26/04/2026
عارف والا کے گاؤں 149 ای بی میں فارمیسی پر فائرنگ کی ویڈیو زیر گردش ہے۔
اس ویڈیو کے پس منظر میں فریقین کے درمیان جاری باہمی رنجش کے نتیجہ میں واقعات کا ایک تسلسل سامنے آیا ہے،
اب تک کی معلومات کے مطابق تھانہ صدر کے ایس ایچ او کی نااہلی ان واقعات کی مؤجب ہے۔
تفصیلات کے مطابق
جس کا آغاز تھانہ صدر عارفوالہ میں مقدمہ نمبر 455/26 کے اندراج سے ہوا، جس میں مدعی صغیر احمد نے مخالفین کے خلاف فائرنگ، گھر میں داخل ہونے اور دیگر الزامات عائد کیے۔ مذکورہ مقدمہ کے اندراج کے فوراً بعد اسی تنازعہ کے ردِعمل میں تھانہ سٹی عارفوالہ میں مقدمہ نمبر 761/26 درج کیا گیا،
جس میں مدعی محمد آصف اکرم نے صغیر اور اس کے ساتھیوں کے خلاف کلاشنکوف سے فائرنگ، جان کو خطرہ اور املاک کو نقصان پہنچانے کا الزام لگایا۔ اس کے ساتھ ہی اسی سلسلہ میں محمد سفیان ولد محمد اکرم کی جانب سے تھانہ صدر عارفوالہ میں ایک باقاعدہ درخواست بھی دی گئی۔
جس میں متعدد مقامات (گھر، دکان اور فارم) پر مسلسل فائرنگ، جان سے مارنے کی کوشش، املاک کو نقصان اور علاقے میں خوف و ہراس پھیلانے کے سنگین الزامات بیان کیے گئے، مگر اس درخواست پر پولیس کی جانب سے کوئی مؤثر قانونی کارروائی عمل میں نہ لائی گئی اور نہ ہی اسے مقدمہ میں تبدیل کیا گیا۔
نتیجتاً حالات میں کشیدگی برقرار رہی اور مناسب قانونی کارروائی نہ ہونے کے باعث صورتحال مزید بگڑ گئی، اور ملزمان کی جانب سے مبینہ طور پر شوٹرز کی مدد سے مزید کارروائیاں عمل میں لائی گئیں، جس کے بعد مورخہ 24.04.2026 کو ایک مزید سنگین واقعہ پیش آیا جس کی بنیاد پر تھانہ صدر عارفوالہ میں مقدمہ نمبر 476/26 درج کیا گیا، جس میں براہ راست فائرنگ کر کے صغیر احمد کو زخمی کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔
اس طرح تمام واقعات کا مجموعی جائزہ لینے سے واضح ہوتا ہے کہ مقدمہ 455/26 کے اندراج کے بعد ردِعمل میں مقدمہ 761/26 درج ہوا، تاہم سفیان کی درخواست پر بروقت کارروائی نہ ہونے کی وجہ سے تنازعہ میں شدت آئی اور بالآخر مقدمہ 476/26 جیسے مزید سنگین وقوعہ کا باعث بنی.
اہل علاقہ کی آر پی او ساہیوال سے گزارش ہے کہ فوری طور پر اس سارے معاملے کے بارے میں خود تحقیقات کروائیں اور پولیس کے افسران کو لاپرواہی برتنے پر کرار واقعی سزا دیں اور اپنے زیر سایہ اس معاملے کو ختم کروایں۔
دونوں گروہوں کو غیر مسلح کروائیں اور ذمہ داران کا تعین کریں
゚viralシfypシ゚viralシalシ