29/07/2026
معمارِ صوابی مولانا فضل علی حقانی صاحب
ہاشمی✍️✍️
جب بھی ضلع صوابی کی ترقی، تعلیم اور صحت کا ذکر ہوگا تو مولانا فضل علی حقانی صاحب کا نام سنہرے الفاظ میں لکھا جائے گا۔ انہوں نے سیاست کو اقتدار کا ذریعہ نہیں بلکہ عوام کی خدمت کا ذریعہ بنایا۔
مولانا فضل علی حقانی صاحب کا ایک بڑا وژن یہ تھا کہ “ریفر ٹو پشاور” جیسے الفاظ کو صوابی کے عوام کی زندگی سے ہمیشہ کے لیے ختم کیا جائے۔ ان کا ماننا تھا کہ صوابی کے عوام کو اپنے ہی ضلع میں جدید اور معیاری طبی سہولیات میسر ہونی چاہئیں تاکہ کسی مریض کو معمولی یا سنگین بیماری کی صورت میں پشاور منتقل ہونے کی مجبوری نہ رہے۔
اسی وژن کے تحت شاہ منصور میڈیکل کمپلیکس کی بنیاد رکھی گئی، جو آج صوابی کا سب سے بڑا سرکاری ہسپتال ہے۔ اس ادارے سے لاکھوں افراد نے فائدہ اٹھایا، مگر افسوس کہ حکومت کی مدت ختم ہونے کے بعد اس منصوبے پر وہ توجہ نہ دی جا سکی جس کا یہ مستحق تھا۔
آج تقریباً اٹھارہ سال گزرنے کے باوجود ہسپتال اب بھی کئی بنیادی سہولیات، جدید مشینری، ماہر ڈاکٹروں اور ضروری طبی وسائل سے محروم ہے۔ نتیجتاً آج بھی متعدد مریضوں کو علاج کے لیے پشاور ریفر کیا جاتا ہے، حالانکہ مولانا فضل علی حقانی صاحب کا خواب یہ تھا کہ صوابی کا ہر شہری اپنے ضلع میں بہترین علاج حاصل کرے۔
یہ حقیقت ہے کہ کسی ادارے کی بنیاد رکھنا آسان نہیں ہوتا، لیکن اس سے بھی زیادہ ضروری اس کی مسلسل ترقی اور تکمیل ہوتی ہے۔ اگر شاہ منصور میڈیکل کمپلیکس کو مکمل وسائل فراہم کیے جائیں تو یہ نہ صرف صوابی بلکہ پورے خطے کے لیے ایک مثالی طبی مرکز بن سکتا ہے، اور یہی مولانا فضل علی حقانی صاحب کے وژن کی حقیقی تکمیل ہوگی۔
قومیں اپنے محسنوں کو ان کے وژن، خدمات اور عوامی فلاح کے منصوبوں سے یاد رکھتی ہیں۔ مولانا فضل علی حقانی صاحب نے صوابی کے لیے جو خواب دیکھا، وہ آج بھی عوام کے دلوں میں زندہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی خدمات کو قبول فرمائے
Adnan Naat Khwan Swabi