03/06/2026
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! ✨
Ya Rabbi
آج کی پوسٹ میں شامل سورہ ھود (آیت: 18) کا یہ مبارک حصہ "أَلَا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ" (اور جان لو کہ ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے) معاشرے کے لیے ایک بہت بڑا تنبیہی پیغام ہے۔
📌 اس آیت مبارکہ کی علمی وضاحت اور مفہوم:
1️⃣ ظلم سے کیا مراد ہے؟
قرآنِ پاک کی رو سے 'ظلم' صرف کسی پر تشدد کرنا نہیں ہے، بلکہ کسی کا حق مارنا، ناانصافی کرنا، اللہ کی حدود کو توڑنا اور حق بات کو چھپانا بھی ظلم کے زمرے میں آتا ہے۔
2️⃣ اللہ کی لعنت کا مطلب:
'لعنت' کا مطلب ہے اللہ کی رحمت، برکت اور اس کے سایۂ عافیت سے محروم ہو جانا۔ یہ آیت واضح کرتی ہے کہ جو لوگ اپنی طاقت یا زبان سے دوسروں پر ظلم کرتے ہیں، وہ اللہ کی رحمت سے دور ہو جاتے ہیں۔
3️⃣ قیامت کے دن رسوائی:
اس آیت کے پسِ منظر کے مطابق، قیامت کے دن جب گواہ کھڑے ہوں گے تو ظالموں کی نانصافیوں کو سب کے سامنے لایا جائے گا اور ان پر اس لعنت کا اعلان عام ہوگا۔
💡 ہمارے لیے پیغام:
یہ آیت ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنے کی دعوت دیتی ہے کہ ہم اپنی روزمرہ زندگی میں، گھر میں یا کاروبار میں کسی کے ساتھ ناانصافی تو نہیں کر رہے۔ اللہ ہمیں ظالم بننے اور ظالم کا ساتھ دینے، دونوں سے محفوظ رکھے۔ آمین۔
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ 🖤
یا اللہ! ہمیں اپنے پیارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے بتائے ہوئے راستے پر چلتے ہوئے ہمیشہ عدل و انصاف کا ساتھ دینے کی توفیق عطا فرما۔