13/04/2026
*چکدرہ میں مبینہ راہزنی کا ڈراپ سین: مدعی خود ملوث نکلا، جھوٹی کہانی بے نقاب*
ڈی پی او لوئر دیر فرقان بلال کی چکدرہ پریس کلب میں میڈیا سے گفتگو
تھانہ چکدرہ کے حدود میں پیش آنے والے مبینہ راہزنی کے واقعے کا پولیس نے کامیاب سراغ لگا کر ڈراپ سین کر دیا، جس کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ مدعی خود ہی اس واردات میں ملوث تھا اور اس نے جھوٹی کہانی گھڑ کر پولیس کو گمراہ کرنے کی کوشش کی۔
تفصیلات کے مطابق محلہ تاج کالونی چکدرہ کے رہائشی خوشحال خان ولد محمد حنیف نے تھانہ چکدرہ میں رپورٹ درج کرائی تھی کہ 10 اپریل کی رات تقریباً 11 بجے وہ اپنے دوستوں کے ہمراہ ہوٹل میں چائے پینے کے بعد گھر جا رہے تھے کہ اسی دوران دو نامعلوم نقاب پوش افراد نے اسلحہ کی نوک پر ان سے 70 لاکھ روپے چھین لیے اور موقع سے فرار ہو گئے۔
مدعی کے بیان کے مطابق یہ رقم ان کے والد نے بینک میں جمع کروانے کے لیے دی تھی۔
واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی پی او لوئر دیر فرقان بلال نے فوری طور پر ڈی ایس پی ادینزئی اور ایس ایچ او تھانہ چکدرہ کو ملزمان کی گرفتاری اور واقعے کی مکمل تفتیش اور تحقیقات کی ہدایات جاری کیں۔
تھانہ چکدرہ میں نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرکے پولیس ٹیم نے جدید سائنسی بنیادوں پر تفتیش کا آغاز کیا۔ دورانِ تفتیش مختلف افراد سے پوچھ گچھ اور تکنیکی شواہد کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔
انٹاروگیشن کے دوران اہم انکشاف سامنے آیا کہ مدعی خوشحال خان خود ہی اس مبینہ واردات میں ملوث ہے۔ اس نے جھوٹی کہانی گھڑ کر نہ صرف پولیس کو گمراہ کرنے کی کوشش کی بلکہ سوشل میڈیا پر جھوٹی معلومات پھیلا کر عوام کو مشتعل کرنے اور احتجاج پر اکسانے کی بھی کوشش کی۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ ڈرامہ مبینہ طور پر تھانہ چکدرہ کے ایس ایچ او کے تبادلے کے لیے رچایا گیا، تاکہ عوامی ردِعمل کو بھڑکا کر احتجاج اور پریس کانفرنسز کے ذریعے دباؤ ڈالا جا سکے۔
کیس کے حوالے سے مزید تفتیش جاری ہے اور مزید اہم انکشافات متوقع ہیں۔
ترجمان، لوئر دیر پولیس