20/05/2026
1970 سے صوابی کو بجلی برہان اور مردان سے فراہم کی جا رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے موقع دیا اور میں اسپیکر قومی اسمبلی بنا تو 19 ارب روپے کی خطیر لاگت سے صوابی میں 220 کے وی گریڈ اسٹیشن، جس کی مجموعی گنجائش 400 ایم وی اے ہے، منظور کیا گیا۔ یہ صوابی کے لیے ایک بہت بڑا منصوبہ ہے۔ یہ ہنڈ کے مقام پر واقع ہے اور تقریباً مکمل ہو چکا ہے۔ جب گرمی اپنے عروج پر ہوتی ہے تو صوابی کی بجلی کی ضرورت 180 سے 200 میگا واٹ تک ہوتی ہے، جبکہ اس گریڈ اسٹیشن کی گنجائش 400 میگا واٹ ہے، جو اس ضرورت سے دوگنا ہے۔ صوابی میں اس وقت آٹھ چھوٹے 132 کے وی گریڈ اسٹیشن موجود ہیں۔ اس سلسلے میں آج ہم نے پروجیکٹ ڈائریکٹر، جی سی، کنسٹرکشن، گریڈ اسٹیشن کے حکام، ایکسین اور ڈپٹی کمشنر صوابی سے ملاقات کی، جس میں رکن قومی اسمبلی شہرام خان ترکئی بھی موجود تھے۔ ہم نے ڈپٹی کمشنر کو ہدایت کی کہ جہاں بھی لائن پر تنازعات (disputes) ہیں، انہیں فوری طور پر حل کیا جائے۔ محکمہ کے حکام نے بتایا کہ 20 جولائی تک 220 کے وی گریڈ اسٹیشن کو مکمل طور پر فعال کر دیا جائے گا اور اس کی ٹرانسمیشن لائن بھی مکمل ہو جائے گی۔ یہ صوابی کے لیے ایک بڑا تحفہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے میری کوششوں سے صوابی کے عوام کو دیا ہے۔لوڈشیڈنگ کا مسئلہ وفاقی حکومت ہمارے صوبے کے ساتھ زیادتی کر رہی ہے۔ ہمارے صوبے کو جتنی بجلی درکار ہے، اتنی فراہم نہیں کی جا رہی۔ اس حوالے سے وزیر اعلیٰ اور گورنر بھی بات کر چکے ہیں۔ اس کے خلاف ہم جمعہ کو ملک بھر میں احتجاج کریں گے، جس میں صوابی امن چوک میں بھی احتجاج ہوگا، اور خاص طور پر بدامنی اور عمران خان کی ناجائز قید کے خلاف بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔