09/08/2026
حضرت مولانا رومیؒ ایک نہایت خوبصورت مثال بیان کرتے ہیں۔
مجنوں کو خبر ملی کہ لیلیٰ اس کی طرف آ رہی ہے۔ وہ بے قرار ہو کر اس کے استقبال کے لیے روانہ ہوا۔ وہ اپنی اونٹنی پر سوار تھا، مگر اونٹنی کا ننھا بچہ گھر پر رہ گیا تھا۔
راستے بھر ایک عجیب کشمکش جاری رہی۔
مجنوں کا دل لیلیٰ کی طرف کھنچا چلا جا رہا تھا، جبکہ اونٹنی کا دل اپنے بچے کی طرف۔
جب تک مجنوں پوری طرح ہوش میں رہتا، اونٹنی آگے بڑھتی رہتی۔ لیکن جیسے ہی وہ لیلیٰ کے عشق میں محو ہو جاتا اور مہار پر اس کی گرفت ڈھیلی پڑتی، اونٹنی فوراً مڑ کر اپنے بچے کی طرف چل پڑتی۔
کافی دیر بعد جب مجنوں کو ہوش آتا تو وہ دیکھتا کہ وہ میلوں پیچھے واپس آ چکا ہے۔
یہ سلسلہ بار بار دہرایا گیا۔
آخرکار مجنوں سمجھ گیا کہ دو مختلف سمتوں میں چلنے والے کبھی ایک منزل تک نہیں پہنچ سکتے۔
ایک کا رخ لیلیٰ کی طرف تھا اور دوسرے کا اپنے بچے کی طرف۔
آخر اس نے اونٹنی کو چھوڑ دیا اور خود پیدل لیلیٰ کی طرف چل پڑا۔
🌸 مولانا رومیؒ فرماتے ہیں:
انسان کی روح اور نفس کی کیفیت بھی کچھ ایسی ہی ہے۔
روح ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی طرف پرواز کرنا چاہتی ہے، جبکہ نفس دنیا، خواہشات اور آسائشوں کی طرف کھینچتا رہتا ہے۔
جب تک انسان ہر لمحہ نفس کی خواہشات کے پیچھے چلتا رہے گا، وہ اپنے اصل مقصد تک نہیں پہنچ سکے گا۔
جس طرح مجنوں کو لیلیٰ تک پہنچنے کے لیے اونٹنی کی ضد سے آزاد ہونا پڑا، اسی طرح اللہ تعالیٰ کی قربت حاصل کرنے کے لیے انسان کو اپنی خواہشاتِ نفس پر قابو پانا ہوگا۔
یہ مطلب ہرگز نہیں کہ انسان جسم کو چھوڑ دے، بلکہ یہ کہ وہ جسم اور نفس کی ناجائز خواہشات کو اپنا حاکم نہ بنائے، بلکہ انہیں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے تابع کر دے۔
اللہ تعالیٰ کا عشق ہر عشق سے بلند اور پاکیزہ ہے۔
جو بندہ اخلاص کے ساتھ اس راستے پر قدم رکھتا ہے، اللہ تعالیٰ خود اس کے لیے آسانیاں پیدا فرماتا ہے، اس کے دل میں اپنی محبت پیدا کرتا ہے اور اپنی رحمت کی طرف کھینچ لیتا ہے۔
🌷 سبق:
اگر ہماری روح اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتی رہے اور ہمارا نفس ہر وقت دنیا کی طرف کھینچتا رہے، تو ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم کس آواز پر لبیک کہتے ہیں۔
کامیاب وہی ہے جو اپنے نفس کو قابو میں رکھ کر اللہ تعالیٰ کی رضا کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لے