Umar on Roads

Umar on Roads Traveler & Vlogger capturing the beauty of every destination. From roads to mountains, sharing authentic travel moments with you. Umar Gulzar

Join my journey as Umar on Roads. — M.

کیا ہم اس دنیا میں اکیلے ہیں؟آج میں نے چاند کی ایک تصویر بنائی۔ چاند کو دیکھ کر دل میں ایک عجیب سا سوال جاگا: کیا ہم اس ...
07/06/2026

کیا ہم اس دنیا میں اکیلے ہیں؟
آج میں نے چاند کی ایک تصویر بنائی۔ چاند کو دیکھ کر دل میں ایک عجیب سا سوال جاگا: کیا ہم اس وسیع کائنات میں اکیلے ہیں؟
جب رات کے آسمان پر بے شمار ستارے جگمگاتے ہیں اور سائنس دان ہمیں کھربوں کہکشاؤں کے بارے میں بتاتے ہیں، تو انسان حیرت میں ڈوب جاتا ہے۔ اتنی بڑی کائنات، اتنے سیارے، اتنی دنیائیں... کیا واقعی صرف ہم ہی ہیں؟
یہ سوال آج بھی اہلِ علم اور سائنس دانوں کے درمیان تحقیق کا موضوع ہے۔ ابھی تک زمین کے علاوہ کسی اور جگہ زندگی کا یقینی ثبوت نہیں ملا، لیکن کائنات کی وسعت کو دیکھ کر دل کہتا ہے کہ شاید اللہ تعالیٰ کی تخلیق ہماری سوچ سے کہیں زیادہ عظیم ہو۔
چاند کو دیکھتے ہوئے میرے دل میں یہی سوال گونجتا ہے:
"اے اہلِ علم! آپ کیا کہتے ہیں؟ کیا ہم اس پوری کائنات میں اکیلے ہیں، یا کہیں دور کسی اور دنیا میں بھی زندگی موجود ہے؟"

مسجد الحرام کی طرف جاتے ہوئے بس اسٹاپ کے قریب ایک بہت بڑا خالی میدان نظر آتا ہے۔ وہاں بے شمار لوگ اپنی گاڑیاں کھڑی کیے ا...
07/06/2026

مسجد الحرام کی طرف جاتے ہوئے بس اسٹاپ کے قریب ایک بہت بڑا خالی میدان نظر آتا ہے۔ وہاں بے شمار لوگ اپنی گاڑیاں کھڑی کیے اللہ کی رضا کے لیے پانی، جوس، کھجوریں اور مختلف قسم کا کھانا تقسیم کر رہے ہوتے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ پانی کبھی ختم ہوتا ہوا محسوس نہیں ہوتا، اور نہ ہی کھانے کی کمی نظر آتی ہے۔

ہر وقت کوئی نہ کوئی شخص ثواب کی نیت سے اللہ کے مہمانوں کی خدمت میں مصروف رہتا ہے۔ یہ منظر دیکھ کر دل بے اختیار سبحان اللہ کہہ اٹھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کے بندوں کی سخاوت کا یہ نظارہ واقعی ایمان کو تازگی بخش دیتا ہے۔

مسجدِ نبوی ﷺ میں عصر کی نماز کے بعد جب بھی جنت البقیع جانے کا موقع ملتا ہے، دل کی کیفیت الفاظ میں بیان نہیں کی جا سکتی۔ ...
07/06/2026

مسجدِ نبوی ﷺ میں عصر کی نماز کے بعد جب بھی جنت البقیع جانے کا موقع ملتا ہے، دل کی کیفیت الفاظ میں بیان نہیں کی جا سکتی۔ وہاں کی خاموشی، سکون اور آخرت کی یاد انسان کے دل کو جھنجھوڑ دیتی ہے۔ ہر بار ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دنیا کی حقیقت اور زندگی کی اصل منزل نگاہوں کے سامنے آ گئی ہو۔

یا اللہ! جس طرح تُو نے اپنے فضل و کرم سے جنت البقیع کی زیارت نصیب فرمائی، اسی طرح ہمیں بھی اپنے رحم و کرم سے جنت البقیع میں جگہ عطا فرما۔ ہماری مغفرت فرما، ہمارے ایمان کی حفاظت فرما، اور ہمیں اپنے نیک بندوں کے ساتھ جنت الفردوس میں مقام عطا فرما۔ آمین یا رب العالمین

07/06/2026

اے اللہ! میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں۔ تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں۔ بے شک تمام تعریف، نعمت اور بادشاہی تیرے ہی لیے ہے، تیرا کوئی شریک نہیں !

طوافِ کعبہ کا بھی اپنا ہی مزہ ہے۔ جب انسان بیت اللہ کے گرد چکر لگاتا ہے تو دل پر ایک عجیب سکون اور خوشی طاری ہو جاتی ہے۔...
06/06/2026

طوافِ کعبہ کا بھی اپنا ہی مزہ ہے۔ جب انسان بیت اللہ کے گرد چکر لگاتا ہے تو دل پر ایک عجیب سکون اور خوشی طاری ہو جاتی ہے۔ ہر قدم کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رحمت کا احساس بڑھتا جاتا ہے۔ لاکھوں لوگ ایک ہی جگہ جمع ہو کر “سبحان اللہ” اور “الحمدللہ” کی صدائیں بلند کرتے ہیں تو روح کو ایک نئی تازگی ملتی ہے۔

کعبۃ اللہ کو دیکھتے ہوئے دل بے اختیار پکار اٹھتا ہے: “ماشاءاللہ، سبحان اللہ!” اس مقدس مقام پر کھڑے ہو کر دنیا کی تمام فکریں چھوٹی لگنے لگتی ہیں اور انسان صرف اپنے رب کی یاد میں کھو جاتا ہے.

انسان جب خانہ کعبہ کے سامنے بیٹھتا ہے تو دل کی کیفیت بدل جاتی ہے، اور وقت جیسے تھم سا جاتا ہے۔ آنکھوں کے سامنے وہ مقدس م...
06/06/2026

انسان جب خانہ کعبہ کے سامنے بیٹھتا ہے تو دل کی کیفیت بدل جاتی ہے، اور وقت جیسے تھم سا جاتا ہے۔ آنکھوں کے سامنے وہ مقدس منظر ہوتا ہے جہاں ہر طرف عبادت، دعا اور آنسوؤں کی خوشبو ہوتی ہے۔ انسان اپنی ذات کو بھول کر صرف اپنے رب کے قریب ہونے کا احساس کرتا ہے۔

یہ وہی مبارک جگہ ہے جو کبھی ایک سنسان اور بنجر صحرا تھا۔ نہ وہاں پانی تھا نہ سبزہ، صرف ویرانی تھی۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے اسی وادی کو دنیا کا سب سے مقدس مقام بنا دیا۔

پھر اللہ کے حکم سے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے لوگوں کو حج کی طرف بلایا۔ انہوں نے بلند آواز میں صدا لگائی کہ لوگ اللہ کے گھر کی طرف آئیں۔ یہ آواز صدیوں تک گونجتی رہی اور آج بھی اس کا اثر ہر دل میں موجود ہے۔

جب کوئی حاجی یا زائر خانہ کعبہ پہنچتا ہے تو اس کی زبان پر یہی الفاظ ہوتے ہیں:
“لبیک اللہم لبیک، لبیک لا شریک لک لبیک…”

یہ الفاظ صرف ایک دعا نہیں بلکہ ایک پکار ہے، جو انسان کو اس کے رب کے قریب لے جاتی ہے، اور دل کو سکون سے بھر دیتی ہے۔

ظہر کی نماز ادا کرنے کے بعد میں نے سامنے بیٹھ کر حرم کے خوبصورت منظر کو دیکھا۔ Masjid al-Haram میں ہر طرف لوگ طواف میں م...
06/06/2026

ظہر کی نماز ادا کرنے کے بعد میں نے سامنے بیٹھ کر حرم کے خوبصورت منظر کو دیکھا۔ Masjid al-Haram میں ہر طرف لوگ طواف میں مصروف تھے۔ کوئی آہستہ آہستہ چل رہا تھا، کوئی آنکھوں میں آنسو لیے اپنے رب سے معافی مانگ رہا تھا، اور کوئی اپنے لیے نہیں بلکہ دوسروں کے لیے دعائیں کر رہا تھا۔

میں خاموشی سے یہ سب منظر دیکھ رہا تھا۔ دل عجیب سی کیفیت میں تھا—ایسا لگ رہا تھا جیسے یہاں ہر شخص صرف اپنے لیے نہیں بلکہ پوری امت کے لیے دعا گو ہو۔ ہر چہرے پر امید بھی تھی اور عاجزی بھی۔

میں نے بھی ہاتھ اٹھائے اور دل ہی دل میں دعا کی:
“یا اللہ! سب پر رحم فرما، سب کی مشکلات آسان کر دے، سب کے گناہ معاف فرما۔ آمین۔”

اس لمحے ایسا لگا جیسے آسمان اور زمین کے درمیان صرف دعا ہی دعا ہے، اور ہر دل اپنے رب کے قریب ہو رہا ہے۔

جب ہم ہوٹل سے نکل کر Masjid al-Haram کی طرف روانہ ہوتے ہیں تو راستے میں ایک عجیب سا روحانی اور منظم ماحول محسوس ہوتا ہے۔...
06/06/2026

جب ہم ہوٹل سے نکل کر Masjid al-Haram کی طرف روانہ ہوتے ہیں تو راستے میں ایک عجیب سا روحانی اور منظم ماحول محسوس ہوتا ہے۔ لاکھوں لوگوں کا ہجوم ہر طرف نظر آتا ہے، کوئی عبادت کے جذبے سے تیزی سے قدم بڑھا رہا ہوتا ہے تو کوئی تھکن کے باوجود بھی اللہ کے گھر کی طرف کھنچا چلا جا رہا ہوتا ہے۔

راستے میں صرف زائرین ہی نہیں ہوتے بلکہ آپ کو صفائی کرنے والے محنتی لوگ بھی ہر طرف نظر آئیں گے۔ کہیں کوئی جھاڑو لگا رہا ہوتا ہے، کہیں کوئی پانی سے راستہ دھو رہا ہوتا ہے، اور کہیں کوڑا کرکٹ صاف کر کے پورے علاقے کو چمکا رہا ہوتا ہے۔ یہ سب لوگ اس مقدس شہر کو صاف اور خوبصورت رکھنے کے لیے دن رات محنت کرتے ہیں۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ ان صفائی کرنے والے محنت کشوں میں بڑی تعداد بنگلہ دیش سے آئے ہوئے لوگوں کی ہوتی ہے۔ وہ خاموشی سے، بغیر کسی شور شرابے کے، بہت اخلاص کے ساتھ اپنا کام کرتے ہیں۔ ان کے چہرے پسینے سے تر ہوتے ہیں لیکن پھر بھی وہ مسکراتے ہوئے حرم کے راستوں کو صاف رکھنے میں لگے رہتے ہیں۔

یہ منظر دل کو ایک عجیب سا احساس دیتا ہے کہ یہاں ہر شخص کسی نہ کسی انداز میں اللہ کے گھر کی خدمت کر رہا ہے۔ کوئی عبادت میں مشغول ہے، کوئی دعا میں، اور کوئی صفائی کر کے آنے والے مہمانوں کے لیے راستہ آسان بنا رہا ہے۔

یوں لگتا ہے جیسے یہ پورا سفر صرف چلنے کا نہیں بلکہ شکر، محبت اور خدمت کا ایک خوبصورت امتزاج ہے، جو دل کو ہمیشہ کے لیے یاد رہ جاتا ہے۔

مسجد الحرام میں جب طوافِ کعبہ مکمل ہوا تو دل ایک عجیب سی سکون اور خوشی سے بھر گیا۔ لاکھوں لوگوں کا سمندر تھا، ہر طرف لبی...
06/06/2026

مسجد الحرام میں جب طوافِ کعبہ مکمل ہوا تو دل ایک عجیب سی سکون اور خوشی سے بھر گیا۔ لاکھوں لوگوں کا سمندر تھا، ہر طرف لبیک اللہم لبیک کی صدائیں گونج رہی تھیں، اور خانہ کعبہ کے گرد گھومتے ہوئے ایسا لگ رہا تھا جیسے دنیا کا ہر غم یہیں کہیں پیچھے رہ گیا ہو۔

طواف کے بعد جب صفا اور مروہ کے درمیان سعی کا مرحلہ شروع ہوا تو ہر قدم کے ساتھ دل میں شکر اور امید کا جذبہ بڑھتا جا رہا تھا۔ حضرت ہاجرہؑ کی قربانی اور صبر کا تصور ذہن میں آتا تو آنکھیں خود بخود نم ہو جاتیں۔ صفا سے مروہ اور مروہ سے صفا تک ہر چکر ایک نئی دعا، ایک نئی التجا بن جاتا تھا۔

سعی مکمل ہونے کے بعد جب باہر نکلے تو مکہ کی گرمی کے باوجود دل میں ایک ٹھنڈک سی محسوس ہو رہی تھی۔ اچانک اندازہ ہوا کہ عصر کی نماز کا وقت ہو چکا ہے۔ ہم نے جلدی سے وضو کیا اور جماعت کے ساتھ نمازِ عصر ادا کی۔ وہ لمحہ بہت ہی خاص تھا، جیسے ہر سجدہ دل کو مزید قریب کر رہا ہو ربِ کعبہ سے۔

نماز کے بعد جب نظر اوپر اٹھائی تو سامنے ایک ایسا حسین منظر تھا کہ الفاظ کم پڑ جائیں۔ بلند و بالا Clock ٹاور اپنی پوری شان کے ساتھ آسمان کو چھو رہا تھا، اس کی روشنی اور عظمت مکہ کی روحانیت کے ساتھ مل کر ایک عجیب سا منظر پیش کر رہی تھی۔ لگ رہا تھا جیسے وقت بھی یہاں آ کر رک سا گیا ہو اور ہر چیز صرف اللہ کی بڑائی بیان کر رہی ہو۔

وہ لمحہ دل میں ہمیشہ کے لیے نقش ہو گیا—طواف کی پاکیزگی، سعی کی یادیں، نماز کا سکون اور سامنے کھڑا وہ شاندار کلاک ٹاور، سب مل کر ایک ایسی یاد بن گئے جو زندگی بھر ساتھ رہے گی۔

Address

Sheikhupura

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Umar on Roads posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Umar on Roads:

Share