26/05/2026
وہ روز آتا تھا…
شام کے تقریباً 6 بجے۔
وہی بینچ۔
وہی پارک۔
وہی خاموشی۔
ہاتھ میں ایک پرانی ڈائری ہوتی۔
وہ چند منٹ لکھتا…
پھر چلا جاتا۔
کئی دن بعد ہمت کر کے میں نے پوچھ لیا:
“آپ روز کیا لکھتے ہیں؟”
وہ مسکرایا۔
ڈائری بند کی۔
اور بولا:
“میں اپنی بیوی کو روز بتاتا ہوں کہ آج دن کیسا گزرا…”
میں خاموش ہو گیا۔
پھر اس نے آسمان کی طرف دیکھ کر کہا:
“وہ پانچ سال پہلے چلی گئی…
لیکن عادتیں کہاں جاتی ہیں؟”
اس لمحے سمجھ آیا…
کچھ محبتیں ختم نہیں ہوتیں۔
وہ بس شکل بدل لیتی ہیں۔
کبھی دعا بن جاتی ہیں۔
کبھی یاد۔
اور کبھی… ایک پرانی ڈائری۔ ❤️