SkpUpdates

SkpUpdates By M Asim Hafeez
Most Popular and Iconic Symbol of Digital Media in Dist. Sheikhupura .People Trust and Follows It.

یہ بھارتی فوج کا کرنل ہے، کرنل راجیش پوار دو روز قبل اس نے ایک ٹی وی شو میں بیٹھ کر دس مرتبہ ایک بات دوہرائی، کم سے کم ا...
10/09/2026

یہ بھارتی فوج کا کرنل ہے، کرنل راجیش پوار
دو روز قبل اس نے ایک ٹی وی شو میں بیٹھ کر دس مرتبہ ایک بات دوہرائی، کم سے کم اس نے دس مرتبہ ایک فقرہ ڈنکے کی چوٹ پر کہا ۔۔۔
کہ زمین افغانستان دے رہا ہے، ٹیکنالوجی اسرائیل دے رہا ہے اور پیسہ ہندوستان دے رہا ہے۔
اور ہم تین ملک کے پی اور بلوچستان میں کاروائیاں کر رہے ہیں ۔۔۔
کرنل پوار نے اینکر کے بار بار وضاحت مانگنے پر یہ بات الگ الگ زاویوں سے کھول کھول کر بیان کی کہ ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کو پناہ گاہیں اور تربیت گاہیں افغانستان فراہم کر رہا ہے۔۔ پیسہ ہندوستان لگا رہا ہے اور استعمال ہونے والے جدید ترین، مہنگے ترین اور خطرناک ترین ہتھیار اسرائیل کی جانب سے فراہم کیے جا رہے ہیں۔

بھارتی فوجی افسر نے دو ٹوک طریقے سے کہا کہ تینوں ملکوں کا مفاد ایک ہی پے۔

پاکستان میں سی پیک سمیت جاری تمام ترقیاتی منصوبوں کو نشانہ بنانا ،،، فوج، ایف سی ،پولیس سمیت تمام سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں علیحدگی پسند جنگجووں کو زیادہ سے زیادہ پیسے اور ہتھیاروں کی سپورٹ فراہم کرنا اور خاص طور پر پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں تک رسائی اور ان تنصیبات کو تباہ کرنے کی کوشش کرنا۔

اینکر نے پوچھا کہ اس سب میں ہندوستان کا مفاد تو ہے ہی ہے۔۔ لیکن اسرائیل کا کیا مفاد ہے؟؟

اس پر کرنل پوار نے کہا کہ پاکستان دنیا میں ایک ہی اسلامی ملک ہے جس کے پاس ایٹمی ہتھیار ہیں اور وہ اسرائیل کو بطور ملک ماننے سے انکار بھی کرتا ہے ۔

جب کہ لگ بھگ سارے مسلم ملک اسرائیل کو تسلیم کر چکے ہیں سوائے پاکستان کے۔۔۔ اسرائیل اپنے لئے پاکستان سے بڑا خطرہ کسی اور ملک کو نہیں سمجھتا ۔۔ اور اسے لگتا ہے کہ پاکستان یہ ہتھیار اسرائیل کے خلاف استعمال کر سکتا ہے۔

اور یہ محض کوئی اتفاق نہیں ہے کہ پچھلے چھ آٹھ ماہ میں کوئی ایک درجن کے قریب مرتبہ خود اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل اور ان کے کئی ورکنگ گروپ بھی یہ بات کہہ چکے ہیں کہ افغانستان میں ہزاروں کی تعداد میں ایسے عسکریت پسند اور فدائی حملہ آور موجود ہیں جو کئی مرتبہ سرحد پار کر کے پاکستانی خیبر پختونخوا اور پاکستانی بلوچستان کے اندر گھس کر وہاں کئی بہت بڑے اور سنگین حملے کر چکے ہیں ۔۔ اور ان حملوں میں ہزاروں سکیورٹی اہلکاروں اور عام شہریوں کو موت کے گھاٹ اتارا جا چکا ہے۔

یہ حملے اتنے منظم، بار آور اور موثر ہوتے ہیں کہ حملہ آور بڑی سرعت سے کاروائیاں کر کے محفوظ پناہ گاہوں میں چھپ جاتے ہیں۔ یہی وہ گوریلا وار ہے ۔۔ جسے آج کے ٹیکنالوجی کے دور میں بھی بڑی فوجی طاقتوں اور جدید سے جدید ہتھیار رکھنے والے ملک بھی روک نہیں پاتے ہیں کیونکہ ساری کاروائیاں بڑی باریکی سے اور پوری انٹیلیجنس سے دوسرے ملک میں بیٹھ کر کنٹرول کی جاتی ہیں ۔۔ اور حملہ آور اپنی شناخت، نام، چہرہ سب چھپانے میں بھی کامیاب ہو جاتے ہیں۔

اس لئے جتنا جلد ہو سکے اور جہاں جہاں سے ممکن ہو، افغان شہریوں کو جلد از جلد سرحد پار واپس بھیجا جائے ان کا انخلاء مکمل کیا جائے۔۔ بارڈر سکیورٹی بڑھائی جائے، تاکہ ساری کی ساری توجہ ملک کے اندر عسکریت پسندوں کے خلاف موثر اور مربوط کاروائیاں عمل میں لائی جا سکیں۔ انہیں ہتھیاروں اور فنڈز کی سپلائی روکی جائے ۔۔

لیکن سب سے زیادہ اہم کام اپنی میزائل اور جوہری ہتھیاروں کی ٹیکنالوجی کو محفوظ سے محفوظ اور بہتر سے بہتر بنانا ہو گا
تاکہ اگر وطن عزیز کے وجود کو خدا نخواستہ اگر کوئی خطرات لاحق ہو جائیں تو ایک آخری آپشن ہمارے پاس یہ ضرور ہاتھ رہنا چاہیے، کہ اپنے ساتھ ان دو ملکوں کو مکمل طور پر لاشوں کا ڈھیر اور ملبہ بنا کر ہی جائے۔
۔۔

10/09/2026

طاقت کے نشے میں چوکیدار کو بےدردی سے مارا ۔ اس نے فائرنگ کر دی ۔ طاقت ۔ عدم برداشت اور غلط رویوں کا شاخسانہ ۔۔۔۔۔،

09/09/2026

_فیصل آباد کے شہری کو 50 ہزار کا بجلی کا بل، ادائیگی کیلئے موٹرسائیکل بیچنے گیا تو 70 ہزار کے ای چالان نکل آئے 🇵🇰💡🏍️⚡_

08/09/2026

5 لاکھ 20 ہزار میں گزارا نہیں ہوتا
تنخواہ 10 لاکھ ہونی چاہیے
لیگی MNA شمائلہ رانا
آپ کی کیا رائے ہے؟

08/09/2026

ایک مریضہ کو انتہائی ایمرجنسی DHQ ہسپتال شیخوپورہ میں
B+
خون کی اشد ضرورت ہے ..
رابطہ
03024149850
پہ لازمی رابطہ کرے... جزاک اللہ
+92 300 3378418

ڈیوٹی پر ملازم آٹھ۔۔۔ اور صرف پانچ سو روپے رشوت کی پیش کش۔۔۔اب یہ حیثیت رہ گئی ہے پولیس کی۔۔۔سگیاں پل پر ناکے والوں نے ش...
07/09/2026

ڈیوٹی پر ملازم آٹھ۔۔۔ اور صرف پانچ سو روپے رشوت کی پیش کش۔۔۔
اب یہ حیثیت رہ گئی ہے پولیس کی۔۔۔
سگیاں پل پر ناکے والوں نے شہری کے خلاف مقدمہ درج کروادیا۔ 🫣

حکومت نے نئے گیس کنکشن پر نیا ریٹ اور سلیب ریٹ لاگو کردیا ہے ، جن لوگوں نے نیے سوئی گیس کنکشن لیے ہیں یا درخواست  دے رکھ...
06/09/2026

حکومت نے نئے گیس کنکشن پر نیا ریٹ اور سلیب ریٹ لاگو کردیا ہے ، جن لوگوں نے نیے سوئی گیس کنکشن لیے ہیں یا درخواست دے رکھی ہے ، اس سے وہ بری طرح متاثر ہوں گے بلکہ ہورہے ہیں ، کیونکہ یہ RLNG صارفین کہلائیں گے ۔ نیا میٹر لگوانے کے لیے آپ کو 60 ہزار جمع کروانے کے بعد بھی میٹر کا ماہانہ کرایہ گورنمنٹ کو دینا ہے ، یعنی آپ اپنے خریدے گئے مکان میں بھی کرایہ دار بن کر رہیں گے ۔ گیس کی فراہمی ایک ہی ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک کے ذریعے کی جاتی ہے۔ نیے صارفین کے لیے کوئی الگ پائپ لائن بھی نصب نہیں ہوئی , گیس کا پریشر اور لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ بھی ایک جیسا ہے ، مگر نئے کنکشن لینے کو والوں کا بل 4 گنا زیادہ آئے گا ۔ اور ان پر ٹیرف نہیں بلکہ عالمی منڈی کے گیس اور تیل کے ریٹ لاگو ہوں گے ، ان کو سبسڈی بھی نہیں ملے گی ۔ یہ نیا قانون جولائی سے لاگو کیا گیا ہے ۔ عام گھریلو صارفین کا اگر بل 1500 آتا ہے تو RLNG صارف کا اتنے ہی یونٹ خرچ کرنے پر 6500 آئے گا ۔
اس ظلم کا کوئی جواز ؟
حکومت نے یہ جواز پیش کیا ہے کے نئے گھریلو کنکشن کی گیس پاکستان کی پرانی پائپ لائنوں کی بجائے قطر سے ا رہی ہے اس پر خرچ زیادہ ہے ، لیے وہی ریٹ لاگو ہوگا ، جو انٹرنیشنل مارکیٹ کا ریٹ ہوگا ۔
ہمارے گھر کا کنکشن تو بہت پرانا ہے اور اس پر یہ نیا ریٹ لاگو نہیں ہوگا مگر ہم دوسروں کے لیے تو آواز اٹھا سکتے ہیں ، آج ایک بھائی نے بتایا کہ ان کے نئے گیس کنکشن پر بل 13 ہزار آیا ہے جو پہلے 17 سو آتا تھا ۔ اس سے بہتر ہے کنکشن کٹوا کر LPG سلنڈر خرید لیں ۔

میں ایک کرپٹ SHO/تھانیدار ہوں، مجھے مار ڈالیے!لیکن اگر مجھے مارنے سے پہلے دو منٹ مل جائیں تو میری ایک بات ضرور سن لیجیے۔...
06/09/2026

میں ایک کرپٹ SHO/تھانیدار ہوں، مجھے مار ڈالیے!

لیکن اگر مجھے مارنے سے پہلے دو منٹ مل جائیں تو میری ایک بات ضرور سن لیجیے۔

پولیس میں بھرتی ہونے سے پہلے میں بھی ایک عام نوجوان تھا۔

زندگی سے بھرپور، ہنستا مسکراتا، دوستوں کے ساتھ بیٹھتا، رشتہ داروں کے دکھ سکھ میں شریک ہوتا۔ غم میں بھی خوشی کا کوئی پہلو تلاش کر لیتا تھا۔

پھر غمِ روزگار نے ملازمت کی طرف دھکیلا اور مقدر نے مجھے تھانے کی کرسی پر بٹھا دیا۔

شروع میں مبارک بادیں ملیں۔
وردی کا رعب تھا۔
لوگ سلام کرتے تھے۔
عزت محسوس ہوتی تھی۔

پھر آہستہ آہستہ سب کچھ بدلنے لگا۔

آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے، چہرے پر تھکن، مزاج میں چڑچڑاپن، دوستوں سے دوری، رشتہ داروں سے فاصلہ اور سماجی زندگی تقریباً ختم۔

کیونکہ SHO کی ڈیوٹی 8 گھنٹے نہیں، 24 گھنٹے ہے۔
ہفتے میں 6 دن نہیں، 365 دن ہے۔

نہ اتوار اپنا، نہ عید اپنی، نہ رمضان اپنا، نہ محرم اپنا، نہ قومی تہوار۔

جب عام آدمی عید کی نماز کے بعد بچوں کے ساتھ خوشیاں منا رہا ہوتا ہے، پولیس والا کسی ناکے، جلوس، گشت یا ڈیوٹی پوائنٹ پر کھڑا ہوتا ہے۔

دوسروں کے تہواروں کی حفاظت کرتے کرتے پولیس والا اپنے تہوار بھول جاتا ہے۔

سرکار ایک لاکھ تنخواہ دیتی ہے، لیکن کبھی یہ نہیں پوچھتی کہ ایک SHO اپنی ڈیوٹی کے دوران کتنے لاکھ اپنی جیب سے خرچ کر چکا ہے؟

ہائی کورٹ کے چکر ہوں، ریڈ ہوں، اشتہاریوں کی گرفتاری ہو، دوسرے اضلاع یا دوسرے صوبوں میں کارروائی ہو—گاڑی سرکاری سہی، مگر کئی بار پٹرول اور دیگر اخراجات کا بوجھ بھی اسی SHO پر آ جاتا ہے۔

تھانے میں کاغذ نہیں۔
پنسل نہیں۔
پرنٹر کا ٹونر نہیں۔
گاڑی کے لیے مناسب فیول نہیں۔

مگر فائلوں میں سب کچھ مکمل ہے۔

سرکاری گاڑی دن رات چلنی ہے، لیکن فیول کا کوٹہ ایسا جیسے گاڑی نہیں، سائیکل ہو۔

باقی خرچہ؟
“تھانیدار ہے نا!”

گاڑی خراب ہو جائے تو خرچہ۔
تھانے کی معمولی مرمت ہو تو خرچہ۔
چائے پانی ہو تو خرچہ۔
ریڈ ہو تو خرچہ۔
دور دراز سفر ہو تو خرچہ۔

اور پھر افسران کے دفاتر کا ایک الگ نظام۔

DSP، SP، SSP، RPO اور نہ جانے کتنے دفاتر۔

ہر جگہ فائل۔
ہر جگہ جواب۔
ہر جگہ وضاحت۔
اور بعض اوقات ہر جگہ “خرچی”۔

اگر خرچی نہ ہو تو فائل رک سکتی ہے، دفتر کے برآمدے کی زیارت بڑھ سکتی ہے، وضاحت طلب ہو سکتی ہے، سزا ہو سکتی ہے، اپیل ہو سکتی ہے۔

اور پھر وہی چکر۔

پھر پراسیکیوشن کا مرحلہ آتا ہے۔

چالان تیار کرو، اعتراض دور کرو، دوبارہ جاؤ، پھر مقدمہ، پھر شہادت، پھر عدالت، پھر ہائی کورٹ—اور بعض اوقات سپریم کورٹ۔

جانا بھی خود، خرچ بھی خود، جواب بھی خود۔

اور ساتھ میں ذہنی دباؤ۔

افسران کی ڈیڈ لائن۔
عدالت کی ڈیڈ لائن۔
ماہانہ ٹارگٹ۔
ریکوری کا دباؤ۔
مقدمات نمٹانے کا دباؤ۔
ہر طرف سے فون اور احکامات۔

ایک سینئر افسر نے تو کھلی کچہری میں حکم دے دیا:

“آج شام تک ایک گائے دے دیں ان کو۔”

اب سوال یہ تھا کہ گائے کہاں سے آئے؟

ریکوری نہیں ہوئی تو گائے بھی SHO ہی دے؟

پھر سیاسی دباؤ۔

سفارشیں۔
بااثر افراد کے فون۔
پریشر گروپس۔
مقامی اثر و رسوخ۔

ایک طرف حکم:

“قانون کے مطابق کام کرو۔”

دوسری طرف فون:

“یہ کام قانون کے مطابق نہیں، ہمارے مطابق کرو۔”

اور جب قانون اور “ہمارے مطابق” کے درمیان جنگ ہو جائے تو قصوروار کون؟

SHO!

پھر اسی SHO سے کہا جاتا ہے:

“ایماندار بھی رہو۔”

بالکل رہنا چاہیے۔

کرپشن جرم ہے۔
کرپٹ افسر کو جواب دینا چاہیے۔
اختیارات کا ناجائز استعمال ناقابلِ قبول ہے۔

لیکن سوال یہ ہے:

کیا ہم نے کبھی اس پورے نظام کا حساب بھی کیا ہے؟

ایک تھانے کا حقیقی ماہانہ آپریشنل خرچ کتنا ہے؟

سرکار کتنا دیتی ہے؟

اور باقی کہاں سے آتا ہے؟

اگر جواب یہ ہے کہ:

“تھانیدار خود پورا کرے!”

تو پھر اگلا سوال بھی پوچھ لیجیے:

تھانیدار اپنی جیب سے پورا کرے گا یا عوام کی جیب سے؟

اور اگر عوام کی جیب سے پورا کرے گا، تو چند سال بعد اسی تھانیدار کے گلے میں “کرپشن” کا پھندا ڈال کر ہمیں حیران ہونے کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟

یہ بات واضح ہونی چاہیے:

ہر SHO کرپٹ نہیں ہوتا۔

اور جو کرپٹ ہے، اسے قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے۔

لیکن ہر خرابی کا ذمہ دار صرف SHO کو قرار دینا بھی مسئلے کا حل نہیں۔

کیونکہ بعض اوقات مسئلہ ایک فرد نہیں ہوتا۔

مسئلہ پورا نظام ہوتا ہے۔

ایک ایسا نظام جو پولیس والے سے 24 گھنٹے کام لیتا ہے، وسائل محدود دیتا ہے، اخراجات پورے نہیں کرتا، ہر طرف سے دباؤ ڈالتا ہے، پھر اسی سے مکمل ایمانداری کا مطالبہ کرتا ہے۔

اور جب وہ نظام کی خرابیوں کے درمیان ٹوٹنے لگتا ہے تو اسے کہتا ہے:

“تم کرپٹ کیوں ہو؟”

شاید ہمیں ایک دن SHO کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کے بجائے پورے نظام کو کٹہرے میں کھڑا کرنا چاہیے۔

پوچھنا چاہیے:

* تھانے کو کتنے وسائل ملے؟
* حقیقی اخراجات کتنے تھے؟
* فیول کتنا ملا؟
* گاڑی اور تھانے کی مینٹیننس کیسے ہوئی؟
* ریڈ اور تفتیش کے اخراجات کہاں سے آئے؟
* افسران کے دباؤ اور سیاسی مداخلت کا کیا نظام ہے؟
* اور سب سے بڑھ کر، ایمانداری کے لیے ادارے نے اپنے افسر کو کیا سہولت دی؟

کیونکہ اگر ایک نظام پہلے انسان کو نچوڑے، پھر اسے مالی اور انتظامی مشکلات میں دھکیلے، پھر اسے بدعنوانی کے مواقع فراہم کرے، پھر اسی بدعنوانی پر تقریریں کرے، اور آخر میں ایک SHO کو قربانی کا بکرا بنا دے—

تو شاید ہمیں صرف SHO کا احتساب نہیں، نظام کا پوسٹ مارٹم بھی کرنا چاہیے۔

اور پھر ایک دن اعلان ہوتا ہے:

“محکمہ پولیس میں کرپشن ختم کی جائے گی!”

میں ایک کرپٹ SHO ہوں۔

مجھے مار ڈالیے۔

مگر میرے مرنے سے پہلے اس نظام کا پوسٹ مارٹم ضرور کر لیجیے۔

کہیں ایسا نہ ہو کہ SHO مرتا رہے…
اور کرپشن زندہ رہے۔

مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے زیر اہتمام 🌿 آل پاکستان مقابلۂ حفظِ القرآن الکریم 🌿الحمد للہ! یہ عظیم الشان مقابلہ حفاظ...
04/09/2026

مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے زیر اہتمام
🌿 آل پاکستان مقابلۂ حفظِ القرآن الکریم 🌿

الحمد للہ! یہ عظیم الشان مقابلہ حفاظِ کرام کو اپنی قرآنی استعداد، علمی قابلیت اور حسنِ اداء کا اظہار کرنے کے ساتھ ساتھ نمایاں اعزازات اور قیمتی انعامات حاصل کرنے کا بہترین موقع فراہم کرے گا۔

🏆 *نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلبۂ کرام میں مجموعی طور پر 50 لاکھ روپے (5,000,000) مالیت کے انعامات تقسیم کیے جائیں گے، جبکہ نمایاں شرکاء کو اعزازی شیلڈز اور اسناد سے بھی نوازا جائے گا۔*
---
📖 مقابلہ کے شعبہ جات
① حفظِ 10 پارے(عمر کی حد: 15 سال)
نصاب:
- متن الأصول الثلاثة — شیخ محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ
- تحفة الأطفال في تربية الأشبال — قاری صہیب احمد میر محمدی حفظہ اللہ (ابتداء سے بابِ جنت تک)
- القول المفید فی علم التجوید — قاری سلمان میر محمدی حفظہ اللہ
انعامات:
🥇 اول: 3 لاکھ روپے
🥈 دوم: 2 لاکھ روپے
🥉 سوم: 1 لاکھ روپے
⭐ پہلے پانچ نمایاں طلبہ کے لیے خصوصی اعزازی انعامات۔
---
② حفظِ 20 پارے (عمر کی حد: 18 سال)
نصاب:
- متن الأصول الأربعة — شیخ محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ
- نخبة الصحيحين — قاری صہیب احمد میر محمدی حفظہ اللہ
- القول السدید فی علم التجوید — قاری سلمان میر محمدی حفظہ اللہ
انعامات:
🥇 اول: 4 لاکھ روپے
🥈 دوم: 3 لاکھ روپے
🥉 سوم: 2 لاکھ روپے
⭐ پہلے پانچ نمایاں طلبہ کے لیے خصوصی اعزازی انعامات۔
---
③ مکمل حفظِ قرآنِ کریم (عمر کی حد: 20 سال)
نصاب:
- متن کتاب التوحید — شیخ محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ (پہلے دس ابواب)
- عمدة الأحكام من خير الأنام — حافظ عبدالغنی المقدسی رحمہ اللہ (صرف ارکانِ اسلام)
- المقدمة الجزرية — امام ابن الجزری رحمہ اللہ
انعامات:
🥇 اول: 7 لاکھ روپے
🥈 دوم: 6 لاکھ روپے
🥉 سوم: 5 لاکھ روپے
⭐ پہلے پانچ نمایاں طلبہ کے لیے خصوصی اعزازی انعامات۔

---
📍 *بمقام : مرکز اہل حدیث، 106 راوی روڈ، لاہور*

📅 تاریخ : 12 اور 13 دسمبر 2026ء
بروز ہفتہ و اتوار، ان شاء اللہ تعالیٰ
---

📋 شرائطِ مقابلہ
✅ رجسٹریشن صرف آن لائن فارم کے ذریعے ہوگی، تاہم فارم کی پرنٹ شدہ کاپی دفتر میں جمع کروانا ضروری ہوگی۔
✅ فارم کے ساتھ درج ذیل دستاویزات منسلک کرنا لازمی ہوں گی:
- دو عدد پاسپورٹ سائز تصاویر
- شناختی کارڈ یا ب فارم کی کاپی
- تزکیہ / ناظم کا تصدیقی لیٹر
✅ امیدوار کے لیے ضلعی امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث کا تزکیہ، یا مدرسہ کے ناظم کا تصدیقی لیٹر لازمی ہوگا۔
✅ ہر اہل حدیث مدرسہ سے ہر کیٹیگری میں صرف ایک امیدوار شریک ہو سکے گا، جبکہ مجموعی طور پر زیادہ سے زیادہ تین امیدوار بھیجے جا سکیں گے۔
✅ شریک اساتذہ اور مہمانانِ کرام کے لیے سفارشی لیٹر اور اصل شناختی کارڈ ہمراہ لانا ضروری ہوگا۔
✅ ججز حضرات کا فیصلہ حتمی ہوگا اور کسی قسم کا اعتراض یا اپیل قابلِ قبول نہیں ہوگی۔
---
📝 رجسٹریشن کی آخری تاریخ 30 ستمبر 2026ء (بروز بدھ) ہے ، اس کے بعد موصول ہونے والی درخواستیں کسی صورت قبول نہیں کی جائیں گی۔
---
☎ مزید معلومات کے لیے رابطہ کریں
📞 0335-5574274
📞 0302-6096109
📞 0306-0483779
---

🌹 آئیے! قرآنِ کریم اور سنتِ نبوی ﷺ سے اپنی وابستگی کو مزید مضبوط کریں اور اس عظیم قرآنی و علمی مقابلے کا حصہ بن کر دنیا و آخرت کی کامیابی سمیٹیں۔

منجانب:
*شعبۂ تعلیم و تربیت مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان*

Address

Civil Lines
Sheikhupura

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when SkpUpdates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to SkpUpdates:

Shortcuts

Share