10/04/2026
غازی علم الدین شہید مکمل داستان
غازی علم الدین شہید 1908 میں لاہور میں ایک نہایت غریب بڑھئی خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد ایک محنت کش کاریگر تھے اور علم الدین بھی بچپن سے ہی ان کے ساتھ دکان پر کام کرتے تھے۔ وہ رسمی تعلیم سے محروم رہے، تاہم مسجد سے بنیادی دینی تعلیم حاصل کی اور ایک سادہ مگر دیندار زندگی گزارتے رہے۔
اسی زمانے میں برصغیر میں ایک متنازع کتاب “رنگیلا رسول” شائع ہوئی، جسے مسلمانوں نے حضور اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی قرار دیا۔ اس واقعے نے مسلمانوں کے جذبات کو شدید مجروح کیا اور ہر طرف احتجاج شروع ہو گیا۔
انہی حالات میں عطاء اللہ شاہ بخاری کے پرجوش خطبات نے مسلمانوں کے دلوں میں غیرتِ ایمانی کو مزید ابھارا۔ علم الدین بھی ان خطبات سے بے حد متاثر ہوئے اور ان کے اندر عشقِ رسول ﷺ کا جذبہ شدت اختیار کر گیا۔
6 اپریل 1929 کو انہوں نے مہاشے راج پال کی دکان پر جا کر اسے قتل کر دیا۔ اس واقعے کے فوراً بعد انہیں گرفتار کر لیا گیا۔
مقدمہ اور عدالتی کاروائی
علم الدین پر برطانوی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا۔ پہلے نچلی عدالت اور پھر ہائی کورٹ میں کیس پیش ہوا۔ ان کے دفاع کے لیے محمد علی جناح بطور وکیل سامنے آئے۔
انہوں نے عدالت میں یہ مؤقف اختیار کیا کہ ملزم کم عمر اور جذباتی کیفیت میں تھا، اس لیے سزا میں نرمی کی جائے۔ لیکن عدالت نے یہ اپیل مسترد کر دی اور سزائے موت برقرار رکھی۔
استقامت اور آخری کلمات
جیل میں انہیں مختلف طریقوں سے قائل کرنے کی کوشش کی گئی کہ وہ اپنے بیان میں نرمی لائیں یا ندامت ظاہر کریں، مگر انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا:
“یہ میری زندگی کا سب سے بڑا کارنامہ ہے، میں نے یہ کام پورے ارادے سے کیا ہے۔”
یہ الفاظ ان کے عزم اور یقین کی عکاسی کرتے ہیں۔
جیل کی مشہور روحانی روایت
عوامی روایات میں بیان کیا جاتا ہے کہ پھانسی سے ایک رات قبل ایک جیل وارڈن (عبداللہ) نے دیکھا کہ ان کے کمرے سے روشنی اور خوشبو آ رہی ہے۔ جب اس نے اندر جا کر دیکھا تو علم الدین عبادت میں مصروف اور گریہ کر رہے تھے۔
کہا جاتا ہے کہ انہوں نے بتایا کہ
نبی کریم ﷺ اپنے صحابہ کے ساتھ تشریف لائے، اور انہیں تسلی دی۔ بعض روایات میں حضرت علی کا ذکر بھی آتا ہے، اور یہ کہ انہیں حوضِ کوثر پر ملاقات کی بشارت دی گئی۔
اہم وضاحت:
یہ تمام واقعات روحانی اور عوامی روایات ہیں، ان کی مستند تاریخی تصدیق نہیں ملتی۔ انہیں عقیدت کے تناظر میں ہی بیان کیا جاتا ہے۔
شہادت
31 اکتوبر 1929 کو میانوالی جیل میں انہیں پھانسی دے دی گئی۔ اس وقت ان کی عمر تقریباً 20 سال تھی۔
جنازہ اور تدفین
بعد ازاں ان کی میت لاہور منتقل کی گئی جہاں ایک عظیم الشان جنازہ ہوا۔
روایت کے مطابق جنازہ کی نماز مولانا سید دیدار علی شاہ نے پڑھائی
جنازے میں لاکھوں افراد (تقریباً 6 لاکھ) شریک ہوئے
علامہ محمد اقبال جنازے میں شریک ہوئے اور ان سے منسوب مشہور جملہ کہا جاتا ہے:
“ہم باتیں ہی کرتے رہے، ایک بڑھئی کا بیٹا ہم سے آگے نکل گیا”
بعض روایات کے مطابق علامہ اقبال نے تدفین میں بھی حصہ لیا۔
تدفین
غازی علم الدین شہید کو میانی صاحب قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔
جنازے کے دوران “اللہ اکبر” کے نعرے گونجتے رہے اور یہ منظر برصغیر کی تاریخ کے بڑے اجتماعات میں شمار ہوتا ہے۔
تاریخی اہمیت
یہ واقعہ برصغیر میں مذہبی جذبات کی شدت کو ظاہر کرتا ہے
توہینِ مذہب کے قانون (295-A) کو مضبوط بنانے میں کردار ادا کیا
مذہب، قانون اور معاشرت کے تعلق پر ایک اہم بحث کو جنم دیا
اختتامیہ
غازی علم الدین شہید کی داستان ایک سادہ مگر پُرعزم نوجوان کی کہانی ہے جس نے اپنے عقیدے کے لیے ایک ایسا قدم اٹھایا جو تاریخ کا حصہ بن گیا۔ یہ واقعہ آج بھی ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ معاشرے میں جذبات، عقیدہ اور قانون کے درمیان توازن کیسے قائم رکھا جائے۔
تحریر راجہ محمد اقبال ایڈووکیٹ (بمزمیڈیا)