NAQAB

NAQAB Knowledge

20/08/2025

*آپ کا اللہ تعالی کے ساتھ تعلق کیسا ہے؟*
سوال: امام معروف کرخیؒ سے پوچھا گیا: آپ کا اپنے رب سے ایسا تعلق کیسے بنا؟
انہوں نے کہا: امام ابن سماکؒ کی نصیحت سے۔

سوال: کیسے؟
فرمایا: میں کوفہ جا رہا تھا، عصر کی نماز کے بعد ایک مسجد میں گیا، وہاں ایک شخص لوگوں کو وعظ کر رہا تھا۔ میں بیٹھ گیا اور سننے لگا۔

اس نے کہا:
"جو اللہ کے ساتھ کبھی کبھار تعلق بنائے اللہ بھی اس کے ساتھ کبھی کبھار تعلق بناتا ہے
اور جو اللہ سے منہ موڑے، اللہ اس سے منہ موڑ لیتا ہے۔
جو اللہ کی طرف مکمل جھکے، اللہ اپنی رحمت کے ساتھ اس کو قبول کر لیتا ہے۔"

معروف کرخیؒ کہتے ہیں:
یہ بات میرے دل میں اتر گئی۔ میں نے کہا: بس! اب میں اپنے رب کی طرف جھک جاؤں گا تاکہ وہ مجھے اپنی وسیع رحمت سے قبول کر لے۔

20/08/2025

قانُونِ فطرت تو یہی ہے کہ
گدھی
گدھے کو ہی جنم دیتی ہے

ہمارے ہی اجداد،
جو انگریز کا ایک من وزن صرف ایک روپے میں راولپنڈی سے مری تک لے کر جاتے،
ان کے پاؤں میں جوتی تک نہیں ہوتی،
پنڈی سے مری ستر کلومیٹر کا سفر ایک من وزن اٹھا کر دو دن میں مکمل ہوتا.
یہ لوگ انگریز کی خدمت کرتے،
اپنی پیٹھ پر سوار کر کے سیر کراتے اور
انگریز خوش ہو کر اپنا بچا ہوا کھانا انہیں دے دیتا..

ہمارے اجداد نے ہی انگریزوں کی نوکریاں کیں.
تنخواہ لے کر اپنے ہی لوگوں سے لڑتے رہے.
انگریز نے ہندوستان پر سو سال حکومت کی،
اس دوران کبھی بھی انگریزوں کی مجموعی تعداد پچیس ہزار سے زیادہ نہیں رہی.

انگلینڈ میں ایک مائیگریشن رجسٹر ہے۔
جس میں برطانیہ سے ہندوستان جانے والے 15،447 فوجیوں کے نام لکھے ہوئے ہیں.
تین لاکھ ہندوستانی تھے جو انگریزی فوج میں بھرتی ہوئے.
بنگال رجمنٹ،
پنجاب رجمنٹ،
بلوچ رجمنٹ انگریزوں نے بنائی۔
برصغیر کے بُھوکے ننگے،
دو چار روپے ماہانہ وظیفے پر لڑنے مرنے کو تیار تھے.
پلاسی کی جنگ میں سراج الدولہ کے خلاف انگریزی فوج میں نوے فیصد ہندوستانی ہی تھے،
غداری کرنے والا بھی میر جعفر ہی تھا.
سلطان حیدر علی اور اس کے بیٹے ٹیپو سلطان کے خلاف چار جنگیں لڑنے والے کون تھے؟
کوئی اور نہیں۔
میرے اور آپ کے اجداد تھے۔۔۔
انگریزوں کے خلاف سندھ حر پگاڑو کے لڑے اور
انگریزوں کا ساتھ مری بلوچ، بگٹی بلوچ نے دیا
بدلے میں سانگھڑ میں ان کو جاگیریں ملیں
سرنگاپٹم سے میسور تک میر جعفر نے کس طرح سلطان سے غداری کی،
انگریز کو کس طرح وفاداری بیچی..
سب کچھ لکھا ہؤا ہے۔
بس آنکھیں کھول کر پڑھنے والا چاہیے ۔
علامہ اقبال نے کہا تھا:-
*جعفر از بنگال و صادق از دکن*
*ننگِ دیں، ننگِ قوم، ننگِ وطن*

پنجاب میں رنجیت سنگھ جو انگریزوں کو مشکل وقت دکھا رہا تھا،
مُسلمانوں کو اس کے خلاف جہاد پر لگا دیا.
سید احمد شہید اور
شاہ اسماعیل شہید دہلی میں انگریزوں کے خلاف لڑنے کی بجائے،
بالاکوٹ سکھوں سے لڑنے پہنچ گئے۔
اَسلحہ گولہ بارُود انگریزی استعمال ہوتا تھا.

انگریز دار العلوم دیوبند کے سالانہ دورے کرتا تھا،
اکابرین دیوبند کو وظائف دیتا تھا.
اکابرین بریلوی اور اہلِ حدیث بھی حکومتی وظیفے لیتے رہے ہیں۔۔۔۔

اسلام کی آمد سے اب تک 1500 سالوں میں پوری دنیا میں اتنے
پِیر ، دَستگیر ،
وَلی ،
محدث ، مجدد ،
قطب ،
مُفسر ، مناظر ،
مقرر پیدا نہیں ہوۓ،
جتنے انگریز کے 100 سالہ دور میں برصغیر میں پیدا ہوئے تھے۔۔۔
کوئی اُڑتا رہا ،
کوئی لمحے میں غائب ہو کر مدینہ پہنچ جاتا،
کوئی غوث اعظم کے نام پر لطائف گھڑتا،
کوئی لال شہباز قلندر کو پرواز کرواتا رہا،
کسی نے نبیﷺ کے نور یا بشر پر مسلمانوں میں پھوٹ ڈالی ،
کسی نے حیات و ممات پر مسلمانوں کو دست و گریباں کروایا
یہ سب انگریز وظائف دے کر اپنی سلطنت کو دوام بخشنے اور مسلمانوں کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کیلئے کرواتے رہے ہیں۔۔۔۔

آپ کا کیا خیال ہے، پاکستان آزاد ہو گیا ہے؟
انگریز کی بنائی رجمنٹ آج بھی حکمران ہے. عوام آج بھی محکوم ہے۔
آج بھی راشن کی قطاروں میں مر رہے ہیں۔
اور اشرافیہ آج بھی انگریزی وفاداری نبھا رہی ہے.
جب کئی سال بعد دنیا کی تاریخ لکھی جائے گی تو ایک قوم
"*المجرمین پاکستان*"
کے بارے میں بھی تاریخ لکھی جائے گی ۔۔۔

مؤرخ لکھے گا۔۔۔
قومِ عاد۔۔۔
قوم ثمود۔۔۔
اور قومِ لُوط کے سارے مجموعی گناہ اس قوم میں پائے جاتے تھے۔۔۔

یہ ایک ایسی قوم تھی جو نام تو اللہ کا لیتی تھی،
مگر مانتی اپنے اپنے اپنے آلہ کاروں کو تھی۔۔۔

ایک ایسی قوم تھی جس کو تعلیم صرف جاہل بنانے کے لئے دی جاتی تھی۔۔

ایک ایسی قوم تھی جس کے مذہبی پیشوأ،
خود تو دنیا کی ہر آسائش سے لطف اندوز ہوتے تھے،
مگر ان کو غربت افلاس کے فائدے بتا کر جنت کے ٹکٹ دیتے تھے۔

ان کے حکمران بادشاہوں کی طرح زندگی گزارتے تھے۔
مگر اس قوم کے نچلے طبقے کے پاس کھانے کو روٹی نہیں تھی۔۔۔

مؤرخ لکھے گا:-
اس قوم کا انصاف بکتا تھا۔
طاقتور کے لئے علیحدہ قانون،
اور غربأ کے لئے الگ قانون تھا۔

اس قوم کے قاضی اُنہی کی طرح کرپٹ اور انصاف سے عاری تھے۔۔۔

لکھا جائے گا:-
اس قوم کے سیاستدان خود غرض،
نا اہل اور بےحس تھے۔
مگر یہ قوم ایسے سیاستدانوں کو اپنا مسیحا سمجھتی تھی اور
اُن کے لئے ایک دوسرے کی گردن کاٹنے کو بھی تیار رہتی تھی۔

ایک ایسی قوم تھی جو لمبی لمبی دعائیں اور بددعائیں کرتی تھی۔
مگر اس کا عملی کردار انتہائی ناگفتہ بہہ اور بیہودہ تھا۔۔۔

ایک ایسی قوم تھی جس میں حرام خور عزت دار کہلاتے تھے
اور
محنت کر کے کھانے والے کمی کمین۔۔۔

15/08/2025
13/08/2025

یہ ایک نومولود ہاتھی کا بچہ ہے جس کو پیدائش کے فوراً بعد اس کی ماں نے زخمی کرکے دھتکار کر خود سے دور کردیا تھا.

رونگچینگ چین میں جانوروں کی کفالت کے ادارے (Shendiaoshan Wild Animal Nature Reserve) میں ایک مادہ ہاتھی نے بچے کو جنم دیا اور جنم دیتے ساتھ ہی اس پر چڑھ کر اپنے وزن سے بچے کو تشدد کا نشانہ بنایا اور خود سے دھکیل کر دور کردیا.
اس تکلیف دہ سلوک کے بعد یہ بچہ پانچ گھنٹے تک مسلسل روتا رہا، ادارے کے عملے نے سوچا شاید یہ زخمی ہوگیا ہے اس لیے رو رہا ہے مگر ایسا نہیں تھا، یہ جسمانی تکلیف کی وجہ سے نہیں بلکہ اس لیے رو رہا تھا کہ اس کا دل بری طرح سے ٹوٹ چکا تھا… !

چنانچہ بچے کو امدادی ریسکیو فراہم کیا گیا مگر یہ پھر بھی روتا رہا، ٹیم نے دوبارہ اس کو ماں کی قربت میں بھیج دیا کہ شاید ماں کی رفاقت میں اسے آرام مل جائے، مگر ماں نے دوبارہ اس کو دھکا دے کر نکال دیا.

ڈاکٹروں کو اب سمجھ آچکی تھی، چنانچہ انہوں نے بچے کو بے حد محبت سے اپنے گلے لگایا، اس کو شفقت سے گرم کمبل اوڑھایا اور پیار سے اس کو چپ کروانے کی کوشش کرتے رہے.. بالآخر یہ بچہ سوگیا لیکن کمبل کے اندر سے اس کی دلخراش آہوں اور سسکیوں کی مسلسل آواز آتی رہیں.

انسان جو تمام جانداروں میں سب سے زیادہ جذبات احساسات رکھتا ہے، جب اس کو اس کے قریبی لوگ ٹھکراتے ہیں تو اس کے دل پر کیا بیتتی ہے..

اہل درد ہی اس کیفیت کو سمجھ سکتے ہیں!

تحریر: Musa Pasha

13/08/2025

بگڑی نسلیں
بیٹے نے گرل فرینڈ کو تحفہ دینے کے لیے 13 کروڑ کی گاڑی مانگی والد نے انکار کیا جھگڑا ہوا لیکن باپ تو باپ ہوتا ہے بیٹے کو سرپرائز تحفہ دینے کے لیے گاڑی بک کروادی آہ اس سے پہلے کہ گاڑی آتی ناخلف بیٹے نے کرائے کے قاتلوں سے باپ کو ہی قتل کروادیا اور خود ہی مدعی بن کر انصاف مانگنے لگا

انسان امیر ہو تو ہم نے دیکھا ہے امیر والدین کے بیٹے غلط راہوں پہ چل پڑتے ہیں نشہ شراب اور شباب بس یہی زندگی ان کی
اس کو تربیت کا قصور کہیں یا نصیب کا لکھا کہیں
امارت ہر کسی سے نہیں سنبھالی جاتی
دولت دشمن بن جاتی ہے بعض اوقات اولاد تک نہیں بخشتی
یہ سب سن کر دیکھ کر ہم ﷲ کا شکر ادا کرتے ہیں
کہ ہمارے اندر ظرف ہے نو دولیتے ہی کم ظرف نکلتے ہیں خاندانی لوگ ظرف رکھتے ہیں برداشت کا حوصلے کا
خدا ایسی اولاد کسی کو نہ دے" بے شک ! تمہارا مال اور تمہاری اولاد تمہارے لئے فتنہ ہے" ( القرآن)

اقراء میڈیکل کمپلیکس کے بانی ' کھربوں پتی ڈاکٹر شاہد صدیق کو ان کے اپنے ہی بیٹے نے قتل کردیا۔ انا للّٰہ وانا الیہ راجعون! جب سے اس واقعے کی تفصیلات کا علم ہوا ہے تب سے دل انتہائی رنجیدہ ہے' راتوں کی نیند اڑ چکی ہے کہ کیا کوئی اولاد اتنی ہی سفاک ہوسکتی ہے کہ اپنے باپ کو قتل کردے وہ باپ جس نے اس کو ناز و نعم سے پالا ' دنیا کی ہر دولت اس کے قدموں میں نچھاور کی۔ قریبی ذرائع سے پتا چلا کہ مقتول اپنے قاتل بیٹے جس کی عمر صرف 24 سال ہے' عبد القیوم کو پانچ لاکھ ماہانہ دیتا تھا' بیٹے نے بعد میں مطالبہ کیا کہ میرا خرچ دس لاکھ ماہانہ کیا جائے' ماں اور دادی کی سفارش پر بیٹے نے یہ فرمائش بھی پوری کی اب بیٹا تیس لاکھ ماہانہ طلب کررہا تھا ۔ بیٹے کی ابھی شادی بھی نہیں ہوئی۔ باپ کا ماتھا ٹھنکا کہ تمہارے آخر اتنے خرچ کیوں ہے؟ اس سے پہلے باپ بیٹے کی فرمائش پر پڑھنے کے لئے بیرون ملک بھیجا ۔ تعلیم کے لئے بھی بیٹا اپنے چچا ذاد کی حرص میں گیا'( وہ بھی مشترکہ کی جائیداد میں شامل تھے) جب ان کے بچے تعلیم کے لئے بیرون ملک جاسکتے ہیں تو مجھے بھی بھیجیں ۔ ماں اور دادی نے بھی پرزور سفارش کی کہ بیٹے کو تعلیم کے لئے باہر کے ملک بھیج دیں۔ وہاں اس کی دوستی ایشیائی کمیونٹی کے امیر ترین طبقے کے لوگوں سے ہوئی اس چوبیس سالہ لڑکے نے اپنے آپ کا تاثر یہ دیا کہ جیسے وہ کسی راجہ مہاراجہ کی اولاد ہے باپ کا پیسہ خوب عیاشیوں پر خرچ کرنے لگا ' شراب نوشی شروع کی' پھر آئس کا نشہ پر لگا' بال جو پاکستان سے دس لاکھ خرچ ماہانہ بھیج رہا تھا' بیٹے نے خرچ تیس لاکھ کا مطالبہ کردیا ۔ اسی دوران اس کے گینگ کے کسی بندے نے سوشل میڈیا ایپ کے ذریعے سے اس کی ملاقات پاکستان میں سٹیج اداکارہ سے کروادی۔ اس کے اس اداکارہ سے تعلقات ہوئے اس کی فرمائش پوری کرنے کے لئے اس نے باپ سے ماہانہ تیس لاکھ کا مطالبہ کردیا۔ باپ نے بیٹے سے کہاکہ تمہاری فیس تک میں پاکستان سے بھیجتا ہوں تمہارے خرچ کیوں ہے تم پاکستان واپس آؤ ' بیٹا پاکستان آ گیا' باپ نے اسے بہت سمجھایا کہ تم جس سوسائٹی میں بیٹھتے ہو یہ ٹھیک نہیں ہے اسے چھوڑ دو' لیکن آئس کا نشہ استعمال کرتے ہوئے بیٹے کو یہ بات سمجھ نہ آئی ۔ اس اثناء میں اس کی محبوبہ نے تیرہ کروڑ کی لگژری گاڑی کا مطالبہ کردیا' سفاک قاتل بیٹے نے اپنی محبوبہ سے وعدہ کیا کہ وہ اس کی خواہش پوری کرے گا چاہے اسے باپ کی لاش سے بھی گزرنا پڑے' اس سے پہلے بیٹا اس سٹیج اداکارہ سے شادی کا مطالبہ بھی کربلا تھا لیکن باپ نے لڑکی کے خاندان اور کردار کو دیکھتے ہوئے اپنی بہو بنانے سے انکار کردیا' جس کا اس کو دلی رنج تھا' پھر اس چوبیس سالہ بیٹے باپ سے جائیداد کا حق کا مطالبہ بھی کیا' باپ نے اسے پیار سے سمجھایا ' اس کو بری صحبت سے بچانے کے لئے اس کے دوستوں سے بھی مدد لی۔انہی دوستوں میں سے ایک اس کا دوست شہریار بھی تھا شہریار نے اسے مشورہ دیا کہ
جائیداد کے حصول اور لڑکی سے شادی کے لئے باپ ہی کو راستے سے ہٹا دیا جائے۔ دوست شہریار نے اس کی ملاقات اجرتی قاتلوں سے کروادی' دو کروڑ میں قتل کا سودا طے ہوا' قاتل نے پچاس لاکھ ایڈوانس دئیے باقی کی ادائیگی کا وعدہ قتل کے بعد دینے کا ہوا' اس اثناء میں سفاک بیٹا شوٹرز کو باپ کی نقل وحرکت کی خبر دیتا رہا جس وقت باپ قتل ہوا' چودہ گولیاں لگائیں۔ بیٹا وہاں پر موجود تھا سی سی ٹی وی کیمرے میں ساری تصویریں آگئ ہیں ۔بیٹے نے رونے دھونے کا بھی وہ ڈرامہ رچایا: باپ کا جنازہ بھی خود پڑھا'
جنازے کے دوران تکبیرات غلط پڑھی' اپنی حرکتوں سے پولیس کی نظروں میں تھا بہت جلد ہی پنجاب پولیس نے جدید بنیادوں پر تحقیق کر کے ملزم کو پکڑلیا' قاتل بیٹے نے اس کو سیاسی قتل کا رنگ دینے کی بھی کوشش کی ' پولیس کو یہ تاثر دیا کہ والد کو کچھ دنوں سے سیاست چھوڑ نے کے لئے دھمکی آمیز کالیں موصول ہورہی تھی لیکن! اللہ تعالیٰ کو اس سفاک ' بے حسی درندہ صفت بیٹے کا پردہ فاش کرنا تھا سو قاتل جلد ہی پکڑا گیا'
دوسری طرف مقتول باپ ڈاکٹر شاہد صدیق نے جب بیٹے کو شادی سے منع کردیا ' تیس لاکھ خرچ بڑھانے کو بھی منع کردیا تو باپ نے بیٹے
کی تالیف قلبی کے لئے تیرہ کروڑ کی گاڑی بک کروائی بیوی سے کہا کہ بیٹے کو اس کی سالگرہ پر "سر پرائز" دیں گے وہ گاڑی اس جمعے کو آنی تھی لیکن افسوس! گاڑی کے ملنے سے پہلے ہی قاتل حوالات میں اور مقتول اللہ کے پاس چلا گیا!
اقراء میڈیکل کمپلیکس کے جاننے والے انتہائی قریبی ذرائع بتاتے ہیں کہ 96 میں ڈاکٹر صاحب مشترکہ فیملی میں چار مرلے کے مکان میں رہتے تھے آج وہ بے بہا جائیداد کے مالک ہیں۔ تین ہسپتال ' وہ جائیداد پر جائیداد بناتے گئے ان کے میڈیکل کمپلیکس میں بیرون ملک جانے والے افراد کی میڈیکل رپورٹ تیار کی جاتی تھی تھی۔ اس میڈیکل رپورٹ میں مریضوں کو ٹی بی' ہیپاٹائٹس وغیرہ کا مریض بتایا جاتا ' مریض حیران پریشان کہ مجھے تو یہ بیماری تھی ہی نہیں ۔۔
اس رپورٹ کو پوزیٹو بنانے کے لئے غریب مریض دو لاکھ سے لے کر بیس لاکھ تک رقم وصول کی جاتی ۔۔ یا پھر مریض سے کہا جاتا کہ آپ ہمارے ہسپتال میں پانچ چھ ماہ تک علاج کروائیں پھر آپ کی رپورٹ مثبت آئے گی ۔۔
مریض مجبور۔۔۔اس طرح ڈاکٹر صاحب کی جائیداد پر جائیداد بنتی چلی گئ 96 میں جو ڈاکٹر چار مرلے کے گھر میں رہتا تھا اب وہ دس کنال کی کوٹھی میں رہتا تھا۔۔۔ نکالوں پر کنال خریدتا چلا گیا' نتیجہ کیا ہوا کہ جس اولاد کے لئے وہ غریب انسانوں کا خون نچوڑ رہا تھا' حرام ذرائع سے دولت اکٹھی کررہا تھا اس ناہنجار نا خلف اولاد نے اپنے باپ کو قتل کر کے انجام تک پہنچادیا'
جو والدین اپنے بچوں کو حرام کھلا رہے ہیں وہ ڈریں کہ یہ اولاد اس کے لئے دنیا میں ہی جہنم نہ بن جائے'
اور ہماری آنکھوں کے سامنے حرام دولت جمع کرنے والوں کے مناظر سامنے آ رہے ہیں لیکن ہم اس سے عبرت حاصل نہیں کررہے۔ تو پھر اللہ اپنا ایسا ہی فیصلہ سنائے گا'
پاکستان کا سابق وزیر اعظم شوکت عزیز جس نے پاکستان کی معشیت کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا اور پاکستان سے فرار ہوا اس کا اکلوتا جوان بیٹا مر گیا' بیٹی نے اس کی جمع کی ہوئی تمام حرام جائیداد اپنے نام کر کے باپ کو بے یارو مددگار چھوڑ دیا' اب وہ الزیمر کا مریض ہے ' منہ سے اس کی "رال" ٹپکتی ہے بب اس کی گردن پر بندھی ہوتی ہے یہ وہ وزیر اعظم جو لاکھوں کا سوٹ پہنتا تھا ۔
لیکن حرام رزق کی وجہ سے آج اپنے انجام کو پہنچا ہوا ہے!
اپنی اولاد کی تربیت حلال لقمے سے کریں چاہے پیٹ پر پتھر ہی کیوں نہ باندھنے پڑے' رزق حلال کے فائدے ان گنت ہے سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ آپ کی اولاد آپ کی فرمانبردار' نیک صالح ہوتی ہے۔ اپنی اولاد کو دنیاوی مال و دولت ہی نہ دیں اس کو وقت دیں' اس کی تربیت کریں' اس کا قرآن سے ' دین سے اسوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ' اہل بیت اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی فقرو فاقہ سے بھرپور زندگیوں سے رشتہ مضبوط کریں ۔
ملک عمران اعوان

12/08/2025

*الحقير إذا وجد البديل نكر الجميل والأصيل لا يتركك مهما كان البديل جميل*

*کم ظرف جب متبادل پا لیتا ہے تو احسان بھول جاتا ہے،*
جبکہ اصلی (وفادار) شخص تمہیں کبھی نہیں چھوڑتا چاہے متبادل کتنا ہی خوبصورت کیوں نہ ہو۔

کوریج ختم ہو گئی،"اک ستارہ تھا میں کہکشاں ہو گیا "غ ز ہ کی سب سے توانا آواز الجزیرہ کے صحافی انس الشریف اپنے ساتھی محمد ...
11/08/2025

کوریج ختم ہو گئی
،"اک ستارہ تھا میں کہکشاں ہو گیا "
غ ز ہ کی سب سے توانا آواز الجزیرہ کے صحافی انس الشریف اپنے ساتھی محمد قریقع اور دیگر تین ساتھیوں سمیت شہید کر دیے گئے ۔ 💔
قطر سے ان کے ایک دوست نے حالات کی سختیوں کی وجہ سے ایک بار ان سے کہا
انس بھائی قطر آ جائیں
تو جواب دیا
میں غزہ سے جنت کے علاؤہ کہیں نہیں جاؤں گا ۔۔۔۔
اور آج جنت کو وہ اپنے دوستوں کے ساتھ روانہ ہو گئے ۔۔۔۔۔🥀
اللھُمَّ اعفرلھم وادخلھم الجنۃ
انس💔

یہ وہ سورت ہے جسے لوگ سورت الاستجابت کہتے ہیں کیونکہ یہ دعا کی قبولیت کی سورت ہے یہ سورۃ الأنبياء ہے اور اس میں اللہ تعا...
11/08/2025

یہ وہ سورت ہے جسے لوگ سورت الاستجابت کہتے ہیں کیونکہ یہ دعا کی قبولیت کی سورت ہے یہ سورۃ الأنبياء ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ نے بار بار فرمایا فاستجبنا له یعنی ہم نے اس کی دعا سن لی ہم نے اسے قبول کر لیا

یہ وہ سورت ہے جو اس وقت پڑھی جاتی ہے جب سب دروازے بند ہو جائیں اور صرف ایک در باقی ہو آسمان کا در جس سے روشنی اترتی ہے اور دل کو یقین ملتا ہے

یہ قرآن کی وہ واحد سورت ہے جس میں لفظ فاستجبنا له بار بار آیا ہے اور کسی اور سورت میں اس انداز سے نہیں آیا

یہ سورت ان قفل شدہ دروازوں کے لیے کنجی ہے جنہیں کوئی اور نہیں کھول سکتا یہ سورت ہمیں سکھاتی ہے کہ دعا کیسے دروازے کھولتی ہے

پہلا دروازہ حضرت نوح کا ہے جنہوں نے کرب میں دعا کی
وَنُوحًا إِذْ نَادَىٰ مِن قَبْلُ فَاسْتَجَبْنَا لَهُ فَنَجَّيْنَاهُ وَأَهْلَهُ مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِيمِ

دوسرا دروازہ حضرت ایوب کا ہے جو بیماری اور تکلیف میں صبر کے ساتھ رب کو پکارتے رہے
فَاسْتَجَبْنَا لَهُ فَكَشَفْنَا مَا بِهِ مِن ضُرٍّ وَآتَيْنَاهُ أَهْلَهُ وَمِثْلَهُم مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنْ عِندِنَا وَذِكْرَىٰ لِلْعَابِدِينَ

تیسرا در حضرت یونس کا ہے جنہیں غم نے گھیرا اور انہوں نے پکارا
فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَنَجَّيْنَاهُ مِنَ الْغَمِّ وَكَذَٰلِكَ نُنجِي الْمُؤْمِنِينَ

چوتھا دروازہ حضرت زکریا کا ہے جنہوں نے اولاد کے لیے پکارا
فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَوَهَبْنَا لَهُ يَحْيَىٰ وَأَصْلَحْنَا لَهُ زَوْجَهُ

اب سوال یہ ہے کیا یہ صرف انبیاء کے لیے ہے

تو جواب سورت کے اندر ہی آیا
رَحْمَةً مِّنْ عِندِنَا وَذِكْرَىٰ لِلْعَابِدِينَ
یہ سب کچھ ان بندوں کے لیے بھی ہے جو عبادت کرتے ہیں جو اس کی یاد میں جیتے ہیں

اور دوسرا مقام فرمایا
إِنَّهُمْ كَانُوا يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَيَدْعُونَنَا رَغَبًا وَرَهَبًا وَكَانُوا لَنَا خَاشِعِينَ

جو خیر میں جلدی کرتے ہیں جو دعا کرتے ہیں امید کے ساتھ خوف کے ساتھ اور جن کے دل اللہ کے لیے جھکے ہوئے ہیں

یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے بھی فرمایا
فَاسْتَجَبْنَا لَهُ

اپنے دل میں رکھ لو یہ سورت اور وقت آنے پر اسے اپنے آنسوؤں کے ساتھ پڑھو

Address

Sargodha

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when NAQAB posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share