AQEEL EADIT

AQEEL EADIT الحمدللہ

اس تصویر کے بارے میں 3 اہم باتیں:1. سال: یہ تصویر تقریباً 1900-1904 کے درمیان لی گئی ہے۔ یعنی آج سے تقریباً 121-126 سال ...
06/09/2026

اس تصویر کے بارے میں 3 اہم باتیں:
1. سال: یہ تصویر تقریباً 1900-1904 کے درمیان لی گئی ہے۔ یعنی آج سے تقریباً 121-126 سال پہلے۔
2. *جگہ*: یہ *قبۃ الصخرہ - Dome of the Rock* کا سامنے والا حصہ ہے جو حرم شریف کے احاطے میں ہے۔
3. *مطلب*: یہ امت کی آخری متحدہ طاقت کی ایک نشانی تھی۔ اس کے بعد پہلی جنگِ عظیم کے بعد عثمانی خلافت ختم ہوئی اور بیت المقدس پہلے برطانیہ کے انتظام میں آیا، پھر بعد میں...

عثمانی دور کے 400 سالوں میں بیت المقدس میں امن تھا اور تمام مذاہب کو عبادت کی آزادی تھی۔ اسی وجہ سے بہت سے لوگ اس دور کو "عزت اور وقار" کا دور کہتے ہیں۔

اللہ کرے امت کو ایک بار پھر ایسا اتحاد اور قوت نصیب ہو۔ آمین 🤲
#

صحرا کا  شیر مانا جانے والا مسلمان  مجاہد   جسے جنگ ترک کرنے کے بدلے ماہانہ وظیفہ کی لالچ دی اور اسکا جواب تھا "ہم ھتیار...
27/08/2026

صحرا کا شیر مانا جانے والا مسلمان مجاہد جسے جنگ ترک کرنے کے بدلے ماہانہ وظیفہ کی لالچ دی اور اسکا جواب تھا "ہم ھتیار نہیں ڈالتے ہم یا تو غازی ہوتے ہیں یا شہید "
عمر مختار وہ بوڑھا شیر جس نے آزادی کے لیے پھانسی کا پھندا چوم لیا

تاریخ میں کچھ لوگ اپنی زندگی سے زیادہ اپنی موت کی وجہ سے زندہ رہتے ہیں۔ ان کے جسم مٹی میں اتر جاتے ہیں، مگر ان کا نام آنے والی نسلوں کے دلوں میں بغاوت، غیرت اور آزادی کی آگ بن کر جلتا رہتا ہے۔ عمر مختار بھی ایسی ہی ایک عظیم شخصیت تھے، جنہیں دنیا آج بھی "صحرا کا شیر" کے نام سے یاد کرتی ہے۔

اس کے سامنے ایک طاقتور سامراجی سلطنت تھی، اس کے پاس جدید اسلحہ تھا، جنگی طیارے تھے، ٹینک تھے، فوج تھی، مگر عمر مختار کے پاس ایک چیز تھی جسے کوئی فوج شکست نہیں دے سکتی: اللہ پر ایمان اور آزادی کا عشق۔

عمر مختار تقریباً 1858ء میں لیبیا کے علاقے برقه میں پیدا ہوئے۔ وہ سنوسی تحریک سے وابستہ تھے اور ابتدائی زندگی میں قرآن، دین اور تعلیم سے گہرا تعلق رکھتے تھے۔ ایک وقت تھا جب وہ بچوں کو پڑھاتے تھے، لوگوں کی اصلاح کرتے تھے اور دینی علم پھیلاتے تھے۔

کسی نے شاید یہ نہیں سوچا ہوگا کہ یہ خاموش طبیعت استاد ایک دن دنیا کی ایک بڑی سامراجی طاقت کے خلاف ایسی مزاحمت کرے گا کہ اس کا نام تاریخ میں ہمیشہ کے لیے لکھا جائے گا۔

1911ء میں اٹلی نے لیبیا پر حملہ کر دیا۔ اٹلی کے پاس جدید ترین ہتھیار تھے، جبکہ لیبیا کے عوام وسائل کے اعتبار سے کمزور تھے۔ مگر عمر مختار نے ہتھیار ڈالنے کے بجائے مزاحمت کا راستہ اختیار کیا۔

اور پھر صحرا، پہاڑ اور جنگلات عمر مختار کے میدانِ جنگ بن گئے۔

بیس سال تک ایک بوڑھا شخص سلطنت کے لیے خوف بنا رہا

عمر مختار نے گوریلا جنگ کی حکمت عملی اپنائی۔ وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ اچانک حملہ کرتے اور پھر صحرا کی وسعتوں میں غائب ہو جاتے۔ اٹلی کی جدید فوج ان کے حوصلے اور حکمت عملی سے پریشان تھی۔

سال گزرتے گئے۔

ایک، دو، پانچ نہیں بلکہ تقریباً دو دہائیوں تک عمر مختار نے اطالوی قبضے کے خلاف مزاحمت جاری رکھی۔

ان کی عمر بڑھتی گئی، جسم کمزور ہوتا گیا، بال سفید ہو گئے، مگر آزادی کی جنگ لڑنے والا یہ بوڑھا شیر جھکا نہیں۔

دشمن کے لیے سب سے بڑی پریشانی یہ تھی کہ وہ عمر مختار کو شکست نہیں دے پا رہا تھا۔
اس شیر مجاہدکو جنگ ترک کرنے کے بدلے ماہانہ وظیفہ ، مصر میں محل کی لالچ دی اور اسکا جواب تھا
"ہم ھتیار نہیں ڈالتے ہم یا تو غازی ہوتے ہیں یا شہید "

آخرکار اطالوی حکام نے صرف جنگ کے ذریعے نہیں بلکہ لیبیا کے عوام پر شدید ظلم و ستم کے ذریعے مزاحمت کو توڑنے کی کوشش کی۔ ہزاروں لوگوں کو قید کیا گیا، جبری کیمپوں میں بھیجا گیا اور سخت پالیسیاں نافذ کی گئیں۔

1931ء میں ایک معرکے کے دوران عمر مختار زخمی حالت میں گرفتار ہو گئے۔

ان پر ایک مختصر عدالتی کارروائی کی گئی۔ فیصلہ پہلے ہی لکھا جا چکا تھا۔

سزا تھی: پھانسی۔

کہا جاتا ہے کہ عدالت میں جب ان سے متعلق گفتگو ہو رہی تھی تو ایک اطالوی افسر نے ان کے انجام پر افسوس کا اظہار کیا۔ مگر عمر مختار جانتے تھے کہ آزادی کی جنگ میں کبھی کبھی ایک انسان کا جسم ختم ہوتا ہے تاکہ ایک پوری قوم کی روح زندہ ہو جائے۔

ان کے چہرے پر خوف نہیں تھا۔

کیونکہ جو شخص زندگی اللہ کے لیے گزار دے، وہ موت سے کیا ڈرے؟

16 ستمبر 1931ء: وہ دن جب جسم کو پھانسی ملی، مگر نام ہمیشہ کے لیے زندہ ہو گیا

کچھ لوگ قبر میں دفن نہیں ہوتے… وہ تاریخ کے سینے میں ہمیشہ کے لیے زندہ ہو جاتے ہیں۔
عمر مختار بھی انہی لوگوں میں سے ایک تھے۔
خدا پاک ہمارے اندر بھی ایمان کی ایسی طاقت پیدا کرے... آمین

رات کے پچھلے پہر ایک اہم سرکاری دستاویز دستخط کے لیے لائی گئی… مگر سلطان عبدالحمید خانؒ نے دروازہ کھولنے سے پہلے وضو کیا...
27/08/2026

رات کے پچھلے پہر ایک اہم سرکاری دستاویز دستخط کے لیے لائی گئی… مگر سلطان عبدالحمید خانؒ نے دروازہ کھولنے سے پہلے وضو کیا۔ 🥺❤️‍🔥

روایت ہے کہ مابین کے چیف سیکریٹری اسعد بے ایک نہایت اہم سرکاری کاغذ پر سلطان کے دستخط کروانے کے لیے رات گئے اُن کے دروازے پر پہنچے۔ پہلی دستک پر ہی سلطان بیدار ہوگئے، لیکن دروازہ فوراً نہ کھولا۔ کچھ دیر بعد جب باہر تشریف لائے تو ہاتھ میں تولیہ تھا۔

روایت کے مطابق سلطان نے فرمایا: "مجھے پہلی دستک ہی سے معلوم ہوگیا تھا کہ آپ کسی اہم کام کے لیے آئے ہیں، لیکن میں وضو کرنے چلا گیا تھا، اسی لیے دیر ہوگئی۔" پھر ایک ایسی بات کہی جو آج بھی دل کو چھو جاتی ہے: "میں نے آج تک اپنی قوم کی کسی دستاویز پر بے وضو دستخط نہیں کیے۔"

اس کے بعد بسم اللہ پڑھ کر دستاویز پر دستخط کیے۔

سوچیں… ایک طرف سلطنت کے بے شمار معاملات، دوسری طرف ایک سرکاری کاغذ؛ مگر سلطان عبدالحمیدؒ کے نزدیک دستخط بھی ایسی ذمہ داری تھی جسے وہ وضو اور اللہ کے سامنے جواب دہی کے احساس کے ساتھ ادا کرتے تھے۔

اسی روایت میں یہ بھی بیان کیا جاتا ہے۔ کہ سلطان اپنے سرہانے ایک اینٹ رکھتے تھے، تاکہ رات کو پانی میسر نہ ہو تو تیمم کرکے نماز کی تیاری کرسکیں۔

یہ صرف ایک حکمران کی سادگی کا واقعہ نہیں؛ یہ اُس ذہن کی تصویر ہے جہاں اقتدار سے پہلے عبادت، منصب سے پہلے ذمہ داری، اور دنیاوی فیصلوں سے پہلے اللہ کا خوف موجود تھا۔

آج ہمارے پاس سہولتیں بہت ہیں، مگر سوال یہ ہے: کیا ہمارے دل میں بھی اپنی ذمہ داری کے لیے وہی احساسِ جواب دہی باقی ہے؟ 🥺

صلاح الدین ایوبیؒ کی تلوار سے دنیا واقف تھی... مگر اُن کے عدل کی یہ داستان بھی پڑھیں! 👇صلاح الدین ایوبیؒ کا نام تاریخ می...
24/08/2026

صلاح الدین ایوبیؒ کی تلوار سے دنیا واقف تھی... مگر اُن کے عدل کی یہ داستان بھی پڑھیں! 👇

صلاح الدین ایوبیؒ کا نام تاریخ میں صرف ایک فاتح یا سپہ سالار کے طور پر نہیں، بلکہ ایک ایسے مجاہد حکمران کے طور پر زندہ ہے جس نے میدانِ جنگ میں شجاعت، قیادت اور عزم کی مثال قائم کی۔ حطین کی فتح اور بیت المقدس کی بازیابی اُن کی مجاہدانہ زندگی کے روشن ترین ابواب ہیں، لیکن اُن کی شخصیت کی خوبصورتی یہ تھی کہ طاقت اور اقتدار کے باوجود عدل، رحم اور انسانیت اُن کے کردار میں نمایاں رہے۔ اُن کے زمانے کے قریب رہنے والے مؤرخ بہاء الدین ابن شداد نے اُن کی زندگی کے ایسے واقعات بھی محفوظ کیے ہیں جو ہمیں اُس سلطان کے اسی پہلو سے روشناس کراتے

انہی واقعات میں ایک ایسا واقعہ بھی بیان کیا گیا ہے جس میں ایک مسیحی عورت اپنے چھوٹے بچے کے لیے سلطان صلاح الدین ایوبیؒ کے پاس فریاد لے کر پہنچی۔ اُس کا بچہ اُس سے جدا ہو چکا تھا اور وہ اپنے بچے کی تلاش میں پریشان تھی۔ آخرکار اُس نے سلطان تک اپنی شکایت پہنچائی۔ ذرا غور کیجیے... ایک طرف وہ سلطان تھا جس کے سامنے سلطنت کے بڑے بڑے سیاسی اور عسکری معاملات پیش ہوتے تھے، اور دوسری طرف ایک پریشان ماں تھی جس کے لیے اُس وقت پوری دنیا کی سب سے بڑی پریشانی اُس کا اپنا بچہ تھا۔

صلاح الدینؒ نے اُس عورت کی فریاد کو معمولی سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا۔ اُنہوں نے بچے کی تلاش کا حکم دیا۔ تلاش کے بعد معلوم ہوا کہ بچہ فروخت کر دیا گیا تھا۔ سلطان نے اسے تلاش کروایا، خرید کر واپس حاصل کیا اور پھر اُس بچے کو اُس کی ماں کے حوالے کر دیا۔ ایک ماں کے لیے اُس لمحے شاید پوری سلطنت کی دولت سے زیادہ قیمتی چیز اُس کا واپس ملنے والا بچہ تھا۔ اور ایک حکمران کے لیے یہ اُس اختیار کا ایسا استعمال تھا جو اُس کے کردار کی ایک الگ تصویر سامنے لاتا ہے۔

یہاں ایک بات خاص طور پر قابلِ غور ہے کہ فریاد کرنے والی عورت مسیحی تھی۔ لیکن اُس کی بے بسی نے اُس کی فریاد کو سلطان کے دروازے پر بے معنی نہیں ہونے دیا۔ صلاح الدینؒ نے اُس وقت اُس کی مدد کو صرف اس بنیاد پر نہیں دیکھا کہ وہ کس مذہب سے تعلق رکھتی ہے، بلکہ ایک پریشان انسان کی فریاد کے طور پر اُس کا معاملہ لیا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایک فاتح کی قوت کے ساتھ اُس کے کردار کی نرمی بھی نظر آتی ہے۔

اور ذرا سوچیں... جس شخص نے حطین کے میدان میں ایک بڑی صلیبی فوج کا سامنا کیا، جس نے بیت المقدس کو واپس حاصل کیا، جس کے فیصلوں نے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کا رخ بدل دیا، اُسی سلطان کے سامنے ایک بے بس عورت اپنے بچے کے لیے کھڑی ہے۔ میدانِ جنگ میں قوت دکھانا ایک عظیم مجاہد کی شان تھی، لیکن اپنی طاقت کو ایک بے بس انسان کی مدد کے لیے استعمال کرنا اُس کے کردار کی دوسری خوبصورتی تھی۔ دونوں پہلو ایک ہی شخصیت کا حصہ تھے۔

صلاح الدین ایوبیؒ کی شخصیت کو سمجھنے کے لیے صرف اُن کی فتوحات دیکھنا بھی کافی نہیں، اور صرف رحم دلی کے واقعات دیکھنا بھی کافی نہیں۔ اُنہیں اُن کے پورے تاریخی پس منظر میں دیکھنا چاہیے۔ وہ ایک مجاہد، سپہ سالار، حکمران اور سیاسی رہنما تھے، جنہوں نے اپنے دور کے انتہائی پیچیدہ حالات میں مسلم علاقوں کو متحد کرنے کی کوشش کی اور صلیبی طاقتوں کے خلاف طویل جدوجہد کی۔ اسی جدوجہد کے نتیجے میں 1187ء میں حطین کی فتح اور پھر بیت المقدس کی بازیابی تاریخ کے اہم ترین واقعات میں شامل ہوئے۔

لیکن اُن کی عظمت کا ایک خوبصورت پہلو یہ بھی ہے کہ طاقت نے اُن کے اندر انسانیت کو ختم نہیں کیا۔ دشمن سے جنگ اپنی جگہ، لیکن ایک بے بس انسان کی فریاد اپنی جگہ۔ یہی فرق ایک عام فاتح اور ایک ایسی تاریخی شخصیت کے درمیان ہوتا ہے جس کے کردار پر صدیوں بعد بھی گفتگو کی جاتی ہے۔

البتہ تاریخ کے ساتھ انصاف بھی ضروری ہے۔ صلاح الدینؒ سے منسوب بہت سے واقعات بعد کے زمانوں میں مشہور ہوئے، اس لیے ہر خوبصورت قصے کو بلا تحقیق اُن کی طرف منسوب کرنا درست نہیں۔ اس واقعے کی روایت بہاء الدین ابن شداد کی کتاب النوادر السلطانیة والمحاسن الیوسفیة میں ملتی ہے، اور اسی لیے اسے عام سوشل میڈیا کی من گھڑت حکایت سمجھنے کے بجائے ایک تاریخی روایت کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔ البتہ قدیم ماخذ کی روایت کو بھی اُس کے اصل سیاق و الفاظ کے ساتھ سمجھنا بہتر ہوتا ہے۔

اور شاید اس واقعے کا سب سے بڑا سبق یہی ہے۔ فاتح بہت سے گزرے ہیں، سلطنتیں بہت سی قائم ہوئیں، اور تلواریں بہت سے ہاتھوں میں آئیں... لیکن اصل عظمت اُس وقت بھی نظر آتی ہے جب طاقتور انسان اپنے سامنے کھڑے کمزور انسان کی آواز سننے کے لیے رک جائے۔

صلاح الدین ایوبیؒ نے تاریخ میں فاتحِ بیت المقدس کی حیثیت سے اپنا نام لکھا، لیکن اُن کے کردار سے وابستہ ایسے واقعات ہمیں یہ بھی دکھاتے ہیں کہ ایک عظیم مجاہد کی شخصیت میں شجاعت کے ساتھ رحم، قوت کے ساتھ ضبط، اور فتح کے ساتھ انسانیت بھی جمع ہو سکتی ہے۔

بیت المقدس کی فتح اُن کی تلوار کی تاریخ ہے...
اور ایک بے بس ماں کی فریاد سننا اُن کے کردار کی۔

اور شاید اس واقعے کا سب سے بڑا سوال آج ہمارے لیے ہے... کہ اگر ایک بے بس ماں صدیوں پہلے ایک طاقتور سلطان کے دروازے پر اپنی فریاد لے کر پہنچ سکتی تھی، تو آج اپنے حق اور انصاف کے لیے آواز اٹھانے والا عام انسان کہاں جائے؟ افسوس کہ آج بعض اوقات اپنے حق کی بات کرنے والے کو ہی مجرم سمجھ لیا جاتا ہے، اُس کی آواز دبانے کی کوشش کی جاتی ہے اور سوال کرنے کو جرم بنا دیا جاتا ہے۔ حالانکہ حکمران کی اصل طاقت یہ نہیں کہ لوگ اُس کے سامنے خاموش رہیں، بلکہ یہ ہے کہ لوگ اُس کے سامنے اپنی فریاد کہنے سے نہ ڈریں۔ تاریخ کے تخت بدل جاتے ہیں، مگر عدل کا معیار نہیں بدلتا۔

اللہ تعالیٰ ہمارے حکمرانوں کو عدل، رحم اور امانت کے ساتھ اپنے اختیارات استعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے، مظلوم کی آواز سننے والا بنائے، اور جو لوگ اپنے جائز حق کے لیے آواز اٹھاتے ہیں اُن کے لیے آسانیاں پیدا فرمائے۔ اللہ ہمارے معاشرے میں ایسا عدل قائم فرمائے کہ کسی کمزور کو اپنا حق مانگتے ہوئے خوف محسوس نہ ہو۔ آمین یا رب العالمین۔ 🤲

Post By: AQEEL EADIT

"سلطان عبدالحمید خانؒ کے دل میں مدینہ منورہ کی حرمت کا ایک ایسا خاص مقام تھا… کہ اُس شہر کا نام آتے ہی دل میں ادب پیدا ہ...
23/08/2026

"سلطان عبدالحمید خانؒ کے دل میں مدینہ منورہ کی حرمت کا ایک ایسا خاص مقام تھا… کہ اُس شہر کا نام آتے ہی دل میں ادب پیدا ہوجاتا تھا۔ حجاز ریلوے جب مدینہ منورہ کے قریب پہنچ رہی تھی تو ایک روایت کے مطابق سلطان عبدالحمیدؒ کو یہ خیال پریشان کرنے لگا کہ کہیں ریل کی آواز میرے آقا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے روضۂ مبارک کے سکون کو متاثر نہ کرے۔ روایت ہے کہ اسی وجہ سے مدینہ کے قریب ریل کی آواز اور ارتعاش کم کرنے کے لیے پٹریوں کے نیچے نرم مواد، خصوصاً فیلٹ، استعمال کیا گیا۔

سوچیں… ایک طرف ایک عظیم سلطنت کا سلطان، دوسری طرف مدینہ منورہ۔ اُس کے پاس اختیار تھا، وسائل تھے، مگر مدینہ کے معاملے میں اس کے دل میں طاقت سے پہلے ادب تھا۔ حجاز ریلوے بھی کوئی معمولی منصوبہ نہیں تھا؛ دمشق سے مدینہ تک ریلوے پہنچانے کا مقصد حجاج کے سفر کو آسان بنانا اور حجاز تک رسائی بہتر کرنا تھا۔ لیکن اس عظیم منصوبے کے باوجود مدینہ کی حرمت کا خیال رکھنے کی یہ روایت آج بھی لوگوں کے دلوں کو چھوتی ہے۔

وہ لوگ مدینہ کے ادب میں اتنی چھوٹی چھوٹی باتوں کا بھی خیال رکھتے تھے کہ آواز تک کم کرنے کی فکر کی جاتی تھی… اور آج ہم ذرا اپنے دلوں سے پوچھیں: کیا ہمارے اندر بھی مدینہ کا وہی ادب اور نبی کریم ﷺ کی محبت اتنی ہی زندہ ہے؟

یہی عشقِ رسول ﷺ کا ایک خوبصورت پہلو ہے: محبوب ﷺ سے محبت صرف الفاظ میں نہیں ہوتی، اُس محبت کے ساتھ ادب بھی ہوتا ہے۔ سلطان عبدالحمیدؒ کے بارے میں منقول یہ واقعہ ہمیں یہی احساس دلاتا ہے کہ مدینہ منورہ کے قریب پہنچ کر بھی ایک حکمران کے دل میں یہ فکر موجود تھی کہ کہیں اُس کی بنائی ہوئی ریل کی آواز شہرِ رسول ﷺ کے سکون میں خلل نہ ڈال دے۔

اور آج جب ہم یہ واقعہ پڑھتے ہیں تو سوال صرف سلطان عبدالحمیدؒ کا نہیں رہتا، سوال ہمارا بھی بن جاتا ہے: ہم نبی کریم ﷺ سے محبت کا دعویٰ کرتے ہیں، تو کیا ہماری زندگی میں بھی اُن ﷺ کا ادب، احترام اور سنت کی پیروی نظر آتی ہے؟

سلطان عبدالحمیدؒ کی سلطنت ختم ہوگئی، تخت چلا گیا، زمانہ بدل گیا… مگر مدینہ کا ادب اُن کے نام کے ساتھ آج بھی یاد کیا جاتا ہے۔

🤲🏻 یا اللہ! ہمارے دلوں میں اپنے محبوب حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی سچی محبت اور ادب پیدا فرما، ہمیں اُن ﷺ کی سنت پر چلنے والا بنا، مدینہ منورہ کی حرمت کو ہمارے دلوں میں زندہ رکھ، اور ہمیں اُن خوش نصیب لوگوں میں شامل فرما جنہیں روضۂ رسول ﷺ کی حاضری نصیب ہو۔ آمین یا رب العالمین۔

Post By: AQEEL EADIT

یہ تصویر 2 اکتوبر 1917ء سے منسوب کی جاتی ہے، جب سلطان محمد خامسؒ کے دور میں عثمانی سپاہی مسجدِ اقصیٰ کے مقدس احاطے میں م...
21/08/2026

یہ تصویر 2 اکتوبر 1917ء سے منسوب کی جاتی ہے، جب سلطان محمد خامسؒ کے دور میں عثمانی سپاہی مسجدِ اقصیٰ کے مقدس احاطے میں موجود تھے۔ اُس وقت پہلی جنگِ عظیم اپنے عروج پر تھی اور چند ہی ماہ بعد دسمبر 1917ء میں القدس عثمانی حکمرانی سے نکل گیا۔ آج ایک صدی سے زیادہ گزرنے کے بعد بھی مسجدِ اقصیٰ کشیدگی اور پابندیوں کے درمیان ہے؛ یہی وجہ ہے کہ یہ تصویر صرف ماضی کی یاد نہیں، بلکہ ہمیں القدس کی تاریخ، حرمت اور مسلمانوں کے تعلق کی بھی یاد دلاتی ہے۔ سلطنتیں ختم ہوجاتی ہیں، تخت بدل جاتے ہیں، مگر مقدس مقامات کی تاریخ کبھی ختم نہیں ہوتی۔ 🕌🥺

Post By: Umair Insights

ٰ #القدس

20/08/2026

*پھول انسانوں سے زیادہ خوبصورت ہوتے ہیں لیکن کچھ انسان پھولوں سے بھی پیارے ہوتے ہیں جیسے کہ میرے تمام فالورز میری دعا ہے اللّٰه عزوجل آپ سب کو ہمیشہ ہستا مسکراتا رکھے آمین🤲*
*

One Place, Billion Feelings💝❣️🫶Day and night view of the Royal Clock Tower 🌙 ゚viralシ
20/08/2026

One Place, Billion Feelings💝❣️

🫶

Day and night view of the Royal Clock Tower 🌙
゚viralシ

20/08/2026
اور تمہارا پروردگار عنقریب تمہیں اتنا عطا فرمائے گا کہ تم خوش ہو جاؤ گے  #𝐏𝐫𝐨𝐩𝐡𝐞𝐭𝐬
20/08/2026

اور تمہارا پروردگار عنقریب تمہیں اتنا عطا فرمائے گا کہ تم خوش ہو جاؤ گے
#𝐏𝐫𝐨𝐩𝐡𝐞𝐭𝐬

Address

Sakhi Sarwar

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when AQEEL EADIT posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share