News 700

News 700 Allah is the Sustainer of the whole world

چار پائی یا منجی،اسے کسی "عبدالشکور منج" نامی شخص نے ایجاد کیا تھا،                                  لیکن تاریخی طور پر ...
10/09/2026

چار پائی یا منجی،اسے کسی "عبدالشکور منج" نامی شخص نے ایجاد کیا تھا،
لیکن تاریخی طور پر اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔
5,000 سال پرانی تاریخ: تاریخ دانوں کا ماننا ہے کہ چارپائی کا تصور تقریباً 5,000 سال پرانا ہے۔ قدیم مصر (Egypt) اور میسوپوٹیمیا (عراق) کی تہذیبوں میں بھی دن کو آرام کرنے والے ایسے بستروں (Daybeds) کے آثار ملے ہیں۔
برصغیر میں قدیم شواہد: برصغیر پاک و ہند میں چارپائی کا سب سے پرانا تحریری اور تصویری ذکر دوسری صدی قبل از مسیح (2nd Century BC) یعنی بدھ مت کے دور سے ملتا ہے۔ اس دور کی پینٹنگز اور تراشیدہ پتھروں میں مہاتما بدھ کی زندگی کے مناظر دکھاتے ہوئے اس بستر کو دکھایا گیا ہے، جسے اس زمانے میں "منچا" (Manca) کہا جاتا تھا۔
یہ کیسے ایجاد ہوئی؟ (طریقہ اور ضرورت)
چارپائی کو مقامی لوگوں نے اپنے موسم اور ضرورت کے مطابق خود تیار کیا تھا:
گرمی سے بچاؤ: برصغیر کے گرم ترین موسم میں ایسے بستر کی ضرورت تھی جو ہلکا ہو اور جس میں سے ہوا گزر سکے۔
سادہ ساخت: لکڑی کے چار سیدھے پایوں کو چار افقی لکڑیوں (باہیوں اور سیروں) سے جوڑا گیا۔
رسیوں کی بنائی: اس کے بعد مقامی طور پر دستیاب پودوں کے ریشوں (جیسے مونج، سوت یا کھجور کے پتے) سے رسیاں بنا کر فریم کو بن دیا گیا۔ اس کا ڈیزائن ایسا رکھا گیا کہ استعمال کے ساتھ جب رسی ڈھیلی ہو جائے، تو اس کی "ادوان" (ٹینشن لیس) کو کھینچ کر اسے دوبارہ ٹائٹ کیا جا سکے۔
ابنِ بطوطہ کا تاریخی تذکرہ
مشہور مسلمان سیاح ابنِ بطوطہ جب 1350ء کے آس پاس ہندوستان آئے، تو وہ چارپائی کو دیکھ کر حیران رہ گئے اور انہوں نے اپنے سفرنامے میں لکھا:
"ہندوستان کے بستر بہت ہلکے ہوتے ہیں۔ ایک اکیلا آدمی بھی اسے اٹھا سکتا ہے... یہ چار کون نما پایوں پر مشتمل ہوتا ہے جس پر لکڑیاں جوڑی جاتی ہیں اور درمیان میں ریشم یا کپاس کی پٹیوں (رسیوں) سے بنائی کی جاتی ہے۔ جب آپ اس پر لیٹتے ہیں تو یہ خود بخود جسم کے وزن کے مطابق لچکدار ہو جاتی ہے اور آرام دہ نیند فراہم کرتی ہے۔"
خلاصہ: چارپائی برصغیر کے عام لوگوں کی ایک موسمی اور جغرافیائی ایجاد ہے جو نسل در نسل بہتر ہوتی چلی گئی۔ یہ اپنی سادگی، مضبوطی اور وزن میں ہلکی ہونے کی وجہ سے ہزاروں سال گزرنے کے بعد بھی آج ہمارے گھروں کا حصہ ہے۔

کھسے کی تاریخ صدیوں پرانی ہے اور اس کا تعلق مغل دور حکومت (16 ویں اور 17 ویں صدی) سے جوڑا جاتا ہے۔ یہ جوتا محض ایک پہناو...
10/09/2026

کھسے کی تاریخ صدیوں پرانی ہے اور اس کا تعلق مغل دور حکومت (16 ویں اور 17 ویں صدی) سے جوڑا جاتا ہے۔ یہ جوتا محض ایک پہناوا نہیں، بلکہ برصغیر پاک و ہند کے شاہی شاہکاروں اور ثقافتی ارتقا کا ایک شاندار مظہر ہے۔
کھسے کی تاریخ اور پس منظر کے اہم مراحل درج ذیل ہیں:
1. آغاز اور شاہی سرپرستی (مغل دور)
شاہی علامت: مغل دور میں کھسے (یا موجری) امرا، بادشاہوں اور ملکہوں کے لیے عیش و عشرت اور مرتبے کی علامت تھے۔
سلیم شاہی کھسہ: مغل شہنشاہ جہانگیر (جن کا اصل نام شہزادہ سلیم تھا) کو اس جوتے کے ڈیزائن میں خاص دلچسپی تھی۔ انہوں نے اس کی ترویج کی، اسی لیے ایک مخصوص ڈیزائن کو آج بھی "سلیم شاہی کھسہ" کہا جاتا ہے۔
سونے اور ہیروں کا کام: اس دور میں شاہی کھسوں پر خالص سونے اور چاندی کے دھاگوں (تلہ)، قیمتی ہیروں، موتیوں اور جواہرات سے کڑھائی کی جاتی تھی۔
2. ڈیزائن کا پس منظر اور ارتقا
لکڑی سے چمڑے کا سفر: مغل دور سے قبل، برصغیر کے گرم موسم میں لکڑی کے تلووں والے کھڑاویں (چپل) پہنی جاتی تھیں۔ بعد میں، کاریگروں نے نرمی اور آرام کے لیے چمڑے کا استعمال شروع کیا۔
وسطی ایشیا کا اثر: کھسے کی نوکدار اور اوپر کی طرف مڑی ہوئی شکل کا آئیڈیا وسطی ایشیا اور فارس (ایران) کے امرا کے جوتوں سے متاثر ہو کر لیا گیا تھا۔
3. عوامی مقبولیت اور علاقائی رنگ
عوام تک رسائی: مغل سلطنت کے زوال کے بعد، شاہی درباروں سے وابستہ ہنر مند کاریگر پنجاب اور سندھ کے مختلف علاقوں (جیسے ملتان، بہاولپور اور لاہور) میں پھیل گئے۔ انہوں نے قیمتی جواہرات کی جگہ رنگ برنگے دھاگوں، شیشوں اور سستے مٹیریل کا استعمال شروع کیا، جس سے یہ عام لوگوں کی پہنچ میں آ گیا۔
سکھ دور حکومت: مغلوں کے بعد سکھ حکمرانوں، خصوصاً مہاراجہ رنجیت سنگھ نے بھی کھسے کو بہت پسند کیا اور ان کی پرانی تصاویر میں وہ روایتی کھسے پہنے نظر آتے ہیں۔
4. تاریخی عجائب گھروں میں موجودگی
آج بھی برصغیر کی اس شاندار تاریخ کی جھلک دیکھنے کے لیے لاہور میوزیم ([Lahore Museum](https://www.lahoremuseum.s पंजाब.gov.pk "Lahore Museum")) کی اسلامک گیلری میں صدیوں پرانے، ہاتھ سے تیار کردہ شاہی کھسے نمائش کے لیے رکھے گئے ہیں جو اس کے لازوال پس منظر کی گواہی دیتے ہیں۔

سیفٹی ریزر اور ڈسپوزایبل بلیڈ (بڑا انقلاب) 1901ءکی ایجاد: امریکی تاجر کنگ کیمپ جلیٹ (King Camp Gillette) نے پہلی بار ایس...
10/09/2026

سیفٹی ریزر اور ڈسپوزایبل بلیڈ (بڑا انقلاب)
1901ءکی ایجاد: امریکی تاجر کنگ کیمپ جلیٹ (King Camp Gillette) نے پہلی بار ایسا استرا ایجاد کیا جس میں ایک حفاظتی گارڈ لگا تھا تاکہ جلد نہ کٹے، اور اس کا بلیڈ سستا اور تبدیل ہونے والا تھا۔
پس منظر: جلیٹ ایک بار شیو کر رہے تھے تو ان کا استرا کند ہو گیا، جس پر انہیں خیال آیا کہ کیوں نہ ایسا سستا بلیڈ بنایا جائے جسے تیز کرنے کے بجائے پھینک کر نیا لگا لیا جائے۔ پہلی جنگ عظیم کے دوران امریکی حکومت نے اپنے ساڑھے 35 لاکھ فوجیوں کو یہ جلیٹ ریزر فراہم کیے، جس کے بعد یہ دنیا بھر میں مقبول ہو گیا۔

استرا کی تاریخ انسان کی تہذیب جتنی ہی پرانی ہے۔ اگرچہ جدید دھاتی استرا اٹھارویں صدی میں ایجاد ہوا، لیکن بال مونڈنے کے لی...
10/09/2026

استرا کی تاریخ انسان کی تہذیب جتنی ہی پرانی ہے۔ اگرچہ جدید دھاتی استرا اٹھارویں صدی میں ایجاد ہوا، لیکن بال مونڈنے کے لیے اوزاروں کا استعمال پتھر کے دور (Stone Age) سے ہو رہا ہے۔
استرا کی ایجاد کے سفر اور اس کے پس منظر کو درج ذیل اہم ادوار میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
1۔ قبل از تاریخ اور پتھر کا دور (شروعات)
اوزار: لاکھوں سال پہلے انسان بال صاف کرنے کے لیے تیز دھار والے پتھروں (Flint)، سیپیوں (Shells) اور شارک کے دانتوں کا استعمال کرتے تھے۔
پس منظر: اس دور میں بال مونڈنے کا مقصد خوبصورتی نہیں بلکہ بقا تھا۔ جنگلوں میں گھنے بالوں میں جوں اور پسو جیسے جراثیم پیدا ہو جاتے تھے، اور لڑائی کے دوران دشمن بالوں سے پکڑ سکتا تھا، اس لیے بال صاف رکھنا ضروری تھا۔
2۔ قدیم مصر اور کانسی کا دور (پہلا دھاتی استرا)
وقت: تقریباً 3000 قبل مسیح (آج سے 5000 سال پہلے)۔
ایجاد: قدیم مصریوں نے سب سے پہلے تانبے (Copper) اور کانسی (Bronze) سے باقاعدہ استرے تیار کیے۔ بعض شاہی قبروں سے سونے کے استرے بھی ملے ہیں۔
پس منظر: مصر میں صفائی کو نصف ایمان یا تقدس کا درجہ حاصل تھا۔ مصری فرعون اور مذہبی پیشوا اپنے پورے جسم کے بال صاف رکھتے تھے۔ سکندر اعظم نے بھی اپنی فوج کو حکم دیا تھا کہ وہ داڑھی منڈوا کر رکھیں تاکہ جنگ کے دوران دشمن اسے پکڑ نہ سکے۔
3۔ جدید سیدھا استرا (18ویں صدی)
وقت: 1740ء
ایجاد: انگلینڈ کے شہر شیفیلڈ (Sheffield) میں بینجمن ہنٹس مین (Benjamin Huntsman) نے اعلیٰ معیار کے اسٹیل سے فولڈنگ بلیڈ والا وہ استرا تیار کیا جسے آج ہم روایتی یا "سیدھا استرا" کہتے ہیں۔
پس منظر: اس استرے کے آنے سے حجاموں کی دکانیں (Barber Shops) ایک سماجی گڑھ بن گئیں کیونکہ اسے تیز کرنے اور استعمال کرنے کے لیے خاص مہارت کی ضرورت ہوتی تھی اور عام لوگ خود گھر پر اس سے شیو نہیں کر سکتے تھے۔

"کاغذ کی ماں"* 🥺دھوپ نکلی ہوئی تھی۔ سڑک پر گاڑیاں بھاگ رہی تھیں۔ سڑک کے بیچ میں ایک چھوٹا سا بچھڑا کھڑا تھا۔ نام اس کا "...
08/09/2026

"کاغذ کی ماں"* 🥺
دھوپ نکلی ہوئی تھی۔ سڑک پر گاڑیاں بھاگ رہی تھیں۔
سڑک کے بیچ میں ایک چھوٹا سا بچھڑا کھڑا تھا۔ نام اس کا "منٹو"۔ دو دن سے اس نے ماں کا دودھ نہیں پیا تھا۔ ماں کو ڈیری والے کل لے گئے تھے۔
اچانک ایک بڑا سفید ٹرک آیا۔ ٹرک کے پیچھے بہت بڑی تصویر لگی تھی۔ ایک موٹی تازی سفید گائے، تھن دودھ سے بھرے ہوئے۔ اوپر لکھا تھا
منٹو پہلے تو دور سے ہی گھور کر دیکھتا رہا۔
اس کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ کان کھڑے ہو گئے۔
"یہ... یہ تو ماں جیسی لگتی ہے"
وہ آہستہ آہستہ قریب آیا۔ سر اوپر اٹھا کر ٹرک کو گھورتا رہا۔ جیسے یقین دلانا چاہ رہا ہو کہ یہ سچ میں ماں ہے۔
پھر اس سے رہا نہ گیا۔ بھوک نے زور کیا۔
وہ اچھل کر ٹرک کے پچھلے حصے پر ٹانگیں ٹیک کر کھڑا ہو گیا۔ منہ کھول کر تصویر والے تھنوں تک پہنچنے لگا۔
زبان نکال کر کاغذ کو چاٹا... خشک تھا۔ کوئی دودھ نہیں تھا۔
پھر زور سے تھن کو سونگھا... صرف پرنٹ کی خوشبو تھی۔
منٹو نے ایک بار پھر زور لگایا۔ اگلی ٹانگیں اٹھا کر کاغذ کی ماں کو دبانے لگا جیسے اصل میں دودھ نکال رہا ہو۔
"ماں... تھوڑا سا... بس تھوڑا سا دودھ" وہ اندر ہی اندر گڑگڑا رہا تھا۔
ٹرک کا ڈرائیور ہارن بجانے لگا۔ لوگ گاڑیوں سے دیکھ کر ہنس رہے تھے۔
لیکن منٹو کو دنیا کی پرواہ نہیں تھی۔ اسے بس وہ تصویر سچی لگ رہی تھی۔
آخر ٹرک چل پڑا۔ منٹو پیچھے بھاگا۔ گرتا پڑتا۔ جب تک ٹرک موڑ پر غائب نہ ہو گیا۔
وہیں سڑک پر بیٹھ کر دیر تک اس نے اس جگہ کو دیکھا جہاں "ماں" کھڑی تھی۔
اس رات منٹو نے پھر بھوکا سو کر دیکھا۔
اور خواب میں اس کی ماں واقعی آئی۔ اس بار کاغذ کی نہیں تھی... اصل والی۔

اگلے دن وہی ٹرک پھر آیا۔ لیکن اس بار ٹرک کے پیچھے تصویر نہیں تھی۔ خالی لوہا تھا۔
منٹو دور سے آیا، دیکھا، اور چپ کر کے پلٹ گیا۔
شاید اسے سمجھ آ گئی تھی کہ کچھ مائیں صرف اشتہاروں میں ملتی ہیں۔
دل چیر دینے والی بات یہ ہے نا... کہ بے زباں بھی امید رکھتے ہیں۔

Big shout out to my new rising fans! Qadeer Khan
28/08/2026

Big shout out to my new rising fans! Qadeer Khan

14/08/2026

14 اگست جشن آزادی مبارک ہو 🇵🇰🎉🇵🇰

14/08/2026

تمام پاکستانیوں کو 79 واں یوم آزادی مبارک ہو 🇵🇰🎉🇵🇰

14/08/2026

🇵🇰 یوم آزادی مبارک ہو 🇵🇰

الیاس قادری 26 رمضان کی بجائے 25 شعبان کو پیدا ہوا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہری ٹوپی سفید جھوٹکہا جاتا ہے کہ الیاس قادری 26 رمضان کو...
14/08/2026

الیاس قادری 26 رمضان کی بجائے 25 شعبان کو
پیدا ہوا ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہری

ٹوپی سفید جھوٹ

کہا جاتا ہے کہ الیاس قادری 26 رمضان کو سحری کے

وقت پیدا ہوا اور ساتھ ہی روزہ رکھ لیا۔ ماں دودھ پلاۓ تو منہ پیچھے کر لے۔ سارا دن کچھ نہ کھایا اور نہ پیا۔ شام کو ایک

عجوہ کجھور سے افطاری کی

اسے ولی اللہ ثابت کرنے کے لیے ستائسویں رمضان کو اسکی

سالگرہ منائی جاتی ہے جبکہ

پاسپورٹ پر درج تاریخ پیدائش 12

جون 1950 ہے۔

اسلامی (ہجری) کیلنڈر کے مطابق اس دن کی تاریخ درج ذیل بنتی ہے:

اسلامی تاریخ پیدائش

تاریخ 25 شعبان المعظم

ہجری سال 1369هـ
دن پیر

وضاحت چونکہ اسلامی تاریخ کا آغاز سورج غروب ہونے کے بعد چاند کی رویت کے حساب سے ہوتا ہے، اس لیے بعض کیلنڈرز میں اسے 26 شعبان بھی شمار کیا جا سکتا ہے، لیکن

عام حساب سے یہ 25 شعبان 1369ھ بنتی ہے۔

Address

#2
Sahiwal
54000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when News 700 posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share