Qaiser Qayyum "Colors of Travel and Life"
I am Muhammad Qaiser Qayyum. Every journey is a story, and each day is a part of a new experience. On this page,

مدینہ کا محافظ — وہ سپہ سالار جس نے کہا: ’’میں مدینہ نہیں چھوڑوں گا‘‘ اور رسول الله کے شہر   روضۂ  مبارک کی حفاظت کی !تا...
11/08/2026

مدینہ کا محافظ — وہ سپہ سالار جس نے کہا: ’’میں مدینہ نہیں چھوڑوں گا‘‘ اور رسول الله کے شہر روضۂ مبارک کی حفاظت کی !
تاریخ کے اوراق میں ایک ایسا عثمانی سپہ سالار بھی گزرا ہے جس نے اپنی زندگی کا سب سے بڑا معرکہ کسی تخت، سلطنت یا دولت کے لیے نہیں بلکہ مدینہ منورہ کے دفاع کے لیے لڑا۔

وہ شخص جسے تاریخ آج ’’مدینہ کا محافظ‘‘ کہتی ہے۔

اس کا اصل نام عمر فخرالدین تھا، مگر دنیا اسے فخرالدین پاشا کے نام سے جانتی ہے۔

پہلی جنگ عظیم اپنے عروج پر تھی۔ برطانیہ اور اس کے اتحادی سلطنتِ عثمانیہ کو مختلف محاذوں پر کمزور کرنے میں مصروف تھے۔ اسی دوران حجاز میں عثمانی اقتدار کے خلاف عرب بغاوت شروع ہوئی۔ شریفِ مکہ حسین بن علی اور ان کے بیٹوں کی افواج نے برطانوی حمایت کے ساتھ عثمانی علاقوں پر حملے شروع کیے۔ ٹی۔ ای۔ لارنس، جسے دنیا ’’لارنس آف عریبیہ‘‘ کے نام سے جانتی ہے، بھی اس مہم میں اہم کردار ادا کر رہا تھا۔ مدینہ، جہاں مسجدِ نبوی ﷺ واقع تھی، اس جنگ کا سب سے حساس مقام بن گیا۔

اور پھر وہاں پہنچا ایک ایسا سپہ سالار جس کے لیے مدینہ صرف ایک شہر نہیں تھا۔

مدینہ اس کے ایمان کا حصہ تھا۔

فخرالدین پاشا نے مدینہ کے دفاع کی ذمہ داری سنبھالی تو اسے اندازہ تھا کہ دشمن کی تعداد زیادہ ہے، رسد کم ہے اور مدد کے راستے ایک ایک کرکے بند کیے جا رہے ہیں۔

حجاز ریلوے پر حملے ہونے لگے۔ بیرونی امداد تقریباً ناممکن ہوگئی۔ شہر کا محاصرہ سخت ہوتا گیا۔

مگر مدینہ کا محافظ پیچھے نہ ہٹا۔

تاریخی روایات کے مطابق مدینہ پر مسلسل حملے ہوتے رہے، ریلوے لائن کو نشانہ بنایا گیا اور 30 اپریل 1918 کو صرف ایک دن میں تین سو سے زیادہ بم برسائے گئے۔

لیکن مدینہ پھر بھی کھڑا رہا۔

پھر وہ دن آیا جب دنیا کی جنگ ختم ہوگئی۔

30 اکتوبر 1918 کو سلطنتِ عثمانیہ نے جنگ بندی قبول کرلی۔

فوجوں کو ہتھیار ڈالنے کے احکامات مل گئے۔

مگر مدینہ میں ایک شخص نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کردیا۔

وہ تھا…

فخرالدین پاشا۔

دنیا کے دوسرے محاذ خاموش ہو چکے تھے، مگر مدینہ کا محاذ ابھی زندہ تھا۔

جنگ ختم ہوچکی تھی، مگر فخرالدین پاشا کے نزدیک شاید ایک اور جنگ باقی تھی:

مدینہ کی حرمت کی جنگ۔

وہ تقریباً 72 دن تک جنگ بندی کے بعد بھی مدینہ میں ڈٹا رہا۔ بالآخر 10 جنوری 1919 کو اسے مدینہ چھوڑنا پڑا۔

ایک طرف دنیا کی بڑی طاقتیں تھیں۔

دوسری طرف محصور شہر۔

نہ مناسب رسد۔

نہ کمک۔

نہ واپسی کا محفوظ راستہ۔

اور سامنے صرف ایک سوال:

کیا مدینہ کو چھوڑ دیا جائے؟

فخرالدین پاشا کا جواب تھا:

نہیں۔

اس کے لیے مدینہ محض ایک فوجی چوکی نہیں تھا۔

یہ وہ شہر تھا جہاں رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تھے۔

وہ شہر جہاں مسجدِ نبوی ﷺ تھی۔

وہ شہر جہاں نبی کریم ﷺ کا روضۂ اقدس ہے۔

اسی نسبت نے اس سپہ سالار کے عزم کو عام جنگ سے کہیں آگے بڑھا دیا۔

کہا جاتا ہے کہ فخرالدین پاشا نے مدینہ کے مقدس آثار اور اہم اسلامی مخطوطات کو جنگ کی تباہی سے بچانے کے لیے استنبول منتقل کروایا، تاکہ وہ حملوں میں ضائع نہ ہوجائیں۔

مگر آخرکار وہ وقت بھی آیا جب مدینہ کا محاذ ٹوٹ گیا۔

10 جنوری 1919 کو فخرالدین پاشا گرفتار ہوگیا۔

وہ قیدی بنا دیا گیا۔

پھر مصر اور مالٹا کی قید میں رہا۔

لیکن عجیب بات دیکھیے…

جس شخص نے مدینہ نہیں چھوڑا، تاریخ نے بھی اسے نہیں چھوڑا۔

اس کے مخالفین نے بھی اس کی استقامت کو تسلیم کیا اور اسے ’’Tiger of the Desert‘‘ — صحرائی چیتا جیسے القابات سے یاد کیا گیا۔ البتہ اس لقب کے برطانوی ماخذ کے بارے میں تاریخی بحث بھی موجود ہے، اس لیے اسے قطعی طور پر براہِ راست کسی ایک برطانوی شخصیت سے منسوب کرنا محتاط رویہ نہیں ہوگا۔

آج تقریباً ایک صدی بعد بھی فخرالدین پاشا کا نام جب مدینہ کے دفاع کے ساتھ لیا جاتا ہے تو ذہن میں ایک سوال ضرور آتا ہے:

آخر اس شخص میں ایسی کیا چیز تھی کہ دنیا کی ایک بڑی جنگ ختم ہوگئی، سلطنت ٹوٹ گئی، راستے بند ہوگئے، مگر وہ مدینہ سے دستبردار نہ ہوا؟

شاید جواب اس کی فوجی تربیت میں نہیں…

اس کے دل میں تھا۔

وہ مدینہ کو نقشے پر بنا ہوا ایک شہر نہیں سمجھتا تھا۔

وہ اسے اپنے محبوب ﷺ کا شہر سمجھتا تھا۔

اور کبھی کبھی انسان کی سب سے بڑی طاقت اس کے ہتھیار نہیں ہوتے…

اس کی محبت ہوتی ہے۔

فخرالدین پاشا ہار گیا یا جیت گیا؟

فوجی تاریخ شاید اس سوال کا اپنا جواب دے۔

مگر محبت کی تاریخ کا جواب مختلف ہے۔

کیونکہ وہ شخص جس نے مدینہ کی گلیوں، مسجدِ نبوی ﷺ کی نسبت اور اپنے ایمان کی خاطر آخری حد تک کھڑے رہنے کا فیصلہ کیا…

وہ آج بھی تاریخ کے ایک روشن باب میں زندہ ہے:

فخرالدین پاشا — مدینہ کا محافظ۔

اس عظیم شخص کو آپ کیسے سلام پیش کریں گے ؟

11/08/2026

💗 صَلّى اللّهُ_ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلّمَ💗

🚢 انڈس کوئین (Indus Queen)تاریخی ریکارڈ کے مطابق:1867ء میں اسکاٹ لینڈ کے شہر Paisley میں Thomas Reid & Sons نے یہ سٹیمر ...
30/07/2026

🚢 انڈس کوئین (Indus Queen)
تاریخی ریکارڈ کے مطابق:
1867ء میں اسکاٹ لینڈ کے شہر Paisley میں Thomas Reid & Sons نے یہ سٹیمر تعمیر کیا۔ �
Dawn +1
ابتدا میں اس کا نام Sutlej Queen تھا اور اسے نواب صادق محمد خان عباسی چہارم (IV) کے شاہی استعمال کے لیے بنایا گیا تھا۔ �
Dawn +1
بعد میں دریائے ستلج کے حالات بدلنے کے بعد اسے دریائے سندھ منتقل کیا گیا اور اس کا نام Indus Queen رکھ دیا گیا۔ �
Dawn +1
اسے حضرت خواجہ غلام فریدؒ کے زائرین کی سہولت کے لیے کوٹ مٹھن شریف اور چاچڑاں شریف کے درمیان چلایا جاتا رہا۔ �
The Express Tribune +1
غازی گھاٹ پل بننے کے بعد اس کی ضرورت کم ہوتی گئی اور بالآخر اسے کنارے پر چھوڑ دیا گیا، جہاں آج بھی یہ زنگ آلود حالت میں موجود ہے۔ �
Dawn +1
حکومت اور ورثہ کے ماہرین کئی برسوں سے اسے محفوظ کرکے میوزیم منتقل کرنے کی تجویز دیتے رہے ہیں۔ �
Dawn +1
⚠️ اہم نوٹ
1917ء میں وقف کیے جانے اور نواب صادق محمد خان عباسی پنجم (V) سے متعلق روایات مختلف ذرائع میں مختلف انداز سے بیان ہوئی ہیں۔ جبکہ 1867ء میں تعمیر اور Thomas Reid & Sons کی معلومات نسبتاً زیادہ مستند ذرائع (جیسے Dawn اور دیگر تاریخی حوالوں) میں یکساں ملتی ہیں۔ �

سردار عبدالرب نشتر صاحب ۔۔۔۔۔بعض اوقات ایسے لوگ بھی زمین پہ اترتے ہیں جو ایک عہد ایک زمانہ اور تاریخ ہوتے ہیں ۔سردار عبد...
30/07/2026

سردار عبدالرب نشتر صاحب ۔۔۔۔۔
بعض اوقات ایسے لوگ بھی زمین پہ اترتے ہیں جو ایک عہد ایک زمانہ اور تاریخ ہوتے ہیں ۔
سردار عبدالرب نشتر صاحب بھی تاریخ پاکستان کے ایک ایسے کردار کا نام ہے ۔بانئ پاکستان کے قریبی دوست اور مشیر خاص سردار عبدالرب نشتر صاحب صوبہ سرحد جس کا موجودہ نام خیبرپختونخوا ( کےپی کے) ہے اس کے دارالحکومت پشاور میں 13 جون 1899 کو پیدا ہوئے۔۔ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد آپ اعلیٰ تعلیم کے لیے بیرون ملک چلے گئے۔۔۔۔
عبدالرب نشتر صاحب پاکستان میں بولی جانے والی سب زبانیں ایسے بولتے تھے جیسے انسان مادری زبان بولتا ہے ۔۔۔
قیام پاکستان کے بعد قائد اعظم نے سب سے بڑی زمہ داری سردار عبدالرب نشتر صاحب کوسونپی۔مطلب ابادی کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کا گورنر بنایا اور نشتر صاحب نے انتہائی خلوص اور زمہ داری اپنی زمہ داریاں ادا کیں۔
ملتان کے معزز خاندان گیلانی خاندان کے ایک بزرگ محمد موسیٰ خان گیلانی صاحب نے ملتان کے حوالے سے بہت ہی اہم کردار ادا کیا ۔
قیام پاکستان سے پہلے 1945 میں ڈاکٹر جمال بھٹہ صاحب نے ملتان میں ایک میڈیکل کالج کا سوچا اور اس وقت کے ارباب اختیار لوگوں کو رائے دی۔۔۔۔
جس کاپاکستان بننے کے تین سال بعد 31 دسمبر 1950 کو سردار عبدالرب نشتر صاحب نے باقاعدہ اعلان کیا ۔اور سردار عبدالرب نشتر صاحب نے 28 اپریل 1951 کو خود سنگ بنیاد رکھا ۔ 1953 میں جب ڈاکٹر محمد جمال بھٹہ صاحب Uk سے واپس آئے وہاں کی کچھ ہسپتال اور عمارات دیکھ کر انہیں کی ڈیزائن سے تعمیرات کا کام شروع کر دیا ۔۔
سردار صاحب کے نام کی نسبت اس میڈیکل کالج اور ہسپتال کا نام نشتر ہسپتال رکھا گیا ۔۔
نشتر ہسپتال پاکستان کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا ہسپتال ہے اور براعظم ایشیا کا دوسرا بڑا ہسپتال ہے۔۔۔
عبدالرب نشتر صاحب ایک فرض شناس گورنر رہے ۔عوام کی خدمت کو فرض عین سمجھتے تھے۔
اگر کسی محکمے کے کسی افسر کی کوئی شکایت کرتا تو اس وقت تک کوئی قدم نہ اٹھاتے جب تک خود اس افسر کی آزمائش نہ کرتے ۔ان کی زندگی کا ایک مشہور واقعہ ہے کہ کسی نے عبدالرب نشتر صاحب سے شکایت کی کہ فلاں تھانے کاعملہ اور تھانیدار کسی غریب کی سنتاہی نہیں ۔
پڑتال کرنے کے لیے خود کرتا اور تہبند )لنگی) اور سر پہ پگڑی باندھ کر پورے دیہاتی بن کر تھانے پہنچ گئے ۔ پولیس والے تاش کھیل رہے تھے اس نے سلام کیا اور سائل اور مظلوم کے لہجے میں کہا "" میں ایک گدھے پہ چوبیس کلو آٹا لے کر جارہا تھا دو آدمی مجھے مارا پیٹا اور میرا آٹا اور گدھا مجھ سے چھین کر چلے گئے ۔آپ میں سے کوئی ایک ملازم میرے ساتھ چلے وہ اپ کے ڈر سے مجھے میرا آٹا واپس کردے گا اور میرے بھوکے بچے شام کو کھانا کھاکر آپ کو دعا دیں گے ۔""
پولیس والوں نے کہا ہم اپنے افسر کی اجازت کے بغیر نہیں جا سکتے ۔
نشتر صاحب نے کہا پھر افسر صاحب سے اجازت لیں ۔پولیس والے بولے وہ سوئے ہوئے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ جب میں سویا ہوا ہوں تو کسی کا قتل ہی کیوں نہ ہوجائے مجھے نہیں جگانا ۔
نشتر صاحب نے کہا مہربانی کریں جگائیں ۔پولیس والے افسر ناراض ہوتا ہے اور گالیاں دیتا ہے۔
نشتر نے کہا آپ جگائیں میں خود اس کے غصے اور گالیوں کا سامنا کروں گا ۔۔۔
ناراض ہو کر غصے میں آ بہت سی گالیاں دینے کے بعد انہوں نے تھانیدار کے کمرے پہ دستک دی کافی وقت کے بعد وہ بیدار ہوا آتے ہی اپنے عملے پہ برس پڑا ۔عملے نے کہا اس بڈھے نے پریشان کیا سرجی سوری۔۔۔
پھر افسر صاحب نشتر صاحب پہ بھی برس پڑے۔بڈھے( نشتر صاحب) نے کہا چاچا میں نے تو انہیں کہا کہ آپ میرے ساتھ چلے جائیں میرا کام ہوجائے گا۔لیکن انہوں نے کہا افسر کی اجازت کے بغیر نہیں جاسکتے تب میں نے کہا سر کو تکلیف دیں میرے بچے بھوکے ہیں ۔
اس مختصر گفتگو کے رپٹ لکھنا شروع ہوئے کہ فلاں رنگ کا گدھا،اتنا آٹا اس سائیڈ سفیدے کے درخت وغیرہ وغیرہ ۔
جب لکھ لیا تب محرر پوچھا آئیں انگوٹھا لگائیں اس جگہ پر ۔
نشتر نے کہا اگر میں اپنا لکھ سکتا ہوں تو لکھ سکتا ہوں۔
انہوں نے کہا لکھ سکتے ہیں ۔اس پہ سردار عبدالرب نشتر نے لکھا
سردار عبدالرب نشتر گورنر پنجاب ۔
افسر سلیوٹ کے لیے کھڑا ہوگیا ۔۔۔
نشتر صاحب نے عملہ بلوایا اور تھانے تعینات سب ملازمین تنخواہوں کاحساب کیا سب اثاثے اور جائداد یں بیچ کرحکومتی خزانے جمع کرائیں ۔سب کی نوکری ختم کردی اور سب کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھیج اور فیمیلیز سے مکمل تعاون کرتے رہے۔۔
پاکستان کا یہ فرض شناس اور ایماندار انسان ایک کامیاب زندگی گزارنے کے بعد14 فروری 1958 کو ہم سے بچھڑ گیا ۔
قائد اعظم اور نشتر صاحب ساری زندگی اکٹھے رہے قائد اعظم نے فرمایا تھا عبدالرب مجھے کبھی اکیلا نہیں چھوڑنا ۔
اس لیے وفات سے پہلے نشتر نے وصیت کی مجھے دوست یعنی قائد اعظم کی مزار کے احاطے میں دفن کر نا
پشاور کے پی کے
میں پیدا ہونے والے پنجاب میں راج کرنے والے
کراچی یعنی سندھ میں آسودہ خاک ہیں ۔

مالک سردار عبدالرب نشتر صاحب کی مرقد پہ رحمتوں کا نزول فرمائے آمین ثمہ آمین

🌊 دریاؤں اور ان کے ممالک — تاریخی پس منظرقدیم زمانے سے دریا انسانی تہذیبوں کی بنیاد رہے ہیں۔ دنیا کی پہلی عظیم تہذیبیں د...
19/07/2026

🌊 دریاؤں اور ان کے ممالک — تاریخی پس منظر
قدیم زمانے سے دریا انسانی تہذیبوں کی بنیاد رہے ہیں۔ دنیا کی پہلی عظیم تہذیبیں دریاؤں کے کنارے ہی پروان چڑھیں، جن میں وادیٔ سندھ، مصر، میسوپوٹیمیا اور چین کی تہذیبیں نمایاں ہیں۔ دریا صرف پانی کا ذریعہ نہیں بلکہ زراعت، تجارت، نقل و حمل اور ثقافتی ترقی کی علامت بھی رہے ہیں۔
آج بھی دنیا کے بڑے دریا مختلف ممالک کی معیشت، ماحول اور لاکھوں لوگوں کی زندگی کا اہم حصہ ہیں۔ ان دریاؤں اور ان سے وابستہ ممالک کو جاننا جغرافیہ اور عمومی معلومات (GK) کے لیے نہایت ضروری ہے۔
💬 آپ کو ان میں سے کتنے دریاؤں اور ان کے ممالک پہلے سے معلوم تھے؟ اپنا جواب کمنٹ میں ضرور بتائیں، اور ایسی مزید معلوماتی پوسٹس کے لیے پیج کو فالو کریں۔

کیا آپ جانتے ہیں؟آج کا ساہیوال ماضی میں مونٹگمری (Montgomery) کہلاتا تھا۔1967ء میں حکومتِ پاکستان نے اس کا نام تبدیل کرک...
19/07/2026

کیا آپ جانتے ہیں؟
آج کا ساہیوال ماضی میں مونٹگمری (Montgomery) کہلاتا تھا۔
1967ء میں حکومتِ پاکستان نے اس کا نام تبدیل کرکے ساہیوال رکھ دیا، جو مقامی ساہی قبیلے کی نسبت سے رکھا گیا۔
تاریخی پس منظر:
📜 1850 کی دہائی: برطانوی دور میں ضلع مونٹگمری قائم کیا گیا۔
📜 1865ء: مونٹگمری شہر کو باقاعدہ میونسپل درجہ ملا۔
📜 1967ء: شہر اور ضلع کا نام تبدیل کرکے ساہیوال رکھ دیا گیا۔
📜 4500–5000 سال قبل: ساہیوال کے قریب واقع ہڑپہ دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک کا اہم مرکز تھا۔

🚆 پاکستان ریلوے: ماضی، حال اور مستقبل 🇵🇰کبھی بھاپ کے انجن ترقی کی علامت تھے، آج ڈیزل اور جدید ٹرینیں ہمارے سفر کا حصہ ہی...
15/07/2026

🚆 پاکستان ریلوے: ماضی، حال اور مستقبل 🇵🇰
کبھی بھاپ کے انجن ترقی کی علامت تھے، آج ڈیزل اور جدید ٹرینیں ہمارے سفر کا حصہ ہیں، جبکہ دنیا 300 سے 350 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑنے والی ہائی اسپیڈ ٹرینوں تک پہنچ چکی ہے۔
سوال یہ ہے کہ پاکستان اس سفر میں کب شامل ہوگا؟ 🤔
کیا آپ کے خیال میں…
🟢 اگلے 10 سے 20 سال میں؟ 🟡 20 سے 30 سال میں؟ 🔵 50 سے 100 سال بعد؟ 🔴 یا پھر ابھی یہ صرف ایک خواب ہے؟
💬 اپنی رائے ضرور دیں، کیونکہ ہر بڑی تبدیلی پہلے ایک خیال ہی ہوتی ہے۔
اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ پاکستان جدید، تیز رفتار اور محفوظ ریلوے نظام کا مالک بنے، تو اس پوسسٹ کو لائک، شیئر کریں اور اپنی رائے کمنٹ میں ضرور لکھیں۔
"آج کی سوچ ہی کل کا مستقبل بناتی ہے۔" 🇵🇰🚄

لاہور کی جیل روڈ پر واقع ایک ایسا ادارہ، جسے لوگ آج بھی "مینٹل ہسپتال" کے نام سے جانتے ہیں، لیکن اس کا اصل نام پنجاب انس...
14/07/2026

لاہور کی جیل روڈ پر واقع ایک ایسا ادارہ، جسے لوگ آج بھی "مینٹل ہسپتال" کے نام سے جانتے ہیں، لیکن اس کا اصل نام پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ (PIMH) ہے۔ یہ صرف ایک ہسپتال نہیں بلکہ برصغیر میں نفسیاتی علاج کی ایک طویل تاریخ کا امین بھی ہے۔
انیسویں صدی کے آغاز میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دربار سے وابستہ ہنگری کے معالج ڈاکٹر جوہان مارٹن ہونگبرگر نے لاہور میں ذہنی امراض کے مریضوں کے علاج کا آغاز کیا۔ بعد ازاں برطانوی دور میں ایک مستقل ادارہ قائم کرنے کی منصوبہ بندی ہوئی۔
1900ء میں موجودہ جیل روڈ پر تقریباً 172 ایکڑ رقبے پر لاہور مینٹل ہسپتال تعمیر کیا گیا۔ اس زمانے میں اسے سنٹرل لونیٹک اسائلم بھی کہا جاتا تھا۔ وقت کے ساتھ یہاں نئی عمارتیں، وارڈز اور علاج کی جدید سہولتیں شامل ہوتی گئیں، اور مریضوں کی تعداد بھی بڑھتی گئی۔
قیامِ پاکستان کے بعد یہ ملک کے تین بڑے سرکاری ذہنی امراض کے مراکز میں شامل تھا۔ کئی دہائیوں تک پنجاب اور ملک کے دیگر علاقوں سے مریض یہاں علاج کے لیے آتے رہے۔
1996ء میں اس کا نام گورنمنٹ ہسپتال فار سائیکیاٹرک ڈیزیزز رکھا گیا، جبکہ 2002ء میں اسے موجودہ نام پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ دیا گیا۔ اس تبدیلی کے ساتھ علاج، تدریس، تحقیق اور بحالی کے شعبوں کو بھی وسعت دی گئی۔
آج اس ادارے میں آؤٹ ڈور، ان ڈور، ایمرجنسی، بحالی مرکز، نشے کے عادی افراد کے علاج، خواتین کے لیے خصوصی سہولیات اور نفسیاتی تعلیم و تحقیق کے شعبے بھی موجود ہیں۔
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں ذہنی بیماری کو آج بھی ایک سماجی داغ سمجھا جاتا ہے، حالانکہ ماہرین کے مطابق ذہنی امراض بھی جسمانی بیماریوں کی طرح قابلِ علاج ہیں۔ یہی ادارہ گزشتہ ایک صدی سے لاکھوں مریضوں کے علاج اور بحالی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
یہ تھا لاہور کے تاریخی مینٹل ہسپتال، یعنی پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ کی کہانی؛ ایک ایسا ادارہ جو وقت کے ساتھ بدلتا رہا، مگر اس کا مقصد ہمیشہ ایک ہی رہا—امید، علاج اور بحالی۔

لاہور 1974: ایک تصویر، کئی قتل، ایک پھانسی، ایک پراسرار موت—جب سب رہنما چُن چُن کر مارے گئے22 سے 24 فروری 1974 تک لاہور ...
13/07/2026

لاہور 1974: ایک تصویر، کئی قتل، ایک پھانسی، ایک پراسرار موت—جب سب رہنما چُن چُن کر مارے گئے

22 سے 24 فروری 1974 تک لاہور میں دوسری اسلامی سربراہی کانفرنس منعقد ہوئی۔ مختلف تاریخی ریکارڈ تعداد میں معمولی فرق بیان کرتے ہیں، تاہم ایک تحقیقی جائزے کے مطابق تقریباً 37 ممالک اور 38 نمایاں رہنما یا حکومتی شخصیات شریک ہوئیں؛ ان میں چھ بادشاہ، بارہ صدور، چھ وزرائے اعظم اور آٹھ وزرائے خارجہ شامل تھے۔ کانفرنس کے مرکزی موضوعات فلسطین، بیت المقدس، 1973 کی عرب اسرائیل جنگ کے اثرات اور مسلم ممالک کے درمیان سیاسی و اقتصادی تعاون تھے۔ اسی اجتماع کے ماحول میں پاکستان نے بنگلہ دیش کو تسلیم کیا اور شیخ مجیب الرحمٰن لاہور پہنچے۔

شاہ فیصل: کانفرنس کے صرف تیرہ ماہ بعد قتل

سعودی عرب کے شاہ فیصل اس کانفرنس کے سب سے نمایاں رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے۔ 1973 کی جنگ کے دوران تیل کو سیاسی دباؤ کے طور پر استعمال کرنے کی وجہ سے وہ مسلم دنیا میں غیر معمولی مقبولیت حاصل کر چکے تھے۔

25 مارچ 1975 کو ریاض میں ایک سرکاری مجلس کے دوران ان کے بھتیجے شہزادہ فیصل بن مساعد نے انتہائی قریب سے گولیاں مار کر انہیں قتل کردیا۔ قاتل گرفتار اور بعد میں سزائے موت دے دی گئی، لیکن یہ دعویٰ کہ شاہ فیصل کو لازماً تیل کی پابندی یا لاہور کانفرنس کے کسی فیصلے کی وجہ سے قتل کرایا گیا، کسی عدالتی یا قابلِ اعتماد تاریخی تحقیق سے ثابت نہیں ہوا۔ قتل یقینی ہے؛ اس کے پیچھے عالمی سازش کا دعویٰ قیاس ہے۔

شیخ مجیب الرحمٰن: خاندان سمیت گولیوں کا نشانہ

بنگلہ دیش کے بانی شیخ مجیب الرحمٰن کی لاہور آمد خود ایک تاریخی واقعہ تھی۔ صرف ڈیڑھ سال بعد، 15 اگست 1975 کی صبح، بنگلہ دیشی فوج کے باغی افسروں نے ڈھاکا میں ان کی رہائش گاہ پر حملہ کیا۔ شیخ مجیب کے ساتھ ان کے خاندان کے بیشتر افراد، حتیٰ کہ کم عمر بچے بھی قتل کردیے گئے۔

یہ قتل ایک داخلی فوجی بغاوت کا حصہ تھا جس کے فوراً بعد اقتدار تبدیل ہوگیا۔ یہ ایک خوفناک سیاسی قتل تھا، لیکن اسے شاہ فیصل کے قتل یا کسی مشترکہ “اسلامی رہنماؤں کے خاتمے کے منصوبے” سے جوڑنے کے لیے کوئی قابلِ تصدیق ثبوت موجود نہیں۔

ذوالفقار علی بھٹو: میزبان سے پھانسی کے تختے تک

لاہور کانفرنس کے میزبان ذوالفقار علی بھٹو اس اجتماع کے مرکز میں تھے۔ چند برس بعد ان کے اپنے مقرر کردہ آرمی چیف جنرل ضیاء الحق نے حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ بھٹو پر ایک سیاسی مخالف کے قتل کی سازش کا مقدمہ چلایا گیا اور 4 اپریل 1979 کو انہیں راولپنڈی جیل میں پھانسی دے دی گئی۔

بھٹو کی موت محض ایک متنازع سیاسی بحث نہیں رہی۔ مارچ 2024 میں پاکستان کی سپریم کورٹ نے متفقہ طور پر قرار دیا کہ بھٹو کے مقدمے میں منصفانہ سماعت اور قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے تھے۔ یوں لاہور کانفرنس کے میزبان کا انجام واقعی غیر فطری، ریاستی اور عدالتی طاقت کے ذریعے ہوا—مگر اس کے ذمہ دار پاکستان کے اندر فوجی اقتدار، عدالتی عمل اور سیاسی انتقام تھے؛ کسی بین الاقوامی سازش کا ثابت شدہ مقدمہ نہیں۔

ہواری بومدین: موت مشکوک کہی گئی، مگر طبی ریکارڈ بیماری بتاتا ہے

الجزائر کے صدر ہواری بومدین وہ رہنما تھے جنہوں نے شیخ مجیب الرحمٰن کو لاہور لانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی 27 دسمبر 1978 کو صرف 46 برس کی عمر میں موت ہوگئی، جس نے افواہوں کو جنم دیا۔

تاہم اس زمانے کی طبی اور صحافتی رپورٹیں بتاتی ہیں کہ وہ کئی ماہ سے والڈنسٹروم نامی خون کی ایک نایاب بیماری میں مبتلا تھے، بیرونِ ملک علاج بھی ہوا اور موت سے پہلے تقریباً چالیس روز کوما میں رہے۔ لہٰذا ان کی موت کو قطعی طور پر قتل یا زہر دینے کا نتیجہ کہنا دستیاب شواہد کے خلاف ہے۔

انور سادات: فوجی پریڈ میں قتل

مصر کے صدر انور سادات کو 6 اکتوبر 1981 کو قاہرہ میں فوجی پریڈ کے دوران مصری فوج سے وابستہ شدت پسند حملہ آوروں نے گولیاں مار کر قتل کردیا۔ ان کے خلاف داخلی مخالفت، حکومت کی سخت کارروائیاں اور اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ بڑے سیاسی عوامل تھے۔

سادات کا قتل بھی حقیقی اور انتہائی ڈرامائی تھا، مگر قاتل، تنظیم، مقام اور سیاسی پس منظر شاہ فیصل، مجیب یا بھٹو کے واقعات سے بالکل مختلف تھے۔ ان الگ الگ واقعات کو صرف ایک مشترکہ تصویر کی بنیاد پر ایک ہی خفیہ منصوبے کا حصہ قرار دینا تاریخ نہیں، مفروضہ ہے۔

یاسر عرفات: موت آج تک سوالیہ نشان

فلسطینی رہنما یاسر عرفات نومبر 2004 میں فرانس کے ایک فوجی ہسپتال میں اچانک بیماری کے بعد انتقال کرگئے۔ ان کی موت پر زہر دینے کا شبہ پیدا ہوا۔ سوئس ماہرین کی ایک تحقیق نے پولونیم سے زہر دینے کے مفروضے کو “درمیانے درجے” کی تائید فراہم کی، مگر اسے قطعی ثبوت قرار نہیں دیا۔ فرانسیسی ماہرین نے زہر کی تھیوری مسترد کی، روسی ماہرین کو بھی فیصلہ کن ثبوت نہ ملا اور فرانس میں قتل کی تحقیقات بغیر کسی فرد پر الزام عائد کیے بند کردی گئیں۔

عرفات کی موت یقیناً متنازع اور غیر واضح ہے، مگر اسے ثابت شدہ قتل کہنا اتنا ہی غیر محتاط ہے جتنا اسے مکمل طور پر معمول کی قدرتی موت قرار دینا۔

معمر قذافی: زندہ گرفتار، پھر لاش برآمد

لیبیا کے معمر قذافی 20 اکتوبر 2011 کو سرت کے قریب باغی جنگجوؤں کے ہاتھوں زندہ پکڑے گئے۔ ویڈیوز میں انہیں گرفتاری کے بعد زندہ دیکھا گیا، لیکن کچھ دیر بعد وہ مردہ تھے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ان کی موت کے درست حالات آج تک پوری طرح واضح نہیں ہوئے

اور مضبوط امکان موجود ہے کہ انہیں گرفتاری کے بعد قتل کیا گیا

مدینہ منورہ اور جبلِ احد کے درمیان واقع تاریخی ’مسجدِ اَلدِّرْعْ‘ (مسجدِ شیخین) کے اندرونی مناظر سوشل میڈیا پر زائرین کی...
11/07/2026

مدینہ منورہ اور جبلِ احد کے درمیان واقع تاریخی ’مسجدِ اَلدِّرْعْ‘ (مسجدِ شیخین) کے اندرونی مناظر سوشل میڈیا پر زائرین کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں، جہاں غزوہ احد کے سفر کے دوران نبی کریم ﷺ نے قیام فرمایا تھا۔
تاریخی شواہد کے مطابق مسجدِ الدرع کے اس متبرک مقام پر آپ ﷺ نے غزوہ احد کے لیے روانگی کے وقت ظہر،عصر، مغرب اور عشاء کی نمازیں ادا کیں اور اگلے دن کی فجر کی نماز ادا کی۔
عربی زبان میں زرہ بکتر کو ’درع‘ کہا جاتا ہے اور چونکہ سرورِ کائنات ﷺ نے جنگ کی تیاری کے طور پر اسی جگہ اپنی مبارک زرہ زیبِ تن فرمائی تھی، اسی مناسبت سے یہ تاریخی مسجد ’مسجدِ الدرع‘ کے نام سے مشہور ہے جو سیاہ پتھروں سے بنی اپنی قدیم اور خوبصورت طرزِ تعمیر کی وجہ سے آج بھی زائرین کے لیے گہری عقیدت کا باعث ہے۔

Address

ساہیوال پنجاب پاکستان

Telephone

+923216916251

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Qaiser Qayyum posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share