12/06/2026
لَرْز اُٹھتے تھے سب قَیصَر و کِسرٰی جِس کی ہیبَت سے
زَمانہ آج بھی لَرْزاں ہے اُن کی شان و شَوکت سے
مِٹاکر کُفر و باطِل کو حَرارت بخشی اِیماں کو
بَدَل لیتا ہے راہِ شَیطاں اب بھی اُن کی دَہشت سے
اَذاں دی جو جاہ سے فاروقؓ نے کعبے کی چوکھٹ پر
دَبے سے رہ گئے کُفّار اُس للکارِ سَطوت سے
مُرادِ مُصطفیٰؐ ہیں آپ، مَقبولِ صَحابہ بھی
جَلے جاتے ہیں دُشمن سب عُمر کی ایسی عَظمت سے
جو ہوتا گر نبی کوئی، عُمر ہی وہ نبی ہوتا
مُقدّر چمکا حضرت کا نبیؐ کی اُس بَشارت سے
مُحبت چار یاروں کی بسی ہے خُون میں اپنے
مَچلتے ہیں یہ دیوانے صَحابہ کی مُحبت سے
صاحبزادی بنت زینب