26/04/2020
پلے بوائے
جب شوکت خانم بنانے کا اعلان کیا تو پلے بوائے کی شہرت رکھنے والی سیلبریٹی سے میڈیا نے کوئ سوال نہیں پوچھا کہ نو سو چوہے کھا کر بلی حج ہر کیسےچلی الٹا تعریفوں کے پُل باندھ دئیے اور پوری مدد کی
جب سیاسی جماعت بنانے کا اعلان کیا تو کسی فورم پر بھی اپنا ویژن تسیلم نا کروا سکا کسی سنجیدہ طبقے نے اس پر بات کرنا مناسب نا سمجھا انڈین چینل کے ایک عوام کی عدالت ٹائپ پروگرام میں سوال پوچھا گیا کہ اگر آپ کو وزیر اعظم بنایا جاتا ہےتو آپ کا,ویژن کیا ہے موصوف کا جواب تھا میں وزیر اعظم بننا نہیں چاہتا میزبان سمیت حاضرین کے فلک شگاف قہقہے نے جناب کو مزید کینفیوژ کر دیا جب میزبان نے پوچھا تو جناب پھر سیاست میں آئے کس لیے تو کوئ جواب نہیں تھا مگر میڈیا نے اس کینفیوژڈ سیاستدان پر تنقید کرنا مناسب نہیں سمجھا اور معاملات جوں کے توں چلتے رہے
سیاست میں آنے کے بعد موصوف کی ایک لاہوری ثقافتی فیملی کے فرد سے قربت تھی دونوں ملکر لڑکیوں کا شکار کھیلتے تھے ایک خاتون بھارتی صحافی کو دونوں نے ملکر اتنا خراب کیا کہ اس نے خودکشی کر لی لاہور کی جنٹری کلاس میں یہ واقعات زبان زد عام تھے مگر میڈیا نے اس پر کچھ نہیں لکھا ریحام خان عائشہ گلا لئ قندیل بلوچ بشری مانیکا پر میڈیا کا رویہ مجرمانہ تھا اور خان صاحب کی بے شمار سامنے کی چیزوں کو میڈیا نے انتیائ ڈھٹائ سے نظر انداز کیا
ایک ڈکٹیٹر کے ریفرنڈم پر اس کا چیف پولنگ ایجنٹ بننے کے بعد جمہوریت کے لیے موصوف کا نکتہ نظر سمجھنا کوئ مشکل امر نہیں تھا مگر میڈیا نے اس پر کچھ نہیں لکھا
نواز شرہف کی بلوائ گئ لندن اے پی سی میں جب جناب کی طرف سے اچانک قراردا پیش کی گئ کہ اے پی سی کے تمام اراکین ایم کیو ایم سے کسی قسم کا سیاسی معاہدہ نہیں کریں گے اس وقت تو سمجھ نہیں آئ لیکن جب کچھ دنوں بعد بے نظیر بھٹو نے کراچی میں لینڈ کیا اور ایم کیو ایم کی طرف سے مزاحمت نہیں کی گئ تو سمجھ آگئ کہ یہ سٹیبلشمنٹ کے اشارے پر پیش بندی کی کوشش تھی کہ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان بد اعتمادی کو بڑھا یا جائے پیپلز پارٹی نے اس قرار داد کو مسترد کر دیا مگر میڈیا نے اس پر کچھ نہیں کہا
اےبی ڈی ایم کی طرف سے دو ہزار آٹھ کے الیکشن کے بائیکاٹ کو ہر کوئ سمجھ رہا تھا کہ یہ الیکشن کو بے وقعت کرنے کی کوشش ہے عمران خان صاحب اس اے پی ڈی ایم کا حصہ تھے مگر میڈیا نے اس پر کچھ لکھا
جب سارا ملک دہشت گردوں کے خلاف اکھٹا ہو ریا تھا تو نواز شریف اور عمران خان دیشت گردوں کے حق میں مہم چلا رہے تھے لیکن میڈیا خاموش تھا
دو ہزار آٹھ تک جناب کی سیاسی اہمیت اتنی تھی کہ موصوف کو ٹاک شوز میں اکیلے کبھی نہیں بلایا گیا ہمیشہ مخالف سیاستدانوں کے ساتھ ہی بٹھایا گیا کبھی شیخ رشید سے بے عزت ہوئے کبھی ایم کیو ایم کےاراکین سے مگر پیپلز پارٹی کی حکومت بنتے ہی نواز شریف کو میثاق جمہوریت کے خلاف پریشرائز کرنے کے لیے خان صاحب کے سپیشل پروگرام کیے جانے لگے مگر دو ہزار دس کے آخر تک بہت زیادہ ائیر ٹائم ملنے کے باوجود عوامی پذیرائ حاصل نا کر سکے اٹھارویں ترمیم منظور ہونے کے بعد سٹیبلشمنٹ کو اختیارات اپنے ہاتھ سے نکنلنے کا پتا چلا میاں نواز شریف پر اعتماد کرنا مشکل بھی تھا اور جو کچھ سٹیبلشمنٹ میاں صاحب کے لیے کر چکی تھی اُسے ضائع کرنے کی پوزیشن میں بھی نہیں تھی وکٹ کے دونوں طرف کھیلنے کی وجہ سے طاقت کا توازن میاں صاحب کے حق میں تھا
یہی وہ وقت تھا جب جب سارا میڈیا ایک دم سے خان صاحب پر مہربان ہوا ملک کے ہر اہم شخص کو عمران خان کے اندر ایک نجات دہندہ نظر آنا شروع ہوگیا ٹی وی سکرینیں خان صاحب کے لیے وقف ہو گئیں ہر جلسہ کی کرسیاں لگنے سے شروع ہو کر پہلے مقرر سے لے کر آخری مقرر تک کی تقریر لائیو ٹیلی کاسٹ ہونے لگی باہر سے آنے والے قافلوں کو میڈیا ساتھ ساتھ انٹرٹین کرتا تھا کسی بھی پارٹی کے سیاسی جلسے کی کامیابی کو جانچنے کے لیے عمران خان کا جلسہ ہی معیار میڈیا نے مقرر کر دیا جسے صرف میڈیا کی مدد سے ہی حاصل کیا جا سکتا تھا
چنانچہ میڈیا کا کردار بہت مثبت اور حق پرست سمجھا جانے لگا
دھرنے کے ایک سو چھبیس دن میڈیا نے ایک ایک منٹ کی خبر لائیو ٹیلی کاسٹ کی پی ٹی آئ کے کارکنان کی طرف سے مخالفین کو گالی گلوچ کا راستہ خود عمران خان صاحب کے بعد میڈیا نے پرموٹ کیا حسن نثار رؤف کلاسرا عارف حمید بھٹی سمیع ابراہیم کاشف عباسی جیسے صحافی انصافیوں کے لیے مشعل راہ تھے
آج مولانا طارق جمیل کی طرف سے میڈیا کو جھوٹا کہنے کا دفاع کرنے والے پی ٹی آئ کے دانشور دوست جو سوشل میڈیا پر میڈیا کے پول کھولنے کے دعوے کر رہے ہیں اور بڑے دلائل سے بتا رہے ہیں کہ واقع میڈیا جھوٹ بولتا ہے وہ میڈیا کی تحریک ا نصاف کے لیے بے مثال خدمات کا پول بھی کھولیں تو انکے مؤقف کو پذیرائ مل سکتی ہے
ورنہ اسے حسب معمول چوروں کی چوری کے مال پر آپسی لڑائ ہی سمجھا جائے گا
بشکریہ Sohaib Alam