28/06/2026
حضور ﷺ کے ذکر پر ترکوں کا سینے پر ہاتھ رکھنے کا راز ترکیہ کی ثقافت اور تاریخ میں جب بھی سرور كائنات حضرت محمد مصطفى کا نام مبارک لیا جاتا ہے یا درود و سلام پڑھا جاتا ہے، تو وہاں کے لوگ فورا اپنا سيدها ہاتھ اپنے دل (سینے) پر رکھ لیتے ہیں اور احتراماً اپنا سر ہلکا سا جھکا لیتے ہیں۔ یہ کوئی عام رسم نہیں، بلکہ صدیوں پراني ايك ايسى روايت ہے جس کے پیچھے گہرے ایمانی جذبات چھپے ہوئے ہیں۔ اس خوبصورت عمل کی چند اہم وجوہات درج ذیل ہیں دل سے محبت کا اظہار ترکوں کا یہ ماننا ہے کہ پیارے نبی ﷺ کا نام گرامی صرف زبان سے ادا کرنے کی چیز نہیں، بلکہ اسے دل کی گہرائیوں سے محسوس کیا جانا چاہیے۔ سینے پر ہاتھ رکھ کر وہ یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یا رسول الله ﷺ آپ کا نام اور آپ کی یاد ہمارے دلوں میں بستی ہے"۔ عثمانی دور کی تعظیم و ادب سلطنت عثمانية )Ottoman Empire کے دور میں یہ آداب شاہی کا حصہ تھا کہ جب بھی کسی محفل میں سلطان کا ذکر ہوتا يا وه تشریف لاتے تو لوگ احتراماً سينے پر ہاتھ رکھتے تھے۔ ترکوں نے اسی تہذیب کو دنیا و آخرت کے سب سے بڑے سلطان، حضور اکرم ﷺ کی بارگاہ اقدس کے لیے مخصوص کر دیا، جو کہ تعظیم کی اعلیٰ ترین مثال ہے۔
روحانی تسکین اور جواب یہ عمل اس بات کی بھی علامت ہے کہ سننے والے نے درود پاک کو پورے خلوص، توجہ اور دلی آمادگی کے ساتھ قبول کیا ہے اور اس کا دل اپنے نبی ﷺ پر سلام بھیج رہا ہے۔