18/05/2026
*ڈیول کا عشق *
ازقلم *حبیبہ سکندر *
قسط نمبر 5
---
*مالا کا دل اب بھی دھڑک رہا تھا۔*
*"کیل کا حساب ہو گیا "* اس نے دل میں کہا۔
ویگو لے کر سیدھا ہاسٹل کی پچھلی گلی میں آ گئی۔
*جنوری کا مہینہ چل رہا تھا .*
*دن کو سردی نہیں پڑتی تھی مگر رات کو سمندر کی ٹھنڈی ہوائیں حدوں تک اتر رہیں تھیں .*
چاند کی ہلکی ہلکی روشنی میں مالا کو سب واضح نظر آ رہا تھا۔
*مالا جب ہاسٹل کی پچھلی گلی میں ابھی پہنچی ہی تھی...*
*کہ گلی کے کونے میں بنے قبرستان سے 2 آدمی نکل رہے تھے۔*
دور سے ایسا لگ رہا تھا *جیسے مردے چل رہے ہوں۔*
*بلکل سفید رنگ کے کپڑوں میں... قدموں کی آواز نہیں۔ سانس کی آواز نہیں۔*
*وہ دو آدمی قبرستان سے نکل کر سامنے والی گلی کی طرف مڑ گئے۔*
مالا ایک بار تو ان کو دیکھ کر *دل ہلک میں آ گیا۔*
*آنکھوں سے نیند اور گئی۔*
*خوف طاری ہو گیا۔*
ویگو کا انجن بند تھا۔
*صرف ہوا کی سرسراہٹ... اور قبرستان کی خاموشی۔*
*ایسا لگا... جیسے وقت رک گیا ہو۔*
مالا نے جیکٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالا۔
*کیل... ابھی بھی وہیں تھا۔*
*مگر آج... اس کی ضرورت نہیں تھی۔*
*آج... وہ کیل سے نہیں بلکہ اپنے ضمير سے لڑ رہی تھی ."*
اس نے خود سے کہا۔
*میں نے صرف ایک کی جان لی ہے ۔"*
ہاتھ کانپتے ہوئے ماسک اتار دیا ۔
چہرے پر پسینہ تھا۔
مگر ٹھنڈ... ہڈیوں تک اتر رہی تھی ۔
وہ ویگو سے نکل کر ہاسٹل کی کھڑکی کی طرف بڑھی ۔
قبرستان کی طرف پیچھے مڑ کر دیکھا ۔
2ادمی اب نظر نہیں آ رہے تھے ۔سفید کفن.. اب اندھیرے میں گم ہو گے تھے ۔
کیا وہ انسان تھے یا کچھ اور ؟"اس نے سوچا ۔
کھڑکی کا لاک کیل سے کھولا ۔
اندر داخل ہوئی ۔
اور سکھ کا سانس لیا ۔
بستر پر لیٹ گی اور آنکھیں بند کیں ۔
نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی ۔
*تھوڑی دیر آنکھ لگی...*
*لیکن پھر، آنکھوں کے سامنے وہی منظر چھا گیا۔*
*وہ دو مردے...*
جو قبرستان سے نکل کر گلی کی طرف جا رہے تھے۔
*سفید کفن، قدموں کی آواز نہیں، سانس کی آواز نہیں۔*
*منظر بار آنکھوں کے سامنے آتا۔*
*ہونٹ ہلتے، مگر آواز نہیں نکلتی۔*
*دل آیۃ الکرسی پڑھنے کی کوش کرتا، مگر ناکام۔*
*عجیب و غریب سائے، اس کے سامنے آتے۔*
*آنکھیں کھولنے کی ہمت کرتی، مگر ہر بار ناکام۔*
*سردی، خاموشی، اور اپنے ہی گناہ کا بوجھ۔*
*مالا کو لگا، وہ خود ہی قبر میں لیٹی ہے۔*
*اچانک... اذان کی آواز گونجی۔*
*"اللہ اکبر... اللہ اکبر"*
*اسی لمحے، آنکھوں کے سامنے کا خوفناک منظر ٹوٹ گیا۔*
*مالا اٹھ کر بیٹھ گئی۔*
*خوف سے سانسیں پھول رہی تھیں۔*
*موبائل سے وقت دیکھا... 4:30*
*وہ تین بجے واپس آئی تھی... اتنی دیر میں اتنا بھیانک خواب۔*
*مالا دھیمی آواز میں بولی:*
*"میں زندہ ہوں... ابھی زندہ ہوں۔"*
*اذان کی آواز اب بھی سنائی دے رہی تھی۔*
*اس آواز میں ایسا سکون تھا... کہ دل کی دھڑکن آہستہ ہو گئی۔*
*مالا نے پھر تکیے پر سر رکھ دیا۔*
*اذان کی آواز میں اتنا سکون تھا... کہ وہ اب سکون سے پھر سو گئی۔*
*باہر فجر کی روشنی پھیل رہی تھی۔*
*قبرستان... اب صرف مٹی لگتا تھا۔*
*مگر مالا کے اندر... ایک نیا سایہ اتر چکا تھا۔*
*صبح 10 بجے مالا کی آنکھ کھلی۔*
*جسم درد سے ٹوٹ رہا تھا۔*
*رات کا خوف، سردی، اور گناہ کا بوجھ... سب ہڈیوں میں اتر گیا تھا۔*
*وہ آہستہ سے اٹھی۔*
*کمرے میں روشنی پھیل چکی تھی۔*
*قبرستان کا سایہ، دو سفید کفن، اذان کا سکون... سب ایک دھند کی طرح پیچھے رہ گیا تھا۔*
*اچانک... دروازے پر دستک ہوئی۔*
*ٹھک... ٹھک... ٹھک*
*مالا کا دل ایک بار پھر دھڑک اٹھا۔*
*رات کی خاموشی کے بعد، دن کی یہ دستک... کسی امتحان کی طرح لگ رہی تھی۔
*مالا نے دروازہ کھولا۔*
*سامنے دو لڑکیاں کھڑی تھیں۔*
*ان میں سے ایک نے بیگ اٹھایا ہوا تھا۔*
*مالا نے نرم لہجے میں، مختصر سوال کیا:*
*"جی... کیا کام ہے؟"*
*ان میں سے ایک لڑکی بولی:*
*"میں زینب ہوں، اور یہ نمرہ ہے۔ دراصل نمرہ نئی ہے۔"*
*"ہاسٹل میں کوئی کمرہ خالی نہیں ہے۔ سب کمروں میں پانچ پانچ لڑکیاں پوری ہیں۔"*
*"اگر آپ کچھ دن اسے اپنے کمرے میں رکھ لیں تو..."*
*زینب نے بات مکمل کی۔*
*مالا نے بغیر کچھ بولے، آنکھوں سے اندر آنے کا راستہ دے دیا۔*
*"تھینک یو" نمرہ بولی۔*
*"میڈم، آپ دیکھ سکتی ہیں... میرا کمرہ آپ کی جگہ نہیں بن سکتی۔ کیونکہ اس کمرے میں سب کچھ میں نے اپنے طریقے سے سیٹ کیا ہوا ہے۔ یہاں تک کہ سارا سامان میرا پرسنل ہے۔"*
*مالا کی آنکھیں ایک لمحے کو رک گئیں۔*
*نمرہ نے صرف ہلکا سا سر ہلا یا ُ۔
*مالا نے کمرے میں قدم رکھا۔*
*نمرہ سامنے کھڑی تھی، بیگ اب بھی ہاتھ میں تھا۔*
*زینب پیچھے مڑ کر چلی گئی۔*
*مالا نے آہستہ سے کہا:*
*"ویسے، میں آپ کو اب واپس نہیں بھیج سکتی۔"*
*"اب آپ آ چکی ہیں... اب کچھ کر لیتے ہیں۔"*
*مالا نے دھیمی آواز میں بتایا:*
*"آپ کے لیے بھی۔"*
*نمرہ نے چونک کر دیکھا۔*
*مالا کی آواز میں نہ سختی تھی، نہ نرمی۔*
*بس ایک عجیب سا سکون تھا... جو دھمکی سے بھی زیادہ خطرناک لگتا تھا۔*
*"یہ کمرہ میرا ہے۔"* مالا نے دہرایا۔
*"میرا طریقہ ہے۔ میرا سامان ہے۔"*
*"لیکن اب... اس میں تم بھی شامل ہو۔"*
*نمرہ نے سر جھکا لیا۔*
*بیگ فرش پر رکھ دیا۔*
*مالا نے دروازہ بند کر دیا۔*
*کمرے میں خاموشی چھا گئی۔*
*دونوں کے درمیان... ایک نئی جنگ شروع ہو چکی تھی۔*
*نمرہ نے کمرے کا جائزہ لیا۔*
*"یہ بیڈ ڈبل ہے... اس کو کھول لیتے ہیں۔ اور ہم دونوں سو سکتی ہیں۔"*مالا بولی :*
*"اور یہ صوفہ... کہاں رکھیں؟"*
*مالا نے مختصر جواب دیا:*
*"اس کو بیڈ کی سامنے والی طرف رکھ دیتے ہیں۔"*
*نمرہ نے کمرے پر نظر دوڑائی:*
*"ویسے، یہ کمرہ کافی بڑا ہے... مگر ترتیب نہیں ہے "*
*مالا نے ہلکا سا سر ہلایا:*
*"اگر ہم اس کو صحیح کر لیں، تو ہم دونوں آرام سے رہ سکتی ہیں۔"*
*"مگر نمرہ... تمہیں الماری اپنی لانی پڑے گی۔"*
*نمرہ نے ہاں میں سر ہلا دیا۔*
*مالا نے آہستہ سے کمرے کی دیواروں کو دیکھا۔*
*رات کا خوف، قبرستان کا سایہ، Phantom Cell کا پیغام... سب پیچھے رہ گئے تھے۔*
*اب صرف دو لڑکیاں، ایک کمرہ، اور ایک نئی ترتیب تھی۔*
*مالا نے دل میں کہا:*
*"شاید یہی سکون ہے... جو مجھے گناہ کے بعد ملا ہے۔"*
*مالا نے صوفے کو سیدھا کیا۔*
*کمرہ ابھی ترتیب میں آ رہا تھا۔*
*نمرہ نے بیڈ کے کنارے بیٹھتے ہوئے، ہلکی سی آواز میں پوچھا:*
*"ویسے... آپ کا نام کیا ہے؟"*
*مالا کے ہاتھ ایک لمحے کو رک گئے۔*
*رات کا خوف، قبرستان کا سایہ، Phantom Cell کا بیگ... سب یاد آ گیا۔*
*مگر اس نے بغیر سوچے جواب دیا:*
*"میرا نام... انمول ہے۔"*
*نمرہ نے سر ہلا دیا۔*
*"میں نمرہ... اور آپ کے ساتھ رہ کر خوش ہوں، انمول۔"*
*مالا نے جواب میں کچھ نہ کہا۔*
*بس صوفے کو آخر تک سیدھا کر دیا۔*
*کمرے میں اب ترتیب تھی... مگر دل میں ابھی بھی بے ترتیبی۔*
Be continued 💓💕💕
Comment and sport 😘💕plz