13/11/2025
📰 "شام کی تعمیرِ نو — یا صبر کا نیا نام؟"
تحریر: ایک تماشائیِ دمشق
کبھی کہا جاتا تھا کہ دمشق عرب تہذیب کا دل ہے،
آج وہ دل کسی نے اسپتال میں رکھ دیا ہے —
اور ڈاکٹرز مشورہ دے رہے ہیں کہ “دل کو تقسیم نہ کریں،
ورنہ داعش دوبارہ دھڑکنے لگے گی۔”
صدر احمد الشرع فرماتے ہیں:
“اگر غیر ریاستی افواج رہیں تو ملک میں دہشت دوبارہ پھیل سکتی ہے۔”
گویا وہ مان رہے ہیں کہ دہشت ختم ہو چکی ہے —
بس تھوڑی دیر کے لیے ریلوے اسٹیشن پر رکی ہے،
اور کسی نئے گاؤں جانے والی ٹرین کا انتظار کر رہی ہے۔
🇺🇸 امریکی فوج — قابض بھی، مصلح بھی
صدر صاحب کا فرمان ہے کہ “امریکی فوج ایس ڈی ایف کو شامی فوج میں ضم کرنے کی نگرانی کرے۔”
کیا خوب! یعنی گھر میں چور گھسے،
اور مالک کہے: “بھائی ذرا دروازے کے تالا ٹھیک بھی کر دینا۔”
یہ وہی امریکہ ہے جسے کبھی دمشق “استعماری قوت” کہتا تھا،
اب وہی امریکہ شامی فوج کی “ہیومن ریسورس ڈپارٹمنٹ” بن چکا ہے۔
کیا عجب وقت ہے —
قابض بھی نگران ہے، اور مقتول بھی مشیر۔
✈️ 1000 حملے، ایک بھی جواب نہیں
8 دسمبر 2024 کے بعد اسرائیل نے شام پر 1000 فضائی حملے کیے۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ 1000 حملے برداشت کرنے کے لیے یا تو
بڑی ہمت چاہیے، یا پھر بڑا اسٹاک “صبر کا۔”
شامی صدر نے فرمایا:
“ہم جواب نہیں دیں گے کیونکہ ہم ملک کی تعمیرِ نو پر توجہ دے رہے ہیں۔”
کیا خوب حکمت!
یعنی جب بم گرتے ہیں تو اینٹیں پہلے سے آ جاتی ہیں۔
دمشق میں اب جنگ نہیں، خاموشی کی مشق ہو رہی ہے۔
ہر دھماکے کے بعد لوگ کہتے ہیں:
“کوئی بات نہیں، یہ تعمیرِ نو کی آواز ہے۔”
🕊️ اسرائیل سے مذاکرات — دشمنی میں محبت کی خوشبو
الشرع صاحب نے فخر سے بتایا کہ
“اسرائیل کے ساتھ براہِ راست مذاکرات جاری ہیں،
اور خاصی پیش رفت ہو چکی ہے۔”
یعنی دشمن اب اتنا قریب ہے کہ
بات چیت کے دوران توپوں کا شور مائیک پر سنائی دیتا ہے۔
شاید مشرقِ وسطیٰ میں اب امن کی تعریف یہ ہے:
“جنگ بند نہیں، بس باہمی شائستگی سے لڑی جائے۔”
صدر صاحب نے شرط رکھی:
“اسرائیل 8 دسمبر 2024 سے پہلے کی سرحدوں پر واپس جائے۔”
ہو سکتا ہے اسرائیل جواب دے:
“جی ضرور، بس پہلے آپ ہمیں بتا دیں کہ آپ خود کہاں کھڑے ہیں؟”
🗺️ جولان کی بلندیوں پر امن کی تلاش
صدر الشرع نے فرمایا کہ اسرائیل نے جولان پر قبضہ اپنی سلامتی کے لیے کیا،
اور اب جنوبی شام کو بھی “محفوظ” بنانا چاہتا ہے۔
اگر یہی منطق چلی تو شاید کل اسرائیل کہے:
“دمشق پر قبضہ کریں گے تاکہ تل ابیب مزید محفوظ ہو جائے۔”
اسرائیلی سلامتی کی تعریف بھی عجیب ہے —
جہاں دشمن ختم نہیں کیا جاتا،
بلکہ دشمن کا پتا بدل دیا جاتا ہے۔
🤝 روس — دوست بھی، قاضی بھی
صدر صاحب کہتے ہیں کہ روس شام کے لیے ضروری ہے،
کیونکہ وہ سلامتی کونسل کا مستقل رکن ہے۔
پھر ساتھ ہی ارشاد ہوتا ہے:
“بشار الاسد کا مسئلہ روس کو پسند نہیں،
مگر ہم انہیں انصاف کے کٹہرے میں لائیں گے۔”
واہ!
یعنی روس آپ کا وکیل بھی ہے،
اور جج بھی —
بس فیصلہ آنے سے پہلے کیمرے بند کر دیے جائیں۔
🇺🇸 واشنگٹن کا تاریخی دورہ — یا تاریخی تضاد؟
صدر احمد الشرع کا وائٹ ہاؤس پہنچنا کسی فلم کا کلائمیکس لگتا ہے۔
وہی امریکہ جو کل تک شام پر پابندیاں لگا رہا تھا،
آج شامی صدر کو ریڈ کارپٹ پر خوش آمدید کہہ رہا ہے۔
دونوں رہنماؤں کی مسکراہٹوں میں وہی کشمکش چھپی تھی
جو مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کی پہچان ہے:
“ہم دشمن نہیں، بس الگ الگ منظرنامے کے ہیرو ہیں۔”
🕊️ پیرس اور باکو میں خفیہ امن — یا خفیہ تجارت؟
ذرائع کہتے ہیں شام اور اسرائیل کے درمیان پیرس اور باکو میں کئی “امن مذاکرات” ہوئے۔
یعنی دونوں ملک جو برسوں سے ایک دوسرے کو مٹانے کی قسمیں کھا رہے تھے،
اب خاموشی سے چائے کی چسکیاں لیتے ہوئے سرحدوں پر بات کر رہے ہیں۔
شاید اگلے اجلاس کا ایجنڈا ہو:
“قبضے کے بدلے کافی یا کافی کے بدلے قبضہ؟”
🏛️ نتیجہ — صبر کا نیا عالمی ماڈل
احمد الشرع کے بیانات پڑھ کر احساس ہوتا ہے کہ شام اب صرف ایک ملک نہیں،
بلکہ صبر کی یونیورسٹی بن چکا ہے۔
جہاں ہر شہری کی ڈگری پر لکھا ہے:
> “ہم نے ہر چیز برداشت کی — بس امن برداشت نہیں ہو رہا۔”
شام آج بھی کھڑا ہے،
بس تھوڑا دائیں طرف جھکا ہوا ہے،
کیونکہ بائیں جانب روس کھڑا ہے،
اور پیچھے امریکہ۔
الشرع صاحب کا آخری جملہ شاید تاریخ یاد رکھے:
> “ہم مضبوط ہیں، بس کبھی کبھی کمزور لمحوں میں آ جاتے ہیں۔”
اور شاید یہی شام کی اصل شناخت ہے —
ایک ایسا ملک جو ملبے سے دوبارہ اٹھنا جانتا
ہے، مگر کبھی ملبے سے باہر نکلنے نہیں دیا جاتا۔