FM Gold gb

FM Gold gb Entertainment,Music, Sport,News and Education.Radio station FM Gold gb Pakistan Skardu.

FM Gold gb
05/03/2023

FM Gold gb

05/03/2023


Information Department Gilgit-Baltistan


کنسٹریکٹر ایسوسی ایشن گلگت بلتستان

پریس ریلز

کنسٹریکٹر ایسوسی ایشن گلگت بلتستان کا مطالبات حل نہ ہونے پر8 مارچ سے احتجاج کا اعلان۔ شیڈول جاری۔

گلگت (پ ر) تصیلات کے مطابق کنسٹریکٹرایسوسی ایشن گلگت بلتستان نے مطالبات حل نہ ہونے پر احتجاج کا اعلان کر دیا۔ شیڈول کے مطابق 8 مارچ کو دن گیارہ بجے ہر ضلع میں احتجاجی ریلی اور جلسہ ہوگا۔ اس کے بعد 14 مارچ کو گلگت بلتستان کے تمام ضلعوں میں دھرنا دیا جائے گا جبکہ 20 مارچ کو گلگت میں مرکزی دھرنا ہوگا جس میں تمام اضلاع سے کنٹریکٹرز گلگت آئیں گے اور مطالبات کے حل تک دھرنا دیا جائے گا۔ صدر رحمت اللہ اور جنرل سیکرٹری شاکرحسین نے میڈیا کو جاری بیان میں کہا کہ ہم نے اپنے مطالبات وفاقی حکومت اور جی بی حکومت کے سامنے رکھی ہے لیکن کہیں سے شنوائی نہیں ہو رہی۔ مہنگائی کی اس آگ میں جی بی کے ٹھیکدار 2012 کی ریٹ پر کام کر رہے ہیں جبکہ پورا پاکستان میں شیڈول ریٹ 2022 نافذ العمل ہے۔ ترقیاتی اسکیم پورا کیے کئی سال گزر چکے لیکن حکومت ہمارے پیسے ریلز نہیں کررہی۔ ٹھیکداروں نے بینکوں سے قرضے لیکر منصوبے مکمل کیے ہیں۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ حکومت سب سے پہلے ٹھیکداروں کے واجبات فوری ریلز کرےملک بھر کی طرح جی بی میں بھی شیڈول ریٹ2022 نافذ کرے اس کے بعد بتدریج ٹھیکداروں کے مسائل حل کرے۔ صدر رحمت اللہ نے مزید کہا کہ کسی بھی علاقے کی ترقی میں ٹھیکدار برادری ریڈ کی ہڈی کی حثیت رکھتی ہے ادھر ہمارے پیٹ پر چھورا گھونپا جا رہا ہے حکومت کو اندازہ نہیں کی ٹھیکدار برادری کس مشکل میں ہے۔ایک سازش کے تحت گلگت بلتستان کے ادارے ہر روز ٹینڈر کراتے ہیں سب کو پتہ ہے خزانہ خالی ہے پھر ٹینڈرز کس بات کی۔ پہلے ہمارے واجبات ادا کیے جائے اس کے بعد نئے اسکیم کا ٹینڈرز کیا جائے۔ صدر رحمت اللہ نے مزید کہا کہ اپنے مطالبات کے حل کیلئے آخری حد تک جائیں گے ہم نے اپنی کشتیاں جلا کر یہ فیصلہ کیا ہے اور احتجاج کرنے پر مجبور ہوئے ہیں حکومت ہوش کے ناخن لے اور ہمارے جائز مطالبات حل کرے ورنہ موقع ہاتھ سے نکل جائے گا۔

11/01/2021
صرف ایک فون کال پر احتساب ڈھیر ہو گیا  رؤف کلاسرا آخر وہی ہوا جس کا خطرہ تھا کہ آئی پی پیز کی انتہائی اہم رپورٹ، جس کے...
22/05/2020

صرف ایک فون کال پر احتساب ڈھیر ہو گیا
رؤف کلاسرا

آخر وہی ہوا جس کا خطرہ تھا کہ آئی پی پیز کی انتہائی اہم رپورٹ، جس کے مطابق اپنوں اور غیروں نے دل کھول کر اس ملک اور عوام کو لوٹا تھا، اب سرکاری طور پر ریلیز نہیں کی جائے گی۔ یہ فیصلہ وزیراعظم عمران خان نے اسد عمر اور عمر ایوب صاحبان سے ایک بریفنگ لینے کے بعد کیا، جس میں بتایا گیا کہ ایک ”دوست ملک“ اس رپورٹ کو ریلیز کرنے پر ناخوش ہے، کیونکہ اس کی چند کمپنیوں کے نام بھی اس فہرست میں شامل ہیں، جنہوں نے لمبا ہاتھ مارا ہے۔

اس کی بھی الگ کہانی ہے کہ فردوس عاشق اعوان سے استعفیٰ لینے کا فیصلہ اور آئی پی پیز کی رپورٹ ریلیز نہ کرنے کا ایک دوسرے سے کیا تعلق ہے۔ اب ہو یہ رہا ہے عمران خان صاحب اربوں روپے کی ادویات، گندم، چینی اور اب بجلی گھروں کے جس سکینڈل کی رپورٹ پڑھتے ہیں، اس میں وزیروں کے نام نکل آتے ہیں۔ یوں کچھ دن کی چاند ماری کے بعد رپورٹ دفن کر دی جاتی ہے۔ یہ لوگ عام بھی نہیں جنہیں نظرانداز کرکے اقتدار اور ساکھ کے نام پر قربان کر دیا جائے۔

ان میں سے کچھ ایسے ہیں جو خان صاحب کو اقتدار تک لانے میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ جب جہانگیر ترین نواز شریف دور میں شوگر پر اربوں کی سبسڈی لے کر پی ٹی آئی کے بڑوں کو ہر وقت جہاز پر اڑائے پھرتے تھے تو کبھی کسی کو خیال نہ آیا۔ اب جب ترین کو فکس کرنے کا وقت آیا تو فوراً کہا گیا کہ انہوں نے چھیالیس کروڑ روپے کی سبسڈی لی ہے۔ جب وہ نواز شریف دور میں اربوں لے رہے تھے تو وہ اچھے تھے، اب وہ چھیالیس کروڑ روپے لے کر کٹہرے میں کھڑے ہیں۔ جب آپ حکومت میں ہوتے ہیں تو سرکاری وسائل بے تحاشا ہوتے ہیں، آپ کو پرائیویٹ پارٹی کے جہاز، بلٹ پروف گاڑی یا پیسے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ سب عوام کی جیب سے ہی نکل رہا ہوتا ہے۔


ہاں احتیاط کے طور پر عمران خان صاحب نے سمجھداری سے کام لیتے ہوئے علیم خان کو فوری طور پردوبارہ ان کر لیا ہے اور ایک وزارت بھی دے دی ہے تاکہ کل کو اپوزیشن میں وہ ترین کا کردار ادا کر سکیں۔ یہی علیم خان کہتے تھے ان کے ساتھ زیادتی کی گئی، پہلے کسی اور کو وزیر اعلیٰ بنا دیا گیا، پھر انہیں احتساب میں گرفتار کروا دیا تاکہ وزیر اعلیٰ بننے کی خواہش کہیں موجود ہے تو وہ بھی ختم ہو جائے۔ علیم خان کو ڈنڈا دکھا کر چھڑی پر راضی کر لیا گیا اور وہ اب اپنی پرانی تنخواہ پر کام کرنے کو تیار ہیں۔ چوہدری پرویز الٰہی علیم خان کو نیب کے ہاتھوں گرفتار کروانے والوں کے نام آتے جاتے صحافیوں کو بتاتے ہیں۔ وہ نام سن کر بندہ کانوں کو ہاتھ لگاتا ہے کہ پاکستان میں سیاست کے لیے کتنا نیچے آنا پڑتا ہے۔ علیم خان کو سلیوٹ ہے کہ وہ بھی کمپرومائز کر کے وزیر بن گئے۔

خیر بات کہیں اور نکل گئی۔ ذرائع کہتے ہیں کہ جب یہ آئی پی پیز رپورٹ کابینہ میں پیش ہوئی تو عمران خان حیران رہ گئے۔ اس میں دو اہم مشیروں کے نام شامل تھے، جن کی کمپنیوں نے بھی اربوں کمائے تھے۔ اس سے پہلے کوئی کہتا تھا کہ عمران خان صاحب نے اجلاس میں ان دونوں مشیروں کے بارے میں تعریفی کلمات کہے تھے۔ وہ بولے کہ رزاق داؤد کو بیس برسوں سے جانتا ہوں، وہ بڑے اچھے بندے اور ایماندار ہیں۔ پھر وزیر اعظم نے تعریفوں کا رخ ندیم بابر کی طرف موڑ دیا، جن کی کمپنیوں کے نام بھی اس سکینڈل میں شامل ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ ندیم بابر بہت اچھے بندے ہیں، اسی لیے وہ انہیں کابینہ میں لائے ہیں۔ کوئی کسر رہ گئی تھی تو خان صاحب نے فرمایا کہ ان دونوں کی اچھائی اور نیکی دیکھ لیں کہ جونہی کابینہ نے آئی پی پیز کی رپورٹ کو ایجنڈا پر گفتگو کے لیے رکھا، ساتھ ہی یہ دونوں جنٹلمین اٹھ کر اجلاس سے چلے گئے تاکہ ان کی عدم موجودگی میں اس پر بات ہو اور کوئی ان کی وجہ سے خاموش نہ رہے۔ اسد عمر نے بھی سنگت پر ساتھ دیا اور کہا کہ بالکل رزاق داؤد اور ندیم بابر اتنے اچھے ہیں کہ جب وہ اس رپورٹ کو کابینہ کی کمیٹی برائے انرجی میں زیر بحث لائے تو یہ دونوں اس کمیٹی کے ممبر ہونے کے باوجود وہاں سے اٹھ کر چلے گئے تھے۔


اب بتائیں جب وزیراعظم اپنے اہم مشیروں کا خود دفاع کررہے ہوں تو کس کی جرأت ہے کہ وہ اس رپورٹ پر کابینہ اجلاس میں کچھ کہہ سکے۔ جن وزیروں اور مشیروں کو اس رپورٹ کے بعد برطرف کردینا چاہیے تھا، ان کی کابینہ اجلاس میں باقاعدہ تعریفیں ہورہی ہیں اور اس پر بھی سب وزیراعظم کے شکرگزار ہیں کہ کتنے اچھے لوگ ہیں، جن اجلاسوں میں رپورٹ زیربحث آئی تھی وہاں سے اٹھ کر چلے گئے۔ مطلب یہ کہ اگر دونوں بیٹھے رہتے تو ہم ان کا کیا کر لیتے؟ قوم کو اس پر بھی رزاق داؤد اور ندیم بابر کا احسان مند ہونا چاہیے۔

اب فیصلہ ہوا ہے کہ اس رپورٹ کو پبلک نہیں کیا جائے گا۔ اسد عمر نے اس رپورٹ پر جو بڑے زوروشور سے ڈائیلاگ مارے تھے وہ کابینہ میں جاکر بھول گئے، جب وزیراعظم نے رزاق داؤد اور ندیم بابر کی تعریفوں کے پل باندھ دیے۔ شاہ محمود قریشی کو بہرحال داد دینی پڑے گی کہ انہوں نے ہمت سے کام لیا اور کہا کہ وزیراعظم صاحب آپ کی باتیں سر آنکھوں پر، لیکن چند گزارشات سن لیں۔ ان کاکہنا تھاکہ ہمیں یہ بات بھی ذہن میں رکھنی ہوگی کہ ہماری ایک پارٹی ہے، جس کا ایک نعرہ ہے انصاف اور شفافیت کا، لوگ ہم سے توقع رکھتے ہیں کہ اہم ایسے موقعوں پر ایکشن لیں گے۔

اگر ہم نے ان لوگوں کا دفاع شروع کر دیا تو ہماری پارٹی کو سیاسی نقصان ہوگا۔ ہمیں اپنے سیاسی خیالات اور سیاسی مفادات کو بھی مدنظر رکھنا ہو گا؛ تاہم وزیراعظم صاحب کی اپروچ بڑی واضح تھی۔ رہی سہی کسر یہ کہہ کر پوری کردی گئی کہ اس رپورٹ کے لیک ہونے سے ایک دوست ملک کو شکایت پیدا ہوگئی ہے۔ اس دوست ملک، جس نے پاکستان میں انرجی میں کچھ پروجیکٹس لگا رکھے ہیں، کا کہنا ہے کہ اگر کچھ غلط بھی ہوتا رہا تو بہتر ہے کہ ان کے ساتھ بیٹھ کر سرکاری سطح پر بات کی جائے نہ کہ میڈیا یا عوام کو وہ رپورٹ ریلیز کر دی جائے اور اس دوست ملک کی بدنامی ہوکہ اس کی کمپنیاں کرپشن کرتی ہیں اور دوسرے ملکوں میں جاکر ان کے عوام کو لوٹتی ہیں۔


یوں یہ طے ہوا کہ اب اس رپورٹ کو ریلیز نہیں کیا جائے گا۔ اس پر دل جلے کہیں گے کہ پھر کیا ہوا اگر سرکاری طور پر رپورٹ ریلیز نہیں ہوگی، ویسے بھی میڈیا پر آچکی ہے۔ ایسے دوستوں کے لیے عرض ہے کہ اگریہ رپورٹ سرکاری طور پر ریلیز نہیں ہوگی تو پھریہ رپورٹ مستند نہیں سمجھی جائے گی اور نہ ہی عدالت، نیب یا ایف آئی اے اس پر کوئی انکوائری کرسکتی ہے، کیونکہ اس رپورٹ کا کوئی والی وارث نہیں ہوگا، اس کی کوئی اہمیت نہیں ہوگی۔

یہ پاکستانی بزنس مین سیانے ہیں، یہ جان بوجھ کر غیرملکی کمپنیوں کوکچھ فیصد شیئرز پر ساتھ ملا کر یہ کرتے ہیں اور جب پکڑے جاتے ہیں تو ان کمپنیوں کواشارہ کرتے ہیں کہ اب تم اپنے ملک کوکہو کہ پاکستان پر دباؤ ڈالیں اور فوراً دباؤ ڈالا جاتا ہے اور رپورٹ فائل بند۔ یہ ہے وہ طریقۂ واردات، جو چلتا آیا ہے اور چلتا رہے گا۔ آپ اور ہم عبداللہ کی طرح بیگانے کی شادی میں دوتین دن ٹی وی شوز میں بھنگڑے ڈال کر خوش ہولیتے ہیں کہ دیکھا لٹیرے پکڑے گئے، جبکہ ان لٹیروں پر کابینہ اجلاس میں تعریفوں کی بارش ہورہی ہوتی ہے۔

ویسے آپس کی بات ہے، شام کی محفلوں میں یہ لٹیرے ہم سب پر ہنستے تو ہوں گے کہ کیسے ایک ”دوست ملک“ کی کال پر پوری کابینہ ڈھیر ہوگئی، جس کے وزیر ٹی وی شوز اور سوشل میڈیا پردن رات بڑھکیں مارمار کر تھکتے نہیں۔ جنہیں پاکستان میں مخالفوں کے چھکے چھڑانے کا بادشاہ سمجھا جاتا ہے، جب ملک اور قوم کے لئے کھڑے ہونے کا وقت آتا ہے تو خود صرف ایک فون کال پر ڈھیر ہو جاتے ہیں۔ ڈھیر ہوتے ہیں اور شرمندہ بھی نہیں ہوتے۔ جی ہاں صرف ایک فون کال پر۔
بشکریہ دنیا۔

14/05/2020

طبل جنگ بج رہا ہے؟

حیدر جاوید سید

تلواریں نیاموں سے باہر (ویسے نیاموں میں تھیں کب؟) اور دہنوں سے گولہ باری جاری ہے۔میرے ملتانی مخدوم کشتوں کے پشتے لگا رہے ہیں۔
پیپلزپارٹی بھی ترنم کے ساتھ جواب آں غزل پیش کر رہی ہے۔
منگل کو مرحوم جنرل ضیاء الحق کے اوپننگ بیٹسمین راجہ ظفرالحق نے سینیٹ میں ہلکی پھلکی ڈھولک بجائی۔
سرکار کے حاضر وموجود وزراء اور جعلی ترجمان سبھی سندھ فتح کرنے کے راستے پر ہیں۔
کیا جھگڑا یا حالیہ تلخی محض سیاسی اختلافات اور مروجہ سیاست کی دین ہے یا کورونا پر باہمی تعاون کے فقدان کا نتیجہ؟۔
جان کی امان رہے تو عرض کروں، دونوں باتیں نہیں ہیں۔ 18ویں ترمیم کی وہ شقیں جو مالیاتی اور انتظامی فیصلوں کے حوالے سے صوبوں کو خودمختار بناتی ہیں وجہ اختلاف ہیں۔
پیپلز پارٹی سے اپریل کے تیسرے عشرے میں رابطہ ہوا تھا، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ تک پیغام پہنچایا گیا کہ وہ اپنی قیادت سے کہیں کہ وفاق پر مالیاتی دباؤ کم کرنے کیلئے تعاون کریں،
دفاعی بجٹ متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔
مراد علی شاہ نے پیغام اپنی قیادت تک پہنچا دیا۔
جواب اسلام آباد بھجوا دیا گیا۔
پیپلزپارٹی نے دو ٹوک الفاظ میں صوبوں کے مالیاتی حقوق اور حصہ سے دستبردار ہونے سے انکار کر دیا۔
جوابی پیغام کے بعد لشکری میدان میں اُتارے گئے۔ میدان دن بدن گرم ہوتا گیا، کورونا کے معاملے پر بلائے گئے قومی اسمبلی کے اجلاس میں گرما گرم تقاریر ہوئیں، اخباروں کی سرخیاں چیخ رہی ہیں، نجی ٹی وی چینلوں کے پروگراموں میں طرفین آستینیں اُلٹے چیتھڑے اُڑاتے دکھائی دیتے ہیں۔

ایک واقف حال کا دعویٰ ہے کہ وفاق کے مالیاتی مسائل اور دفاعی بجٹ ایشوز تو ہیں برہمی کی ایک وجہ این ڈی ایم اے سمیت بعض اداروں میں ہونے والی تقرریوں نے تنازعہ پیدا کیا۔
واقف حال سے عرض کیا۔ یہ تقرریاں تو وفاق کا حق ہیں؟ جواب ملا سول بیوروکریسی میں عدم اطمینان بڑھ رہا ہے، غیرمتعلقہ لوگوں کو ان کے سروں پر لابٹھایا جارہا ہے وہ اس پر شاکی ہے۔
واقف حال نے مسکراتے ہوئے کہا۔
پیپلزپارٹی نے ابتدائی بیرونی امداد(کورونا کے حوالے سے ملی)کا بڑاحصہ براہ راست این ڈی ایم اے کو دینے کی شخصی فیصلے(یہ فیصلہ وزیراعظم کا تھا) پر اعتراض کیا ہے۔
مراد علی شاہ دو مرتبہ ویڈیو لنک کے ذریعے ہونے والے اجلاسوں میں کہہ چکے ہیں کہ کورونا پر ملنے والی بیرونی امداد صوبوں کے نظام صحت کو بہتر بنانے کیلئے تقسیم کی جانی چاہئے تھی مگر وفاق نے زمینی حقائق نظرانداز کرتے ہوئے ”کسی کو خوش“ کرنے کیلئے من پسند فیصلہ کر لیا۔

دستیاب اطلاعات یہی ہیں کہ یہ جو طبل جنگ سنائی دے رہا ہے یہ مصنوعی ہرگز نہیں۔
طرفین جنگ کی تیاریاں کر چکے، پیپلزپارٹی کے ذرائع تصدیق کرتے ہیں کہ کارکنوں کو متحرک کرنے اور مزاحمت کیلئے تیار رہنے کو کہہ دیا گیا ہے،
اسی دوران ایک غیرمعروف نیوز ویب سائٹ نے خبر دی کہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل پاشا کو سندھ کا گورنر بنانے کیلئے سوچا جارہا ہے۔
اس خبر کو بعض علاقائی اخبارات نے بھی شائع کیا،کیا یہ خبر دھمکانے کیلئے تھی یا ایسا سوچا جارہا ہے؟
سنجیدہ فہم تجزیہ نگار اس خبر کو بے پر کی اُڑانے سے زیادہ اہمیت نہیں دے رہے۔
ان کا مؤقف ہے کہ کسی صوبے میں ایسے شخص کو گورنر نہیں لگایا جا سکتا جو اس صوبے کا شہری ناہو۔ یہی رائے درست ہے
مگر عجیب یہ ہے کہ غیرمعروف ویب سائٹس پر اس خبر کی اشاعت سے قبل سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر فردوس شمیم نقوی اور گورنر سندھ عمران اسماعیل کے حوالے سے ہی پاشا والی کہانی شروع ہوئی۔
کہاجاتا ہے کہ ان دونوں افراد نے سندھ حکومت کے بعض ذمہ داروں تک یہ بات پہنچائی کہ اسلام آباد عدم تعاون کی صورت میں ایک سابق جنرل کو سندھ کا گورنر بنانے بارے غور کر رہا ہے۔
سابق جنرل مگر کون؟
جنرل شجاع پاشا کا نام فردوس شمیم نقوی نے لیا۔
اب سوال یہ ہے کہ اگر اسلام آباد ایسا سوچ بھی رہا ہے تو اس امر سے لاعلم ہے کہ اٹھارہویں ترمیم کی موجودگی میں ایسا کیا جانا ممکن نہیں؟
یا پھر سندھ حکومت پر دباؤ بڑھانے کیلئے یہ خبر اُڑائی و
اُڑوائی گئی۔
جنرل پاشا کانام اسلئے مارکیٹ میں بطور نمونہ پیش کیا گیا کہ وہ تحریک انصاف کی نشاط ثانیہ کے خالق سمجھے جاتے ہیں۔
اس پر دو آراء نہیں کہ سیاسی تصادم کے امکانات بڑھ رہے ہیں۔
نون لیگ کا فیصلہ کیا ہوگا۔
کیا وہ پیپلزپارٹی کیساتھ جائے گی؟
اس سوال کا جواب یہ ہے کہ نون لیگ غیرجانبدار رہے گی۔ وہ ہلکی پھلکی ڈھولک بجاتی رہے گی تاکہ سیاسی ساکھ محفوظ رہے خطرہ مول نہیں لے گی،
وجہ یہ ہے کہ نون لیگ اب بھی پراُمید ہے کہ اگر معاملات تحریک انصاف کے ہاتھ سے نکلتے ہیں تو وہ پنجاب میں اپنے حق حکومت کا جواز گوانے نا پائے۔
پنجاب میں ہی نون لیگ اس پوزیشن میں ہے کہ ہلکی سی سرپرستی اس کے صوبائی اقتدار کی راہ ہموار کر سکتی ہے

وفاق میں متحدہ اپوزیشن کو بھی چند ارکان کی ضرورت پڑے گی اس لئے کمزور وکٹ پر کھیل کر ہاتھ بندھوانے سے بہتر ہے کہ پنجاب کو فوکس کیاجائے۔
ادھر ایک دلچسپ اطلاع برطانیہ کے دارالحکومت لندن سے ہے جہاں تحریک انصاف کی ایک اہم شخصیت کے صاحبزادے اور دو ہمدردوں نے پچھلے ہفتے جناب الطاف حسین سے لگ بھگ ڈیڑھ گھنٹہ محفل سجائی۔
کیا اسلام آباد سندھ حکومت کیخلاف کارروائی وہ کسی بھی طرح اور سطح کی ہو کیلئے جناب الطاف حسین سے عددی (یعنی عوامی) مدد کا طلبگار ہے؟
اس سوال میں بہت ساری خواہشیں، امکانات اور مستقبل کیلئے نشانیاں پوشیدہ ہیں۔
دعویداروں کا دعویٰ ہے کہ پچھلے ہفتہ بھر سے الطاف بھائی کے محبوں کا سوشل میڈیا پر پیپلزپارٹی اور سندھ حکومت کیلئے انصافیوں کا ہمنوا ہونا بلاوجہ نہیں اور تحریک انصاف کا سندھ کو ہدف بنا لینا بھی۔
حرف آخر یہ ہے کہ کیا یہ ساری خبریں، واقفان حال کی باتیں و دعویداروں کے دعوے فقط اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کی مہمیں ہیں یا جنگ لگنے والی ہے لشکری صفیں درست کر رہے ہیں؟۔

جمعرات 14 مئی 2020 ء
روزنامہ مشرق پشاور

13/05/2020

سنا ہے گلگت بلتستان کے عوامی ملکیت کی زمینوں پر انتقال کی پابندی ہے۔
ساتھ ساتھ راتوں رات حکومتی کارندے اور ائیر فورس اور وطن کے محافظوں کا بلتستان کی زمینوں پر قبضہ کرنے کا سلسلہ احسن طریقے سے جاری و ساری ہیں۔

یہ زمین ہندوں سے بزور طاقت ہم نے خود چھینی ہے لہذا یہ زمین ہماری ہے کسی اور کی نہیں ہوسکتی۔

ہمارا مطالبہ ہے کہ یہ ظالمانہ اقدام روکے ورنہ ایک اور منظور پشتین پیدا ہوگا اور آپ غدار کہہ کر سلاخوں کے پیچھے ڈال دینگے۔
کوئی بات نہیں پاکستانی مرے تو مرے بس پاکستان سلامت رہیے!
یہ ہے میرا وطن یہ ہے میرے ملک کے محافظوں کا نعرہ۔
تو سلامت رہیے تا قیامت رہیے۔

پلے بوائے جب شوکت خانم بنانے کا اعلان کیا تو پلے بوائے کی شہرت رکھنے والی سیلبریٹی سے میڈیا نے کوئ سوال نہیں پوچھا کہ نو...
26/04/2020

پلے بوائے

جب شوکت خانم بنانے کا اعلان کیا تو پلے بوائے کی شہرت رکھنے والی سیلبریٹی سے میڈیا نے کوئ سوال نہیں پوچھا کہ نو سو چوہے کھا کر بلی حج ہر کیسےچلی الٹا تعریفوں کے پُل باندھ دئیے اور پوری مدد کی

جب سیاسی جماعت بنانے کا اعلان کیا تو کسی فورم پر بھی اپنا ویژن تسیلم نا کروا سکا کسی سنجیدہ طبقے نے اس پر بات کرنا مناسب نا سمجھا انڈین چینل کے ایک عوام کی عدالت ٹائپ پروگرام میں سوال پوچھا گیا کہ اگر آپ کو وزیر اعظم بنایا جاتا ہےتو آپ کا,ویژن کیا ہے موصوف کا جواب تھا میں وزیر اعظم بننا نہیں چاہتا میزبان سمیت حاضرین کے فلک شگاف قہقہے نے جناب کو مزید کینفیوژ کر دیا جب میزبان نے پوچھا تو جناب پھر سیاست میں آئے کس لیے تو کوئ جواب نہیں تھا مگر میڈیا نے اس کینفیوژڈ سیاستدان پر تنقید کرنا مناسب نہیں سمجھا اور معاملات جوں کے توں چلتے رہے

سیاست میں آنے کے بعد موصوف کی ایک لاہوری ثقافتی فیملی کے فرد سے قربت تھی دونوں ملکر لڑکیوں کا شکار کھیلتے تھے ایک خاتون بھارتی صحافی کو دونوں نے ملکر اتنا خراب کیا کہ اس نے خودکشی کر لی لاہور کی جنٹری کلاس میں یہ واقعات زبان زد عام تھے مگر میڈیا نے اس پر کچھ نہیں لکھا ریحام خان عائشہ گلا لئ قندیل بلوچ بشری مانیکا پر میڈیا کا رویہ مجرمانہ تھا اور خان صاحب کی بے شمار سامنے کی چیزوں کو میڈیا نے انتیائ ڈھٹائ سے نظر انداز کیا

ایک ڈکٹیٹر کے ریفرنڈم پر اس کا چیف پولنگ ایجنٹ بننے کے بعد جمہوریت کے لیے موصوف کا نکتہ نظر سمجھنا کوئ مشکل امر نہیں تھا مگر میڈیا نے اس پر کچھ نہیں لکھا

نواز شرہف کی بلوائ گئ لندن اے پی سی میں جب جناب کی طرف سے اچانک قراردا پیش کی گئ کہ اے پی سی کے تمام اراکین ایم کیو ایم سے کسی قسم کا سیاسی معاہدہ نہیں کریں گے اس وقت تو سمجھ نہیں آئ لیکن جب کچھ دنوں بعد بے نظیر بھٹو نے کراچی میں لینڈ کیا اور ایم کیو ایم کی طرف سے مزاحمت نہیں کی گئ تو سمجھ آگئ کہ یہ سٹیبلشمنٹ کے اشارے پر پیش بندی کی کوشش تھی کہ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان بد اعتمادی کو بڑھا یا جائے پیپلز پارٹی نے اس قرار داد کو مسترد کر دیا مگر میڈیا نے اس پر کچھ نہیں کہا
اےبی ڈی ایم کی طرف سے دو ہزار آٹھ کے الیکشن کے بائیکاٹ کو ہر کوئ سمجھ رہا تھا کہ یہ الیکشن کو بے وقعت کرنے کی کوشش ہے عمران خان صاحب اس اے پی ڈی ایم کا حصہ تھے مگر میڈیا نے اس پر کچھ لکھا
جب سارا ملک دہشت گردوں کے خلاف اکھٹا ہو ریا تھا تو نواز شریف اور عمران خان دیشت گردوں کے حق میں مہم چلا رہے تھے لیکن میڈیا خاموش تھا
دو ہزار آٹھ تک جناب کی سیاسی اہمیت اتنی تھی کہ موصوف کو ٹاک شوز میں اکیلے کبھی نہیں بلایا گیا ہمیشہ مخالف سیاستدانوں کے ساتھ ہی بٹھایا گیا کبھی شیخ رشید سے بے عزت ہوئے کبھی ایم کیو ایم کےاراکین سے مگر پیپلز پارٹی کی حکومت بنتے ہی نواز شریف کو میثاق جمہوریت کے خلاف پریشرائز کرنے کے لیے خان صاحب کے سپیشل پروگرام کیے جانے لگے مگر دو ہزار دس کے آخر تک بہت زیادہ ائیر ٹائم ملنے کے باوجود عوامی پذیرائ حاصل نا کر سکے اٹھارویں ترمیم منظور ہونے کے بعد سٹیبلشمنٹ کو اختیارات اپنے ہاتھ سے نکنلنے کا پتا چلا میاں نواز شریف پر اعتماد کرنا مشکل بھی تھا اور جو کچھ سٹیبلشمنٹ میاں صاحب کے لیے کر چکی تھی اُسے ضائع کرنے کی پوزیشن میں بھی نہیں تھی وکٹ کے دونوں طرف کھیلنے کی وجہ سے طاقت کا توازن میاں صاحب کے حق میں تھا
یہی وہ وقت تھا جب جب سارا میڈیا ایک دم سے خان صاحب پر مہربان ہوا ملک کے ہر اہم شخص کو عمران خان کے اندر ایک نجات دہندہ نظر آنا شروع ہوگیا ٹی وی سکرینیں خان صاحب کے لیے وقف ہو گئیں ہر جلسہ کی کرسیاں لگنے سے شروع ہو کر پہلے مقرر سے لے کر آخری مقرر تک کی تقریر لائیو ٹیلی کاسٹ ہونے لگی باہر سے آنے والے قافلوں کو میڈیا ساتھ ساتھ انٹرٹین کرتا تھا کسی بھی پارٹی کے سیاسی جلسے کی کامیابی کو جانچنے کے لیے عمران خان کا جلسہ ہی معیار میڈیا نے مقرر کر دیا جسے صرف میڈیا کی مدد سے ہی حاصل کیا جا سکتا تھا
چنانچہ میڈیا کا کردار بہت مثبت اور حق پرست سمجھا جانے لگا
دھرنے کے ایک سو چھبیس دن میڈیا نے ایک ایک منٹ کی خبر لائیو ٹیلی کاسٹ کی پی ٹی آئ کے کارکنان کی طرف سے مخالفین کو گالی گلوچ کا راستہ خود عمران خان صاحب کے بعد میڈیا نے پرموٹ کیا حسن نثار رؤف کلاسرا عارف حمید بھٹی سمیع ابراہیم کاشف عباسی جیسے صحافی انصافیوں کے لیے مشعل راہ تھے

آج مولانا طارق جمیل کی طرف سے میڈیا کو جھوٹا کہنے کا دفاع کرنے والے پی ٹی آئ کے دانشور دوست جو سوشل میڈیا پر میڈیا کے پول کھولنے کے دعوے کر رہے ہیں اور بڑے دلائل سے بتا رہے ہیں کہ واقع میڈیا جھوٹ بولتا ہے وہ میڈیا کی تحریک ا نصاف کے لیے بے مثال خدمات کا پول بھی کھولیں تو انکے مؤقف کو پذیرائ مل سکتی ہے

ورنہ اسے حسب معمول چوروں کی چوری کے مال پر آپسی لڑائ ہی سمجھا جائے گا

بشکریہ Sohaib Alam

28/09/2017

Hindustan ma Kashmiri Pakistan k sat yakjihati

08/09/2016

Welcome

14/07/2015

Address

Skardu
Skardu
16100

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when FM Gold gb posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to FM Gold gb:

Share

Category