12/01/2026
آج سیکرٹری فاریسٹ خیبر پختونخوا جنید خان سے ان کے دفتر میں ملاقات ہوئی۔ نئے عہدے کی ذمہ داریاں سنبھالنے پر انہیں مبارکباد دی۔ حسبِ روایت گفتگو کا آغاز سوات سے ہی ہوا۔ مسکراتے ہوئے پہلا سوال یہی تھا۔
سعید خان، بتائیں سوات کیسا ہے؟
یہ ایک سادہ سا سوال نہیں تھا بلکہ سوات کے ساتھ ان کی پرانی وابستگی اور دل کی گہرائیوں میں بسی محبت کا اظہار تھا۔
گفتگو کے دوران جنید خان نے کھل کر بتایا کہ خیبر پختونخوا کے جنگلات میں ایکو ٹورازم کے حوالے سے بے پناہ مواقع موجود ہیں جنہیں بین الاقوامی معیار کے مطابق فروغ دیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاحت کو ایسے ماحول دوست اور پائیدار ماڈل پر استوار کیا جائے گا جس میں قدرتی حسن بھی محفوظ رہے اور سیاحوں کو معیاری سہولیات بھی میسر ہوں۔
انہوں نے اوشو فارسٹ اور مہوڈنڈ کا خاص طور پر ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان مقامات کو ایکو فرینڈلی انداز میں بہتر بنایا جائے گا۔ اس میں واکنگ ٹریکس، واضح رہنمائی کے سائن بورڈز، پبلک واش رومز، محدود مگر معیاری کافی شاپس، صفائی اور ویسٹ مینجمنٹ کا مؤثر نظام شامل ہوگا تاکہ یہ مقامات دنیا کی بہترین قدرتی سیاحتی جگہوں کے برابر لائے جا سکیں۔
جنید خان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مقامی لوگوں کو اعتماد میں لے کر جنگلاتی علاقوں میں موجود خوبصورت میڈوز کو ذمہ دار سیاحت کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس سے مقامی آبادی کے لیے باعزت روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے جیسے ہوم اسٹیز، لوکل گائیڈز، ہینڈ کرافٹس اور فوڈ سروسز جس سے علاقائی معیشت کو بھی تقویت ملے گی۔ ان کے مطابق حقیقی اور کامیاب سیاحت وہی ہوتی ہے جس میں مقامی کمیونٹی شریک ہو، صرف تماشائی نہ بنے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اوشو فارسٹ، مہوڈنڈ اور دیگر فارسٹ ایریاز میں تجاوزات کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اور شفاف اقدامات کیے جائیں گے تاکہ یہ قدرتی اور قومی ورثہ محفوظ رہ سکے۔ اس سلسلے میں متعلقہ ڈی ایف او اور چیف کنزرویٹر کو واضح ہدایات دی جا چکی ہیں اور ایک ہفتے کے اندر عملی رپورٹ طلب کی گئی ہے۔
جنید خان کا کہنا تھا کہ سوات ان کے دل کے بہت قریب ہے۔سوات صرف ایک سیاحتی مقام نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہے۔ میری خواہش ہے کہ اس کی خوبصورتی کو محفوظ رکھتے ہوئے اسے سیاحت کے لیے اس انداز میں بہتر بنایا جائے کہ ماحول، مقامی لوگ اور معیشت تینوں کو فائدہ ہو۔ اس مقصد کے لیے محکمہ سیاحت کے ساتھ مل کر ایک جامع اور پائیدار منصوبہ بندی کی جائے گی۔
یہ ملاقات اس بات کی واضح عکاسی تھی کہ جنید خان محض ایک اعلی سرکاری افسر نہیں بلکہ فطرت کے سچے محافظ، مقامی کمیونٹی کے خیر خواہ اور سوات کو عالمی سطح پر ایک مثالی ایکو ٹورازم منزل بنانے کا وژن رکھنے والے انسان ہیں۔ ایسے لوگ واقعی ہیرو ہوتے ہیں جو خاموشی سے مگر خلوص کے ساتھ اپنے خطے کا مستقبل بہتر بنانے میں جُتے رہتے ہیں.
Junaid Khan Junaid Khan