AQEEL EADIT

AQEEL EADIT الحمدللہ

حضور ﷺ کے ذکر پر ترکوں کا سینے پر ہاتھ رکھنے کا راز  ترکیہ کی ثقافت اور تاریخ میں جب بھی   سرور كائنات حضرت محمد مصطفى ک...
28/06/2026

حضور ﷺ کے ذکر پر ترکوں کا سینے پر ہاتھ رکھنے کا راز ترکیہ کی ثقافت اور تاریخ میں جب بھی سرور كائنات حضرت محمد مصطفى کا نام مبارک لیا جاتا ہے یا درود و سلام پڑھا جاتا ہے، تو وہاں کے لوگ فورا اپنا سيدها ہاتھ اپنے دل (سینے) پر رکھ لیتے ہیں اور احتراماً اپنا سر ہلکا سا جھکا لیتے ہیں۔ یہ کوئی عام رسم نہیں، بلکہ صدیوں پراني ايك ايسى روايت ہے جس کے پیچھے گہرے ایمانی جذبات چھپے ہوئے ہیں۔ اس خوبصورت عمل کی چند اہم وجوہات درج ذیل ہیں دل سے محبت کا اظہار ترکوں کا یہ ماننا ہے کہ پیارے نبی ﷺ کا نام گرامی صرف زبان سے ادا کرنے کی چیز نہیں، بلکہ اسے دل کی گہرائیوں سے محسوس کیا جانا چاہیے۔ سینے پر ہاتھ رکھ کر وہ یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یا رسول الله ﷺ آپ کا نام اور آپ کی یاد ہمارے دلوں میں بستی ہے"۔ عثمانی دور کی تعظیم و ادب سلطنت عثمانية )Ottoman Empire کے دور میں یہ آداب شاہی کا حصہ تھا کہ جب بھی کسی محفل میں سلطان کا ذکر ہوتا يا وه تشریف لاتے تو لوگ احتراماً سينے پر ہاتھ رکھتے تھے۔ ترکوں نے اسی تہذیب کو دنیا و آخرت کے سب سے بڑے سلطان، حضور اکرم ﷺ کی بارگاہ اقدس کے لیے مخصوص کر دیا، جو کہ تعظیم کی اعلیٰ ترین مثال ہے۔

روحانی تسکین اور جواب یہ عمل اس بات کی بھی علامت ہے کہ سننے والے نے درود پاک کو پورے خلوص، توجہ اور دلی آمادگی کے ساتھ قبول کیا ہے اور اس کا دل اپنے نبی ﷺ پر سلام بھیج رہا ہے۔

یہ واقعہ سلطنتِ عثمانیہ کی تاریخ کے اہم ترین موڑوں میں شمار ہوتا ہے۔ معزولی کے بعد انہیں استنبول سے سلانیک (موجودہ تھیسا...
28/06/2026

یہ واقعہ سلطنتِ عثمانیہ کی تاریخ کے اہم ترین موڑوں میں شمار ہوتا ہے۔ معزولی کے بعد انہیں استنبول سے سلانیک (موجودہ تھیسالونیکی، یونان) منتقل کر دیا گیا، جہاں انہوں نے کچھ عرصہ نظر بندی میں گزارا۔
سلطان عبدالحمید ثانی نے اپنے دورِ حکومت میں سلطنت کے اتحاد، تعلیم، ریلوے، مواصلات اور انتظامی اصلاحات پر خصوصی توجہ دی۔ ان کے دور کی پالیسیاں آج بھی مؤرخین کے درمیان تحقیق اور بحث کا موضوع ہیں۔
اقتدار ختم ہو سکتا ہے، لیکن اصول، صبر اور کردار ہمیشہ باقی رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی سلطان عبدالحمید ثانی کا نام تاریخ کے اہم حکمرانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

تاریخِ اسلام اور اناطولیہ کی جدوجہدِ آزادی میں بعض ایسی شخصیات سامنے آتی ہیں جن کا ذکر روایتی کتب میں کم مگر عوامی روایت...
28/06/2026

تاریخِ اسلام اور اناطولیہ کی جدوجہدِ آزادی میں بعض ایسی شخصیات سامنے آتی ہیں جن کا ذکر روایتی کتب میں کم مگر عوامی روایت میں بہت مضبوط ہے۔
ان میں ایک عظیم خاتون کی داستان نمایاں ہے جنہیں “قوماندان فردوس آنا” یعنی “ماں کمانڈر فردوس” کے لقب سے جانا جاتا ہے۔جو Franco-Turkish War کے دوران غازی عنتاب کی مزاحمت کی علامت بنیں۔
وہ 1870 میں عنتاب شہر کے محلہ شہركوستو میں پیدا ہوئیں اور ایک معزز خاندان میں پرورش پائی۔ ان کے والد جنگِ 93 کے تجربہ کار سپاہی تھے، جبکہ ان کے شوہر کا نام حاج احمد تھا۔
فرانسیسی قبضے (1918–1920) کے دوران وہ بہادری کی علامت بن گئیں۔ جب ایک جھوٹی خبر پھیلی کہ فرانسیسی افواج دفاعی لائن توڑ کر شہر کے قریب پہنچ چکی ہیں تو لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا، خاص طور پر “آغا مسجد” کے اندر جہاں عورتیں اور بچے پناہ لیے ہوئے تھے۔ مگر فردوس آنا مسجد کے دروازے پر ایک موٹی لاٹھی لے کر ڈٹ گئیں اور پوری طاقت سے پکار کر کہا:
“جو یہاں سے نکلنے کی کوشش کرے گا، میں اس کا سر توڑ دوں گی!
چیخو مت اور محاذ پر لڑنے والے مردوں کے حوصلے کمزور نہ کرو۔”

تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو Defense of Antep (1919–1921) ترکی کی آزادی کی تحریک کا ایک اہم باب ہے، جس میں نہ صرف مرد بلکہ خواتین نے بھی غیر معمولی قربانیاں دیں۔ اگرچہ فردوس آنا کا ذکر کلاسیکی مؤرخین کی کتب میں محدود ہے، مگر مقامی تاریخ اور ترک قومی بیانیے میں انہیں ایک علامتی کردار حاصل ہے۔لکل اسی طرح جیسے دیگر خواتین مجاہدات نے مختلف ادوار میں کردار ادا کیا۔

كبهى كبهى خاموش چہرے بھی پوری تاریخ سنا دیتے ہیں ... سلطان عبد الحميد ثانی کے چہرے پر نظرآنے والی سنجیدگی اتفاق نہیں تھی...
23/06/2026

كبهى كبهى خاموش چہرے بھی پوری تاریخ سنا دیتے ہیں ... سلطان عبد الحميد ثانی کے چہرے پر نظر

آنے والی سنجیدگی اتفاق نہیں تھی۔ وہ جانتے تھے کہ سلطنت عثمانیہ چاروں طرف سے سیاسی دباؤ، اندرونی سازشوں اور بیرونی طاقتوں کے چیلنجز کا سامنا کر رہی

انہوں نے اپنی پوری زندگی سلطنت کی خودمختاری اور امت کے اتحاد کو برقرار رکھنے کی کوشش کی۔ ہر فیصلہ آسان نہیں تھا، لیکن ان کی ترجیح یہ تھی کہ سلطنت اپنے اصولوں پر قائم رہے۔

وقت گزر گیا، سلطنت بھی تاریخ کا حصہ بن گئی، مگر عبد الحمید ثانی کا صبر دوراندیشی اور ثابت قدمي آج بهي تاريخ کے صفحات میں یاد کی جاتی ہے۔
... تاريخ صرف ماضي نہيں یہ آنے والی نسلوں کے ليے ايك سبق بھی ہوتی ہے۔

اگر یہ تاریخی معلومات پسند آئیں تو ايك لانك ضرور كرين.

اپنی رائے کمنٹ میں ضرور لکھیں۔

مزید ایسی تاریخی پوسٹس کے لیے

ہمارا پیج فالو کریں۔

Empire

Abdul Hamid


تحریر میں درج ہے: : "الله ولي عمر بن الخطاب في الدنيا والآخرة، لا إله إلا الله" اس کا ترجمہ ہے: : "الله عمر بن خطاب کے د...
12/06/2026

تحریر میں درج ہے: : "الله ولي عمر بن الخطاب في الدنيا والآخرة، لا إله إلا الله" اس کا ترجمہ ہے: : "الله عمر بن خطاب کے دنیا و آخرت میں مددگار اور کارساز ہیں، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ سعودی عرب میں حالیہ آثار قدیمہ کی تحقیق کے دوران ایک نہایت اہم اور نادر پتھریلا کتبہ دریافت ہوا ہے جس پر حضرت عمر فاروق کا نام درج ہے۔ یہ دریافت مدینہ منورہ کے علاقے المہد میں ہونے والے وسیع آثار قدیمہ سروے کے دوران سامنے آئی، جسے سعودی بيريتيج کمیشن نے اسلامی تاریخ کے لیے ايك غیر معمولی اضافہ قرار دیا ہے۔

یہ کتبہ تقریباً چودہ سو سال پرانی ابتدائی اسلامی دور سے منسوب کیا جا رہا ہے۔ اس پر درج عبارت کا مفہوم یہ الله عمر بن خطاب کا دنیا و آخرت میں" محافظ ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔

اس دریافت کی اہمیت صرف ايك پتھر پر لکھے ہوئے چند الفاظ نہیں، بلکہ یہ اس عظیم شخصیت کی یاد تازہ کرتی ہے جس کے عدل و انصاف کی مثالیں آج بھی دنیا بھر میں دی جاتی ہیں۔ وه جليل القدر صحابی تھے جن کے دور خلافت میں اسلامی ریاست نے بے مثال ترقی کی، اور جنہیں تاریخ "فاروق اعظم" کے لقب سے یاد کرتی ہے

سعودی بیریٹیج کمیشن کے مطابق یہ کتبہ ان 1,774 آثار قدیمہ کی دریافتوں میں شامل ہے جو سروے کے دوران سامنے آئیں۔ ان میں سیکڑوں اسلامی نقوش، قدیم عربی تحریریں، چٹانی تصاویر، تاریخی کنویں اور دیگر آثار شامل ہیں، جو عرب سرزمین کی قدیم اسلامی میراث کو مزید واضح کرتے ہیں۔

جذباتی طور پر دیکھا جائے تو یہ دریافت گویا ہمیں چودہ صدیوں پیچھے لے جاتي ہے۔ جب ايك مومن اس پتھر پر حضرت عمر کا نام دیکھتا ہے تو اسے وہ زمانہ یاد آتا ہے جب راتوں كو ايك خلیفہ رعایا کے حال جاننے کے لیے گلیوں میں گشت کرتا تها جب انصاف طاقتور اور کمزور کے لیے یکساں تھا، اور جب اللہ کے خوف نے : حكمران کو رعایا کا خادم بنا دیا تھا۔ یہ کتبہ صرف ايك تاریخی شے نہیں بلکہ اسلامی تاریخ کے ایک روشن باب کی خاموش گواہی ہے۔ صدیوں کی دھوپ، ہواؤں اور طوفانوں کے باوجود یہ الفاظ آج بھی موجود ہیں، جیسے تاریخ خود یہ پیغام دے رہی ہو كہ ن*ك لوگوں کے آثار زمانے کہ کی کرد میں بھی ملتے نہیں۔

جب سلطان نے فرانس کے سب سے بڑے تھیٹر کو ایک خط سے ہلا کر رکھ دیا! 🎭❌​تاریخ گواہ ہے کہ جب حکمران کا دل عشقِ رسول ﷺ سے سرش...
11/06/2026

جب سلطان نے فرانس کے سب سے بڑے تھیٹر کو ایک خط سے ہلا کر رکھ دیا! 🎭❌
​تاریخ گواہ ہے کہ جب حکمران کا دل عشقِ رسول ﷺ سے سرشار ہو، تو دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت بھی اس کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ سلطان عبدالحمید ثانی رحمہ اللہ کا یہ واقعہ ایمان کو تازہ کر دینے والا ہے۔۔۔✍️🥰
​1890ء میں فرانس کے ایک مشہور مصنف نے ہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی شانِ اقدس میں گستاخی پر مبنی ایک ڈرامہ تیار کیا، جسے پیرس کے سب سے بڑے تھیٹر میں اسٹیج کیا جانا تھا۔ ٹکٹیں بک چکی تھیں اور تیاریاں مکمل تھیں۔
​جب یہ خبر خلافتِ عثمانیہ کے سچے خادم، سلطان عبدالحمید ثانی تک پہنچی، تو ان کی غیرتِ ایمانی جوش میں آ گئی۔ انہوں نے فوراً فرانس کے سفیر کو اپنے دربار میں طلب کیا۔
​سلطان عسکری لباس میں ملبوس، ہاتھ میں تلوار لیے تخت پر بیٹھے تھے اور چہرے پر جلال تھا۔ انہوں نے فرانسیسی سفیر کو مخاطب کر کے وہ تاریخی جملہ کہا جو تاریخ کے صفحات میں سنہرے حروف سے لکھا گیا:😎
​"میں عثمانیوں کا خلیفہ، عبدالحمید خان ہوں! اگر تم نے اس ڈرامے کو فوراً نہ روکا، تو میں تمہاری دنیا تباہ کر دوں گا۔ میں ایسا جہاد شروع کروں گا کہ پوری امتِ مسلمہ بیدار ہو جائے گی اور عثمانی فوجیں پیرس کی گلیوں میں داخل ہو جائیں گی!"
​خلیفہ وقت کا یہ جلال اور سچا عزم دیکھ کر فرانسیسی سفیر کے ہاتھ پاؤں کانپنے لگے۔ اس نے فوراً اپنے ملک پیغام بھیجا۔ عثمانی سلطنت کے اس ایک تیکھے تیور اور خط کے خوف سے فرانسیسی حکومت نے اسی وقت اس ڈرامے پر ہمیشہ کے لیے پابندی لگا دی اور مسلمانوں سے معافی مانگی۔
​یہ تھا وہ ایمان کا پاور ہاؤس اور عشقِ رسول ﷺ کا جذبہ، جس کی وجہ سے باطل قوتیں خلیفہ کے نام سے تھر تھر کانپتی تھیں۔
​اللہ پاک ہمیں بھی اپنے نبی ﷺ کی ناموس پر مر مٹنے والا جذبہ اور خلیفہِ وقت جیسا وقار عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین! 🤲✨

عظيم سلطان عبد الحميد ثانى مظلوم سلطان کی خلافت عثمانیہ کی خدمات سلطان عبد الحميد ثانيحکمرانی : ١٨٧٦ - ۱۹۰۹) خلافت عثمان...
10/06/2026

عظيم سلطان عبد الحميد ثانى مظلوم سلطان کی خلافت عثمانیہ کی خدمات سلطان عبد الحميد ثاني

حکمرانی : ١٨٧٦ - ۱۹۰۹) خلافت عثمانیہ کے آخری مؤثر حکمران تھے۔ انہوں نے سلطنت کے اندر جدید ترقیاتی منصوبی شروع کیے، جیسے حجاز ریلوے کی تعمیر کا آغاز ان کے دور حکومت میں نظام تعلیم و مواصلات کے جال کو وسیع کیا گیا اور بغداد و حجاز ریلوے بھی تعمیر کیے گئے۔ ١٨٧٦ کے آئین میں انہوں نے خلافت کے تحفظ کو آئینی حیثیت دی، جس میں سلطان کو مسلمانوں کے مذہب کا پوروای تحفظ کرنے والا سپریم خلیفہ " قرار دیا گیا۔ ان اقدامات سے خلافت مضبوط ہونے کے ساتھ ساتھ امت کے دلوں میں ان کی اہمیت بھی بڑھی

امت مسلمہ کے دفاع میں قربانیاں

سلطان نے اپنا عہدہ امت مسلمہ کی خدمت اور اتحاد کے لیے استعمال کیا۔ انہوں نے بین اسلام یعنی اسلامی اتحاد کی تحريك كو فروغ دیا، جس کے نتیجے میں ۱۸۹۷ء كى جنك يونان میں مسلمانوں نے عثمانی جیت کو اپنی فتح سمجها ايك صاحب نظر مسلمان رہنما اور خلیفہ کی حيثيت سے انہیں نبی ﷺ اور فلسطین کا محافظ جانا گیا۔ حضرت رسول ﷺ کی شان میں گستاخیوں کے خلاف آواز اٹھا کر انہوں نے اسلام کے تقدس کا دفاع کیا۔ ان کی وفاداري امت اس وقت عیاں ہوئی جب انہوں نے ہر محاذ پر ترکستان و عراق کے مسلمانوں کی مدد اور خليجي حجاج كرام کی حفاظت کو اولین ترجيح دى۔ صیهونی سازشوں کا مقابلہ

صہیونیوں کی دوڑ و دھوکا بازی کا مقابلہ سلطان عبد الحمید نے ثابت قدمی سے کیا۔ ۱۹۰۱ء میں جب تھیوڈور ہیرزل نے فلسطین میں یہودی بستی کے عوض ہزاروں ٹن سونے کی پیشکش کی، سلطان نے انکاری جواب دیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ یہ مقدس سرزمین ہماری قوم نے خون دل سے حاصل کی ہے اور ہم اس کی حفاظت اپنے خون سے کریں گے۔ صرف ہماری نعش تقسیم ہو سکتی ہے"۔ یہ استقامت آج بھی مسلمانوں کے دلوں میں ان کے حق پر ڈٹے رہنے کا استعارہ بنی ہوئی ہے۔

تنهائی معزولی اور وفات

ء میں عثمانی نوجوانوں کے دباؤ پر ۱۹۰۸ انہیں دستور بحال کرنا پڑا، مگر اگلے سال ء میں وہ تخت سے ہٹا دیے گئے۔ سابق ۱۹۰۹ سلطان کو پہلے تلصينکہ (سالونیکا) اور پهر قسطنطنیہ میں نظر بند رکھا گیا۔ اپنے آخری ایام وہ سولہ سالہ محنت کشی اور اکھنوں کے سائے تلے گزار کر ۱۰ فروری ۱۹۱۸ء کو دنیا بيلربي محل میں فانی سے رخصت ہوئے۔ صرف یہی نہیں، ان کی لاش بھی اس شہر میں دفن کی گئی جہاں انہوں نے خلافت عثمانیہ کے بلند عزائم سجائے تھے۔ ان کے جنازے کی تصویر آج بھی امت کے دلوں میں غم و وفا کی لہر دوڑا دیتی ہے اللہ سلطان کے درجات کو بلند فرمائے آمین

Abdul Hamid

سن 1900 یہ مسجد اقصیٰ کے سامنے کھڑے" عام سپاہی نہیں تھے۔ یہ وہ محافظ تھے جنکے کندھوں پر بیت المقدس کی حفاظت کی ذمہ داری ...
10/06/2026

سن 1900 یہ مسجد اقصیٰ کے سامنے کھڑے" عام سپاہی نہیں تھے۔ یہ وہ محافظ تھے جن

کے کندھوں پر بیت المقدس کی حفاظت کی ذمہ داری تھی۔

جب دنیا کی بڑی طاقتیں فلسطین پر نظریں جمائے بیٹھی تھیں، تب عثمانی فوج مسجد اقصی کے دروازوں پر پہرہ دے ری تھی۔

اور ان کے لیے یہ صرف ايك شہر نہیں تھا، بلکہ انبیاء کی سرزمین اور امت مسلمہ کی امانت تھی۔

تاریخ گواہ ہے کہ سلطان عبد الحميد ثاني نے فلسطین کی زمین کے بدلے بے شمار دولت کی پیشکشیں ٹھکرا دیں، کیونکہ ان كے نزديك مقدس سرزمین کی قیمت سونے چاندی سے نہیں لگائی جا سکتی تھی۔

آج یہ تصویر ہمیں یاد دلاتی ہے کہ قومیں صرف ہتھیاروں سے نہیں، بلکہ اپنے عقیدے، غیرت اور تاریخ کی حفاظت سے زندہ رہتی ہیں۔

سلطان عبد الحمید ثانی اور مسجد اقصی کے ان محافظوں کے لیے ایک لائک ضرور چھوڑیں۔

سلطان عبد الحميد_ثاني #

#فلسطين

islamic History #

بوسنیا کی سرزمین، جولائی 1995ء — ایک ایسا باب جسے تاریخ کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔یہ نورا مصطفیچ کی کہانی ہے… ایک ایسی ما...
09/06/2026

بوسنیا کی سرزمین، جولائی 1995ء — ایک ایسا باب جسے تاریخ کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔
یہ نورا مصطفیچ کی کہانی ہے… ایک ایسی ماں، جس نے جنگِ بوسنیا کے دوران اپنی پوری دنیا کھو دی۔
سن 1995ء میں سربرینیتسا کے المناک واقعے میں، ان کے شوہر اور تینوں بیٹوں کو گرفتار کر لیا گیا… اور پھر شہید کر دیا گیا۔ یہ وہی دن تھے جب ہزاروں بے گناہ مسلمانوں کو صرف ان کی شناخت کی وجہ سے (ق-ت-ل) کیا گیا۔
ہر سال 11 جولائی کو، جب دنیا "سربرینیتسا نسل کشی" کی یاد مناتی ہے، نورا اپنے شوہر اور بیٹوں کی قبروں پر جاتی ہیں۔ ان کی آنکھوں میں آنسو ہوتے ہیں، مگر زبان پر صبر اور ایمان کے الفاظ:
"میں اپنے چار مردوں کے ساتھ دنیا کی سب سے خوش عورت تھی…
اگر مجھے معلوم ہوتا کہ انہیں (ق-ت-ل) کر دیا جائے گا، تو میں بھی ان کے ساتھ چلی جاتی…
مگر شاید اللہ نے مجھے زندہ رکھا تاکہ میں اپنی کہانی سنا سکوں، اور ان کی یاد کو زندہ رکھ سکوں۔"
یہ صرف ایک ماں کا غم نہیں…
یہ پوری امتِ مسلمہ کے زخموں میں سے ایک زخم ہے۔
سربرینیتسا کا سانحہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ظلم وقتی ہو سکتا ہے، مگر شہادت ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔
"اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے گئے، انہیں مردہ نہ کہو، بلکہ وہ زندہ ہیں، مگر تم شعور نہیں رکھتے۔(القرآن)

"عربی زبان ایک نہایت خوبصورت زبان ہے۔ کاش ہم اسے پہلے ہی ریاست کی سرکاری زبان بنا لیتے۔ میں نے خیر پاشا التونسی کو، جب و...
08/06/2026

"عربی زبان ایک نہایت خوبصورت زبان ہے۔ کاش ہم اسے پہلے ہی ریاست کی سرکاری زبان بنا لیتے۔ میں نے خیر پاشا التونسی کو، جب وہ صدرِ اعظم تھے، یہ تجویز پیش کی تھی کہ عربی کو ریاست کی سرکاری زبان بنایا جائے۔
لیکن محل کے بڑے امین، سعید پاشا نے میری اس تجویز کی مخالفت کی۔ اس نے کہا: اگر ہم ریاست کو عربی بنا دیں گے تو پھر ترک عنصر کے لیے کچھ باقی نہیں رہے گا۔ سعید پاشا ایک سطحی آدمی تھا، اور اس کی بات بھی بے بنیاد تھی۔ اس مسئلے کا ترک قومیت سے کیا تعلق؟
یہ ایک بالکل الگ معاملہ ہے، اور اسے اس سے جوڑنا درست نہیں۔
ریاست کی سرکاری زبان کے طور پر عربی کو اپنانا کم از کم ہمارے اور عربوں کے درمیان تعلق کو مزید مضبوط کرتا۔"
یہ خلافتِ عثمانیہ کے آخری خلیفہ، سلطان عبد الحمید ثانیؒ کے وہ الفاظ ہیں ، جو انہوں نے اپنی یادداشتوں میں لکھے تھے۔
آج بھی بعض لوگ ڈراموں اور میڈیا کے ذریعے یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ 600 سال تک قائم رہنے والی خلافت ایک "قبضہ" تھی۔ اگر ہم مان لیں واقعی ایسا ہوتا تو آج عرب دنیا عربی کے بجائے ترکی زبان بول رہی ہوتی۔
افسوس کہ آج بھی کچھ لوگ ترکی کی موجودہ سیکولر ریاست اور خلافتِ عثمانیہ کے درمیان فرق کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔

Address

Sakhi Sarwar

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when AQEEL EADIT posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share