28/12/2025
ساہیوال پریس کلب کے صدارتی امیدوار عمر منظور کی مفاہمتی پریس کانفرنس
ساہیوال پریس کلب کے صدارتی امیدوار عمر منظور نے ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جمہوری روایات، برداشت اور باہمی احترام کی اعلیٰ مثال قائم کی۔ انہوں نے اپنی گفتگو کے دوران مخالفین کو بار بار “بھائی” کہہ کر مخاطب کیا اور اس بات پر زور دیا کہ پریس کلب کی طاقت اس کا اتحاد اور جمہوری تسلسل ہے، نہ کہ باہمی اختلافات۔
عمر منظور نے واضح کیا کہ مخالفین کی جانب سے اٹھائے گئے تمام اعتراضات کو وہ سنجیدگی سے تسلیم کرتے ہیں اور ان کے حل کے لیے ہر ممکن تعاون کو تیار ہیں۔ انہوں نے نہایت عاجزی کے ساتھ کہا کہ ہم آپ کی منت کرتے ہیں کہ اس پریس کلب کے جمہوری نظام اور الیکشن کے عمل کو کسی صورت خراب نہ ہونے دیں۔ ہم ہر قیمت پر آپ کے ساتھ کھڑے ہیں۔
انہوں نے ایک واضح اور جمہوری مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اگر اپوزیشن کے امیدوار انتخابات میں کامیاب ہوتے ہیں تو وہ سب سے پہلے انہیں مبارک باد دینے والے ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ عہدہ نہیں، ادارہ اہم ہے، اور ادارے کی مضبوطی جمہوری عمل کے تسلسل سے ہی ممکن ہے۔
پریس کانفرنس میں عمر منظور نے یہ بھی وضاحت کی کہ پریس کلب کے چیئرمین حافظ وحید صاحب کی جانب سے اگر کسی موقع پر سخت یا نامناسب الفاظ استعمال ہوئے تو انہیں واپس لے لیا گیا ہے، جس کا باضابطہ نوٹس بورڈ پر بھی اندراج کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ الیکشن میں پریس کلب کے 104 باقاعدہ ممبران حصہ لیں گے، تاکہ کسی بھی قسم کے ابہام یا شکوک و شبہات کی گنجائش باقی نہ رہے۔
آخر میں صدارتی امیدوار عمر منظور نے تمام صحافی برادری کو یقین دلایا کہ اگر الیکشن کے حوالے سے کسی کو بھی کوئی اعتراض، سوال یا ابہام ہو تو وہ کھلے دل کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ “ہم چاہتے ہیں کہ یہ الیکشن شفاف، منصفانہ اور سب کی رضامندی سے ہوں، کیونکہ یہی ایک مضبوط اور باوقار پریس کلب کی بنیاد ہے۔