Sahiwal24

Sahiwal24 Everything About Sahiwal

مرد ڈرائیور حضرات توجہ فرمائیں !سڑک پر آج کل بہار آئی ہوئی ہے۔ نوجوان لڑکیاں اور خواتین رنگ برنگی سکوٹیاں لے کر نکل پڑی ...
04/11/2025

مرد ڈرائیور حضرات توجہ فرمائیں !

سڑک پر آج کل بہار آئی ہوئی ہے۔
نوجوان لڑکیاں اور خواتین رنگ برنگی سکوٹیاں لے کر نکل پڑی ہیں۔
کوئی گھومنے نکلی ہے تو کوئی اپنی یونیورسٹی ، کالج ۔
کوئی کسی کو ڈراپ کرنے جا رہی ہے تو کوئی اپنی اماں کو ہسپتال لے کر جا رہی ہے۔

ایسے میں سڑک پر ان کو دیکھ کر آپے سے باہر نہ ہوجائیں۔ ان کو رستہ دیں۔ ان کو تیز اوورٹیک سے ڈرنے نہ دیں۔ ان کے ساتھ ریس نہ لگائیں اور ان کو گزر جانے دیں۔

یہ پرندے ہیں اور نئی نئی اُڑان بھر رہے ہیں۔ ان کو جی بھر کر اُڑنے دیں۔ انہوں نے بہت قید کاٹ لی۔ اب ان کے اُڑنے کا وقت ہے ، پر پھیلا کر ، گہری فضاؤں میں پرواز کرنے کا وقت ہے ۔۔۔

ڈاکٹر کاشف حسین

16/10/2025
10/10/2025

ساہيوال سميت صوبہ بھر میں فوری طور پر 10 روز کیلئے دفعہ 144 نافذ کردی

جب ہم چھوٹے تھے تو ہمیں یہ اصول معلوم نہیں تھا کہ الف پر ختم ہونے والے مذکر کو مؤنث بنانے کے لیے اس کی آخری ”الف“ کو چھو...
10/10/2025

جب ہم چھوٹے تھے تو ہمیں یہ اصول معلوم نہیں تھا کہ الف پر ختم ہونے والے مذکر کو مؤنث بنانے کے لیے اس کی آخری ”الف“ کو چھوٹی ”ی“ میں بدل دیتے ہیں۔
لیکن اس کے باوجود ہم مرغا–مرغی، بکرا–بکری، گدھا–گدھی یا گھوڑا–گھوڑی کے معاملے میں کبھی غلطی نہیں کرتے تھے۔

البتہ جب بات چڑا–چڑی اور کتا–کُتی تک پہنچتی تو استاد کا غضبناک چہرہ دیکھنا پڑتا۔

تذکیر و تانیث کے وہ معصوم سے اصول، جو ہم نے لاشعوری طور پر اپنا رکھے تھے، دھواں بن کر اُڑ جاتے۔

کوئی ہمیں یہ منطقی جواب نہیں دیتا تھا کہ چڑی کو چڑیا اور کُتی کو کُتیا کہنا کیوں ضروری ہے۔

ذرا بڑے ہوئے تو معلوم ہوا کہ تذکیر و تانیث کی دنیا تو ایک پوری اندھیر نگری ہے۔

جہاں نر اور مادہ کے اصولوں کی کھُلی خلاف ورزیاں ہوتی ہیں۔

مثلاً کوّا، اُلو، ہُدہُد، خرگوش، لنگور، گِدھ، کچھوا اور مچھر...
اِن بے چاروں کی مؤنث شکل تو موجود ہی نہیں!

دل میں بار بار خیال آتا کہ مسٹر خرگوش کے گھر میں کوئی مسز خرگوش بھی تو ہوگی؟
لنگور کی بیوی، گدھ کی ماں، کچھوے کی بہن... کیا یہ سب ہستیاں وجود نہیں رکھتیں؟
بلاشبہ رکھتی ہیں تو پھر اُن کے لیے الگ سے الفاظ کیوں نہیں؟

اس ناانصافی پر ایک بار ہم نے گڑگڑا کر استاد سے سوال کیا۔
وہ غصے سے لال ہو گئے اور بولے،
"ناانصافی تو دونوں طرف سے ہے! مچھلی کے شوہر کا نام سنا ہے کبھی؟ وہ بھی تو موجود ہے!"

ہم لاجواب رہ گئے۔

استاد جی نے پوری فہرست گنوا دی،
"فاختہ، مینا، چیل، مُرغابی، ابابیل، مکھی، چھپکلی..."
پھر الٹا سوال داغ دیا،
"بتاؤ، کیا ان سب کے باپ بھائی وجود نہیں رکھتے؟"

اور آج تک ہم اسی سوال کا جواب تلاش کر رہے ہیں۔
کوئی اہلِ علم رہنمائی فرما دیں۔
#منقول

انیس سو چورانوے کی بات ہے کہ میںعید کی نماز پڑھ کر خوشی خوشی قدم بڑھاتا ہوا گھر کی جانب روانہ ہوا۔ نئے کپڑے تھے۔ یہ الگ ...
10/10/2025

انیس سو چورانوے کی بات ہے کہ میں
عید کی نماز پڑھ کر خوشی خوشی قدم بڑھاتا ہوا گھر کی جانب روانہ ہوا۔ نئے کپڑے تھے۔ یہ الگ بات کہ ماں نے گلی گلی پھیری لگانے والے کابلی والے سے مزری ملیشیا کا کالا کپڑا اُدھار پر خرید کر خود سلوایا تھا تاکہ میں عید پر پہن لوں اور اسکول بھی جا سکوں۔
پلاسٹک کے جوتے تھے جو مجھے بہت پیارے لگتے تھے، پالش کی بچت الگ ہوتی تھی۔ جب حد سے زیادہ میلے کچیلے ہو جاتے تو گاؤں سے دو کلومیٹر دور ندی پر شام کو جا کر دھو لیتا اور اگلے دن چمکتے جوتے پہن کر اسکول جاتا۔ پیروں میں وہی پلاسٹک والے جوتے تھے، مگر چہرہ خوشی سے لال ہو رہا تھا کہ آج اماں نے گھر میں مرغی پکائی ہوگی۔

میرے جیب میں اماں کے لیے ایک سرپرائز تھا، پتاسے اور ٹانگری اماں کی پسندیدہ مٹھائی

میری عمر چودہ سال تھی۔ چھ بہنیں اور چار بھائی، میں سب سے بڑا تھا۔ لہٰذا وقت سے پہلے بالغ ہوگیا تھا۔ ذمہ داری کچھ یوں بڑھ گئی تھی کہ والد کی قلیل تنخواہ میں والدہ جب ضروریاتِ خوراک پوری کرتے کرتے ذہنی طور پر مفلوج سی ہوجاتی تھیں، تو میں ہی ان کا سہارا بنتا۔ گاؤں کے واحد دکاندار چاچا سے پانچ سال کی عمر میں آٹے دال کا اُدھار مانگتے مانگتے بڑا ہو چکا تھا۔

ابا کی ساڑھے چار ہزار روپے ماہانہ تنخواہ کا منی آرڈر جب گاؤں کے ڈاک خانے میں آتا، تو دو دن تک پیدل تین کلومیٹر دور پہاڑوں میں واقع ڈاکیے کے گھر جاتا، مگر وہ ٹرخا دیتا کہ کل آنا، پیسے مل جائیں گے۔ وہ ہمارے پیسے اپنی ضرورت کے لیے استعمال کر لیتا تھا۔ پیسے ملتے ہی دکاندار کا حساب چکتا کیا جاتا، اور پھر اُدھار کا نیا کھاتہ شروع ہو جاتا۔

ماں کا پھٹا آنچل ہمیشہ پھٹا ہی رہا۔ وہ جون جولائی کی گرمی میں بھی تپتی زمین پر ننگے پاؤں ندی پر کپڑے دھونے جاتی تھی۔ سر پر دو مٹکے، پہلو میں ایک مٹکا لٹکا کر میلوں دور سے پانی بھر لاتی اور پھر کام میں جت جاتی۔ ماں کے پیروں کے تلوے اتنے سخت ہو چکے تھے کہ کانٹا چھبنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ پورے گاؤں میں مشہور تھا کہ نصیباں کے پیر گوشت پوست کے نہیں، پتھر کے بنے ہیں۔

علی الصبح وہ ہمیں سوتا چھوڑ کر گاؤں کی عورتوں کے ساتھ ننگے پاؤں، رومال میں سوکھی روٹی اور پیاز باندھ کر پہاڑوں پر لکڑیاں کاٹنے چلی جاتی، اور واپسی میں سر پر گیلی لکڑیاں لاد کر دوپہر کو آتی۔ پھر کھانا بناتی اور ہمیں کھلاتی۔

ماں کو میٹھا بہت پسند تھا۔ گاؤں میں اگر کسی کے ہاں ولادت ہوتی تو ماں ضرور جاتی، کیونکہ پشتون روایت کے مطابق بچے کی پیدائش پر میٹھی گولیاں پتاسے اور آٹے سے بنی ہوئی انگلی برابر مٹھائی ٹانگری،بانٹی جاتی۔ اماں جھولی بھر کر گھر لاتی، ہمیں کھلاتی اور خود آنکھیں بند کر کے مزے سے کھاتی۔

مجھے یاد ہے، سال انیس سو پچانوے میں میری چھوٹی بہن "کاکو" کی ولادت قریب تھی۔ اماں نے مجھے گھر بٹھا کر تاکید کی کہ اپنی توجہ پڑھائی پر دوں اور بہن بھائیوں کی رکھوالی کروں۔ خود اسی حالت میں پڑوسنوں کے ساتھ گندم کٹائی پر چلی گئیں تاکہ پتاسے اور ٹانگری مل سکیں۔
اگلی صبح جب میں جاگا تو اماں کی گود میں میری ننھی منی بہن تھی۔۔۔

دوپہر کا کھانا پھر بھی اماں نے بنایا۔ لسی سے بنی ہوئی کڑھی، جو ہفتہ وار مینو میں چوبیس گھنٹے بعد لازمی بنتی تھی۔ اماں نے مجھے دکاندار کے پاس بھیجا کہ جاؤ، اُدھار پر پتاسے اور ٹانگری لے آؤ تاکہ وہ بھی گاؤں والوں کو دکھا سکے کہ نصیباں بھی کسی سے کم نہیں۔
مگر شام کو میں خالی ہاتھ آیا۔ دکاندار نے پچھلا اُدھار چکانے کو کہا تھا۔ اُس دن میں نے پہلی بار اماں کی آنکھوں میں نمی دیکھی۔

ہر مہینے ابا کا خط آتا۔ میں پڑھنا لکھنا جانتا تھا، سو اماں کا جواب بھی میں ہی لکھتا۔ اماں ہر خط کے آخر میں لکھواتی
“الحمداللہ بہت اچھا گزارہ چل رہا ہے۔”
میں جب “گزارہ” لکھتا تو ہاتھ کانپ جاتے کہ گزارہ کسے کہتے ہیں؟ مگر لکھ دیتا۔

اماں کی شادی سن اٹہتر میں صرف پانچ سو روپے کے عوض ہوئی تھی۔ ماں باپ نے اپنی غربت کا بوجھ کسی اور کے سر ڈال دیا تھا۔ بھائی نے جائیداد پر یہ کہہ کر ماں سے دستخط کروا لیے کہ پشتون روایت میں بہنیں حصہ نہیں لیتیں۔ میں نے کبھی ماموں یا نانا کو گھر آتے نہیں دیکھا۔ جب پوچھتا تو اماں کہتیں
“ان کا گھر چار کلومیٹر دور ہے، ابا کمزور ہیں، بھائی مصروف ہے، آجائیں گے کسی دن فارغ ہو کر۔”

سن انیس سو ننانوے میں ابا ریٹائر ہو گئے۔ پانچ لاکھ پینشن ملی۔ اماں نے کبھی اتنے پیسے اکٹھے نہیں دیکھے تھے۔ پورا دن ابا سے کہتی رہیں کہ رقم دکھانا ضرور۔ زندگی میں پہلی بار میں نے اماں کو نیا دوپٹہ اوڑھے دیکھا، جو ابا نے لا کر دیا تھا۔ وہ سارا دن اتراتی رہیں، دیورانیوں کو جلانے کے بہانے۔ اُس دن گھر میں گوشت بھی پکا تھا۔

اگلے دن ابا نے اعلان کیا کہ گیارہ بچوں کو پال کر اماں بوڑھی ہوگئی ہے، اس لیے وہ دوسری شادی کر رہے ہیں۔
دادا اور چچا نے فائرنگ کر کے گویا اجازت دے دی۔
ماں کو میں نے اُس دن پہلی اور آخری بار ہچکیاں لیتے دیکھا۔
چھوٹے بہن بھائی خوش تھے کہ اب گھر میں خوشیوں کے ڈھول بجیں گے۔
ابا دوسری دلہن لے آئے۔
اماں بھاگ کر دوسرے کمرے میں جا چھپیں۔
رشتہ داروں نے اماں کو پشتون ولی کا سبق پڑھایا کہ پشتون بیویاں جی دار ہوتی ہیں، نئی دلہن کا استقبال مسکراہٹ سے کرتی ہیں۔

اماں مرے مرے قدموں سے دلہن کے پاس گئیں، گلے سے لپٹ گئیں، دونوں رونے لگیں۔ میں آج تک نہیں سمجھ سکا کہ وہ رونا کس چیز کا تھا۔
اسی دوران کسی نے اماں کو ٹانگری پکڑا دی۔
ماں سب کچھ بھول کر خوشی خوشی ٹانگری کھانے لگیں۔

سال دو ہزار پندرہ
میں نے اپنی نئی ماڈل کی گاڑی پشاور کینٹ کی مشہور مٹھائی کی دکان کے سامنے روکی۔
اماں کو سہارا دے کر میں اور میری شہری بیگم نے گاڑی سے اتارا۔
دکان کے اندر گیا اور پوچھا:
“اماں، کون سی مٹھائی پیک کروا دوں؟”

وہ ڈبڈبائی آنکھوں سے مسکرائیں، چہرے کی جھریاں مزید گہری ہو گئیں، بولیں
“بیٹا، ان سے کہو پتاسے یا ٹانگری مل جائیں گے؟”

میرے دل میں کہیں دور چھناکے کی آواز گونجی۔
میں نے اماں کے ہاتھ چوم کر کہا
“کہو تو پوری دکان خرید لوں؟”

دکاندار نے پتاسے اور ٹانگری کا ٹوکرا اماں کے سامنے رکھا۔
ماں نے کپکپاتے ہاتھوں سے ایک ٹانگری اٹھائی اور منہ میں رکھ لی۔
میری بیگم نے بھی اماں کی تقلید میں ایک ٹانگری اٹھائی، مگر جیسے ہی وہ منہ تک لے جانے لگی،
میں نے اُس کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لیا
اور ٹانگری واپس ٹوکرے میں رکھ دی۔

ختم شد

عارف خٹک

10/10/2025

لنڈے کا چکر لگا کر ٹائم ضائع نہ کریں۔

مال ابھی نہیں آیا اگلے ہفتے آئے گا۔

09/10/2025

حيرت ہے
يوسف والا سٹاپ پر 45 منٹ کا انتظار بڑی بس گٹولوکل بس رکشے سب ہيں
لوگ کہتے گرين بس پر ہی جانا
لوگ ويلے ہيں يا معاملہ 20روپے کا ہے؟

08/10/2025

ساہیوال میں کسی بھائی یا بہن کے ساتھ کہیں بھی کوئی بھی زیادتی ہوئی ہے تو ہمیں انبکس کریں ہم آپ کی آواز عوام کی عدالت تک پہنچائیں گے

اکثر لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ ڈاکٹر اسماء سرور بہت سینئر ہیں، خبر لگاتے ہوئے سوچنا چاہیے تھا۔لیکن میں خود بھی ان کے ہاتھوں ...
08/10/2025

اکثر لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ ڈاکٹر اسماء سرور بہت سینئر ہیں، خبر لگاتے ہوئے سوچنا چاہیے تھا۔
لیکن میں خود بھی ان کے ہاتھوں بھگت چکی ہوں، اس لیے آج اپنی کہانی سب کے سامنے لانا چاہتی ہوں👇

شروع میں میں خود ان کے پاس جاتی تھی۔ میری ڈلیوری نارمل ہونی تھی مگر وہ تقریباً ہر مریضہ کا سی سیکشن ہی کرتی ہیں۔ جیسے وہ کہتی تھیں، ویسا ہی ماننا پڑتا تھا۔ میرا بھی سی سیکشن ہوا اور اس کے بعد کافی پیچیدگیاں آئیں، لیکن میں نے یہ سوچ کر نظرانداز کر دیا کہ شاید ایسا ہو جاتا ہے، کیونکہ ہماری فیملی میں صرف میرا ہی سی سیکشن ہوا تھا۔

خیر، میں نے شازو کو بھی کہا کہ تم بھی اسی ڈاکٹر کے پاس جاؤ۔ وہ دوائی لینے کے لیے گئیں، کچھ ماہ بعد جب شازو کا تیسرا مہینہ شروع ہوا تو وہ پھر ڈاکٹر اسماءسرور کے پاس گئیں۔ ڈاکٹر نے کہا: "آپ پہلے مہینے سے ہی کیوں نہیں آئیں؟" شازو نے بتایا کہ "میری ساس اپنے ڈاکٹر کے پاس لے جاتی تھیں، اب میں آپ کے پاس آئی ہوں۔" اس پر ڈاکٹر کا رویہ بھی بدل گیا۔

شازو نے دوا لی اور گھر آ گئی۔
اگلے دن اس کو شدید درد اور خون آنا شروع ہو گیا۔ ہم نے رات 8:30 پر ڈاکٹر اسماء کو کال کی اور بتایا کہ شازو کی طبیعت بہت خراب ہے، ایمرجنسی میں چیک اپ کروانا ہے۔
ہم اس لیے بھی رات کو شازو کو لے کر گئے کیونکہ ڈاکٹر خود ایمرجنسی چیک اپ کرتی ہیں۔

ہم نے ڈبل فیس دے کر ایمرجنسی میں چیک اپ کروانے کی کوشش کی مگر ڈاکٹر موجود نہیں تھیں۔ ہسپتال والوں نے کہا "بیٹھ جائیں، ڈاکٹر کو کال کر دیتے ہیں"۔ شازو دو گھنٹے تک کرسی پر تڑپتی رہی، بار بار ہم کہتے رہے کہ ڈاکٹر کو بلائیں لیکن وہ ٹالتے رہے۔

آخرکار جب میں نے وہاں چیخنا شروع کیا تو ڈاکٹر سے کال پر بات کروائی گئی۔ انہوں نے کہا: "میں تھوڑی دیر میں آتی ہوں، ابھی اپنی سسٹر کے گھر ہوں، شور مت کریں۔" جبکہ شازو کی حالت انتہائی خراب تھی۔

ہم نے مزید 30 منٹ انتظار کیا، پھر میرے بھائی نے کسی اور ڈاکٹر کا پتہ کیا۔ ہم نے ڈاکٹر پروین ظفر کو ایمرجنسی چیک اپ کے لیے بلایا، اور وہ فوراً آ گئیں۔ انہوں نے آتے ہی شازو کو چیک کیا اور کہا:
"اگر آپ تھوڑا پہلے آ جاتے تو بچہ بچ سکتا تھا۔"

اس وقت میں نے ڈاکٹر اسماء کے خلاف آواز نہیں اٹھائی، لیکن آج جب ہمارے ساہیوال میں ایک اور واقعہ پیش آیا ہے تو میں نے فیصلہ کیا ہے کہ جو ہمارے ساتھ ہوا وہ بھی سب کو بتانا ضروری ہے۔

کیونکہ اب میں نے ٹھان لیا ہے کہ جو غلط کرے گا، اسے سب کے سامنے لانا میرا فرض ہے، اور اب ہمیشہ ایسا ہی کروں گی۔
یقیناً اور بھی بہت سے لوگوں کے ساتھ ایسا ہوا ہوگا، مگر میری طرح وہ بھی خاموش ہو گئے ہوں گے۔

📢 براہ کرم اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ سب کو حقیقت پتہ چلے، اور اگر آپ کے ساتھ بھی کسی ڈاکٹر نے ایسا کچھ کیا ہے تو ضرور کمنٹس میں لکھیں — وہ کوئی بھی ڈاکٹر ہو، تاکہ دوسروں کو بھی آگاہی (Awareness) حاصل ہو سکے۔

یاد رکھیں! یہ سوشل میڈیا کا دور ہے — ظلم اور غلطی کے خلاف کبھی خاموش نہ رہیں، آواز ضرور اٹھائیں۔ تاکہ اگلی بار ڈاکٹرز دوسروں کی زندگیوں کو کھیل نہ سمجھیں۔

2nd case 👉👉👉👉👉👉👉
(نیچے دی گئی تفصیل 6 اکتوبر کی ہے، اور افسوس کہ وہ اب اس دنیا میں نہیں رہی💔)

---

06/10/2025

ساہیوال: نجی کلینک ہاجراں ہسپتال نے آشیانہ اجاڑ دیا، ڈاکٹر نے موت چھپانے کے لیے ڈیڈ باڈی سول ہسپتال ریفر کر دی، اہلِ علاقہ سراپا احتجاج

ساہیوال: ڈاکٹر کی مبینہ غفلت سے ایک اور آشیانہ اجڑ گیا۔عورت کے انتقال کے بعد لواحقین کو کہا کہ اس کو سرکاری ہسپتال لے جاؤ۔ سرکاری ڈاکٹروں نے کہا یہ تو کافی دیر کی مر چکی ہے ۔میری بیوی کو مار کر میرے بچوں کو یتیم کر دیا۔ گرلز کالج
روڈ عقب تھانہ فتح شیر پر نجی کلینک میں افسوسناک واقعہ۔ سرکاری ملازم اظہر شاہ اپنی اہلیہ کو ڈلیوری کیس کے لیے ہاجراں ہسپتال لایا۔ ہسپتال کی اونر ڈاکٹر اسماء نے سرجن کی غیر موجودگی میں خود آپریشن کر دیا۔ دورانِ آپریشن شدید خون بہ جانے سے مریضہ کی حالت تشویشناک ہو گئی۔
بروقت طبی امداد نہ ملنے پر مریضہ دم توڑ گئی۔ مبینہ طور پر ڈاکٹر نے موت چھپانے کے لیے ڈیڈ باڈی سول ہسپتال ریفر کر دی۔
ساہیوال سول ہسپتال میں ڈاکٹروں نے پہنچتے ہی مریضہ کو مردہ قرار دیا۔ اہلِ علاقہ اور لواحقین ڈاکٹر کی نااہلی کے خلاف سراپا احتجاج ۔احتجاجی شہریوں کا کہنا ہے نجی ہسپتال انسانی جانوں سے کھیل رہے ہیں ۔لواحقین کی وزیر اعلی پنجاب مریم نواز کمشنر ساہیوال اور سی او ہیلتھ سے ڈاکٹر کی نا اہلی کے خلاف بھرپور کاروائی اور فوری انصاف کی پرزور اپیل کی اور فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔
Sahiwal City
Commissioner Sahiwal
Punjab Healthcare Commission - PHC

ساہيوال میں موسم کی تبدیلی کا پہلا غير حتمى غير سركاری نتیجه موصول
06/10/2025

ساہيوال میں موسم کی تبدیلی کا پہلا غير حتمى غير سركاری
نتیجه موصول

ساہیوال: نجی کلینک حاجرہ ہسپتال نے آشیانہ اجاڑ دیا، ڈاکٹر نے موت چھپانے کے لیے ڈیڈ باڈی سول ہسپتال ریفر کر دی، اہل علاقہ...
06/10/2025

ساہیوال: نجی کلینک حاجرہ ہسپتال نے آشیانہ اجاڑ دیا، ڈاکٹر نے موت چھپانے کے لیے ڈیڈ باڈی سول ہسپتال ریفر کر دی، اہل علاقہ سراپا احتجاج

Address

Sahiwal
Sahiwal

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sahiwal24 posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Sahiwal24:

Share