Talagang Times

Talagang Times تلہ گنگ میڈیا ہاوس ، دنیا نیوز ، 92 نیوز ، ابتک نیوز، بول

فیلڈ وزٹ اور زائد کرایہ وصولی کے خلاف کارروائیاسسٹنٹ کمشنر سلمان منشا کی ہدایات پر انسپکٹر محمد احتشام کی زیرِ نگرانی پی...
02/09/2026

فیلڈ وزٹ اور زائد کرایہ وصولی کے خلاف کارروائی

اسسٹنٹ کمشنر سلمان منشا کی ہدایات پر انسپکٹر محمد احتشام کی زیرِ نگرانی پیرا فورس نے مختلف روٹس پر گاڑیوں کا معائنہ کیا۔ دورانِ کارروائی مسافروں سے مقررہ کرائے سے زائد کرایہ وصول کرنے والی گاڑیوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لاتے ہوئے جرمانے عائد کیے گئے۔

پیرا فورس کی جانب سے ٹرانسپورٹرز کو ہدایت کی گئی کہ مسافروں سے مقررہ سرکاری کرایہ ہی وصول کیا جائے اور زائد کرایہ لینے سے گریز کیا جائے۔ عوام کو مقررہ نرخوں کے مطابق سفری سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے نگرانی اور کارروائیاں جاری رکھنے کی یقین دہانی بھی کرائی گئی۔

مولانا فضل احمد رحمۃ اللہ علیہ  مصریال تلہ گنگ مجلس تحفظ ختم نبوت تلہ گنگ کے پہلے سالار آج میں آپ کو مصریال کی ایک ایسی ...
02/09/2026

مولانا فضل احمد رحمۃ اللہ علیہ مصریال تلہ گنگ
مجلس تحفظ ختم نبوت تلہ گنگ کے پہلے سالار

آج میں آپ کو مصریال کی ایک ایسی نابغہ روزگار
شخصیت سے متعارف کروانے جا رہا ہوں جنہوں نے کم از کم نصف صدی تک تلہ گنگ کے مسلمانوں کی دینی مذہبی سماجی سیاسی اور تحریکی میدانوں میں نمائندگی اور راہنمائی کی اور آپ کا وجود تلہ گنگ کے عوام کے لیے
ہمیشہ خیر و برکت اور سعادت کا ذریعہ تھا۔ یہ مصریال تلہ گنگ کی معروف دینی اور علمی شخصیت مولانا فضل احمد رحمۃ اللہ علیہ ہیں جو ایک معروف عالم دین اور تلہ گنگ کے پہلے سالار مجلس تحفظ ختم نبوت تھے اور آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عزت و ناموس رسالت پر پہرہ دے کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے امر ہو گئے۔

مولانا فضل احمد رحمتہ اللہ علیہ 1900 میں مصریال کے ایک انصاری گھرانے میں پیدا ہوئے آپ کے والد سلطان احمد ایک متقی اور پرہیز انسان تھے ۔ مولانا فضل احمد نے دس سال کی عمر میں مصریال کی اپنے محلے کی مسجد سے قرآن مجید حفظ کیا اس کے بعد آپ نے ٹمن اور ملہوالی کی دینی درسگاہوں سے صرف و نحو کی تعلیم حاصل کی فقہ کی تعلیم اپنے زمانے کے مشہور فقیہہ قاضی احمد دین سکنہ جسیال سے حاصل کی اور دورہ حدیث اور قرآن مجید مشہور عالم دین اور تحریک پاکستان کے نامور راہنما مولانا شبیر احمد عثمانی کی مشہور دینی درسگاہ دارالعلوم دیوبند کی شاخ ڈابھیل سے حاصل کی اور تکمیل علوم دینیہ کے بعد مختلف علاقوں میں دینی خدمات سر انجام دیتے رہے ۔

مولانا فضل احمد رحمتہ اللہ علیہ کو یہ شرف بھی حاصل ہے کہ انہوں نے فاضل کرنے کے بعد واپس مصریال آ کر 1943ء میں اپنے محلہ کی چھوٹی مسجد میں پہلا جمعہ پڑھایا جبکہ جامع مسجد مصریال میں مولانا شیر زمان رحمۃ اللہ علیہ نے بابا عنایت شاہ ہاشمی رحمۃ اللہ علیہ کی ترغیب پر پہلا جمعہ پڑھایا

مولانا فضل احمد صاحب نے 1950سے1979 ء تک انتیس سال جامع مسجد عثمانیہ عیدگاہ تلہ گنگ میں امامت وخطابت کے فرائض بے لوث سر انجام دیئے ۔ 1974میں آپ نے جامع مسجد عثمانیہ عیدگاہ کے ساتھ ایک الگ مدرسہ جامعہ مدرسہ عثمانیہ کے نام سے تعمیر کیا اور طلباء کی رہائش اور دیگر تعلیمی سہولیات کے لیے ایک پلاٹ خریدا اور شاندار عمارت تعمیر کروائی اور مسجد عثمانیہ عیدگاہ جو ایک ہال پر مشتمل تھی اسکو ایک عالیشان مسجد میں بدل دیا ۔ درس و تدریس اور دیگر انتظامات کے لیے آپ نے شبانہ روز محنت کی اور اس کار خاص میں آپ کے بھائی مولانا نور ہاشم نے آپ کی دل و جان سے معاونت کی اور مدرسے کا نام روشن کرنے میں آپ کے ممد و معاون ثابت ہوئے اور مدرسہ عثمانیہ کا شمار اہم دینی مدارس میں ہونے لگا اور اسکے فارغ التحصیل طلباء نے ملک کے طول و عرض میں اپنی خدمات کے ذریعے آپ کے کام کو جاری رکھا ۔

مولانا فضل احمد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کی مجلس شوریٰ کے رکن تھے ۔ منکرین ختم نبوت مرزائیوں نے چناب نگر ربوہ سرگودھا کے بعد جب جابہ ضلع خوشاب میں اپنا دوسرا ارتدادی مرکز نخلہ تعمیر کیا تو مولانا عطاء اللہ بخاری رحمتہ اللہ علیہ تشریف لائے اور بڑے جلسہ عام سے خطاب کیا ۔مولانا فضل احمد بھی اپنے شاگردوں اور ساتھیوں کے ساتھ تشریف لے گئے اور اس کے بعد ہر سال سالانہ اجتماع میں شرکت فرماتے اور جابہ میں تعمیر مدرسہ اور مسجد ختم نبوت کی تاحیات سرپرستی کی ۔ آپ جمیعت علمائے اسلام مفتی محمود گروپ کے ضلعی امیر تھے اور علاقے کے دیگر اکابرین کے ساتھ بھی آپ کا گہرا مذہبی اور احترام کا تعلق تھا ۔

سماجی کاموں کے حوالے سے آپ کا اہم کارنامہ تلہ گنگ محلہ غرب میں قبرستان کے لیے الگ جگہ خرید کر مختص کرنا ہے جہاں اہل محلہ کے علاوہ پردیسی مسافروں کی تدفین کا بندوست کیا گیا اور آپ کی نسبت سے یہ قبرستان استادوں والا قبرستان کہلاتا ہے ۔

مولانا فضل احمد صاحب نے اپنی ساری زندگی اشاعت دین اور درس و تدریس کے لیے وقف کیے رکھی اور تفرقہ پرستی سے ہمیشہ گریزاں رہے آپ کی پاکدامنی ، انکساری اور خوش اخلاقی کے سارے لوگ مداح تھے اور کبھی کسی نے آپ کے کردار پر انگلی نہیں اٹھائی ۔آپ کبھی کسی سرمایہ دار ، جاگیر دار یا سیاست دان کے ہاں نہیں گئے آپ نے دو مرتبہ حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کی

آپ کا انتقال 24جون 1979 کو ہوا آپ کا جنازہ تلہ گنگ کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ تھا جس کی مثال ملنا مشکل ہے جس میں ہر طبقہ فکر اور زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ آپ کے بعد آپ کے چھوٹے بھائی مولانا نور ہاشم صاحب نے آپ کے کام اور مشن کو جاری رکھا اور گراں قدر خدمات انجام دیں ۔ آپ کے بڑے بیٹے محمد ضیاء الحسن ایم اے ہیڈماسٹر ریٹائرڈ ہوئے دوسرے بیٹے قاری سعید احمد عثمانی نے بطور جانشین جامع مسجد عیدگاہ اور مدرسہ جامعہ عثمانیہ میں سن1992تک امامت وخطابت اور مہتم مدرسہ خدمات سر انجام دیں قاری سعید صاحب تلہ گنگ بلدیہ کے کونسلر بھی رہے جبکہ تیسرے بیٹے حافظ محبوب الربانی تھے ۔

مولانا فضل احمد نہ صرف مصریال بلکہ تلہ گنگ کا ایک بہت بڑا علمی سرمایہ تھے اور دینی میدان اور خاص طور پر ختم نبوت کے تحفظ کے حوالے سے آپ کی بڑی خدمات ہیں جن کا ہر سطح پر اعتراف کیا جاتا ہے مصریال اور تلہ گنگ کی موجودہ دو نسلیں شاید مولانا فضل احمد کے نام سے واقف نہ ہوں لیکن ان کے تعارف کے لیے جامع مسجد عیدگاہ اور ملحقہ عثمانیہ درسگاہ ہی کافی ہے۔ مصریال میں ان کی برادری کے کافی حفاظ کرام نے بڑی دینی خدمات سر انجام دیں اور سب کا بڑا احترام ہے۔ علاقے کے بڑے بزرگوں سے مولانا فضل احمد اور ان کے خاندان کی خدمات کے حوالے سے معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں جو ہمارا اہم دینی ورثہ تھے اگر ان کی خدمات اور حالات زندگی کے حوالے سے کسی کے پاس مزید معلومات ہوں تو میرے ساتھ ضرور شئیر کریں ۔
آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مولانا فضل احمد رحمتہ اللہ علیہ اور ان کے خاندان کی دینی و علمی خدمات پر انکو جزائے خیر عطا فرمائے اور مرحومین کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے آمین ثم آمین

ملک مشتاق حیدر مصریال تلہ گنگ

نالے ختم کریں گے تو پانی کہاں جائے گا؟اوپر والی تصویر صرف بات سمجھانے کے لیے ہے، جبکہ نیچے والی تصویر نقشے سے لی گئی ہے۔...
02/09/2026

نالے ختم کریں گے تو پانی کہاں جائے گا؟

اوپر والی تصویر صرف بات سمجھانے کے لیے ہے، جبکہ نیچے والی تصویر نقشے سے لی گئی ہے۔ اس حوالے سے مزید نقشے بھی موجود ہیں جو اس مسئلے کی حقیقت کو مزید واضح کرتے ہیں۔

ہم زیادہ لمبی بات نہیں کریں گے، سیدھی بات کریں گے۔

اسلام آباد ہو یا راولپنڈی، گزشتہ برسوں میں بننے والی بہت سی ہاؤسنگ سوسائٹیوں اور تعمیراتی منصوبوں نے قدرتی نالوں کے راستے محدود کیے، کہیں انہیں ختم کیا گیا، کہیں ان پر تعمیرات ہوئیں اور کہیں ان کی گزرگاہ اس قدر تنگ کر دی گئی کہ بارش کے پانی کے لیے مناسب راستہ ہی باقی نہیں رہا۔

اب سوال یہ ہے کہ بارش کا پانی کہاں جائے؟

نالہ ختم کر دینے سے پانی ختم نہیں ہو جاتا۔ پانی آج بھی وہیں سے گزرنے کی کوشش کرتا ہے جہاں سے وہ صدیوں سے بہتا آیا ہے۔ جب اس کا قدرتی راستہ بند یا تنگ ہو جائے تو پانی سڑکوں، گلیوں اور بالآخر گھروں کا رخ کرتا ہے۔

پھر ہم سیلابی پانی کو الزام دیتے ہیں، موسم کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں اور متاثرہ شہریوں کو نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ پانی اپنا راستہ خود بناتا ہے، لیکن اگر ہم نے اس کا راستہ چھین لیا تو وہ ہمارے گھروں کا راستہ اختیار کرے گا۔

آخر اس مسئلے کا حل کیا ہے؟

حل بہت سیدھا ہے:

قدرتی نالوں اور برساتی گزرگاہوں کو ان کا مناسب راستہ واپس دیا جائے۔
جہاں نالے تنگ کیے گئے ہیں وہاں ان کی گنجائش کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے، غیر قانونی یا خطرناک تجاوزات ختم کی جائیں اور نئی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی منصوبہ بندی میں قدرتی ڈرینج سسٹم کو بنیادی حیثیت دی جائے۔

ورنہ مسئلہ ہر سال وہیں رہے گا، پانی بھی وہیں آئے گا، اور ہر مون سون کے بعد ہم صرف یہ سوال کرتے رہیں گے:

"آخر اسلام آباد اور راولپنڈی میں بارش کا پانی گھروں میں کیوں داخل ہو جاتا ہے؟"

جبکہ اصل سوال یہ ہونا چاہیے:

"ہم نے پانی کے قدرتی راستے بند کیوں کیے؟"

مسئلہ پانی کا نہیں، پانی کے راستے کا ہے۔

سیٹھ قاسم بھٹی صاحب — ایک خدا ترس اور دکھی انسانوں کا درد رکھنے والے انسانسیٹھ قاسم بھٹی صاحب ایک نہایت خدا ترس، نرم دل،...
02/09/2026

سیٹھ قاسم بھٹی صاحب — ایک خدا ترس اور دکھی انسانوں کا درد رکھنے والے انسان

سیٹھ قاسم بھٹی صاحب ایک نہایت خدا ترس، نرم دل، یتیم پرور اور دکھی انسانوں کا درد محسوس کرنے والے انسان تھے۔ زندگی بھر انہوں نے ہم پر بے شمار احسانات کیے، مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے ان کی زندگی کے آخری ایام میں کچھ وقت ان کی خدمت کا موقع عطا فرمایا، جسے میں اپنے لیے ایک اعزاز سمجھتا ہوں۔

21 اگست کو بھائی تاج المعروف پاپا کی کال آئی کہ قاسم بھائی بیمار ہیں اور CMH پہنچیں۔ میں فوراً ہسپتال پہنچا۔ قاسم بھائی اسٹریچر پر تھے، سیٹھ محسن بھٹی صاحب اور بھائی احسن بھی ان کے پاس موجود تھے۔

اسی دوران ایک ایسا منظر دیکھا جو شاید ساری زندگی میری یادوں میں رہے گا۔ سامنے ایک چھوٹا بچہ بیٹھا تھا۔ قاسم بھائی خود بیماری اور تکلیف کی حالت میں تھے، مگر ان کی نظریں بار بار اس بچے کی طرف جا رہی تھیں۔ وہ بے حد بے چین دکھائی دے رہے تھے۔

کچھ دیر بعد بچے کے والد بھی وہاں پہنچ گئے۔ معلوم ہوا کہ وہ چنجی کے قریب کے رہنے والے ہیں اور ان کے معصوم بچے کو بلڈ کینسر ہے۔

ہم تقریباً ایک گھنٹہ وہاں قاسم بھائی کے ساتھ رہے، مگر میں نے محسوس کیا کہ اپنی تکلیف کے باوجود ان کی توجہ مسلسل اس بیمار بچے کی طرف تھی۔ جیسے انہیں اپنی بیماری سے زیادہ اس معصوم بچے کا دکھ بے چین کر رہا ہو۔

قاسم بھائی نے اس موقع پر مجھ سے ایک بات بھی کی جو میرے پاس امانت ہے۔ اسے بیان کرنا مقصود نہیں، صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ اس دن میں نے ان کے دل کی وہ نرمی، انسانیت اور دوسروں کے لیے درد بہت قریب سے دیکھا جسے الفاظ میں مکمل بیان کرنا مشکل ہے۔

12 ربیع الاول کو ان کا جنازہ تھا۔

وہ اس دنیا سے رخصت ہو گئے، مگر اپنے پیچھے محبت، سخاوت، انسانیت، یتیموں سے شفقت اور دکھی لوگوں کے لیے درد کی ایسی یادیں چھوڑ گئے جو ہمیشہ زندہ رہیں گی۔

قاسم بھائی واقعی ایک حاجی صفت، فرشتہ صفت اور انتہائی نرم دل انسان تھے۔

اللہ تعالیٰ سیٹھ قاسم بھٹی صاحب کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی تمام نیکیوں اور خدمتِ خلق کو قبول فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

کچھ لوگ دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں، مگر اپنے کردار، محبت اور نیکیوں کی وجہ سے ہمیشہ دلوں میں زندہ رہتے ہیں۔

دعاگو و سوگوار
انجینئر ابرار حیدر اعوان

02/09/2026

وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف نے پنجاب کے ماڈل ویلج کے لیے کمیونٹی بیسڈ آرگنائزیشن متعارف کردیا
اسسٹنٹ کمشنر، سیکرٹری یونین کونسل، ہیڈ ماسٹر اور دیگر حکام کو منصوبے میں شامل کرنے کا فیصلہ
وزیراعلی پنجاب کی ماڈل ویلج میں گلیاں پکی اور خوبصورت بنانے کی ہدایت، ایم پی ایز کو ذمہ داری سونپ دی گئی

01/09/2026
01/09/2026

سیف سٹی تلہ گنگ کے ذریعے شہر میں ای چالان سسٹم کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ اب سیف سٹی کے جدید نگرانی کے نظام اور کیمروں کے ذریعے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں کی مؤثر مانیٹرنگ کی جائے گی اور خلاف ورزی کرنے والوں کو تصویری شواہد کی بنیاد پر قانون کے مطابق ای چالان جاری کیے جائیں گے۔

ای چالان سسٹم کا مقصد ٹریفک قوانین پر مؤثر عملدرآمد، سڑکوں پر نظم و ضبط کے فروغ اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔ اس نظام کے تحت ہیلمٹ استعمال نہ کرنے، سیٹ بیلٹ نہ باندھنے، دورانِ ڈرائیونگ موبائل فون استعمال کرنے، ون وے کی خلاف ورزی اور دیگر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی جائے گی اور قانون کے مطابق ای چالان جاری کیے جائیں گے۔ اس اقدام سے قانون کی یکساں عملداری کو فروغ ملے گا اور سڑکوں پر محفوظ اور منظم ٹریفک کے قیام میں مدد حاصل ہوگی۔

ٹریفک قوانین کی پابندی نہ صرف قانونی تقاضا ہے بلکہ اپنی اور دوسروں کی جانوں کے تحفظ کی ضمانت بھی ہے۔ قوانین پر عملدرآمد سے ٹریفک حادثات میں کمی، ٹریفک کے بہاؤ میں بہتری اور شہریوں کے لیے محفوظ سفری ماحول کی فراہمی ممکن بنتی ہے۔

تمام شہریوں سے گزارش ہے کہ ٹریفک قوانین کی پاسداری کریں، ذمہ دارانہ طرزِ ڈرائیونگ اپنائیں اور محفوظ، منظم اور قانون پسند معاشرے کے قیام میں اپنا کردار ادا کریں۔

قوانین کی پاسداری ایک ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت ہے۔

سیف سٹی تلہ گنگ — محفوظ شہر، محفوظ شہری
#

Address

AL Karam Plaza Near GPO
Talagang
48100

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Talagang Times posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Talagang Times:

Shortcuts

Share