10/08/2026
آعظم خان صرف ایک نام نہیں، تحریکِ انصاف کے نظریے کے 30 سالہ سفر کی ایک داستان ہیں۔
1996 کی بات ہے، جب بر سوات کے حلقے میں عمران خان کے چند ہی سپورٹرز تھے۔ اُس وقت آعظم خان نے عمران خان کو بر سوات آنے کی دعوت دی۔ 1997 میں عمران خان بر سوات تشریف لائے، جہاں آعظم خان نے اپنے گیسٹ ہاؤس میں اُس وقت کا ایک بڑا جلسہ منعقد کیا۔
اُس موقع پر عمران خان نے آعظم خان کو ذمہ داری دی کہ ان لوگوں تک تحریکِ انصاف کا پیغام پہنچائیں اور نظریے کو گھر گھر لے کر جائیں۔
آج تقریباً 30 سال گزر چکے ہیں، لیکن آعظم خان اُس نظریے سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹے۔ اُس وقت جب تحریکِ انصاف کا کوئی مضبوط ووٹ بینک موجود نہیں تھا، آعظم خان نے اپنے قائد اور نظریے پر یقین رکھتے ہوئے تحریکِ انصاف کے لیے انتخابات لڑے۔ انہیں معلوم تھا کہ شاید ووٹ بہت کم ہوں، مگر مقصد عمران خان کے نظریے کو ہر پولنگ اسٹیشن تک پہنچانا تھا۔
جب دوسرے لوگ دولت، شہرت اور اپنے مستقبل بنانے میں مصروف تھے، آعظم خان نے اپنی جوانی، وقت، وسائل اور صلاحیتیں عمران خان اور تحریکِ انصاف کے نظریے پر نچھاور کر دیں۔
آج اگر تحریکِ انصاف پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں میں شمار ہوتی ہے تو اس کے پیچھے اُن بے شمار کارکنوں اور نظریاتی لوگوں کی دہائیوں پر محیط جدوجہد ہے جنہوں نے مشکل وقت میں پارٹی کا پرچم تھامے رکھا۔
لہٰذا تحریکِ انصاف کی قیادت اور تمام کارکنوں سے گزارش ہے کہ جن لوگوں نے پارٹی کے لیے اپنی زندگی کے قیمتی سال قربان کیے، انہیں اُن کی جدوجہد کے مطابق عزت اور مقام دیا جائے۔
آعظم خان جیسے نظریاتی کارکن پارٹی کا اثاثہ ہیں۔
30 سالہ وفاداری کو سلام، نظریے سے وفاداری کو سلام! 🇵🇰✌️
اپنی رائے کا اظہار کریں ۔