04/11/2025
25ویں آئینی ترمیم — مرکز اور صوبوں کے درمیان نیا** توازن؟
تحریر: انجینئر ابو بکر فیاض
پاکستان کی سیاست اور آئین میں ایک بار پھر بڑی تبدیلی کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ وفاقی حکومت نے 25ویں آئینی ترمیم لانے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت آرٹیکل 243 میں ترمیم اور تعلیم و آبادی کے معاملات کو صوبوں سے واپس وفاق کے دائرہ اختیار میں لانے کی تجاویز شامل ہیں۔
یہ تجویز بظاہر انتظامی بہتری اور قومی ہم آہنگی کے لیے ہے، مگر اس کے دور رس اثرات وفاقی نظام، صوبائی خودمختاری، اور قومی پالیسیوں پر پڑ سکتے ہیں۔
---
ممکنہ فوائد:
1۔ قومی پالیسی میں یکسانیت:
صوبوں کے بجائے وفاقی سطح پر پالیسی بننے سے پورے ملک میں ایک ہی نصابِ تعلیم، معیارِ امتحانات، اور آبادی کنٹرول کی حکمتِ عملی اپنائی جا سکے گی۔ اس سے تعلیم میں تفریق اور ناہمواری کم ہو سکتی ہے۔
2۔ تعلیمی معیار میں بہتری:
وفاقی نگرانی سے بجٹ کا مؤثر استعمال، نصاب میں ہم آہنگی، اور کمزور علاقوں میں سہولتوں کی فراہمی بہتر ہو گی۔
3۔ آبادی کے مسئلے پر قومی اتفاقِ رائے:
آبادی کی تیزی سے بڑھوتری ایک بڑا چیلنج ہے۔ وفاقی سطح پر ایک متحد پالیسی سے اس مسئلے پر قابو پانے میں آسانی ہو سکتی ہے۔
4۔ دفاعی اور انتظامی وضاحت:
آرٹیکل 243 میں ترمیم کے بعد سول و عسکری اداروں کے اختیارات زیادہ واضح اور مربوط ہو سکیں گے۔
5۔ وسائل کا مؤثر استعمال:
وفاقی کنٹرول سے فنڈز کے بکھراؤ میں کمی آئے گی، اور ایک ہی سمت میں وسائل خرچ ہونے سے کارکردگی میں بہتری آئے گی۔
---
ممکنہ خدشات:
1۔ صوبائی خودمختاری محدود ہونے کا خطرہ:
تعلیم اور آبادی کو واپس وفاق کے دائرے میں لانا 18ویں ترمیم کی روح کے برخلاف سمجھا جا سکتا ہے، جس سے صوبائی حکومتیں خود کو کمزور محسوس کریں گی۔
2۔ سیاسی کشیدگی:
کچھ صوبے، خصوصاً سندھ اور بلوچستان، اسے اپنے اختیارات چھیننے کے مترادف سمجھ سکتے ہیں، جس سے وفاق-صوبہ تعلقات میں تناؤ پیدا ہو سکتا ہے۔
3۔ نفاذ کے عملی مسائل:
وفاق کے پاس پہلے ہی کئی محکموں کا بوجھ ہے۔ نئے معاملات واپس آنے سے انتظامی سست روی اور بیوروکریسی میں اضافہ ممکن ہے۔
25ویں آئینی ترمیم اگر ملک گیر ہم آہنگی، تعلیمی اصلاحات، اور آبادی کنٹرول کو مضبوط کرنے کے لیے ہے، تو یہ ایک مثبت قدم ہو سکتا ہے۔
مگر اگر اس کا مقصد صوبائی خودمختاری کو محدود کرنا ہوا تو یہ ایک نئے آئینی تنازع کو جنم دے سکتا ہے۔
ملک کی بقاء اور ترقی کے لیے ضروری ہے کہ ایسی ہر ترمیم مشاورت، اتفاقِ رائے، اور توازن کے ساتھ کی جائے۔
وفاق مضبوط تبھی ہو گا جب صوبے خود کو محفوظ، بااختیار اور اعتماد کے قابل سمجھیں۔