Hamara sukkur

Hamara sukkur news and current affairs

17/09/2026

سکھر کی مشہور ڈولفن بیکری، نام بڑا مگر پکوان کے معیار پر سوالیہ نشان؟

سکھر کی معروف ڈولفن بیکری سے متعلق ایک شہری کی جانب سے ویڈیو موصول ہوئی ہے، جس میں مبینہ طور پر بیکری کی اشیائے خوردونوش کے معیار پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

شہری کا کہنا ہے کہ مشہور نام رکھنے والے ادارے سے عوام کو معیاری اور صاف ستھری اشیائے خورونوش کی فراہمی یقینی بنائی جانی چاہیے۔

17/09/2026

بندر روڈ سکھر: رات 12.30 بجے لانچ موڑ پولیس چوکی کے قریب اسٹریٹ لائٹس میں نصب لاکھوں روپے مالیت کی ایل سی ڈی (LCD) سے ہیوی لوڈ کنٹینر ٹکرا گیا، جس کے نتیجے میں 01 عدد ایل سی ڈی مکمل طور پر ٹوٹ گئی اور 05 عدد ایل سی ڈیز بند ہو گئیں۔
​ڈیوٹی پر مامور سیکیورٹی گارڈ نے کنٹینر اور ڈرائیور کو پکڑ کر لانچ موڑ پولیس چوکی کے اہلکاروں کے حوالے کر دیا۔ بعد ازاں، سیکیورٹی گارڈ کمپنی کے انچارج اور لانچ موڑ چوکی کے اہلکاروں نے مبینہ لین دین کے بعد کنٹینر ڈرائیور اور مالکان کو جانے کی اجازت دے دی، مگر ایل سی ڈی اسکرین کون ریپیئر کروائے گا؟ اس سوال کا جواب ابھی باقی ہے۔

17/09/2026

صوبیہ بیوٹی پارلر پر ایف بی آر کا چھاپہ ریکارڈ تحویل میں

15/09/2026

موٹرسائیکل سوار کی جلد بازی شکارپور پھاٹک کے قریب بائیک ٹرین کی زد میں آگئی موٹرسائیکل مکمل تباہ جبکہ بائیک سوار بال بال بچ گیا۔۔۔۔۔

شکارپور پھاٹک کے قریب کوئٹہ سے پشاور جانیوالی جعفر ایکسپریس کی زد میں آکر موٹرسائیکل مکمل تباہ ہوئی جبکہ موٹرسائیکل سوار بال بال بچ گیا موٹرسائیکل سوار نے پٹڑی سے شارٹ کٹ مارنا چاہا تاہم اس دوران وہ پٹری عبور نا کرسکا اور ٹرین قریب پہنچ گئی جس پر نوجوان نے بائیک وہیں چھوڑی جس سے اسکی جان بال بال بچ گئی جبکہ اسکی بائیک مکمل تباہ ہوگئی۔۔۔

ذرا سی جلدی آپ کی قیمتوں جان کو نقصان پہنچا سکتی ہے احتیاط کیجئے اپنے لئے نا سہی دوسروں کیلئے ضرور عمل کریں ۔۔۔۔

13/09/2026
سکھر کے تھانہ اے سیکشن کی حد چوڑ کی گلی سے تھانہ اے سیکشن پولیس نے لکھی شکارپور کا رہائشی ملزم توفیق احمد ولد عزیز اللہ ...
13/09/2026

سکھر کے تھانہ اے سیکشن کی حد چوڑ کی گلی سے تھانہ اے سیکشن پولیس نے لکھی شکارپور کا رہائشی ملزم توفیق احمد ولد عزیز اللہ مھر کو گرفتار کرکے قبضے میں سے 2100 گرام چرس برآمد کرکے مقدمہ درج کر لیا گیا۔

12/09/2026

سکھر(رپورٹ لالا جوہر حسین)آصف کالونی ایئرپورٹ کے رہائشی چوہان برادری سے تعلق رکھنے والے افراد نے اپنی ہی برادری کے بااثر افراد کی جانب سے مبینہ ظلم و زیادتی، تشدد، ہراساں کرنے اور ناانصافیوں کے خلاف سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا اور اعلیٰ حکام سے تحفظ و انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔اس موقع پر جمال دین چوہان، ظفر چوہان، عرفان چوہان، شمس دین چوہان اور دیگر نے احتجاج کرتے ہوئے اپنا مؤقف میڈیا کے سامنے پیش کیا۔ ظفر چوہان نے بتایا کہ وہ اپنی برادری سے تعلق رکھنے والے بعض افراد، جن میں شبیر چوہان، بشیر چوہان، ملوک چوہان، سکندر چوہان اور غلام مدنی چوہان شامل ہیں، کے ساتھ پٹرول کا کاروبار کرتا تھا۔ ان کے مطابق ابتدائی طور پر کاروباری معاملات معمول کے مطابق چلتے رہے، تاہم کچھ عرصے بعد مذکورہ افراد نے مبینہ طور پر ایرانی پٹرول کی غیر قانونی خرید و فروخت شروع کردی۔ظفر چوہان کا کہنا تھا کہ اس نے مذکورہ افراد کو مبینہ غیر قانونی کاروبار سے باز رہنے کا کہا اور واضح کیا کہ وہ اس طرح کے کاروبار کا حصہ نہیں بن سکتا، تاہم ان افراد نے اس کی بات ماننے سے انکار کردیا، جس کے بعد اس نے ان کے ساتھ کاروباری تعلقات ختم کرلیے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ کاروبار ختم کرنے کے کچھ عرصے بعد مذکورہ بااثر افراد نے اسے راستے میں روک کر مبینہ طور پر شدید تشدد کا نشانہ بنایا اور زبردستی اپنے دفتر لے گئے، جہاں اسے تقریباً چار گھنٹے تک مبینہ طور پر حبس میں رکھا گیا اور اس کے ساتھ انتہائی ناروا سلوک کیا گیا۔ بعد ازاں ان افراد نے اسے پولیس کے حوالے کردیا۔متاثرہ شخص کے مطابق ایئرپورٹ پولیس نے اس کی حالت دیکھتے ہوئے اسے میڈیکل لیٹر جاری کیا، جس کے بعد اسے علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں سے اسے احتجاج کے روز ہی ڈسچارج کیا گیا۔ ظفر چوہان نے مزید الزام عائد کیا کہ اب اسے مبینہ طور پر جھوٹے الزامات میں پھنسانے کی کوشش کی جارہی ہے، جبکہ مذکورہ افراد کی جانب سے اسے اور اس کے اہل خانہ کو سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی جارہی ہیں۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ انہیں مسلسل ہراساں کیا جارہا ہے اور ان کے خلاف مبینہ طور پر جھوٹا پروپیگنڈا کیا جارہا ہے، جبکہ وہ اپنے والد اور دونوں بھائیوں سمیت خود کو غیر محفوظ محسوس کررہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائی جائیں، مبینہ تشدد اور حبس میں رکھنے کے ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور انہیں و ان کے اہل خانہ کو تحفظ فراہم کیا جائے۔احتجاجی مظاہرین نے چیف جسٹس آف پاکستان، وزیراعلیٰ سندھ، آئی جی سندھ، ڈی آئی جی سکھر رینج اور ایس ایس پی سکھر سمیت دیگر اعلیٰ حکام سے اپیل کی کہ وہ معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائیں، مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں اور تشدد کے الزامات کی مکمل چھان بین کی جائے اور انہیں انصاف فراہم کیا جائے۔واضح رہے کہ مذکورہ الزامات مظاہرین کی جانب سے عائد کیے گئے ہیں، جن کی آزادانہ طور پر تصدیق اس خبر کی تیاری تک نہیں ہوسکی۔ متعلقہ فریقین کا مؤقف سامنے آنے پر اسے بھی شامل کیا جائے گا۔

11/09/2026

سکھر: بیٹے کی مبینہ بلاجواز گرفتاری کے خلاف میرانی برادری کا احتجاج، پولیس پر چادر و چار دیواری کی پامالی اور رشوت طلب کرنے کا الزام

سکھر(رپورٹ لالا جوہر حسین)صالح پٹ آر ڈی 186 کے رہائشی میرانی برادری سے تعلق رکھنے والے مرد و خواتین نے اپنے بیٹے حمید میرانی کی مبینہ بلاجواز گرفتاری اور جھوٹے مقدمے میں ملوث کیے جانے کے خلاف سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا اور اعلیٰ حکام سے انصاف و تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔اس موقع پر اربیلو میرانی، مسمات مراداں، مسمات عمراں اور دیگر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ عظیم شیخ اور اربیلو میرانی سمیت حمید ولد اربیلو میرانی ایک ساتھ مزدوری کرتے تھے، جبکہ عظیم شیخ نے اربیلو میرانی سے کچھ رقم ادھار لی ہوئی تھی۔ ان کے مطابق جب اربیلو میرانی نے اپنی رقم واپس مانگی تو عظیم شیخ نے مبینہ طور پر ان کے بیٹے حمید میرانی کے خلاف لڑکی سے زیادتی کا الزام عائد کرتے ہوئے متعلقہ تھانے میں مقدمہ درج کروا دیا۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ مقدمہ درج ہونے کے بعد متعلقہ پولیس نے مبینہ طور پر ان کے گھر پر دھاوا بول دیا اور چادر و چار دیواری کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے خواتین سے بدسلوکی اور تشدد کیا، جبکہ حمید میرانی کو گرفتار کرکے اپنے ساتھ لے گئی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حمید میرانی پر عائد زیادتی کے الزام کے حوالے سے اس کا میڈیکل بھی کروایا گیا، تاہم ان کے مطابق میڈیکل رپورٹ میں زیادتی کے شواہد سامنے نہیں آئے۔اربیلو میرانی اور دیگر مظاہرین نے مزید الزام عائد کیا کہ اس کے باوجود متعلقہ تھانے کی پولیس ان کے بیٹے کی رہائی کے عوض مبینہ طور پر رشوت طلب کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اور ان کا بیٹا بے قصور ہیں اور انہیں جھوٹے مقدمے میں پھنسا کر سخت اذیت اور پریشانی سے دوچار کیا جا رہا ہے۔مظاہرین نے چیف جسٹس آف پاکستان، وزیراعلیٰ سندھ، آئی جی سندھ، ڈی آئی جی سکھر اور ایس ایس پی سکھر سمیت دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ معاملے کا فوری نوٹس لے کر حمید میرانی کو شفاف تحقیقات کے بعد انصاف فراہم کیا جائے، مبینہ طور پر جھوٹا مقدمہ درج کروانے والے عظیم شیخ اور مبینہ طور پر اختیارات سے تجاوز کرنے والے اہلکاروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے، جبکہ میرانی خاندان کو تحفظ فراہم کیا جائے۔مظاہرین نے خبردار کیا کہ اگر انہیں انصاف فراہم نہ کیا گیا تو وہ اپنے احتجاج کا دائرہ وسیع کرنے پر مجبور ہوں گے۔

11/09/2026

معذور کوٹے پر دی گئی نوکری کا آرڈر واپس لینے کے خلاف احتجاج
معذور کوٹے پر دی گئی نوکری کا آرڈر واپس لینے کے خلاف سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاج

سکھر(رپورٹ لالا جوہر حسین)چونڈکو، تعلقہ نارہ، ضلع خیرپور کے رہائشی ملاح برادری سے تعلق رکھنے والے معذور شخص نے معذور کوٹے کے تحت واٹر مینجمنٹ محکمہ میں جاری کیا گیا ملازمت کا آرڈر واپس لیے جانے کے خلاف سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔محمد عالم ملاح نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ سال 2022 میں اسے معذور کوٹے کے تحت واٹر مینجمنٹ محکمہ میں ملازمت کا آرڈر جاری کیا گیا تھا، جس کے بعد وہ تقریباً پانچ ماہ تک مذکورہ محکمہ سے باقاعدگی سے تنخواہ بھی وصول کرتا رہا۔ تاہم بعد ازاں نگراں حکومت کے قیام کے بعد سیاسی بنیادوں پر جاری کیے گئے ملازمتوں کے تمام آرڈرز واپس لینے کا فیصلہ کیا گیا، جس کی زد میں اس کا ملازمت کا آرڈر بھی آگیا۔انہوں نے بتایا کہ صرف اس کا ہی نہیں بلکہ اس کے خاندان کے مجموعی طور پر چار افراد کے ملازمت کے آرڈرز بھی ختم کر دیے گئے، جس کے باعث ان کا خاندان شدید مالی مشکلات سے دوچار ہے اور گھر کے افراد روزگار سے محروم ہو کر دربدر کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معذور ہونے کے باعث ان کے لیے روزگار کے مواقع پہلے ہی محدود ہیں، جبکہ ملازمت کا آرڈر واپس لیے جانے کے بعد ان کے خاندان کے مسائل میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔محمد عالم ملاح نے کہا کہ انہوں نے بڑی امید کے ساتھ معذور کوٹے کے تحت ملنے والی ملازمت کو اپنے اور اپنے خاندان کے بہتر مستقبل کا ذریعہ سمجھا تھا، مگر آرڈر واپس لیے جانے سے ان کی امیدیں دم توڑ گئی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ معذور افراد کے کوٹے کے تحت جاری کیے گئے ملازمت کے آرڈرز کو سیاسی بنیادوں پر منسوخ کرنے کے بجائے میرٹ اور قانونی تقاضوں کے مطابق بحال کیا جائے۔انہوں نے اعلیٰ حکام، چیف جسٹس آف پاکستان، وزیراعلیٰ سندھ اور متعلقہ صوبائی وزیر سے پرزور اپیل کی کہ معاملے کا فوری نوٹس لے کر معذور کوٹے کے تحت 2022 میں جاری کیا گیا ان کا ملازمت کا آرڈر بحال کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی قانونی یا انتظامی وجہ سے سابقہ آرڈرز بحال نہیں کیے جا سکتے تو ان کی جگہ متبادل ملازمت کے آرڈرز جاری کیے جائیں، تاکہ ان کے خاندان کو روزگار کا سہارا مل سکے اور وہ باعزت اور پُرسکون زندگی گزار سکیں۔مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ معذور افراد کے کوٹے پر عملدرآمد یقینی بناتے ہوئے متاثرہ افراد کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں، بصورت دیگر وہ اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کا دائرہ وسیع کرنے پر مجبور ہوں گے۔

11/09/2026

سکھر(رپورٹ لالا جوہر حسین)سکھر کے نواحی گاؤں یارو لنڈ، ضلع گھوٹکی کے رہائشی لنڈ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد نے مبینہ طور پر بااثر رشتہ دار کی جانب سے ان کے بھائی پر جان لیوا حملہ کیے جانے اور ملزم کی عدم گرفتاری کے خلاف سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے اعلیٰ حکام سے واقعے کا نوٹس لینے، ملزم کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کرنے اور انہیں تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔اس موقع پر احتجاج کرنے والے معشوق علی لنڈ اور فرمان لنڈ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ان کے رشتہ دار امید علی لنڈ کے بیٹے مشتاق لنڈ نے گاؤں میں قائم درگاہ پر ان کی بھابھی کی مبینہ طور پر تصویر بنائی، جس کے معاملے پر گاؤں کے وڈیرے کے پاس فیصلہ جاری تھا۔ انہوں نے بتایا کہ فیصلے کے دوران ان کا بھائی فرمان لنڈ بھی وہاں موجود تھا۔مظاہرین کے مطابق فرمان لنڈ ایک شریف اور پرامن شخص ہے جو درگاہ کی صفائی ستھرائی اور دیکھ بھال کا خیال رکھتا ہے۔ ان کا الزام ہے کہ فیصلے کے دوران وہاں موجود سجاد لنڈ نے مبینہ طور پر بلاجواز ان کے بھائی فرمان لنڈ پر سریے سے وار کردیا، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوگیا۔انہوں نے مزید بتایا کہ واقعے کے بعد انہوں نے متعلقہ تھانہ یارو لنڈ میں رپورٹ درج کروائی، تاہم ان کے بقول تاحال ملزم آزاد گھوم رہا ہے اور انہیں مبینہ طور پر جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں، جس کے باعث متاثرہ خاندان میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔مظاہرین نے چیف جسٹس آف پاکستان، وزیراعلیٰ سندھ، آئی جی سندھ، ڈی آئی جی سکھر اور ایس ایس پی گھوٹکی سمیت دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ واقعے کا فوری نوٹس لے کر نامزد ملزم کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے، ملزم کو گرفتار کیا جائے اور متاثرہ خاندان کو تحفظ فراہم کرتے ہوئے انہیں انصاف دلایا جائے۔

Address

SUKKUR
Sukkur
65200

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Hamara sukkur posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share