11/08/2026
مدینہ کا محافظ — وہ سپہ سالار جس نے کہا: ’’میں مدینہ نہیں چھوڑوں گا‘‘ اور رسول الله کے شہر روضۂ مبارک کی حفاظت کی !
تاریخ کے اوراق میں ایک ایسا عثمانی سپہ سالار بھی گزرا ہے جس نے اپنی زندگی کا سب سے بڑا معرکہ کسی تخت، سلطنت یا دولت کے لیے نہیں بلکہ مدینہ منورہ کے دفاع کے لیے لڑا۔
وہ شخص جسے تاریخ آج ’’مدینہ کا محافظ‘‘ کہتی ہے۔
اس کا اصل نام عمر فخرالدین تھا، مگر دنیا اسے فخرالدین پاشا کے نام سے جانتی ہے۔
پہلی جنگ عظیم اپنے عروج پر تھی۔ برطانیہ اور اس کے اتحادی سلطنتِ عثمانیہ کو مختلف محاذوں پر کمزور کرنے میں مصروف تھے۔ اسی دوران حجاز میں عثمانی اقتدار کے خلاف عرب بغاوت شروع ہوئی۔ شریفِ مکہ حسین بن علی اور ان کے بیٹوں کی افواج نے برطانوی حمایت کے ساتھ عثمانی علاقوں پر حملے شروع کیے۔ ٹی۔ ای۔ لارنس، جسے دنیا ’’لارنس آف عریبیہ‘‘ کے نام سے جانتی ہے، بھی اس مہم میں اہم کردار ادا کر رہا تھا۔ مدینہ، جہاں مسجدِ نبوی ﷺ واقع تھی، اس جنگ کا سب سے حساس مقام بن گیا۔
اور پھر وہاں پہنچا ایک ایسا سپہ سالار جس کے لیے مدینہ صرف ایک شہر نہیں تھا۔
مدینہ اس کے ایمان کا حصہ تھا۔
فخرالدین پاشا نے مدینہ کے دفاع کی ذمہ داری سنبھالی تو اسے اندازہ تھا کہ دشمن کی تعداد زیادہ ہے، رسد کم ہے اور مدد کے راستے ایک ایک کرکے بند کیے جا رہے ہیں۔
حجاز ریلوے پر حملے ہونے لگے۔ بیرونی امداد تقریباً ناممکن ہوگئی۔ شہر کا محاصرہ سخت ہوتا گیا۔
مگر مدینہ کا محافظ پیچھے نہ ہٹا۔
تاریخی روایات کے مطابق مدینہ پر مسلسل حملے ہوتے رہے، ریلوے لائن کو نشانہ بنایا گیا اور 30 اپریل 1918 کو صرف ایک دن میں تین سو سے زیادہ بم برسائے گئے۔
لیکن مدینہ پھر بھی کھڑا رہا۔
پھر وہ دن آیا جب دنیا کی جنگ ختم ہوگئی۔
30 اکتوبر 1918 کو سلطنتِ عثمانیہ نے جنگ بندی قبول کرلی۔
فوجوں کو ہتھیار ڈالنے کے احکامات مل گئے۔
مگر مدینہ میں ایک شخص نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کردیا۔
وہ تھا…
فخرالدین پاشا۔
دنیا کے دوسرے محاذ خاموش ہو چکے تھے، مگر مدینہ کا محاذ ابھی زندہ تھا۔
جنگ ختم ہوچکی تھی، مگر فخرالدین پاشا کے نزدیک شاید ایک اور جنگ باقی تھی:
مدینہ کی حرمت کی جنگ۔
وہ تقریباً 72 دن تک جنگ بندی کے بعد بھی مدینہ میں ڈٹا رہا۔ بالآخر 10 جنوری 1919 کو اسے مدینہ چھوڑنا پڑا۔
ایک طرف دنیا کی بڑی طاقتیں تھیں۔
دوسری طرف محصور شہر۔
نہ مناسب رسد۔
نہ کمک۔
نہ واپسی کا محفوظ راستہ۔
اور سامنے صرف ایک سوال:
کیا مدینہ کو چھوڑ دیا جائے؟
فخرالدین پاشا کا جواب تھا:
نہیں۔
اس کے لیے مدینہ محض ایک فوجی چوکی نہیں تھا۔
یہ وہ شہر تھا جہاں رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تھے۔
وہ شہر جہاں مسجدِ نبوی ﷺ تھی۔
وہ شہر جہاں نبی کریم ﷺ کا روضۂ اقدس ہے۔
اسی نسبت نے اس سپہ سالار کے عزم کو عام جنگ سے کہیں آگے بڑھا دیا۔
کہا جاتا ہے کہ فخرالدین پاشا نے مدینہ کے مقدس آثار اور اہم اسلامی مخطوطات کو جنگ کی تباہی سے بچانے کے لیے استنبول منتقل کروایا، تاکہ وہ حملوں میں ضائع نہ ہوجائیں۔
مگر آخرکار وہ وقت بھی آیا جب مدینہ کا محاذ ٹوٹ گیا۔
10 جنوری 1919 کو فخرالدین پاشا گرفتار ہوگیا۔
وہ قیدی بنا دیا گیا۔
پھر مصر اور مالٹا کی قید میں رہا۔
لیکن عجیب بات دیکھیے…
جس شخص نے مدینہ نہیں چھوڑا، تاریخ نے بھی اسے نہیں چھوڑا۔
اس کے مخالفین نے بھی اس کی استقامت کو تسلیم کیا اور اسے ’’Tiger of the Desert‘‘ — صحرائی چیتا جیسے القابات سے یاد کیا گیا۔ البتہ اس لقب کے برطانوی ماخذ کے بارے میں تاریخی بحث بھی موجود ہے، اس لیے اسے قطعی طور پر براہِ راست کسی ایک برطانوی شخصیت سے منسوب کرنا محتاط رویہ نہیں ہوگا۔
آج تقریباً ایک صدی بعد بھی فخرالدین پاشا کا نام جب مدینہ کے دفاع کے ساتھ لیا جاتا ہے تو ذہن میں ایک سوال ضرور آتا ہے:
آخر اس شخص میں ایسی کیا چیز تھی کہ دنیا کی ایک بڑی جنگ ختم ہوگئی، سلطنت ٹوٹ گئی، راستے بند ہوگئے، مگر وہ مدینہ سے دستبردار نہ ہوا؟
شاید جواب اس کی فوجی تربیت میں نہیں…
اس کے دل میں تھا۔
وہ مدینہ کو نقشے پر بنا ہوا ایک شہر نہیں سمجھتا تھا۔
وہ اسے اپنے محبوب ﷺ کا شہر سمجھتا تھا۔
اور کبھی کبھی انسان کی سب سے بڑی طاقت اس کے ہتھیار نہیں ہوتے…
اس کی محبت ہوتی ہے۔
فخرالدین پاشا ہار گیا یا جیت گیا؟
فوجی تاریخ شاید اس سوال کا اپنا جواب دے۔
مگر محبت کی تاریخ کا جواب مختلف ہے۔
کیونکہ وہ شخص جس نے مدینہ کی گلیوں، مسجدِ نبوی ﷺ کی نسبت اور اپنے ایمان کی خاطر آخری حد تک کھڑے رہنے کا فیصلہ کیا…
وہ آج بھی تاریخ کے ایک روشن باب میں زندہ ہے:
فخرالدین پاشا — مدینہ کا محافظ۔
اس عظیم شخص کو آپ کیسے سلام پیش کریں گے ؟