30/05/2026
سورة الکافرون قرآن مجید کی 109ویں سورہ ہے، جو مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی۔ یہ سورہ قرآن پاک کے آخری پارے (30ویں پارے) میں واقع ہے اور اس کی کل **6 آیات** ہیں۔
یہ سورہ اسلام کے بنیادی عقیدے "توحید" (ایک اللہ کی عبادت) اور کفر کے درمیان ایک واضح لکیر کھینچتی ہے۔
---
# # # نزول کا پس منظر (شانِ نزول)
مکہ کے قریش کے سرداروں (جیسے ولید بن مغیرہ اور عاص بن وائل) نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے ایک سمجھوتے کی پیشکش رکھی۔ انہوں نے کہا:
> "ایک سال آپ ہمارے معبودوں (بتوں) کی عبادت کریں اور ایک سال ہم آپ کے رب کی عبادت کریں گے۔"
اس مضحکہ خیز پیشکش اور سمجھوتے کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ سورہ نازل فرمائی، جس میں کسی بھی قسم کے شرک سے قطعی اور واضح انکار کا اعلان کیا گیا۔
---
# # # سورہ کا ترجمہ اور مفہوم
| آیت نمبر | عربی متن | اردو ترجمہ |
| --- | --- | --- |
| **1** | قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ | کہہ دیجئے کہ اے کافرو! |
| **2** | لَا أَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ | نہ میں ان کی عبادت کرتا ہوں جن کی تم عبادت کرتے ہو۔ |
| **3** | وَلَا أَنتُمْ عَابِدُونَ مَا أَعْبُدُ | اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کرتا ہوں۔ |
| **4** | وَلَا أَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدتُّمْ | اور نہ میں ان کی عبادت کرنے والا ہوں جن کی تم نے عبادت کی ہے۔ |
| **5** | وَلَا أَنتُمْ عَابِدُونَ مَا أَعْبُدُ | اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کرتا ہوں۔ |
| **6** | لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِيَ دِينِ | تمہارے لیے تمہارا دین ہے اور میرے لیے میرا دین۔ |
---
# # # اہم نکات اور اسباق
* **عقیدے پر مضبوطی:** یہ سورہ سکھاتی ہے کہ ایمان اور دین کے معاملات میں کبھی کوئی سمجھوتہ یا "مکسنگ" نہیں ہو سکتی۔ حق اور باطل بالکل الگ الگ ہیں۔
* **شرک سے بیزاری:** اس میں بت پرستی اور اللہ کے سوا کسی بھی دوسری طاقت کے آگے جھکنے سے صاف انکار کیا گیا ہے۔
* **مذہبی آزادی کا اصول:** آخری آیت *(لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِيَ دِينِ)* یہ واضح کرتی ہے کہ اگر کوئی دعوتِ حق کو تسلیم نہیں کرتا، تو زبردستی کرنے کے بجائے اسے اس کے راستے پر چھوڑ دیا جائے، اور اپنے راستے پر مضبوطی سے قائم رہا جائے۔
# # # سورہ کی فضیلت
احادیثِ مبارکہ میں اس سورہ کی بڑی فضیلت آئی ہے:
1. رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ رات کو سوتے وقت اس سورہ کی تلاوت کرنا **شرک سے برات (نجات)** کا ذریعہ ہے۔
2. نبی کریم ﷺ اکثر فجر اور مغرب کی سنتوں میں سورة الکافرون اور سورة الاخلاص کی تلاوت فرمایا کرتے تھے۔
3. ایک حدیث کے مطابق یہ سورہ **قرآن مجید کے ایک چوتھائی (چوتھے حصے)** کے برابر ہے۔