رابطة علماء السند Sindh Scholars League

رابطة علماء السند Sindh Scholars League Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from رابطة علماء السند Sindh Scholars League, Digital creator, Markzi daftr Jamia darululoom sukkur, Sukkur.

رابطۃ علماء السند ایک فکری، دعوتی، تعلیمی، تربیتی اور ثقافتی فورم ہے۔ یہ فورم بنیادی طور پر سندھ کے نوجوانوں کی فکری رہنمائی، دعوت و تبلیغ کے فروغ اور علماء سندھ کی تراث کو سامنے لانے کی غرض سےتشکیل دیا گیا ہے۔

27/05/2025

سہ ماہی "الرابطۃ"سکھر کی ترسیل کا عمل جاری ہے،مستقل ممبر شپ حاصل کرنے کے لیے رابطہ کیجیے.

(رسالہ کے اجرا کا طریقہ کار کمنٹ میں )

ہوئی جو تاخیر تو کچھ باعثِ تاخیر بھی تھا:سہ ماہی الرابطہ – شمارہ ہفتمالحمد للہ، رابطۃ علماء  السند کا تہذیبی وثقافتی ،عل...
27/05/2025

ہوئی جو تاخیر تو کچھ باعثِ تاخیر بھی تھا:

سہ ماہی الرابطہ – شمارہ ہفتم

الحمد للہ، رابطۃ علماء السند کا تہذیبی وثقافتی ،علمی اور تحقیقی ترجمان سہ ماہی ”الرابطۃ“ سکھر کا ساتواں شمارہ قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔ یہ شمارہ ، سابقہ شماروں کی طرح باب الاسلام سندھ میں علم و تحقیق کے خالص ذوق کی ترجمانی کرتا ہے اور سندھی، اردو اور عربی زبانوں میں متنوع علمی،تحقیقی اور تاریخی مقالات پر مشتمل ہے، جو سندھ میں مختلف جہات سے دینی اور علمی سرمایہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔
اردو حصے میں شامل مقالات میں پہلا مقالہ "مخدوم جعفر بو بکانی سندھی اور ان کی کتاب نہج التعلم" مخدوم مکرم رابطۃ علما٫ السند کے سرپرست اعلیٰ حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی محمد ادریس السندی کا تحریر کردہ ہے، جو کہ مخدوم جعفر بو بکانی سندھی کے سوانح کے ساتھ ان کے تعلیمی افکار اور کتاب نہج التعلم کے مشمولات کے تعارف پر ایک روشن مینار کی حیثیت رکھتا ہے۔ دوسرا مقالہ سندھ کے معروف محقق عالمِ دین علامہ غلام مصطفیٰ قاسمی کا تحریر کردہ ہے ،جس کا عنوان "وطن کی آزادی اور پاکستان بنانے میں سندھ کا کردار" ہے۔ یہ مقالہ برصغیر کی سیاسی تاریخ کا وہ باب ہے جس میں بعض اہم مسائل کے حوالے سے ایسا مواد پیش کیا گیا ہے، جس کا دستیاب ہونا مشکل تھا،اس مقالہ میں بانی پاکستان قائداعظم کی سیاسی جدوجہد کو برصغیر کے سیاسی پس منظر میں ایک نئے زاویے سے مدلل اور مؤثر انداز میں متعارف کرایا ہے۔ اصل مقالہ سندھی میں شایع شدہ ہے ،اس کا ترجمہ مولانا نیازاحمد راجپر نے کیا ہے۔
اسی طرح مولانا عبد اللطیف نانگراج نے "مخدوم ابوالحسن ڈاہری اور ان کی علمی خدمات" کے عنوان سے ایک علمی و روحانی شخصیت کے کارناموں کو قلم بند کیا ہے جو کہ محققین کے لئے سرمایۂ تحقیق ہے ،خاص طور پر ان کی کتاب رفع الفریہ والمریہ کا مفصل تعارف دیا ہے۔”یادیں“ کے عنوان سے مولانا عبیداللہ سندھی کے شاگرد رشید اور تحریکات آزادی کے اہم کارکن مولاناحکیم محمد معاذ سندھیؒ کی خودنوشت سوانح،مولانا نیاز احمد راجپر کے اردو ترجمے کے ساتھ، قاری کو ایک علمی اور فکری دنیا میں لے جاتی ہے جہاں تجربات، مشاہدات اور جذبات کی آمیزش دکھائی دیتی ہے۔ جبکہ معروف محقق ڈاکٹر غلام محمد لاکھو ؒ ، جن کا حال ہی میں انتقال ہوا ہے ، ان کے ساتھ ڈاکٹر عارف نوشاہی کی حسین علمی یادوں پر مشتمل ”چند یادیں“کے عنوان سے مضمون میں ڈاکٹر عارف نوشاہی نے ایک عظیم محقق کی سادہ مگر پراثر علمی اور تحقیقی زندگی کی روشن جھلک پیش کی ہے۔
عربی حصے میں شامل مقالات بھی اپنی نوعیت کے لحاظ سے نہایت اہم اور مفید ہیں۔ "دعوة الإسلام وتبليغه في بلادنا السند باكستان" علامہ غلام مصطفیٰ القاسمی السندیؒ کا تحریر کردہ ہے۔ یہ مقالہ انہوں نے سن انیس سو نوّے کی دہائی میں مکہ مکرمہ میں رابطہ عالم اسلامی کے ایک کانفرنس کے لیے لکھا تھا ،جو کہ ان کے مایہ ناز شاگرد پروفیسر ڈاکٹر قاری عبدالقیوم السندی حفظہ اللہ کی تقدیم کے ساتھ اس شمارے میں شایع ہورہا ہے۔ اس وقیع مقالہ میں تبلیغی سرگرمیوں اور سندھ میں اسلامی دعوت کے سفر کو عربی قارئین کے لیے نہایت موثر انداز میں پیش کیا ہے، جو بین الاقوامی علمی دنیا کے لیے ایک قیمتی تحفہ ہے۔
" أثر اللغة العربية على اللغة السندية " مولاناعبد الباقي إدريس السندی کا ایک اہم تحقیقی مقالہ ہے جو سندھی زبان پر عربی زبان کے اثرات کا جائزہ لیتا ہے۔ جس میں واضح کیا گیا ہے کہ اسلام کی آمد کے بعد عربی زبان نے سندھی زبان و ادب پر گہرے نقوش چھوڑے، خاص طور پر دینی، علمی، فقہی اور ادبی میدانوں میں تاریخی شواہد، لسانی مماثلتوں اور اقتباسات کی روشنی میں یہ دکھایا گیا ہے کہ کس طرح عربی الفاظ، اصطلاحات اور تراکیب سندھی زبان کا مستقل حصہ بن گئیں، اور عربی طرزِ بیان نے سندھی نثر و نظم کو کس حد تک متاثر کیا۔اس شمارے میں اس کی پہلی قسط شامل ہے۔
سندھی زبان میں شامل واحد مگر بے حد اہم مضمون "سيد محمد شاهه امروٽي رحمة الله جا مٺڙا ٻول" میں معروف محقق پروفیسر ڈاکٹر مولانا عبدالقیوم السندی نے حضرت سید محمد شاہ امروٹیؒ کی سن 1986ء میں مکۃ المکرمہ میں ایک نشست میں ختم نبوت کے بارے میں کی گئی گفتگواور اس کے بعد سوال و جواب کی نشست کو تحریری جامہ پہنایا ہے۔ اس مضمون میں ڈاکٹر صاحب نے زبان و بیان، اخلاقی عظمت اور فکری گہرائی کو سلیقہ مندی سے پیش کیا ہے۔
یہ شمارہ تحقیقی ذوق رکھنے والے اہل علم کے لیے ایک تحفہ ہے اور رابطۃ علما٫ السند کی علمی خدمات کا ایک مظہر ہے ۔
ہم تمام مقالہ نگار حضرات کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے اپنی علمی تحقیقات سے اس شمارے کو زینت بخشی، اور قارئین سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ اپنی آرا ٫و تجاویز سے ہمیں مستفید فرمائیں، تاکہ آئندہ شمارہ مزید بہتر انداز میں پیش کیا جا سکے۔

حاصل کرنے کے لیے رابطہ کیجیے
03022404345

Address

Markzi Daftr Jamia Darululoom Sukkur
Sukkur

Telephone

+923114006767

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when رابطة علماء السند Sindh Scholars League posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to رابطة علماء السند Sindh Scholars League:

Share