07/09/2026
سپانٹک کے اصل ہیروز — انسانیت کی ایک لازوال مثال
یہ ہیں ہمارے اصل ہیروز!
سپانٹک جیسے خطرناک اور دشوار گزار پہاڑ پر ڈاکٹر اسما مشتاق کی المناک وفات نے ہر حساس دل کو افسردہ کر دیا۔ 7,027 میٹر بلند سپانٹک کی چوٹی سر کرنے کے بعد واپسی کے دوران ڈاکٹر اسما تقریباً 6,000 میٹر سے زائد بلندی پر جان کی بازی ہار گئیں۔ شدید برفباری، تیز ہواؤں اور انتہائی مشکل موسمی حالات کے باعث ان کی میت کو واپس لانا ایک انتہائی خطرناک اور جان جوکھوں کا کام بن گیا تھا۔
ایسے کٹھن وقت میں شگر کے مقامی ہائی الٹی ٹیوڈ کوہ پیماؤں نے انسانیت، ہمدردی اور بہادری کی ایک شاندار مثال قائم کی۔ انہوں نے اپنی جانوں کی پروا کیے بغیر سپانٹک کے خطرناک راستوں کا رخ کیا اور کیمپ 3 کے قریب سے ڈاکٹر اسما مشتاق کی میت کو تلاش کرکے نیچے لانے کا مشکل مشن مکمل کیا۔ یہ رضاکار ٹیم اپنے خرچ پر اس مشن پر گئی تھی۔
یہ کام صرف ایک ریسکیو آپریشن نہیں تھا؛ یہ انسانیت، احترام اور اپنے فرض سے وفاداری کی ایک روشن مثال تھی۔ جہاں شدید برفباری اور خطرناک ہواؤں نے پہلے ریسکیو ٹیموں کو واپس آنے پر مجبور کر دیا تھا، وہاں ان بہادر نوجوانوں نے ہمت نہیں ہاری۔
ہمیں ایسے لوگوں کو صرف ’’پورٹر‘‘ یا ’’ریسکیو ٹیم‘‘ کہہ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ یہ وہ اصل ہیروز ہیں جو دنیا کے خطرناک ترین پہاڑوں پر دوسروں کی جان اور عزت کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈالتے ہیں۔
ڈاکٹر اسما مشتاق اپنے سفر کی ایک بہادر کوہ پیما تھیں، لیکن ان کی میت کو باعزت طریقے سے واپس لانے والے یہ مقامی کوہ پیما بھی ہماری اجتماعی یادداشت میں ہمیشہ زندہ رہنے چاہئیں۔
سپانٹک کی برفانی چوٹیوں پر انہوں نے صرف ایک میت نہیں اٹھائی، بلکہ انسانیت کا پرچم بلند کیا۔
ہم ان تمام بہادر ریسکیو اہلکاروں، ہائی الٹی ٹیوڈ کوہ پیماؤں اور مقامی رضاکاروں کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے بغیر کسی ذاتی مفاد کے یہ مشکل ذمہ داری نبھائی۔
یہ ہیں ہمارے ہیروز — شگر کے بہادر سپوت، جنہوں نے انسانیت کو سب سے مقدم رکھا۔
سلام ہے آپ کی ہمت، قربانی اور انسانیت کو! 🇵🇰🏔️
ٹیم پانچ ممبران پر مشتمل ہے۔
ریسکیو ٹیم میں ٹیم لیڈر محبو علی ،حسین علی،مظاہر حسین، عباس علی،محمد عابدین پر مشتمل تھے