Awami Network

Awami Network Closed room journalism is not my creed
Whatever I have to say I will say it openly in the public arena.

I am a professional journalist Alhamdulillah I hold a degree in Mass communication and Media Studies from Khushal Khan Khattak University.

03/09/2026

تحصیل بانڈہ داؤد شاہ ٹیری میں ایک کروڑ روپے کی سٹریٹ لائٹس منصوبے پر سوالات۔۔۔
تحصیل بانڈہ داؤد شاہ ٹیری میں ایم پی اے خورشید خٹک کے ثواب دیدی CSR فنڈ سے منظور شدہ تقریباً ایک کروڑ روپے کی لاگت کے سٹریٹ لائٹس منصوبے پر عوامی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ اس منصوبے کے حوالے سے ہم پہلے بھی ایک ویڈیو رپورٹ میں نشاندہی کر چکے ہیں کہ سٹریٹ لائٹس کے فاؤنڈیشن اور تنصیب کے کام میں مبینہ طور پر خامیاں موجود ہیں۔
اب صورتحال یہ ہے کہ لگائی گئی بعض لائٹس رات 12 بجے کے بعد بند ہو جاتی ہیں، جس سے استعمال ہونے والی لائٹس کے معیار پر بھی سوالات پیدا ہو رہے ہیں۔
عوامی نیٹ ورک بہت جلد اس منصوبے پر ایک تفصیلی اور جامع رپورٹ پیش کرے گا، جس میں یہ حقائق سامنے لائے جائیں گے:
منصوبے میں کل کتنی سٹریٹ لائٹس لگنی تھیں؟
اب تک کتنی سٹریٹ لائٹس نصب کی جا چکی ہیں؟
سٹریٹ لائٹس مقررہ فاصلے کے مطابق لگائی گئی ہیں یا نہیں؟
منصوبے پر ایک کروڑ روپے کی رقم کس طرح خرچ کی گئی؟
اور سب سے اہم، اس منصوبے کے بارے میں عوام کی رائے کیا ہے؟
چند ہی دنوں میں مکمل رپورٹ عوامی نیٹ ورک پر شیئر کی جائے گی۔
عوامی نیٹ ورک — عوام کی آواز، عوام کے مسائل کے ساتھ

ایک سولر سسٹم اور ہماری ذہنی غلامیبھادرخیل ہائی سکول کے لیے چند سولر پلیٹس پہنچیں، جو یقیناً ایک اچھا کام ہے۔ لیکن اس سے...
03/09/2026

ایک سولر سسٹم اور ہماری ذہنی غلامی

بھادرخیل ہائی سکول کے لیے چند سولر پلیٹس پہنچیں، جو یقیناً ایک اچھا کام ہے۔ لیکن اس سے بھی زیادہ دلچسپ منظر وہ تھا جو سولر پلیٹس کے ساتھ ساتھ وہاں دیکھنے کو ملا۔

پہلے سولر پلیٹس گاڑی سے اتاری گئیں تو ایک گروپ فوراً کیمروں کے سامنے پہنچ گیا۔ استری شدہ کپڑے، کالے چشمے، تیار پوز اور پھر تصاویر اور ویڈیوز کا سلسلہ۔ سوشل میڈیا پر ایسے شکریوں کی بارش شروع ہوئی جیسے علاقے کے تمام مسائل ایک ہی دن میں ختم ہو گئے ہوں۔

پھر جب سولر پلیٹس نصب کرنے کا وقت آیا تو دوسرا گروپ بھی میدان میں آگیا۔ کیمرے دوبارہ آن ہوئے، تصویریں بنیں اور شکریہ ایم این اے، شکریہ ایم پی اے کے نعرے دوبارہ شروع ہوگئے۔

اصل المیہ سولر سسٹم نہیں، ہماری سوچ ہے۔

ہم شاید یہ بھول چکے ہیں کہ عوامی نمائندے عوام کے نوکر ہوتے ہیں، بادشاہ نہیں۔ عوام کے وسائل سے ہونے والا کام کسی ایم این اے یا ایم پی اے کا ذاتی احسان نہیں بلکہ عوام کا بنیادی حق ہوتا ہے۔

مگر ہماری حالت یہ ہے کہ ایک چھوٹے سے کام پر ہم خوشامد کے ایسے ریکارڈ قائم کرتے ہیں کہ بڑے بڑے مسائل پر سوال کرنا بھی بھول جاتے ہیں۔ کیمرے کے سامنے شکریہ ادا کرنے والوں کو شاید یہ سوال بھی کرنا چاہیے کہ تحصیل بانڈہ داؤد شاہ کے وسائل اور ترقیاتی حق کا عوام کو کتنا حصہ ملا؟

یہاں مسئلہ تعریف کرنے کا نہیں، اندھی تعریف کرنے کا ہے۔

اچھے کام کی تعریف ضرور کریں، مگر اپنے حق کو خیرات اور نمائندے کو مسیحا مت بنائیں۔ کیونکہ جب قومیں ہر چھوٹے کام پر تالیاں بجانے لگتی ہیں تو حکمران بڑے حساب دینے سے بچ جاتے ہیں۔

ہمیں سولر پلیٹس سے زیادہ اپنے ذہنوں کی تاریکی دور کرنے کی ضرورت ہے۔
شکریہ ضرور کریں، مگر سوال کرنا کبھی نہ چھوڑیں .

*موضوع: سول ہسپتال بہادرخیل میں ڈینٹل ڈیپارٹمنٹ کا قیام اور ماہر ڈینٹل سرجن کی تعیناتی*سول ہسپتال بہادرخیل جو کہ 1959 می...
02/09/2026

*موضوع: سول ہسپتال بہادرخیل میں ڈینٹل ڈیپارٹمنٹ کا قیام اور ماہر ڈینٹل سرجن کی تعیناتی*
سول ہسپتال بہادرخیل جو کہ 1959 میں قائم ہوا تھا، میں صحت کی سہولیات کی بہتری کے سلسلے میں کوششیں جاری ہیں ۔
بدقسمتی سے ہسپتال کے قیام سے اب تک ڈینٹل سرجن کی منظور شدہ پوسٹ خالی تھی اور اگست 2025 تک ہسپتال میں ڈینٹل ڈیپارٹمنٹ سرے سے موجود ہی نہیں تھا۔
اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہسپتال انتظامیہ نے سب سے پہلے ڈینٹل ڈیپارٹمنٹ قائم کیا اور فلنگ، ایکسٹریکشن، RCT، اسکیلنگ، پولشنگ، ڈینٹل کراؤن اور بریج جیسے تمام اہم طریقہ کار کا آغاز کیا۔ دو قابل ٹیکنیشنز کی کاوشوں سے یہ شعبہ فعال رہا، تاہم ایک مستقل ڈاکٹر کی کمی ہمیشہ محسوس کی جاتی رہی۔

یہ سول ہسپتال بہادرخیل کے لیے یہ فخر کی بات ہے کہ اب ایک ماہر اور قابل ڈینٹل سرجن ڈاکٹر شرافت عبداللہ نے ہسپتال جوائن کر لیا ہے۔*
ڈاکٹر صاحبہ کا تعلق احمد آباد، کرک سے ہے اور انہوں نے RMI سے FCPS پروسٹوڈونٹکس کی ڈگری حاصل کی ہے۔ ہسپتال جوائن کرنے سے قبل وہ RMI میں کنسلٹنٹ پروسٹوڈونٹک ڈینٹل سرجن کے فرائض سرانجام دے رہی تھیں۔
ہمیں امید ہے کہ ڈاکٹر شرافت عبداللہ کی موجودگی سے سول ہسپتال بہادرخیل کا ڈینٹل ڈیپارٹمنٹ اور نت نئے پروسیجر شروع کرے گا۔ ہماری کوشش ہے کہ پرائمری اور سیکنڈری ہیلتھ کیئر کی سطح پر ایسے جدید ڈینٹل طریقہ کار فراہم کیے جائیں جو صرف بڑے ہسپتالوں می دستیاب ہوں۔
*ڈاکٹر صاحبہ مندرجہ ذیل پروسیجرز میں ماہر ہیں ۔*
*ڈینٹل علاج,دانتوں کا معائنہ
دانتوں کا ایکسرے, فلنگ,لیزر فیلنگ,دانت نکالنا,آپریشن کے ذریعے دانت نکالنا
عقل داڑھ نکالنا,دانتوں کی صفائی
دانتوں کی پالش,مسوڑھوں کا علاج
دانت کا روٹ کینال,دانتوں کی وینیر,مصنوعی فکسگ دانت
نقلی دانتوں کا سیٹ،بتیسی
ڈینٹل امپلانٹ،امپلانٹ پر مصنوعی دانت،مسکراہٹ کی خوبصورتی کا علاج
چہرے اور جبڑے کے مصنوعی اعضاء کا علاج*
آخر میں ہم تمام متعلقہ حکام اور عوام سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اس اہم شعبے کی ترقی کے لیے اپنا تعاون جاری رکھیں۔شکریہ

02/09/2026

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے تحصیل صدر وحید گل کے ساتھ خصوصی نشست۔

تحصیل کی سیاسی صورتحال، پارٹی امور اور تنظیمی معاملات پر اہم گفتگو۔

02/09/2026

تحصیل بانڈہ داؤد شاہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے بی گروپ کے جنرل سیکرٹری طارق بصیر کے ساتھ ایک یوتھ گروپ نے کھڑے ہو کر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ساتھ اظہارِ یکجہتی......

02/09/2026

داخلہ مہم کا آغاز!

تحصیل بانڈہ داؤد شاہ کے گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج میں نئے داخلوں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔

آئیے! اپنے بچوں کے روشن مستقبل کے لیے انہیں بہت ہی مناسب اور کم فیس میں معیاری تعلیم کے حصول کے لیے گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج میں داخل کروائیں۔

یہ کالج صرف ایک تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ ہماری تحصیل کا ایک اہم قومی اثاثہ ہے۔ آئیے مل کر اپنے کالج کو مضبوط بنائیں، اسے بچائیں اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک بہترین تعلیمی مرکز بنائیں۔

اپنے بچوں کا مستقبل سنواریں
اپنے سرکاری کالج کو آباد کریں
اپنے قومی اثاثے کو بچائیں اور آگے بڑھائیں

آئیں! آج ہی اپنے بچوں کا داخلہ گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج بانڈہ داؤد شاہ میں کروائیں۔

01/09/2026

گورنمنٹ سکولز کے 50-60 تک یتیم نادار اور انتہائی غریب سٹوڈنٹس کو سکول کے جوتے کپڑے لینے ہے جسکے لیے 60 ہزار پاکستانی روپے درکار ہے کوئی دوست صدقہ جاریہ کرنا چاہے تو اسمے شامل ہوسکتا ہے الله اجر دیگا شکریہ پوسٹ ثواب کی نیت سے آگے شیئر کرتے جائے..(اگر کوئی دوست لینا چاہے تو واٹسپ پر رابطہ کر لے ہم نمبر اور کپڑے کا سائز دینگے)
ایزی پیسہ/ راست
03449002451
Hameed Ur Rehman....

عوامی رائے کا بڑا مقابلہتحصیل بانڈہ کی دو معروف اور بااثر سیاسی شخصیات آمنے سامنے سابق ایم این اے شمس الرحمٰن ۔ سابق تحص...
01/09/2026

عوامی رائے کا بڑا مقابلہ
تحصیل بانڈہ کی دو معروف اور بااثر سیاسی شخصیات آمنے سامنے
سابق ایم این اے شمس الرحمٰن ۔
سابق تحصیل میئر امیدوار خالد خٹک المعروف بابو
دونوں شخصیات کا اپنا مضبوط ووٹ بینک، سیاسی پہچان اور عوام میں اثر و رسوخ موجود ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ صرف شخصیت، عوامی مقبولیت اور ذاتی اثر و رسوخ کی بنیاد پر عوام کس شخصیت کو زیادہ پسند کرتے ہیں؟
نوٹ: یہ پول کسی سیاسی جماعت کی بنیاد پر نہیں بلکہ صرف دونوں شخصیات کی ذاتی مقبولیت اور شخصیت کی بنیاد پر ہوگا۔
پول کا دورانیہ: 48 گھنٹے
اپنی رائے ضرور دیں اور پول کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ عوامی رائے کا حقیقی اندازہ ہو سکے

سیاست میں بعض فیصلے بظاہر کسی سیاستدان کے خلاف نظر آتے ہیں، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ وہی فیصلہ اس سیاستدان کے لیے نئی سیاس...
31/08/2026

سیاست میں بعض فیصلے بظاہر کسی سیاستدان کے خلاف نظر آتے ہیں، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ وہی فیصلہ اس سیاستدان کے لیے نئی سیاسی طاقت اور نئے امکانات کے دروازے کھول دیتا ہے۔ سابق رکنِ صوبائی اسمبلی گل صاحب خان کے معاملے کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

ایک یا دو ماہ قبل علیمہ خان سے متعلق بیان کے معاملے پر عوامی نیشنل پارٹی کی صوبائی قیادت نے گل صاحب خان کو پارٹی سے فارغ کر دیا۔ بظاہر یہ فیصلہ گل صاحب خان کے لیے ایک بڑا سیاسی نقصان دکھائی دیتا تھا، لیکن مقامی سیاسی حلقوں میں اس فیصلے نے ایک بالکل مختلف صورتحال پیدا کر دی۔

یہاں اصل سوال یہ ہے کہ گل صاحب خان ہارے ہیں یا ایک نیا سیاسی کھیل جیت گئے ہیں؟

گل صاحب خان کی سیاسی طاقت کو نظر انداز کرنا آسان نہیں۔ وہ ماضی میں پاکستان تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے انتخابی میدان میں اترے، ٹکٹ حاصل کیا اور صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی پاکستان تحریک انصاف کے اندر ایک قابلِ ذکر طبقہ گل صاحب خان کے لیے نرم گوشہ رکھتا ہے۔ مقامی سیاسی حلقوں کے مطابق پی ٹی آئی کے تقریباً 40 سے 50 فیصد کارکنوں میں یہ خواہش پائی جاتی ہے کہ گل صاحب خان دوبارہ پاکستان تحریک انصاف کا حصہ بنیں۔

اس کی ایک بڑی وجہ ان کا سیاسی تجربہ، عوامی روابط اور اپنے دورِ اقتدار میں مختلف لوگوں کے مسائل کے حل کے لیے کی جانے والی کوششیں ہیں۔ سیاست میں اختلافات ضرور ہوتے ہیں، لیکن عوام اور کارکن اکثر ان سیاستدانوں کو یاد رکھتے ہیں جنہوں نے ان کے لیے عملی طور پر کام کیا ہو۔

دوسری جانب عوامی نیشنل پارٹی سے علیحدگی بھی گل صاحب خان کے لیے مکمل سیاسی نقصان ثابت ہوتی دکھائی نہیں دے رہی۔ اے این پی کے مقامی کارکنوں اور بعض پارٹی حلقوں میں صوبائی اور ضلعی قیادت کے فیصلے پر تحفظات سامنے آئے۔ گل صاحب خان کے حامیوں کا موقف ہے کہ انہوں نے پارٹی کے لیے جدوجہد کی، انتخابات میں پارٹی کے پلیٹ فارم سے حصہ لیا اور علاقے میں عوامی نیشنل پارٹی کو مضبوط کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کیا۔

یہی وجہ ہے کہ پارٹی سے نکالے جانے کے باوجود گل صاحب خان مقامی سطح پر اپنے ساتھ موجود سیاسی اور عوامی حمایت کو برقرار رکھنے میں کامیاب نظر آ رہے ہیں۔

گل صاحب خان کا ایک جملہ اس پوری صورتحال کا سب سے اہم سیاسی نکتہ بن گیا ہے:

"میں نے پارٹی نہیں چھوڑی، پارٹی نے مجھے نکالا ہے۔"

یہ بیانیہ سیاسی طور پر ان کے لیے خاصا مضبوط ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ اس سے وہ اپنے آپ کو پارٹی چھوڑنے والے سیاستدان کے بجائے ایک ایسے رہنما کے طور پر پیش کر رہے ہیں جسے پارٹی قیادت نے باہر کیا۔

آج پاکستان تحریک انصاف کے چیرمین بیرسٹر گوہر سے گل صاحب خان کی ملاقات نے بھی سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ملاقات کے دوران فاتحہ خوانی اور تعزیت کو انسانی اور سماجی ملاقات قرار دیا جا سکتا ہے، تاہم پاکستانی سیاست میں ایسی ملاقاتیں اکثر مستقبل کے سیاسی امکانات کے حوالے سے بھی قیاس آرائیوں کو جنم دیتی ہیں۔

اب سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا گل صاحب خان کی پاکستان تحریک انصاف میں واپسی ہونے جا رہی ہے؟

سیاسی حالات کو دیکھا جائے تو ان کے لیے پی ٹی آئی میں دوبارہ شمولیت کے امکانات پہلے کی نسبت زیادہ آسان دکھائی دے رہے ہیں۔ پی ٹی آئی میں ان کا پرانا سیاسی پس منظر موجود ہے، کارکنوں کا ایک حصہ آج بھی ان کے ساتھ کھڑا ہے، جبکہ عوامی نیشنل پارٹی سے علیحدگی نے انہیں ایک نئی سیاسی سمت اختیار کرنے کا موقع فراہم کر دیا ہے۔

مقامی سیاسی حلقوں کی نظریں اب 27 ستمبر تک کی سیاسی صورتحال پر مرکوز ہیں۔ ممکن ہے آنے والے دنوں میں گل صاحب خان اپنی سیاسی پوزیشن مکمل طور پر واضح کریں، اور اگر حالات سازگار رہے تو پاکستان تحریک انصاف میں ان کی واپسی کوئی حیران کن بات نہیں ہوگی۔

مختصراً، گل صاحب خان کے ساتھ جو کچھ ہوا، اسے صرف پارٹی سے اخراج نہیں کہا جا سکتا۔ سیاسی بساط پر یہ ایک ایسا موڑ ثابت ہو سکتا ہے جہاں بظاہر نقصان اٹھانے والا سیاستدان، نئی حکمتِ عملی کے ذریعے پہلے سے زیادہ مضبوط سیاسی پوزیشن حاصل کر لے۔

سیاست کی بساط ابھی باقی ہے، مگر ایک بات واضح ہے: گل صاحب خان کا سیاسی کھیل ابھی ختم نہیں ہوا، شاید اصل کھیل اب شروع ہونے والا ہے۔

31/08/2026

کرک پولیس نے ڈی پی او عمران خان کی زیر قیادت آئی ای ڈی دھماکہ کی شکار گاڑی کو جائے وقوعہ سے محفوظ مقام کو منتقل کر دیا

Address

Karak Banda Daud Shah
Shah
KHAN12345

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Awami Network posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share