05/02/2023
غائب والشھود کے درمیان عقل حجاب ہوتی ہے۔اور جسکی عقل زیادہ متجسس، فتنہ جوہ ہے، سراغ رساں ہے اور اس میں تمام elements دنیاوی اور الہٰیہ سراغ رسانی کے موجود ہیں۔ وہ یقیناً کچھ ایسے خفیہ رازوں کا پتہ چلالیتے ہیں، جوعمومیت کے نزدیک خفیہ راز ہیں مگر خصوصیت کے نزدیک علم ہوتا ہے۔ اور خصوصی علماء ہی ان سے آگاہ ہوتے ہیں۔
کشف اور الہام علم کی اعلی ترین sophistications کے نام ہیں۔ اعلی ترین sophistication عقل کی الہام ہے۔ عقل شروع ہوتی ہے جبلت سے اور جبلت کی تمام یکسانیت کی وجہ سے تمام عموم لوگوں میں جو ذہانت موجود ہے اُس کو ہم common intelligence کہتے ہیں، اس intelligence کے حصول میں انسان، جانور، برق و بار یکساں ہیں، اور درخت بھی intelligence رکھتا ہے۔ کہ جس کے اوپر جب کوڑے مکوڑے بیٹھتے ہیں تو بڑی مہارت سے اُن کا خون چوس لیتاہے۔ Amazon کے وہ درخت ہیں۔
جب یہ جبلت تہذیب یافتہ ہوتی ہے اور شناخت علم پاتی ہے اور data collect کرتی ہے تو اس کو Intellect کہتے ہیں اور اسی Intellect کی بنیاد پر لوگ Intellectuals بنتے ہیں، دانا و بینا بنتے ہیں، دانشور بنتے ہیں اور علمیت کے دعویدار ہوتے ہیں۔ اور جب یہ Intellect کسی نقطے پر مرکوز ہوتی ہے, مجذوب اور مجہول حد تک اس کے پیچھے پڑ جائے۔ جیسے۱۲ سال الیگزینڈر فلیمنگ جیسے ۱۲ سال نیوٹن اسی بہت سارے سائنسدان اور بہت سارے دانشور ایک نقطہ مرکوز پر عقل کو استعمال کرتے ہیں تو جو خصوصی، خصوصی علم پیدا ہوتا ہے اسکو ہم Intuition کہتے ہیں۔ جسے آپ وجدان کہتے ہیں۔ وجدان جب توجہات الٰہی میں جاتا ہے اور ماابعداطبیعات کی سیر کرتا ہے اور خداوند کریم کی آرزو کرتا ہےاور تجاہل کے تعارف کو بڑھتا ہے پھر اللہ تعالٰی کی طرف سے اسے خصوصی ادراک اور فہم و فراصت سے آشنا کیا جاتا ہے،
فَأَلۡهَمَهَا فُجُورَهَاوَتَقۡوَىٰهَا
تو پھر یہ علم Intuition سے بڑھ کر الہام ہوجاتا ہے۔
اور الہام خیر اور الہام شر
جیسے شیطان کے لوگوں کو شیطان الہام کرتا ہے اور خدا کے بندوں کو خدا الہام کرتا ہے۔ اور یہ وہ درجہ عقل ہے جو ہمارے اولیاء اللہ تعالٰی کو نصیب ہوا۔
Courtesy: پروفیسر احمد رفیق اختر