ASB Urdu TV

ASB Urdu TV Journalist

سکھر نيشنل پريس کلب الیکشن 20026 _20027آزاد امیدوار انتخابی نشان کیمرا اپنا قیمتی ووٹ دیکر کامیاب کریں شکریہ
08/06/2026

سکھر نيشنل پريس کلب الیکشن 20026 _20027آزاد امیدوار انتخابی نشان کیمرا اپنا قیمتی ووٹ دیکر کامیاب کریں شکریہ

07/06/2026

*پانی کے تنازع پر تصادم کا معاملہ جونیجو برادری کی پریس کانفرنس الزامات کی تردید اور انصاف کی اپیل*
سکھر(ایس این پی سی)تھانہ سائٹ ایریا کی حدود لال مشالٔح میں پانی اور بھینسوں کو نہلانے کے تنازع پر چند روز قبل پیش آنے والے مسلح تصادم کے معاملےپرجونیجو برادری کےافراد نے سکھر نیشنل پریس کلب رجسٹرڈ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اپنےاوپر عائد الزامات کو مسترد کر دیا۔پریس کانفرنس کرتےھوئے نیاز علی جونیجو، فیاض علی جونیجو اور دیگر نےکہا کہ سوشل میڈیا پر ان کے خلاف جو الزامات لگائے جا رہےہیں وہ بے بنیاد اور حقائق کے منافی ہیں ان کا کہنا تھا کہ اگر حملہ ان کی جانب سے کیا گیا ہوتا تو ان کی برادری کے افراد خود گولیوں کا نشانہ نہ بنتےانہوں نے الزام عائد کیا کہ یوسی دو وائس چیئرمین غلام شبیر ڈریھو نے سوشل میڈیا پر ان کے خلاف غلط پروپیگنڈا کیا اور تقریباً 150 افراد کے ہمراہ ان پر حملہ کیا گیاان کے مطابق اسی دوران فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں ان کی برادری کے متعدد افراد زخمی ہوئےجن میں بعض کو ٹانگوں میں گولیاں لگیں اور وہ تاحال مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں جونیجو برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ پانی کے استعمال پر کوئی پابندی نہیں لگائی گئی تھی تاہم امام بارگاہ کے احاطے کے احترام کے پیش نظر صرف یہ گزارش کی گئی تھی کہ جانوروں کو وہاں نہ نہلایا جائےجس پر بعد ازاں صورتحال کشیدہ ہوگئی پریس کانفرنس میں انہوں نےسکھر ڈی آئی جی سکھر اور ایس ایس پی سکھر سےاپیل کی کہ واقعے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں

کالج ایجوکیشن ورکس ڈویژن سکھر میں مبینہ کرپشن کا بڑا اسکینڈل، اینٹی کرپشن حرکت میں آگئیسکھر: کالج ایجوکیشن ورکس ڈویژن سک...
04/06/2026

کالج ایجوکیشن ورکس ڈویژن سکھر میں مبینہ کرپشن کا بڑا اسکینڈل، اینٹی کرپشن حرکت میں آگئی

سکھر: کالج ایجوکیشن ورکس ڈویژن سکھر میں مبینہ کرپشن، اختیارات کے ناجائز استعمال، من پسند ٹھیکیداروں کو نوازنے اور ٹینڈرنگ کے عمل میں سنگین بے ضابطگیوں کے الزامات کے بعد محکمہ اینٹی کرپشن نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے باقاعدہ انکوائری شروع کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق ڈائریکٹر جنرل، انکوائریز اینڈ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ (E&ACE) حکومت سندھ کی جانب سے اینٹی کرپشن سکھر ڈویژن کو کارروائی کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ تحقیقات کا آغاز سرکاری ٹھیکیدار فدا حسین کٹپر کی جانب سے جمع کرائی گئی شکایت کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔

شکایت میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ کالج ایجوکیشن ورکس ڈویژن سکھر کے ایگزیکٹو انجینئر سعید عابد پھل، ٹینڈر کلرک مانک شاہانی اور سینئر کلرک حبیب اللہ میمن سمیت بعض متعلقہ اہلکاروں نے مبینہ طور پر ترقیاتی منصوبوں کے ٹھیکے دینے کے عوض بھاری کمیشن اور رشوت کا مطالبہ کیا۔ شکایت گزار کا مؤقف ہے کہ مطالبات پورے نہ ہونے پر ان کی کمپنی کو غیرقانونی اور جانبدارانہ انداز میں نااہل قرار دیا گیا۔

شکایت میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ ٹینڈرنگ کے پورے عمل کو مبینہ طور پر شفافیت، میرٹ اور سندھ پبلک پروکیورمنٹ رولز 2010 کے تقاضوں کے برعکس چلایا گیا، جبکہ قومی خزانے سے متعلق منصوبوں میں من پسند افراد کو نوازنے کے لیے قواعد و ضوابط کو پسِ پشت ڈالا گیا۔

ذرائع کے مطابق شکایت میں یہ سنگین الزام بھی شامل ہے کہ بعض ترقیاتی منصوبے مبینہ طور پر 20 فیصد کمیشن کے عوض مخصوص ٹھیکیداروں کو دیے گئے۔ شکایت گزار نے دعویٰ کیا ہے کہ سکھر ڈگری کالج کا تقریباً پچاس لاکھ روپے مالیت کا منصوبہ بھی مبینہ طور پر پسندیدہ ٹھیکیدار کو غیرمعمولی شرائط کے تحت دیا گیا۔

اینٹی کرپشن حکام نے مبینہ بے ضابطگیوں، ٹینڈر ریکارڈ، اہلیت و نااہلی کے فیصلوں اور مالی معاملات کی چھان بین شروع کر دی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر تحقیقات میں الزامات درست ثابت ہوئے تو ذمہ دار عناصر کے خلاف محکمانہ اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔

یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ مذکورہ الزامات اس وقت تحقیقاتی مرحلے میں ہیں اور حتمی فیصلہ اینٹی کرپشن کی انکوائری اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ متعلقہ افسران کا مؤقف سامنے آنے پر اسے بھی خبر کا حصہ بنایا جائے گا۔ہیڈ لائن: 🔥 کالج ایجوکیشن ورکس ڈویژن سکھر میں مبینہ کرپشن کا طوفان، اینٹی کرپشن نے تحقیقات کا شکنجہ کس دیا

سب ہیڈ لائن: رشوت، کمیشن، من پسند ٹھیکیداروں کو نوازنے اور ٹینڈرنگ میں مبینہ بے ضابطگیوں کے الزامات؛ اہم افسران تحقیقات کی زد میں

30/05/2026

اس خصوصی رپورٹ میں بلوچستان کے حالات، لاپتہ افراد، جبری گمشدگیوں سے متعلق الزامات، انسانی حقوق کے مسائل، ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی گرفتاری، اور اختر جان مینگل کے مؤقف پر تفصیلی گفتگو کی گئی ہے۔ بلوچستان کے سیاسی، سماجی اور انسانی پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہوئے مختلف دعووں، تنقید اور عوامی خدشات کو پیش کیا گیا ہے

بلوچستان میں تین روز بعد ریلوے آپریشن بحال
30/05/2026

بلوچستان میں تین روز بعد ریلوے آپریشن بحال

29/05/2026

سکھر میں مرہوٹا برادری کا جمالی برادري کے خلاف احتجاج

27/05/2026

بلوچستان میں حالات خطرناک موڑ پر،خاموشی کے پیچھے طوفان،سیاسی بندشیں اور بڑھتی مزاحمت

السلام علیکم،آپ دیکھ رہے ہیں خصوصی ٹاک شو۔آج ہم بات کریں گے بلوچستان کی…ایک ایسے بلوچستان کی جہاں بارود کی بو گہری ہوتی جا رہی ہے…جہاں پہاڑ صرف پتھروں کے نہیں رہے بلکہ غصے،نفرت،بے اعتمادی اور مزاحمت کی علامت بنتے جا رہے ہیں…جہاں سیاسی آوازیں دبانے کے الزامات ہیں،جبری گمشدگیوں کے شور ہیں،اور نوجوانوں کے پہاڑوں کا رخ کرنے کے دعوے دن بہ دن بڑھتے جا رہے ہیں۔

اسلام آباد میں قائم معروف تھنک ٹینک“پاکستان انسٹیٹیوٹ فار کنفلکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز”کے مینیجنگ ڈائریکٹر اور سینئر دفاعی تجزیہ کار عبداللہ خان نے وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کو مخاطب کرتے ہوئے نہایت سخت اور چونکا دینے والے سوالات اٹھائے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ“اسلام آباد کو خوش کرنے کے بجائے بلوچستان کے نوجوانوں کو مطمئن کریں۔آپ کا بیانیہ اسلام آباد میں تو تالیاں سمیٹ رہا ہے مگر بلوچستان میں اسے پذیرائی نہیں مل رہی۔”

عبداللہ خان کے مطابق گزشتہ دو سالوں میں بلوچستان کی صورتحال خطرناک حد تک تبدیل ہو چکی ہے۔پہلے نوجوان پہاڑوں کا رخ کرتے تھے مگر اب بلوچ خواتین اور طالبات کے بارے میں بھی خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ وہ شدت پسندانہ راستوں کی جانب مائل ہو رہی ہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حالات یہی رہے تو اس کے نتائج نہایت خوفناک نکل سکتے ہیں۔

انہوں نے ریاستی پالیسیوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں ہر مسئلے کا حل صرف طاقت،آپریشن،گرفتاریوں اور بندوق کے ذریعے نکالنے کی کوشش کی جا رہی ہے مگر یہ فارمولا اب بری طرح ناکام ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ان کے مطابق گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران بارہ سو سے زائد شدت پسند مارے جانے کے دعوے کیے گئے مگر اس کے باوجود حملے رکنے کے بجائے مزید شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔

اسی تناظر میں یہ سوال بھی زور پکڑ رہا ہے کہ اگر وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے شدت پسندوں کی تعداد صرف پندرہ سو بتائی گئی تھی اور اب بارہ سو سے زائد شدت پسند مارے جانے کے دعوے سامنے آ چکے ہیں تو پھر باقی کتنے رہ گئے ہیں؟اگر اتنی بڑی تعداد ختم کی جا چکی ہے تو پھر بلوچستان میں حملے کیوں جاری ہیں؟ٹرینیں کیوں جل رہی ہیں؟سیکیورٹی اہلکار کیوں مارے جا رہے ہیں؟اور نوجوان اب بھی پہاڑوں کا رخ کیوں کر رہے ہیں؟

عبداللہ خان نے خبردار کیا کہ اگر ہلاکتوں کے باوجود مزاحمت بڑھ رہی ہے تو اس کا مطلب صاف ہے کہ کہیں نہ کہیں ریاستی پالیسیوں میں سنگین خامیاں موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی قوم پرست مگر آئین ماننے والی سیاسی قوتوں کو مسلسل دیوار سے لگایا جا رہا ہے اور اس کے نتائج خطرناک شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ان کے مطابق2024کے انتخابات تو مینیج کر لیے گئے مگر اس دوران بلوچستان کو بدانتظامی،غصے اور بے چینی کے حوالے کر دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان اسمبلی سے زیادہ بلوچستان کے عوام اہم ہیں اور سینیٹ کی نشستوں سے زیادہ خود بلوچستان اہم ہے۔انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ“خدارا ترجیحات درست کریں کیونکہ حالات جس طرف جا رہے ہیں اس کے نتائج دیوار پر صاف لکھے جا چکے ہیں مگر لوگ خوف کی وجہ سے زبان نہیں کھول رہے۔”

اسی دوران بلوچستان میں سیاسی بندشوں اور بڑھتی مزاحمت کے حوالے سے بھی شدید بحث جاری ہے۔قوم پرست حلقوں،سیاسی مبصرین اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ریاست نے جس تیزی سے قوم پرست سیاسی جماعتوں اور کارکنوں کے لیے سیاست کے دروازے بند کیے ہیں،اسی رفتار سے نوجوان مسلح مزاحمت کی طرف بڑھتے جا رہے ہیں۔ان حلقوں کے مطابق بلوچستان میں حقیقی سیاست کرنے والوں پر مختلف الزامات لگا کر انہیں سیاسی عمل سے باہر دھکیلا جا رہا ہے۔

لوگوں کا کہنا ہے کہ جب پرامن سیاست کرنے والوں کو بھی گولیوں کا سامنا ہو،جب کارکن سالوں تک جیلوں اور نامعلوم زندانوں میں بند رہیں،جب نوجوانوں،خواتین اور بزرگوں کو خوف کے ماحول میں جینا پڑے تو پھر ردعمل پیدا ہونا فطری بن جاتا ہے۔سیاسی مبصرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر سیاسی راستے بند کیے جائیں گے تو شدت پسندی کے راستے مضبوط ہوں گے۔

اسی دوران سیکیورٹی اداروں اور مختلف تجزیاتی رپورٹس میں یہ دعوے بھی سامنے آ رہے ہیں کہ بعض نوجوان کالعدم بلوچ مسلح تنظیموں میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں۔ان تنظیموں میں بلوچ لبریشن آرمی(بی ایل اے)جس کے ساتھ بشیر زیب اور اسلم بلوچ جیسے نام منسلک رہے،بلوچ لبریشن فرنٹ(بی ایل ایف)جس کی قیادت ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ سے جوڑی جاتی ہے،بلوچ ریپبلکن آرمی(بی آر اے)جو براہمداغ بگٹی کے نام سے منسلک سمجھی جاتی ہے،یونائیٹڈ بلوچ آرمی(یو بی اے)جس کے ساتھ مرید بلوچ کا نام لیا جاتا رہا،اور بلوچ راجی آجوئی سنگر(براس)شامل ہیں۔ریاستی اداروں کے مطابق یہ تنظیمیں بلوچستان میں حملوں اور مسلح کارروائیوں میں ملوث رہی ہیں جبکہ سیاسی مبصرین اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ سیاسی بے چینی،گرفتاریاں،جبری گمشدگیوں کے الزامات اور محدود سیاسی عمل نوجوانوں میں مزید غصہ پیدا کر رہا ہے۔

اسی دوران بلوچ یکجہتی کمیٹی کے خلاف کارروائیوں پر بھی شدید سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ مارچ2025سے ریاستی زندان میں قید ہیں۔ان کے حامیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ان کی گرفتاری کی بنیادی وجہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں،ماورائے عدالت قتل اور بلوچستان کی معدنیات کی لوٹ مار کے خلاف آواز اٹھانا تھا۔ان حلقوں کے مطابق حکمران یہ برداشت نہیں کر پا رہے کہ بلوچ اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کریں۔ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے ساتھ بیبو بلوچ اور گلزادی بلوچ سمیت کئی کارکنان بھی جیلوں میں قید ہیں جبکہ دوسری جانب لاپتہ افراد کے الزامات مسلسل سامنے آ رہے ہیں۔کئی بلوچ خواتین،بچیوں اور طالبات کے حوالے سے بھی دعوے کیے جا رہے ہیں کہ وہ لاپتہ ہیں۔انسانی حقوق کے حلقے ان معاملات کو بلوچستان کے زخموں کو مزید گہرا کرنے کے مترادف قرار دے رہے ہیں۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ جلسے جلوس نوجوانوں کے غصے کے اظہار کا ایک راستہ تھے مگر جب وہ راستہ بند کیا گیا تو اب بعض نوجوان پہاڑوں کا رخ کر رہے ہیں۔سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا بلوچ یکجہتی کمیٹی پر سختی اور پابندی کے نتائج مزید خطرناک ثابت نہیں ہوں گے؟

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ بلوچستان کا مسئلہ صرف بندوق،آپریشن اور طاقت سے حل نہیں ہوگا۔وہ خبردار کرتے ہیں کہ تاریخ گواہ ہے،جب سیاسی آوازوں کو دبایا جاتا ہے تو ردعمل مزید شدت اختیار کر لیتا ہے۔اگر سیاسی مکالمہ،اعتماد سازی اور آئینی سیاست کے دروازے بند کیے گئے تو صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔

بلوچستان…جہاں پہاڑ خاموش ہیں مگر سوال چیخ رہے ہیں…جہاں نوجوان غصے میں ہیں…جہاں مائیں اپنے لاپتہ بچوں کے لیے رو رہی ہیں…جہاں ریاست طاقت دکھا رہی ہے اور سیاسی حلقے مکالمے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔سوال اب بھی وہی ہے…کیا بندوق کے زور پر بلوچستان کو خاموش کرایا جا سکتا ہے؟یا پھر وقت آ گیا ہے کہ طاقت کے بجائے سیاسی مکالمے،انصاف،اعتماد اور عوامی حقوق کو ترجیح دی جائے تاکہ مزید خونریزی،نفرت اور تباہی سے بچا جا سکے؟

عیدالاضحیٰ کا نماز ادا کر تے وقت
27/05/2026

عیدالاضحیٰ کا نماز ادا کر تے وقت

24/05/2026

بلوچستان کا دارالحکومت کوئٹہ ایک بار پھر دھماکوں کے زد میں

صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ایک اعلیٰ عہدیدار نے بتایا ہے کہ فوجی اہلکاروں کو لے جانے والی ٹرین کے قریب دھماکے...
24/05/2026

صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ایک اعلیٰ عہدیدار نے بتایا ہے کہ فوجی اہلکاروں کو لے جانے والی ٹرین کے قریب دھماکے میں کم از کم 30 اموات ہوئی ہیں جبکہ 50 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

Address

Sukkur

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ASB Urdu TV posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share