13/07/2026
سوات میڈیا کلب کی حلف برداری تقریب، صحافت میں تحقیق، ساکھ اور ذمہ داری ناگزیر ہے، اختر خان ایڈووکیٹ
سوات(لعل شیرخان سے) ڈیڈک چیئرمین و رکن صوبائی اسمبلی اختر خان ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ صحافی کی سب سے بڑی طاقت اس کی ساکھ (کریڈیبلٹی) ہوتی ہے، اس لیے ہر خبر شائع یا نشر کرنے سے قبل مکمل تحقیق اور تصدیق کرنا ناگزیر ہے۔ صحافت ریاست کا چوتھا ستون ہے اور عوام صحافیوں کی لکھی اور کہی ہوئی بات پر اعتماد کرتے ہیں، لہٰذا ذمہ دارانہ اور مثبت صحافت ہی ایک بہتر معاشرے کی تشکیل میں مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔وہ سوات میڈیا کلب اور سوات میڈیا یونین آف جرنلسٹس کی نومنتخب کابینہ کی حلف برداری تقریب سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کر رہے تھے۔اختر خان ایڈووکیٹ نے کہا کہ نوجوان نسل منشیات کی لعنت کی لپیٹ میں آ رہی ہے، اس سنگین مسئلے کے سدباب کے لیے صحافیوں کو آگاہی مہم چلانے اور معاشرے میں شعور اجاگر کرنے میں اپنا فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سوات میڈیا کلب صحافیوں کے لیے ایک بہترین پلیٹ فارم ہے، جو مظلوم اور بے بس عوام کی آواز حکومتی ایوانوں تک پہنچانے اور حکومت و عوام کے درمیان ایک مضبوط پل کا کردار ادا کر سکتا ہے۔اس موقع پر انہوں نے سوات میڈیا کلب کے لیے نئی عمارت کی تعمیر، صحافیوں کی پیشہ ورانہ تربیت کے لیے ورکشاپس کے انعقاد اور دیگر ضروری وسائل کی فراہمی کا اعلان کیا، جبکہ سوات میڈیا کلب کے لیے ایک لاکھ روپے کی مالی معاونت دینے کا بھی اعلان کیا۔تقریب میں سوات کے سیاسی، سماجی، تجارتی اور صحافتی حلقوں سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ شرکاء میں ٹریڈ فیڈریشن ملاکنڈ ڈویژن کے صدر عبدالرحیم، ہوٹل ایسوسی ایشن ضلع سوات کے صدر الحاج زاہد خان، قامی تڑون کے ترجمان عرفان چٹان، حاجی اسحاق زاہد، تحصیل کبل کے سابق چیئرمین سعید خان، سوات چیمبر آف کامرس کے ترجمان یوسف علی، اے اے سی بابوزی عمران علی شاہ، ڈی ایس پی سٹی نصیر باچا، کلاس فور ملازمین کے وفد، سوات جمز مرچنٹ ایسوسی ایشن کے صدر قیصر سلطان اور سیکرٹری عرفان اللہ، سابق ناظمین، محکمہ اطلاعات خیبرپختونخوا کے سابق ڈائریکٹر نورالہدی، سیدو گروپ آف ہسپتالز کے ایم ایس ڈاکٹر محمد سلیم خان، کیجولٹی انچارج طارق خان، الخدمت فاؤنڈیشن کے سابق صدر اختر علی خان، سوات الیکٹرانک میڈیا ایسوسی ایشن کے صدر صمد انجم، سوشل میڈیا کلب کے صدر حارث خان، یونین آف جرنلسٹس کے جنرل سیکرٹریی سلمان یوسفزئی، سوات پریس کلب کے سابق چیئرمین رشید اقبال، سوات پریس کلب کے سابق چیئرمین سینئر صحافی فیاض ظفر اور تحصیل خوازہ خیلہ، مٹہ اور کبل سے تعلق رکھنے والے صحافی شامل تھے۔تقریب سے خطاب کرنے والے مقررین نے کہا کہ امن و امان کے قیام میں صحافیوں کا کردار انتہائی اہم ہے۔ اگر علاقے میں امن ہوگا تو صحافت، سیاحت اور معیشت تینوں کو فروغ ملے گا اور خطہ ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا۔ مقررین نے ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس کے نفاذ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ خطہ پہلے ہی قدرتی اور انسانی ساختہ آفات سے شدید متاثر رہا ہے، اس لیے یہاں کسی بھی نئے ٹیکس کو قبول نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے صحافی برادری پر زور دیا کہ وہ منشیات فروشی کے خلاف مؤثر آگاہی مہم چلائیں اور نوجوان نسل کو اس ناسور سے بچانے کے لیے اپنا قومی اور سماجی فریضہ ادا کریں۔سوات میڈیا کلب کے چیئرمین وحید اللہ سواتی نے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ پندرہ برس سے زائد عرصہ سوات پریس کلب میں مختلف عہدوں پر خدمات انجام دیتے رہے، تاہم وہاں کارکن صحافیوں کے حقوق اور عزتِ نفس کا مکمل خیال نہیں رکھا جاتا تھا۔ اسی وجہ سے انہوں نے صدر رفیع اللہ خان کی دعوت پر سوات میڈیا کلب میں شمولیت اختیار کی۔ انہوں نے کہا کہ صحافی برادری نے جس اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں اہم ذمہ داری سونپی ہے، وہ اسے پوری دیانت داری اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ نبھانے کی بھرپور کوشش کریں گے۔سوات میڈیا یونین آف جرنلسٹس کے صدر رفیع اللہ خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ صحافیوں کو کسی بھی صورت صحافتی اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ صحافت کا اصل مقصد مظلوم کی داد رسی اور ظالم کے خلاف بے خوف قلمی جدوجہد ہے، جسے ہر حال میں جاری رکھا جائے گا۔انہوں نے ڈیڈک چیئرمین سے سوات میڈیا کلب کی مستقل عمارت، صحافیوں کی پیشہ ورانہ تربیت اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کا مطالبہ بھی کیا۔رفیع اللہ خان نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ سوات کے چار شہید صحافیوں، شہید موسیٰ خان خیل، سراج دین، قاری شعیب اور عبدالعزیز شاہین کی یاد میں سوات کے گیٹ وے لنڈاکی چیک پوسٹ کے مقام پر اعزازی یادگاری تختی نصب کی جائے تاکہ سوات آنے والے سیاح اور مہمان اس حقیقت سے آگاہ ہوں کہ ملک کی بقا، امن اور سالمیت کے لیے سوات کے ان بہادر صحافیوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ سوات پریس کلب میں صرف ایک مخصوص شخصیت کی برسی منائی جاتی ہے جبکہ دیگر مرحوم اور شہید صحافیوں کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے اعلان کیا کہ سوات میڈیا کلب شہید صحافی موسیٰ خان خیل، سراج دین، قاری شعیب، عبدالعزیز شاہین کے علاوہ مرحوم صحافی حاجی سلیم خان، فقیر گل ماما، محبوب لالہ جی، اسماعیل طوطا، حکیم صاحبزادہ اور سبحان اللہ کی برسی بھی باقاعدگی سے منائے گا۔تقریب کے اختتام پر انہوں نے محکمہ اطلاعات خیبرپختونخوا سے اپیل کی کہ صحافیوں کو میڈیکل انڈومنٹ فنڈ سمیت دیگر فلاحی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ صحافی برادری کو درپیش مسائل کا مؤثر حل ممکن ہو سکے۔