02/01/2026
یہ غالباً 71ء کا واقعہ ہے۔ گورنمنٹ کالج پشاور کی اسٹوڈنٹس یونین نے کالج کے مشاعرے میں فیض کو بلانے کا فیصلہ کیا۔ پرنسپل اور پروفیسروں سے مشورہ کیا۔ سب کی یہی رائے تھی کہ وہ اتنا بڑا شاعر ہے ہزاروں روپے مشاعرہ پڑھنے کے لیتا ہے۔ یونین کے پاس اتنے فنڈز کہاں ہیں کہ اُسے بلائو گے۔ بچوں کو خاصی مایوسی ہوئی، لیکن وہ اسے بلانے پر تلے ہوئے تھے اِدھر اُدھر سے معلومات کیں۔ کہیں اتفاق سے میرا بھتیجا مرتضیٰ سید ان دنوں وہاں پڑھاتا تھا۔ اُن کا حد سے بڑھا ہوا اشتیاق دیکھ کر وہ اُنہیں میرے پاس لے آیا۔ میں نے کہا، ’’دیکھئے کوشش کرتا ہوں۔‘‘ فون پر بات کی اور فیضؔ نے بلا تامل وعدہ کر لیا۔ بچوں کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ تاریخ مقرر کرکے اطلاع دی اور فیضؔ آ گئے۔ پرنسپل اور اسٹاف کو آخر تک یقین نہ تھا کہ یہ بیل منڈھے چڑھے گی۔ اس کے آنے سے ہماری دھاک بیٹھ گئی۔ ٹھاٹ کا مشاعرہ ہوا۔ بچوں نے یونین کی طرف سے فیضؔ کو ہوائی جہاز کے واپسی ٹکٹ کی رقم پیش کی، اس نے لینے سے انکار کر دیا۔ سب حیران تھے کہ یہ کیسا شاعر ہے، زیادہ حیرت اس لیے تھی کہ کچھ عرصے پہلے اُنہوں نے حفیظؔ جالندھری کو بلایا تھا، ان دنوں حفیظؔ حکومت کی طرف سے اسی کام پر مامور تھا۔ گورنمنٹ کے خرچ پر تعلیمی اداروں میں جائے اور اسٹوڈنٹس کو سیاست سے دور رکھنے کی راہ ہموار کرے۔ حفیظؔ آیا، کمشنر پشاور کے بنگلے پر ٹھہرا، مشاعرہ پڑھ کر جانے لگا۔ یونین کے لڑکوں سے کہا، ’’آیا تو میں سرکاری خرچ پر ہوں، کمشنر میرا دوست تھا، قیام اس کے ہاں رہا۔ اگر میں وہاں نہ ٹھہرتا تو تم مجھے کسی اعلیٰ ہوٹل میں ٹھہراتے، جس کا دو روز کا خرچ کم از کم پانچ سو روپے آتا۔ لہٰذا وہ پانچ سو روپے مجھے دے دو۔‘‘ اور اس طرح وہ ان سے پانچ سو روپے لے کر چلتا بنا۔
ادھر فیضؔ کا یہ کردار کہ کرایہ جیب سے خرچ کیا اور لڑکوں کے اصرار کے باوجود یہ پیسے لینے سے انکار کر دیا۔ اب پرنسپل، اسٹاف اور لڑکے ان دونوں شاعروں کا موازنہ کرکے کہہ رہے تھے، حفیظؔ تو شاہنامہ اسلام کا، پاکستان کے ترانے کا خالق شاعر ہے اور یہ ایک سوشلسٹ، ملحد شاعر ہے، لیکن دونوں کے کرداروں میں کتنا فرق ہے، شاعرِ اسلام کتنا بونا اور یہ کافر کتنا قد آور ہے، کتنا عظیم ہے۔
فارغ بخاری کی تصنیف البم (خاکے) سے اقتباس
انتخاب :-: ابوالحسن علی ندوی