21/05/2026
اسکے نزدیک غم ِ ترکِ وفا کچھ بھی نہیں
مطمئن ایسا ہے وہ جیسے ہوا کچھ بھی نہیں
اب تو ہاتھوں سے لکیریں بھی مٹی جاتی ہیں
اس کو کھو کر تو مرے پاس رہا کچھ بھی نہیں
چار دن رہ گئے میلے میں مگر اب کے بھی
اس نے آنے کے لیے خط میں لکھا کچھ بھی نہیں
کل بچھڑنا ہے تو پھر عہد وفا سوچ کے باندھ
ابھی آغاز محبت ہے گیا کچھ بھی نہیں
میں تو اس واسطے چپ ہوں کہ تماشا نہ بنے
تو سمجھتا ہے مجھے تجھ سے گلا کچھ بھی نہیں
اے شمار آنکھیں اسی طرح بچھائے رکھنا
جانے کس وقت وہ آ جائے پتا کچھ بھی نہیں
اب ہتھیلیوں سے تقدیر کی لکیریں بھی ماند پڑنے لگی ہیں۔اسکو کھونے کے بعد یوں محسوس ہوتا ہے جیسے گردشِ ایام نے سب کچھ چھین لیا ہو، اور اب دامن میں سوائے خلاء کے کچھ باقی نہ رہا ہو۔
میلہ سر پر آ کھڑا ہوا ہے، محض چند روز باقی ہیں، مگر اس بار بھی کوئی پیغام واصل نہ ہوا۔ خط کے اوراق پر صرف خاموشی کا سکوت طاری ہے، وہی خاموشی جو دل کے گوشے گوشے میں بس گئی ہے۔ نہ ملاقات کا وعدہ، نہ وصال کی کوئی رمق—گویا سب کچھ عدم میں گم ہو گیا ہو۔
اگر کل جدائی مقدر ٹھہری ہے تو پہلے سوچ لو، وفا کے عہد محض جذبات کی رو میں بہہ کر نہیں باندھے جاتے۔
میں خاموش ہوں، یہ خاموشی بےحسی نہیں، بلکہ اس امر کا پیش خیمہ ہے کہیں میرا درد تماشا نہ بن جائے۔ تم شاید گمان کرتے ہو کہ تم سے مجھے کوئی گلہ نہیں جبکہ میرے سینے میں درد کا سمندر تمہاری مسلسل بےرخی کا نتیجہ ہے
اتنا ہی کہہ سکتا ہوں کہ نگاہوں میں یہ انتظار اسی طرح قائم رکھنا۔ کون جانے کس لمحے وہ لوٹ آئے۔