Anjuman Haidri Miandad Rind Chambar

Anjuman Haidri Miandad Rind Chambar This Page only For Islamic videos, Pictures and Messages village miandad rind

15/12/2025

انجمن گلدستہ غلامان غازی عباس علمدار
استاد سید سبحان علی شاہ بخاری تقوی
بمقام بھٹ شاہ
شاعر اہلبیت بحرالمصائب علامہ مولانا سائین وجیھ الحسن تسنیم
دعاگو زوار سید ایاز علی شاہ بخاری تقوی
سید قاسم علی شاہ بخاری تقوی۔ اعجاز علی رند

02/12/2025

ميکوں قیدڻ سمجھ شيرين نھيں
کرغور ذرا میں زینب ھاں
نوحه خواں ۔۔📀 استاد زوار مرحوم کریم بخش عرف ۔کمن ۔حاجاڻو

29/11/2025

نوھہ: کائنات ساری دے وچ زخمی ہین ڈوں شہزادیاں تھیاں ھڪ یسرب وچ ٻي شام دے وچ
نوھہ خوان : استاد زوار محمد اشرف رند
شاعر اھلبیت: محمد علی شاھ جوھر
بمقام: بیراھ شریف

26/11/2025
24/11/2025

نوھہ : پہلی واری یتیمی زہرا کوں محسوس تھئی دربار دے وچ
نوھہ خوان : زوار محمد اشرف رند
شاعر اہلبیت: نظر عباس نظر
بمقام: مدرسہ امام زین العابدین علیہ السلام چمبڑ سٹی

سندھ میں ساتویں امام موسیٰ کاظم بن امام جعفر صادق کی شہزادی بیبی ماہم کا مرقد ۔۔۔۔۔۔۔۔ اگھم کوٹ ۔۔۔۔۔۔تاریخ کا ایک گمشدہ...
22/11/2025

سندھ میں ساتویں امام موسیٰ کاظم بن امام جعفر صادق کی شہزادی بیبی ماہم کا مرقد

۔۔۔۔۔۔۔۔ اگھم کوٹ ۔۔۔۔۔۔

تاریخ کا ایک گمشدہ باب

سندھ وہ بدقسمت صوبہ ہے جس میں سندھ کی تاریخ کو اجاگر کرنے کیلئے حکومت کی طرف سے کوئی اقدام نہیں اٹھایا جاتا اور نہ ہی ان تاریخی ورثے تک کوئی مواصلات کا نظام ہے جہاں سندھ اور باہر سے آئے ہوئے سیلانی لوگ وہاں تک رسائی حاصل کر سکیں ۔

تاریخ سندھ کے اوراق بوسیدہ ہوگئے مگر کسی میں شرم و حیا نہیں کہ ان کی جلد بندی کی جائے ۔

تاریخ سندھ میں آج بھی کئی بوسیدہ پنے اپنی توجہ کے طالب ہیں ، جن میں ایک "اگھم کوٹ" بھی ہے ، جو وتایو فقیر کا آبائی شہر ہے ، جس کے صدیوں پرانے کھنڈرات آج بھی موجود ہیں۔

حیدرآباد سے ٹنڈوالہیار آئیں اور پھر گلاب لغاری اور شیخ بھرکھیو کی جانب راستہ لیں ، تو گلاب لغاری کے چھوٹے شہر سے قبل راستے کے مغرب میں آپ کو مسجدوں ، مقبروں اور مدرسوں کے آثار نظر آئیں گے۔

سندھ میں اسلام کی آمد سے پہلے دریائے سندھ دریا کی لہریں "اگھم کوٹ" سے گزر کر سمندر برد ہوا کرتی تھیں ، یہ شہر تجارت ، علم و ادب کا گہوارہ تھا اور جنوبی سندھ کا مرکز ہوا کرتا تھا ، اگھم کوٹ اس علاقے کے راجہ "اگھم لوہانہ" نے آباد کیا تھا اس لئے اس کا نام اگھم کوٹ پکارا جاتا ہے ، یہاں کے باسیوں کی معیشت کا اہم ذریعہ پٹ سن ہوا کرتا تھا اور یہ علاقہ دریا کی لہروں کی دوش پر آنے والے پانی سے سر سبز و شاداب ہوا کرتا تھا۔

اس تاریخی شہر کو کبھی علم و عرفان کی علامت سمجھا جاتا تھا ، قدیم زمانے میں یہ خطہ صوبہ لوہانہ میں شامل تھا جس کا دارالحکومت برہمن آباد تھا۔
سندھ تاریخ کی بنیادی ماخذ کتاب چچ نامہ ہے جس کا 613ھ میں فارسی میں ترجمہ کیا گیا۔ اس کتاب میں اگھم نام کے ایک راجہ کا تذکرہ بار بار ملتا ہے جو چچ (راجہ داہر کا باپ) کے وقت برہمن آباد کا گورنر تھا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ شہر اسی نے آباد کیا۔
ڈاکٹر نبی بخش اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ راجہ چچ کی مخالفت کی وجہ سے اگھم کوٹ پر حملہ کیا گیا تھا ۔'' (دیکھئے ترجمہ فتح نامہ سندھ 132-135)

تاریخ سندھ پر دوسری مستند کتاب "میر علی شیر قانع" کی "تحفتہ الکرام" ہے۔ جس میں لکھا ہے کہ '' اگھم کوٹ سے مراد وہ قدیم بستی ہے جسے مقامی لوگ "اگھامانو" کہتے ہیں۔ یہ قدیم ندی پر واقعہ ہے جو دریائے سندھ کی ایک شاخ تھی۔'' اب یہ شاخ سوکھ چکی ہے لیکن اس کے آثار دیکھنے کو مل جاتے ہیں۔ اگھم کوٹ کی قدامت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ محمد بن قاسم کے سندھ پر حملے کے وقت یعنی آٹھویں صدی کی ابتدا میں اس شہر کے قلعے کی فوجی اہمیت کے متعلق چچ نامے میں تحریر ہے کہ ’’محمد بن قاسم نے سلیمان بن نبھان قریشی کو حکم دیا تھا کہ تمہیں راوڑ کے قلعے کی طرف جانا چاہیے۔ اس پر سلیمان نے عطیہ تغلبی کی کمان میں 500 سپاہیوں کو اگھم کوٹ قلعے میں مقرر کیا کہ راجا داہر کے بیٹے گوپی کا راستہ روکے جو راوڑ میں تھا۔

اس وقت اگھم کوٹ ٹھٹھہ کے بعد مدرسے اور تعلیمی اداروں کا دوسرا سب سے بڑا مرکز تصور کیاجاتا تھا. یہی وجہ تھی کہ ملک کے دور دور علاقوں سے لوگ تحصیل علم کے لئے یہاں آتے تھے۔ اولیا اللہ کے بے شمار مزارات ، مسجدوں کے کھنڈرات ، مدارس کی خستہ حال دیواریں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ایک دور میں یہاں قرآن ، حدیث ، فقہ اور دیگر علوم کی تعلیم دی جاتی تھی۔ اگھم کوٹ کے مدارس اپنی تعلیم کی وجہ سے گرد و پیش میں بہت شہرت رکھتے تھے۔ ان مشہور درسگاہوں میں سے ایک کے مہتمم مخدوم اسماعیل سومرو (م998ھ) تھے جو بنیادی طور پر "کاٹھیاواڑ گجرات" کے رہنے والے تھے مگر یہاں کا علمی ماحول دیکھا تو یہیں کے ہی ہو کر رہ گئے۔ ان کی شبانہ روز محنتوں سے اگھم کوٹ کے پہلے سے موجود علمی و ادبی ماحول کو چار چاند لگ گئے۔ آپؒ کے ہاتھ پر بے شمار لوگوں نے اسلام قبول کیا۔ تاریخی شواہد کے مطابق سندھ کے مشہور لوک کردار ، وتایو فقیر کا بچپن بھی اگھم کوٹ کی گلیوں میں گزرا تھا اور اس کے خاندان نے بھی مولانا موصوف کے ہاتھوں پر اسلام قبول کیا تھا. مولانا مخدوم اسماعیل کی مزار بھی یہیں واقع ہے جس کی دیواروں پر کاشی کاری کا عمدہ کام اس دور کے کاری گروں کی مہارت کا مظہر ہے۔
وہاں کے مقامی رہائشیوں کے مطابق حکومت وقت نے اس ورثے کو بچانے کیلئے کبھی سنجیدگی نہیں دکھائی ، آہستہ آہستہ یہاں پر بھی قبضہ مافیا سرگرم عمل ہے ۔
اس قدیم آثار کی عمارتوں سے اینٹیں تک چوری کرلی گئی ہیں۔ جہاں قدیم حکمرانوں کی باہمی جنگ و جدل نے اس شہر کو برباد کیا ہے وہیں یہاں آنے والے لوگوں اور موجودہ حکومت کے عدم توجہ کی وجہ سے بھی اس قدیم شہر کو کافی نقصان ہوا ہے۔ 2010 اور 2011 کے سیلاب کی وجہ سے قبرستان میں مردوں کی ہڈیاں تک باہر آگئی ہیں۔ جن کا آج تک کوئی پرسان حال نہیں۔

سندھ کی پانچ ہزار سالہ تہذیب میں موہن جو دڑو کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے جس پر صرف دس فیصد کام ہوا ہے باقی نوے فیصد تحقیق ابھی باقی ہے اسی طرح سندھ کے دوسرے قدیمی مقامات بھی ایسے ہیں جن کا آج کے اس جدید دور میں بھی لوگوں کو علم نہیں ہے ۔ حالانکہ حیدرآباد جیسے بڑے شہر کے اکثریت باشندے بھی جو اگھم کوٹ سے 45 کلومیٹر کی دوری پر ہیں نہیں جانتے کہ ایسے کسی تاریخی شہر کا بھی کوئی وجود ہے اور اس کی وجہ حکومت کے محکمہ آثار قدیمہ کے افسران ہیں جو ہر سال بجٹ میں اربوں روپے مختص ہونے کے بعد بھی اپنے تاریخی ورثے کی حفاظت کے اہل نہیں ۔
اگھم کوٹ کی ہر عمارت ، مزار ، مقبرہ وغیرہ کا ایک تاریخی پس منظر ہے جس پر علیحدہ علیحدہ تحقیق کی ضرورت ہے ۔

اگھم کوٹ یا اگھامانو شہر کے آثارِ قدیمہ میں اس وقت کی کچھ بزرگ ہستیوں کی ابدی آرام گاہیں بھی ہیں، جن میں مخدوم محمد اسمٰعیل سومرو اور دیگر بزرگ شامل ہیں ۔ اس تاریخی مقام پر ایک قبر پر فارسی زبان میں کنندہ ایک کتبہ بھی نصب ہے جس پر بی بی ماہم کا نام درج ہے اور ان کی وفات کا سال 170 ہجری کنندہ ہے خیال کیا جاتا ہے کہ یہ بی بی امام موسیٰ کاظم کی دختر ہیں اس نظریے کے تحت وہاں ایک مزار بھی تعمیر کروایا گیا ہے جہاں سندھ بھر سے ہزاروں زائرین حاضری کے لیے آتے ہیں۔
معروف ذاکر و عالم دین مولانا حسن ظفر نقوی کی ایک تحقیق کے مطابق سندھ میں ساتویں امام موسی کاظم علیہ السلام کی ایک صاحبزادی جناب خدیجہ عرف ماہم بی بی سلام اللہ علیہا کا جائے مدفن بھی ہے جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ تمام قرائن، واقعات اور شواہد یہ بتاتے ہیں کہ یہ روضہ جناب خدیجہ بنت امام موسی کاظم علیہ السلام کا ہی ہے۔ جو 1250 برس قبل سندھ کی سرزمین پر بحکمِ امام آئی تھیں۔
یہاں دو تین قدیم مساجد کے نشانات اور راجہ اگھم لوہانہ کے محل کے آثار بھی موجود ہیں۔ مقبروں اور مٹی کے ٹیلوں کے درمیان سینکڑوں قبور مسمار ہو جانے کی وجہ سے ہر جانب انسانی لاشوں کی ہڈیوں اور ڈھانچوں کے انبار نظر آتے ہیں۔ جو دیکھنے والوں کے لیے باعثِ عبرت ہیں۔
اگر حکومت پاکستان اور صوبہ سندھ خلوص دل سے نیت کرے تو یہ قدیم مقامات پوری دنیا کے سیاحوں کیلئے دلچسپی کا باعث بن سکتے ہیں اور زرمبادلہ کا سبب بھی بن سکتا ہے ، پاکستان کے شہری جو تاریخ میں دلچسپی رکھتے ہیں ان کی تسکین کا سامان بھی ہو سکتا ہے ۔

تحریر و تحقیق
نومبر- 2022
#نثاریات

11/11/2025

استاد مظھر لغاری آف ھالا
20 صفر بھٹ شاھ

24/09/2025

نوھہ :مختار کون خط لکیا سجاد احسان لاویں ڈیسان دعا ھے ا....
شاعر اھلبیت نظر عباس نظر
نوھہ خوان: انجمن حیدری: استاد محمد اشرف رند
بمقام 29 ربیع الاول ڳوٹھ غازی آباد بیراھ
دعاگو اعجاز علي رند

انجمن حیدری  استاد مبارک علی رند عزاداری لاء روانگی مقصودو رند
28/08/2025

انجمن حیدری استاد مبارک علی رند عزاداری لاء روانگی مقصودو رند

10/07/2025

استاد محمد اشرف رند
نوھہ: گھبرا نہ ماتمی توں ظامن تیری بتول ھے

Address

Tando Allahyar
CHAMBER

Telephone

+923163509779

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Anjuman Haidri Miandad Rind Chambar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share