد موضع) قائم ہو گئی تو اس میں نمبر خسرہ ترتیب وار درج کر کے ہر نمبر خسرہ کی پیمائش چہار اطراف جو کرم کے حساب سے برآمد ہوئی تھی، درج کر کے اس کا رقبہ مساحت کے فارمولا اور اصولوں کے تحت وضع کر کے اندراج ہوئے۔ اس کتاب میں ملکیتی نمبر خسرہ کے علاوہ گائوں میں موجود شاملات، سڑکیں ، راستے عام ، قبرستان ، بن ، روہڑ وغیرہ جملہ اراضی کو بھی نمبر خسرہ الاٹ کر کے ان کی پیمائش تحریر کر کے الگ الگ رقبہ برآمدہ کا اندراج کیا گیا۔ اکثر خسرہ جات کے وتر، عمود کے اندراج برائے صحت رقبہ بھی درج ہوئے پھر اسی حساب سے یہ رقبہ بصورت مرلہ ، کنال ،ایکڑ، مربع ، کیلہ درج ہوا اور گائوں ، تحصیل ، ضلع اور صوبہ جات کا کل رقبہ اخذ ہوا۔ اس دستاویز کی تیاری کے بعد اس کی سو فیصد صحت پڑتال کا کام تحصیلدار اور افسران بالا کی جانب سے ہوا تھا۔ اس کا نقشہ مساوی ہائے کی صورت آج بھی متعلقہ تحصیل آفس اور ضلعی محافظ خانہ میں موجود ہے، جس کی مدد سے پٹواری کپڑے پر نقشہ تیار کر کے اپنے دفتر میں رکھتا ہے۔ جب نیا بندوبست اراضی ہوتا ہے تو نئی فیلڈ بک تیار ہوتی ہے۔
اس پیمائش کے بعد ہر ’’ریونیو اسٹیٹ‘‘ کے مالکان قرار پانے والوں کے نام درج ہوئے۔ ان لوگوں کا شجرہ نسب تیار کیا گیا اور جس حد تک پشت مالکان کے نام صحیح معلوم ہو سکے ، ان سے اس وقت کے مالکان کا نسب ملا کر اس دستاویز کو مثالی بنایا گیا ، جو آج بھی اتنی موثر ہے کہ کوٸی بھی اپنا شجرہ یا قوم تبدیل کرنے کی کوشش کرے مگر کاغذات مال کا ریکارڈ کسی مصلحت سے کام نہیں لیتا۔ تحصیل یا ضلعی محافظ خانہ تک رسائی کی دیر ہے ،یہ ریکارڈ پردادا کے بھی پردادا کی قوم ، کسب اور سماجی حیثیت نکال کر سامنے رکھ دے گا۔ بہرحال یہ موضوع سخن نہیں ۔ جوں جوں مورث فوت ہوتے گئے، ان کے وارثوں کے نام شجرے کا حصہ بنتے گئے۔ یہ دستاویز جملہ معاملات میں آج بھی اتھارٹی کی حیثیت رکھتی ہے اور وراثتی مقدمات میں بطور ثبوت پیش ہوتی ہے ۔ نیز اس کے ذریعے مالکان اپنی کئی پشتوں کے ناموں سے آگاہ ہوتے ہیں ۔
شجرہ نسب تیار ہونے کے بعد مالکان کا ریکارڈ ملکیت جسے جمع بندی کہتے ہیں اور اب اس کا نام رجسٹر حقداران زمین تبدیل ہوا ہے، وجود میں آیا ۔ خانہ ملکیت میں مالکان اور خانہ کاشت میں کاشتکاروں کے نام ،نمبر کھیوٹ، کھتونی ، خسرہ ،کیلہ، مربعہ اور ہر ایک کا حصہ تعدادی اندراج ہوا۔ ہر چار سال بعد اس دوران منظور ہونے والے انتقالات بیعہ ، رہن ، ہبہ، تبادلہ ، وراثت وغیرہ کا عمل کر کے اور گزشتہ چار سال کی تبدیلیاں از قسم حقوق ملکیت، کاشت کار کی تبدیلی ، رجسٹر گرداوری کی تبدیلی یا زمین کی قسم کی تبدیلی وغیرہ کا اندراج کر کے نیا رجسٹر حقداران تیار ہوتا ہے اور اس کی ایک نقل ضلعی محافظ خانہ میں داخل ہوتی ہے ۔ اس دستاویز کے نئے اندراج کے لئے انتہائی منظم اور اعلیٰ طریقہ کار موجود ہے ۔ اس کی تیاری میں جہاں حلقہ پٹواری کی ذمہ داری مسلمہ ہے ،وہاں گرداور اور حلقہ آفیسر ریونیو سو فیصد پڑتال کر کے نقائص برآمدہ کی صحت کے ذمہ دار ہوتے ہیں ۔ ضابطے کے مطابق افسران مذکور کا متعلقہ گائوں میں جا کر مالکان کی موجودگی میں اس کے اندراج کا پڑھ کر سنانا اور اغلاط کی فہرست جاری کرنا ضروری ہے، جن کی درستی کا پٹواری ذمہ دار ہوتا ہے۔ آخر میں تحصیلدار سرٹیفکیٹ جاری کرتا ہے کہ اب یہ غلطیوں سے مبرا ہے۔
رجسٹر حقداران زمین کے ساتھ رجسٹر گرداوری بھی تیار ہوتا ہے، جس میں چار سال کے لئے آٹھ فصلات کا اندراج کیا جاتا ہے۔ مارچ میں فصل ربیع اور اکتوبر میں فصل خریف مطابق ہر نمبر خسرہ، کیلہ موقع پر جا کر پٹواری مالکان و کاشتکاران کی موجودگی میں فصل کاشتہ و نام مالک ،حصہ بقدر اراضی اور نام کاشتکار کا اندراج کرتا ہے۔ ہر فصل کے اختتام پر ایک گوشوارہ فصلات برآمدہ تیار کر کے اس کتاب کے آخر میں درج کیا جاتا ہے کہ کون سی فصل کتنے ایکڑ سے کتنی برآمد ہوئی۔ اس کی نقل تحصیل کے علاوہ بورڈ آف ریونیو کو بھجوائی جاتی ہے ، جس سے صوبہ اور ملک کی آئندہ برآمدہ اجناس کا تخمینہ لگایا جاتا ہے۔ اس رجسٹر میں نہری اور بارانی علاقوں کی موقع کی مناسبت سے اقسام زمین نہری، ہیل، میرا، رکڑ ، بارانی اول ، بنجر ، کھندر وغیرہ کے علاوہ روہڑ ، بن ، سڑکیں، رستہ جات ، قبرستان ، عمارات اور مساجد وغیرہ بھی تحریر کی جاتی ہیں۔ یہ رجسٹر ریونیو کی اہم دستاویز ہے اور مطابق قانون اس کی جانچ پڑتال گرداور سے لے کر ڈپٹی کمشنر تک موقع پر کر کے نتائج تحریر کرنے کے ذمہ دار ہوتے ہیں ۔ رجسٹر انتقالات میں جائیداد منتقلہ کا اندراج کیا جاتا ہے۔ اس میں نام مالک ، جس کے نام جائیداد منتقل ہوئی، گواہان ، نمبر کھیوٹ ، کھتونی ، خسرہ ،کیلہ، مربعہ حصہ منتقلہ ، زر ثمن ، پٹواری مفصل تحریر کرتا ہے ،گرداور جملہ کوائف تصدیق کرتا ہے اور ریونیو آفیسر (تحصیلدار) بوقت دورہ پتی داران، نمبرداران کی موجودگی میں تصدیق کر کے فیصلہ کرتا ہے ۔ پرت پٹوار پر حکم لکھتا ہے اور پرت سرکار برائے داخلہ تحصیل دفتر ہمراہ لے جاتا ہے ۔ کاغذات مال متذکرہ کے علاوہ بھی کئی دستاویزات ہوتی ہیں، جن سے جملہ ریکارڈ آپس میں مطابقت کرتاہے اور غلطی کا شائبہ نہیں رہتا۔ جو کاغذات ہر وقت استعمال میں رہتے ہیں ان کا مختصر تذکرہ کیا گیا ہے ،ورنہ پٹواری کے پاس ایک’’لال کتاب‘‘بھی ہوتی ہے،جس میں گائوں کے جملہ کوائف درج ہوتےہیں جیسے اس گائوں کاکل رقبہ،مزروعہ کاشتہ،غیر مزروعہ بنجر، فصلات کاشتہ،مردم شماری کا اندراج ، مال شماری جس میں مویشی ہر قسم اور تعدادی نر، مادہ ، مرغیاں ، گدھے ، گھوڑے ، بیل،گائے،بچھڑے غرض کیا کچھ نہیں ہوتا۔ جس طرح یہ محکمہ بنا اور اس کے قواعدوضوابط بنائے گئے اور متعلقہ اہلکاران و افسران کی ذمہ داریاں مقرر ہوئی تھیں، اگر ان پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے تو اس سے بہتر نظام زمین کوئی نہیں۔ یہ نظام انگریز کے دور میں بہترین اور 1964-65ء تک نسبتاً بہتر چلتا رہا...

زمین ریکارڑ سے بہترین شجرہ نسب کا کوئی اور طریقہ نہیں ہو سکتا۔

1.
2.
3.
4.
5.
6.
7.
8.
9.
10.

Technology is important but nature is also.💜 Morning Feels Incomplete Without Sparrow Voice 💔
22/10/2024

Technology is important but nature is also.💜 Morning Feels Incomplete Without Sparrow Voice 💔

بی بی سی کا مکھی کے دماغ پر آرٹیکل۔ سوئی کی نوک سے بھی چھوٹا مکھی کا دماغ جہاں سے ملنے والے رازوں نے سائنسدانوں کو حیرت ...
11/10/2024

بی بی سی کا مکھی کے دماغ پر آرٹیکل۔

سوئی کی نوک سے بھی چھوٹا مکھی کا دماغ جہاں سے ملنے والے رازوں نے سائنسدانوں کو حیرت میں مبتلا کیا.
وہ پیروں کے بل چل سکتی ہیں، اُڑ سکتی ہیں، اور نر مکھی تو مادہ مکھی کا دل جیتنے کے لیے پیار بھرے گیت بھی گا سکتی ہے۔ اور یہ سب کچھ ایک ایسے دماغ کی مدد سے ممکن ہوتا ہے جو سوئی کی نوک سے بھی چھوٹا ہوتا ہے۔

پہلی بار سائنسدانوں نے تحقیق کے دوران مکھی کے سوئی کی نوک سے بھی چھوٹے دماغ میں موجود ایک لاکھ 30 ہزار خلیوں کی شکل، مقام اور حتیٰ کہ مکھی کے دماغ میں موجود پانچ کروڑ سے زیادہ ’کنکشنز‘ یعنی رابطوں کی غیر معمولی نشان دہی کی ہے۔

یہ کسی بھی بالغ کیڑے (حشرات) کے دماغ کا کیا گیا اب تک کا سب سے تفصیلی سائنسی جائزہ ہے جسے ماہرین نے انسانی دماغ کو سمجھنے کے عمل میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا ہے۔ مکھی کے دماغ پر تحقیق کرنے والی ٹیم کے سربراہ کا دعویٰ ہے کہ اس سائنسی جائزے سے ’سوچنے کے عمل سے متعلق مزید تفصیلات معلوم ہوں گی۔‘

کیمبرج کی لیبارٹری آف مالیکیولر بائیولوجی کی میڈیکل ریسرچ کونسل سے منسلک ڈاکٹر گریگوری جفریز نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ’فی الحال ہم اس بات سے لاعلم ہیں کہ ہم سب کے دماغ میں موجود خلیوں کا نیٹ ورک ایک دوسرے سے رابطہ کرنے میں کیسے مدد فراہم کرتا ہے۔‘

’اس نظام میں سگنل کیسے چلتے ہیں جن سے ہم کسی کا چہرہ پہچان سکتے ہیں، کسی کی آواز سُن سکتے ہیں۔۔۔ مکھی کے دماغ کا نقشہ حیران کن ہے جو دراصل انسانی دماغ کو بھی سمجھنے میں مدد فراہم کرے گا۔‘

انسانی دماغ میں موجود خلیوں کو ’نیوران‘ کہا جاتا ہے۔ یاد رہے کہ انسانی دماغ میں ’نیورون‘ کی تعداد مکھی کے دماغ میں موجود خلیوں سے کہیں زیادہ ہے۔

تو اہم سوال یہ ہے کہ پھر ایک مکھی کا دماغ سائنسدانوں کو انسانی سوچ کے عمل کو سمجھنے میں کیسے مدد کرے گا؟
اس تحقیق میں جو تصاویر حاصل کی گئی ہیں انھیں سائنسی جریدے ’جرنل نیچر‘ میں شائع کیا گیا ہے اور ان تصاویر میں تاروں کا ایک ایسا گچھا دکھائی دیتا ہے جو خوبصورت تو ہے لیکن کافی پیچیدہ بھی ہے۔

لیکن ایک اتنا چھوٹا سا عضو اتنے طاقتور کمپیوٹیشنل کام کیسے سرانجام دیتا ہے؟ اس سوال کا جواب مکھی کے دماغ کی ساخت اور شکل میں پوشیدہ ہے۔ تاہم ان تمام کاموں کی صلاحیت رکھنے والا اتنا چھوٹا کمپیوٹر تیار کرنا جدید سائنس کے بس کی بات نہیں ہے۔

پرنسٹن یونیورسٹی کی ڈاکٹر مالا مرتی اس تحقیق میں شامل تھیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ ’کنکٹوم کے سائنسی نام والی وائرنگ کی تصویر نیوروسائنسدانوں کے لیے نہایت اہم ہو گی۔‘

’جو محققین یہ سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ایک صحتمند دماغ کیسے کام کرتا ہے، ان کو اس سے مدد ملے گی۔ ہم امید کرتے ہیں کہ مستقبل میں یہ ممکن ہو سکے گا کہ ہم موازنہ کر سکیں کہ ہمارے دماغ میں جب کچھ خراب ہو جاتا ہے تو کیا ہوتا ہے۔‘
ڈاکٹر مالا مرتی سے ڈاکٹر لوشیا پریٹو اتفاق کرتے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ ’محققین اس سے پہلے دو سادہ سے کیڑوں کے دماغ کے کنکشن کو مکمل کر چکے ہیں جن میں سے ایک کے دماغ میں 300 جبکہ دوسرے کے دماغ میں 3000 تاریں دیکھی گئیں۔ لیکن ایک لاکھ 30 ہزار تاروں کے کنکٹوم کی مکمل تصویر ایک حیران کُن تکنیکی کامیابی ہے جو اب زیادہ بڑے حجم کے حیوانات جیسے چوہوں کے دماغ کے ایسے کنکشن کو تلاش کرنے کا راستہ کھول دے گی اور شاید کئی دہائیوں میں انسانی دماغ کے بھی۔‘
محققین بہت سے انفرادی کام کرنے والے الگ الگ سرکٹ کی شناخت کرنے میں کامیاب ہوئے اور یہ دکھانے میں بھی کہ یہ آپس میں کیسے جڑے ہوئے ہیں۔ مثال کے طور پر حرکت کی ذمہ دار تاریں دماغ کے نچلے حصے میں موجود ہیں جبکہ بینائی سے متعلقہ تاریں دماغ کے دائیں اور بائیں جانب پائی گئیں جس میں زیادہ بڑی تعداد میں نیورون ملوث تھے، کیوں کہ بینائی کے لیے زیادہ کمپیوٹیشنل طاقت درکار ہوتی ہے۔

اگرچہ سائنسدان یہ بات تو پہلے سے جانتے تھے کہ سرکٹ الگ الگ ہوتے ہیں تاہم وہ اس بات سے لاعلم تھے کہ ان کا آپس میں رابطہ کیسے ہوتا ہے۔

مکھی مارنا اتنا مشکل کیوں ہوتا ہے؟
چند محققین ان تصاویر کی مدد سے یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ مکھی مارنا اتنا مشکل کیوں ہوتا ہے؟ یہ معلوم ہوا کہ اگر اخبار یا کسی اور چیز کی مدد سے مکھی کو مارنے کی کوشش کی جائے تو مکھی کے دماغ میں موجود بینائی کے کنکشن فورا اس حرکت سے متعلق سگنل مکھی کے پیروں تک بھیجتے ہیں اور وہ اُڑ جاتی ہے۔

لیکن زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اس ممکنہ جان لیوا حملے سے پیشتر ایک زیادہ طاقتور سگنل مکھی کی ان ٹانگوں کو جاتا ہے جن کا رُخ اخبار یا ہتھیار کی دوسری سمت میں ہوتا ہے اور یہ سگنل چھلانگ لگانے کا ہوتا ہے۔ تو کہا جا سکتا ہے کہ مکھی کو چھلانگ لگانے کے لیے سوچنے کی بھی ضرورت نہیں پڑتی یعنی سوچ کی رفتار سے بھی تیز۔

یہ تصویر ایک مکھی کے دماغ کو کھول کر بنائی گئی ہے اور اس عمل کے دوران دماغ کے تقریبا 70 ہزار ٹکڑے کیے گئے اور ہر ٹکڑے کی الگ الگ تصویر بنائی گئی جنھیں بعد میں ڈیجیٹل طریقے سے جوڑا گیا۔
پرنسٹن کی ٹیم نے بعد میں مصنوعی ذہانت کا استعمال کیا اور تمام اشکال اور نیورونز کے کنکشن کو جانچا۔ لیکن مصنوعی ذہانت کے باوجود محققین کو 30 لاکھ غلطیوں کا سامنا ہوا جنھیں بعدازاں ہاتھ سے درست کیا گیا۔ لیکن ابھی بھی کام ادھورا تھا۔

ڈاکٹر فلپ شلیگل کہتے ہیں کہ ’مکھی کے دماغ کا نقشہ بے معنی تھا جب تک ہر تار کا مقصد واضح نہ ہوتا۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ ڈیٹا گوگل میپ کی طرح کا تھا لیکن دماغ کے معاملے میں نیورون کے بیچ رابطے تلاش کرنا ایسا ہی ہے کہ ہم یہ جانیں کہ کس گلی یا عمارت کے قریب کیا ہے۔‘

’نیورون کی وضاحت ایسے ہی ہے جیسے آپ نقشے میں گلی یا قصبے کا نام لکھیں، دکان کھلنے کا وقت، فون نمبر، تجزیے جیسی تفصیلات درج کریں۔ آپ کو یہ سب درکار ہوتا ہے تاکہ مکمل طور پر فائدہ ہو سکے۔‘
فلائی کنکٹوم تک کوئی بھی سائنسدان رسائی حاصل کر سکتا ہے جو اسے تحقیق میں استعمال کرنا چاہتا ہو۔

ڈاکٹر شلیگل کا ماننا ہے کہ ’نیورو سائنس کی دنیا اس نقشے کی مدد سے اگلے چند برسوں میں نئی نئی دریافتیں سامنے آئیں گی۔‘

انسانی دماغ مکھی کے دماغ سے بہت زیادہ بڑا ہوتا ہے اور اب تک اس کی وائرنگ کے بارے میں تمام معلومات حاصل کرنے کی ٹیکنالوجی سائنسدانوں کے پاس موجود نہیں ہے۔

لیکن محققین کا ماننا ہے کہ تیس سال میں شاید انسانی کنکٹوم یا نقشہ بنانا ممکن ہو جائے۔ اس تحقیق میں بین الاقوامی سطح پر سائنسدانوں کے اشتراک سے کام ہوا جس کا نام ’فلائی ورم کنسورشیئم‘ ہے۔
بشکریہ بی بی سی۔
https://www.bbc.com/urdu/articles/c77xd7re6yro

یہ کوئی خیالی دنیا کی بات نہیں، یہ حقیقت ہے۔ ان عجیب و غریب پہاڑی چٹانوں کی تصویر ESA کے Rosetta اسپیس کرافٹ نے دسمبر 20...
10/10/2024

یہ کوئی خیالی دنیا کی بات نہیں، یہ حقیقت ہے۔ ان عجیب و غریب پہاڑی چٹانوں کی تصویر ESA کے Rosetta اسپیس کرافٹ نے دسمبر 2014 میں صرف 20.1 کلومیٹر کے فاصلے سے بنائی تھی۔ یہ چٹانیں زمین کی نہیں، بلکہ خلا میں دور کہیں واقع 67P/Churyumov-Gerasimenko نامی دمدار ستارے کی ہیں۔

خلا کی وسعتوں میں Rosetta نے ایک خواب کو حقیقت بنایا، جب اس کے لینڈر Philae نے 12 نومبر 2014 کو پہلی بار کسی دمدار ستارے کی سطح کو چھوا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب انسانیت نے خلا کی نامعلوم سرحدوں کو ایک قدم اور آگے بڑھایا۔ لیکن کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔

تقریباً دو سال بعد، 30 ستمبر 2016 کو، Rosetta نے اپنی آخری قربانی دی اور خود کو اسی دمدار ستارے کی Ma'at نامی جگہ پر اتار لیا۔ یہ مشن نہ صرف علم کی ایک نئی دنیا کی کھوج تھا، بلکہ یہ ہماری لگن، ہمت اور ناممکن کو ممکن بنانے کی جستجو کا نشان بھی ہے۔

جب بھی تمہیں ناممکن لگنے لگے، یاد رکھو کہ ہم انسانوں نے دمدار ستارے کی چٹانوں کو چھو لیا ہے۔ 💫

DUBAI AIRPORT IS SWITCHING TO SOLAR ENERGYDubai Airports has partnered with Etihad Clean Energy Development Company to l...
09/10/2024

DUBAI AIRPORT IS SWITCHING TO SOLAR ENERGY

Dubai Airports has partnered with Etihad Clean Energy Development Company to launch the world’s largest rooftop solar panel project at an airport.

The project, to be completed by 2026, will install 62,904 solar panels at Dubai International (DXB) and Dubai World Central (DWC), generating 60,346 MWh annually.

This 39MWp project will reduce carbon emissions by 23,000 tonnes yearly—equivalent to taking 5,000 cars off the road or powering 3,000 homes.

Solar energy will supply 6.5% of DXB's and 20% of DWC's power needs, supporting cleaner and more sustainable airport operations.

’نامعلوم زلزلہ‘: زمین میں لگاتار نو دن تک تھرتھراہٹ کا معمہ کیسے حل ہواگرین لینڈ کے ایک دوردراز علاقے میں زمین سرکنے کے ...
08/10/2024

’نامعلوم زلزلہ‘: زمین میں لگاتار نو دن تک تھرتھراہٹ کا معمہ کیسے حل ہوا
گرین لینڈ کے ایک دوردراز علاقے میں زمین سرکنے کے ایک بڑے واقعے نے ایک ایسی سمندری لہر کو متحرک کیا جس نے نو دن تک ’زمین کو ہلا کر رکھ دیا‘۔

گذشتہ ستمبر دنیا بھر میں زلزلہ پیما مراکز نے ایسے سگنل ریکارڈ کیے تھے جس نے سائنسدانوں کو یہ کھوج لگانے پر مجبور کیا کہ یہ زلزلے آخر کیوں اور کہاں سے آئے؟

زمین سرکنے کے اس واقعے میں پہاڑ کا ایک پورا حصہ سمندر میں گرا جس نے 200 میٹر کی لہر پیدا کی۔

پھر وہ لہر ایک تنگ فیورڈ (پانی کا ایک لمبا، گہرا، تنگ علاقہ جو زمین کے اندر تک پہنچتا ہے) میں ’پھنس گئی‘ اور نو دن تک اپنی حرکت کی وجہ سے تھرتھراہٹ پیدا کرتی رہی۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس طرح زمین کھسکنے یا تودے گرنے کے واقعات موسمیاتی تبدیلی کے نیتجے میں گرین لینڈ کے پہاڑوں کو سہارا دینے والے گلیشیئرز کے پگھلنے کے ساتھ زیادہ کثرت سے پیش آ رہے ہیں۔

اس واقعے کی تحقیقات کے نتائج، جو سائنس نامی جریدے میں شائع ہوئے ہیں، سائنسدانوں کی ایک بین الاقوامی ٹیم اور ڈنمارک کی بحریہ پر مشتمل ایک تحقیقاتی مشن نے اخذ کیے ہیں۔

اس تحقیق میں شامل سائنسدان اور یونیورسٹی کالج لندن کے محقق ڈاکٹر سٹیفن ہکس کا کہنا ہے ’جب ہمارے ساتھیوں نے پچھلے سال پہلی بار اس سگنل کو دیکھا، تو یہ زلزلے جیسا کچھ نہیں لگتا تھا۔

’ہم نے اسے ’نامعلوم زلزلہ نما چیز‘ کہا تھا جو نو دن تک ہر ڈیڑھ منٹ بعد ظاہر ہوتی تھی۔‘

متجسس سائنسدانوں کے ایک گروپ نے آن لائن چیٹ پلیٹ فارم پر اس حیران کن سگنل پر بحث شروع کی۔

ڈاکٹر ہکس کے مطابق یہی وہ وقت تھا جب ’ڈنمارک کے سائنسدانوں کو، جو گرین لینڈ میں بہت زیادہ کام کرتے ہیں، سونامی کی اطلاعات موصول ہوئیں جو کہ ایک دور دراز کے علاقے میں آیا۔ سو پھر ہم نے ساتھ کام شروع کر دیا۔‘

محققین نے زلزلے کا ڈیٹا استعمال کرتے ہوئے پتا لگایا کہ اس سگنل کا ماخذ مشرقی گرین لینڈ میں ڈکسن فیورڈ کا علاقہ ہے۔ اس کے بعد انہوں نے دوسرے سراغ اکٹھے کیے، جن میں سیٹلائٹ اور فیورڈ کی تصاویر شامل تھیں جو سگنل ظاہر ہونے سے عین قبل ڈنمارک کی بحریہ نے لی تھیں۔

سیٹلائٹ کی تصویر میں فیورڈ میں ایک تنگ علاقے میں دھول کا بادل دیکھا گیا۔ اس واقعے سے پہلے اور بعد کی تصاویر کا موازنہ کرنے سے یہ بات سامنے آئی کہ یہ دھول ایک پہاڑ کے گرنے اور اپنے ساتھ گلیشیئر کے کچھ حصے کو پانی میں بہا لے جانے کی وجہ سے پیدا ہوئی۔

محققین نے بالآخر یہ پتا لگایا کہ 25 ملین کیوبک میٹرچٹان- جس کا حجم ایمپائر سٹیٹ بلڈنگ جیسی 25 عمارتوں کے برابر تھا- پانی میں گری، جس سے 200 میٹر اونچی ’میگا سونامی‘ پیدا ہوئی۔

اس واقعے کے بعد لی گئی تصویروں میں، گلیشیر پر پانی کے نشان دیکھے جا سکتے ہیں جو اس دیوہیکل لہر کی اونچائی کی تصدیق کرتا ہے۔

سائسندانوں کے مطابق خوش قسمتی سے جب چٹان گرنے کا واقعہ پیش آیا تو علاقے میں کوئی کشتی موجود نہیں تھی
’سونامی کی لہر پھنس کر رہ گئی‘
سونامی، عام طور پر زیر زمین یا زیرِ آب زلزلوں کی وجہ سے، کھلے سمندر میں چند گھنٹوں کے اندر پھیل جاتی ہے۔ لیکن یہ لہراس مقام پر پھنس کر رہ گئی۔

ڈاکٹر ہکس کا کہنا ہے کہ ’یہ لینڈ سلائیڈ کھلے سمندر سے تقریباً 200 کلومیٹر ساحل کی طرف والے علاقے میں ہوئی اور چونکہ یہ فیورڈ سسٹم واقعی پیچیدہ ہیں، لہٰذا لہر اپنی توانائی کو ختم نہیں کر سکی۔‘

ٹیم نے ایک ایسا ماڈل بنایا جس میں یہ دکھایا گیا کہ کیسے، سونامی کی لہر منتشر ہونے کی بجائے، نو دن تک آگے پیچھے حرکت کرتی رہی۔

ڈاکٹر ہکس کا کہنا ہے ’ہم نے اتنے طویل عرصے تک پانی کی اتنی بڑی نقل و حرکت کبھی نہیں دیکھی۔‘

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ لینڈ سلائیڈنگ گرین لینڈ میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کی وجہ سے ہوئی جس سے پہاڑ کی بنیاد میں موجود گلیشیئر پگھل گئے۔

ڈاکٹر ہکس نے کہا کہ ’وہ گلیشیئر اس پہاڑ کو سہارا دے رہا تھا، مگر یہ اتنا پتلا ہو گیا کہ وہ پہاڑ کو سنبھال ہی نہیں سکا۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اب ان علاقوں کو کس طرح متاثر کر رہی ہے۔‘

سیٹلائٹ سے لی گئی تصاویر میں فیورڈ میں ایک تنگ علاقے میں دھول کا بادل دیکھا گیا
نیشنل جیولوجیکل سروے فار ڈنمارک اینڈ گرین لینڈ (جی ای یو ایس) کے سرکردہ محقق ڈاکٹر کرسٹیان سوینویگ نے کہا کہ اگرچہ یہ واقعہ ایک دور دراز علاقے میں پیش آیا لیکن کچھ بحری جہاز ان فیورڈز کا سفر کرتے ہیں۔ خوش قسمتی سے جب یہ سونامی آئی تو کوئی بھی جہاز اس علاقے میں نہیں تھا جہاں یہ لینڈ سلائیڈنگ ہوئی تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ ’یہ آرکٹک میں تیزی سے عام ہونے والا رجحان ہے۔ ہم خاص طور پر گرین لینڈ میں زمین کھسکنے کے واقعات کی وجہ سے بڑی سونامیوں میں اضافہ دیکھ رہے ہیں۔

’اگرچہ صرف ڈکسن فیورڈ کا واقعہ اس رجحان کی تصدیق نہیں کرتا لیکن یہ ایک بے مثال واقعہ ہے اور مزید تحقیق کرنے کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔‘

ڈاکٹر ہکس کا کہنا ہے کہ ’ڈکسن فیورڈ میں جو ہوا اس کے نتیجے میں شاید پہلی بار موسمیاتی تبدیلی کے کسی واقعے نے پوری دنیا میں زمین کی تہہ کو متاثر کیا ہے۔‘

سونامی کیا چیز ہے؟
سونامی کا لفظ جاپانی زبان کا لفظ ہے جو سمندر کی سطح کے نیچے آنے والے زلزلوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی لہروں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

اس قسم کی لہریں مختلف رفتار سے سفر کرتی ہیں لیکن ان کی رفتار شروع میں بہت زیادہ ہوتی ہے جو بعد میں آہستہ آہستہ کم ہوتی جاتی ہے۔ یہ لہریں جب ساحل سے ٹکراتی ہیں تو ان لہروں کی شدت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے

دنیا کی سب سے بڑی ریلوے ۔ٹرانس سائیبیرین1968 میں ہالی ووڈ کی ایک فلم جس میں سین کونری نے ہیرو کا رول ادا کیا تھا From Ru...
07/10/2024

دنیا کی سب سے بڑی ریلوے ۔ٹرانس سائیبیرین
1968 میں ہالی ووڈ کی ایک فلم جس میں سین کونری نے ہیرو کا رول ادا کیا تھا From Russia With Love دیکھی تھی جو ساری اسی ریل ٹرانس سائیبیرین میں چلتی ہے۔ سین کونری پچھلے دنوں فوت ہوا۔
جس طرح دریائے وولگا کو روس کے دست و بازو کا درجہ حاصل ہے۔ اِسی طرح ٹرانس سائبیرین ریلوے کوروس کی ریڑھ کی ہڈی تصور کیا جاتا ہے۔ اسی ریلوے کو روس کی فولادی سٹرک کا نام بھی دیا گیا ہے۔ اِس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ ٹرانس سائبیرین ریلوے دُنیا کے تقریباً ایک تہائی گلوب کو ڈھانپے ہوئے ہے۔ مشرق سے لے کر مغرب میں آخری سٹیشن تک اس میں دس ٹائم زون آتے ہیں۔ ریلوے کا طویل نظام روس کے انتہائی مشرقی شہر ولاڈی واسٹک سے شروع ہو کر چین اور منگولیا کی سرحدوں کو چھوتا ہوا صحرائے گوبی سے گزرتا،دُنیا کی سب سے بڑی اور گہری جھیل بیکال کے پاس سے سائبیریا کی سفید برفانی زمین سے گزرکر اور کئی بڑے دریائوں کو عبور کرتے ہوئے یورپی شہر ماسکو کے بعد سینٹ پیٹرز برگ کے مقام پر اختتام پذیر ہوتا ہے۔ چھ دن کے تھکادینے والے سفر کے دوران آپ کو دُنیا کے کئی طرح کے باسیوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ جن کا کلچر، خورد نوش، لباس اور رنگ و نسل ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ مختلف قد کاٹھ اور مختلف قسم کی زبانیں بولنے والے لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ ٹرانس سائبیرین ٹرین کے سفر میں مشرقی یورپ کو خیر باد کہتے کوہ یورال سے بھی گزرنا پڑتا ہے جو کہ براعظم یورپ اور براعظم ایشیا کی حدّ فاصل ہے۔ یہ ریلوے ٹریک دُنیا کا طویل ترین ٹریک ہے جس کی لمبائی 5600 میل یعنی 9288 کلو میٹر ہے۔ اس ریلوے ٹریک کا 19% حصہ یورپ اور 81% حصہ ایشیا سے گزرتا ہے۔ روس کے زارالیگز نڈر دوم نے روس کے دفاعی نقطہ نظر سے اور دُور افتادہ بحرالکاہل تک کے علاقے کو صحیح کنٹرول کرنے کے لیے اس عظیم اور تاریخی منصوبے کی منظوری دی۔ پھر زارالیگزنڈر دوم کے بیٹے زارالیگزنڈر سوم نکولس نے اس عظیم منصوبے کی تعمیر کی خصوصی نگرانی کی۔ ٹرانس سائبیرین ریلوے کے منصوبے کا آغاز 19 مئی 1891 ء کو ہوا اور 15 اکتوبر 1916 ء کو یہ عظیم منصوبہ پایہء تکمیل کو پہنچا۔ اس منصوبے پر 1.455 بلین روبل لاگت آئی۔ اس ریلوے ٹریک کے اوپر بجلی کا سسٹم لگانے کا کام 1929 ء میں شروع ہو کر مختلف مراحل میں 2002 ء میں مکمل ہوا۔ اس ٹرین میں دوران سفر مقامی اخباروں کے علاوہ ٹرین کے اندر بھی اخبار چھاپنے کا نظام موجود ہے۔ ٹرانس سائبیرین ریلوے کے متعلق چند دلچسپ حقائق ریل کی پٹڑی کی کل لمبائی… 9288.2 کلو میٹر سب سے بڑا دریائی پل……2612 میٹر لمبا جو دریائے آمور پر 1999 ء میں مکمل ہوا۔ سب سے لمبی سرنگ……دو کلو میٹر ٹائم زون……10 (ولاڈی واسٹک سے سینٹ پیٹرز برگ تک) راستے میں آنے والے شہروں کی تعداد…87 راستے میں آنے والے دریا، تعداد…16 مشہور دریا…… اوبی نیسے، اوکا، آمور، شہروں کا کم سے کم اور زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 28 - تا+34 سنٹی گریڈ۔
゚ ゚

یہ دنیا کے آخر میں وہ والٹ ہے جہاں کرہ ارض پر موجود تمام بیج رکھے گئے ہیں۔  یہ قطب شمالی سے تقریباً 1,300 کلومیٹر کے فاص...
07/10/2024

یہ دنیا کے آخر میں وہ والٹ ہے جہاں کرہ ارض پر موجود تمام بیج رکھے گئے ہیں۔ یہ قطب شمالی سے تقریباً 1,300 کلومیٹر کے فاصلے پر ناروے کے سوالبارڈ جزیرہ نما میں واقع ہے۔ 2008 میں کھولا گیا، یہ زیر زمین گودام دنیا بھر سے فصلوں کے 4.5 ملین بیجوں کو محفوظ کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، جو قدرتی آفات، تنازعات اور موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے جینیاتی حیاتیاتی تنوع کے نقصان کے خلاف انشورنس کے طور پر کام کرتا ہے۔ لہذا، اگر دنیا کبھی تباہ ہو جائے اور آپ واحد زندہ بچ جائیں، تو آپ جانتے ہیں کہ کہاں جانا ہے۔

02/04/2024

تاریخ کا ان پڑھ جج جسٹس بابا کھڑک سنگھ ۔
بابا کھڑک سنگھ پٹیالہ کے مہاراجہ کے ماموں تھے۔ ایک لمبی چوڑی جاگیر کے مالک تھے۔
جاگیرداری کی یکسانیت سے اکتا کر ایک دن بھانجے سے کہا، " تیرے شہر میں سیشن جج کی کرسی خالی ہے۔
( اس دور میں سیشن جج کی کرسی کا آرڈر انگریز وائسرائے جاری کرتے تھے )
تُو لاٹ صاحب کے نام چھٹی لکھ دے اور مَیں سیشن ججی کا پروانہ لے آتا ہوں"

مہاراجہ سے چھٹی لکھوا کے مہر لگوا کر ماموں لاٹ صاحب کے سامنے حاضر ہوگئے۔
وائسرائے نے پوچھا: نام
بولے "کھڑک سنگھ"
تعلیم ؟
بولے : کیوں سرکار ؟
مَیں کوئی اسکول میں بچے پڑھانے کا آرڈر لے آیا ہوں؟
وائسرائے ہنستے ہوئے بولے:
سردار جی! قانون کی تعلیم کا پوچھا ہے، آخر آپ نے اچھے بروں کے درمیان تمیز کرنی ہے، اچھوں کو چھوڑنا ہے، بُروں کو سزا دینی ہے۔
کھڑک سنگھ مونچھوں کو تاؤ دے کر بولے، سرکار اتنی سی بات کے لئے گدھا وزن کی کتابوں کی کیا ضرورت ہے؟ یہ کام میں برسوں سے پنچائت میں کرتا آیا ہوں اور ایک نظر میں اچھے بُرے کی تمیز کر لیتا ہوں۔
وائسرائے نے یہ سوچ کر کہ اب کون مہاراجہ اور مہاراجہ کے ماموں سے الجھے، جس نے سفارش کی ہے وہی اسے بھگتے۔ درخواست لی اور حکم نامہ جاری کر دیا۔ اب کھڑک سنگھ جسٹس کھڑک سنگھ بن کر پٹیالہ تشریف لے آئے۔
خدا کی قدرت پہلا مقدمہ ہی جسٹس کھڑک سنگھ کی عدالت میں قتل کا آگیا۔
ایک طرف چار قاتل کٹہرے میں کھڑے تھے، دوسری طرف ایک روتی دھوتی عورت سر کا ڈوپٹہ گلے میں لٹکائے کھڑی آنسوں پونچھ رہی ہے۔
جسٹس کھڑک سنگھ نے کرسی پر بیٹھنے سے پہلے دونوں طرف کھڑے لوگوں کو اچھی طرح دیکھ لیا۔
اتنے میں پولیس آفیسر آگے بڑھا، جسٹس کھڑک سنگھ کے سامنے کچھ کاغذات رکھے اور کہنے لگا،
مائی لارڈ ! یہ عورت کرانتی کور ہے اور اس کا کہنا ہے کہ ان چاروں نے مل کر اس کی آنکھوں کے سامنے اس کے خاوند کا خون کیا ہے۔
کیوں مائی؟ جسٹس کھڑک سنگھ نے پولیس آفیسر کی بات پوری بھی نہیں سنی اور عورت سے پوچھنے لگے کیسے مارا تھا ؟
عورت بولی، سرکار جو دائیں طرف کھڑا ہے اس کے ہاتھ میں برچھا تھا، درمیان والا کئی لے کر آیا تھا اور باقی دونوں کے ہاتھوں میں لاٹھیاں تھیں۔ یہ چاروں کماد کے اولے سے اچانک نکلے اور مارا ماری شروع کر دی اور ان ظالموں نے میرے سر کے تاج کو جان سے مار دیا۔
جسٹس کھڑک سنگھ نے مونچھوں کو تاؤ دے کر غصے سے چاروں ملزموں کو دیکھا اور کہا کیوں بھئی تم نے بندہ مار دیا؟
نہ جی نہ میرے ہاتھ میں بیلچہ تھا کئی نہیں،
ایک ملزم نے کہا۔
دوسرا ملزم بولا: جناب میرے پاس برچھا نہیں تھا، ایک سوٹی کے آگے درانتی بندھی تھی، بیری کے درخت سے ٹہنیاں کاٹنے والی۔
جسٹس کھڑک سنگھ بولے چلو، جو کچھ بھی تمہارے ہاتھ میں تھا وہ تو مر گیا نا !
پر جناب ہمارا مقصد تو نہ اسے مارنا تھا، نہ زخمی کرنا تھا، تیسرا ملزم بولا۔
جسٹس کھڑک سنگھ نے کاغذوں کا پلندہ اپنے آگے کیا اور فیصلہ لکھنے ہی لگے تھے کہ ایک دم سے عدالت کی کرسی سے کالے کوٹ والا آدمی اٹھ کر تیزی سے سامنے آیا اور بولا، مائی لارڈ آپ پوری تفصیل تو سنیں۔ میرے یہ مؤکل تو صرف اسے سمجھانے کے لئے اس کی زمین پہ گئے تھے۔
ویسے وہ زمین بھی ابھی مرنے والے کے نام منتقل بھی نہیں ہوئی اس کے مرے باپ سے، ان کے ہاتھوں میں تو صرف ڈنڈے تھے، ڈنڈے بھی کہاں، وہ تو کماد کے فصل سے توڑے ہوے گنے تھے۔
۔۔۔۔ ایک منٹ ۔۔۔۔
جسٹس کھڑک سنگھ نے کالے کوٹ والے کو روکا اور پولیس آفیسر کو بلا کر پوچھا یہ کالے کوٹ والا کون ہے ؟
سرکار یہ وکیل ہے، ملزمان کا وکیل صفائی، پولیس آفیسر نے بتایا۔
یعنی یہ بھی انہی کا بندہ ہوا نا جو انکی طرف سے بات کرتا ہے، کھڑک سنگھ نے وکیل کو حکم دیا کہ ادھر کھڑے ہو جاؤ قاتلوں کے ساتھ۔
اتنی بات کی اور کاغذوں کے پلندے پر ایک سطری فیصلہ لکھ کر دستخط کر دیے۔
جسٹس کھڑک سنگھ نے فیصلہ لکھا تھا کہ چار قاتل اور پانچواں ان کا وکیل، پانچوں کو پھانسی پر لٹکا دیا جائے۔
پٹیالہ میں تھرتھلی مچ گئی، اوے بچو، کھڑک سنگھ آگیا ہے جو قاتل کے ساتھ وکیل کو بھی پھانسی دیتا ہے۔
کہتے ہیں کہ جب تک کھڑک سنگھ سیشن جج رہے، پٹیالہ ریاست میں قتل کی بہت کم واردتیں ہوئیں ۔

Address

Sahiwal
57000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Knowledge of World posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share