21/01/2026
جہانگیرہ میں ٹی ایم اے کی مبینہ بدعنوانیاں شدت اختیار کرگئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق ملک سمیم کئی سالوں تک نظام پور فلائنگ کوچ اور صوابی رکشوں سے ٹیکس وصول کرتا رہا — بتایا جاتا ہے کہ ملک فیملی نے اس ٹیکس کے لیے اپنی ذاتی جگہ فراہم کی تھی۔
اس دوران رکشوں سے 10 روپے اور فلائنگ کوچ سے 50 روپے فی ٹرپ وصول کیے جاتے تھے۔
تاہم اب یہ ٹیکس براہِ راست میئر جہانگیرہ کامران خٹک، ٹی ایم او شہانہ سکندر، اور تیمور خان کے ذاتی مفادات میں استعمال ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
علاقائی ذرائع کے مطابق اب رکشوں سے 10 کی بجائے 100 روپے فی ٹرپ اور فلائنگ کوچوں سے 50 کی بجائے 150 روپے وصول کیے جا رہے ہیں — جس سے روزانہ کی بنیاد پر 35 سے 40 ہزار روپے اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔
اہم سوال یہ ہے کہ یہ رقم آخر کس کھاتے میں جمع کی جا رہی ہے اور اس کا آڈٹ کون کر رہا ہے؟
عوامی حلقوں نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا، چیف سیکرٹری، اور اینٹی کرپشن حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ٹی ایم اے جہانگیرہ میں جاری اس مبینہ کرپشن کی فوری تحقیقات کی جائیں تاکہ عوام کے حقوق کا تحفظ ممکن بنایا جا سکے۔