10/03/2023
"یہ حرام کی کمائی کی گاڑی ہے، حلال کماتا تو سائیکل پر پھر رہا ہوتا"
"حرام کما رہا ہے تب ہی بنگلہ میں رہتا ہے۔ ورنہ دو کمروں کے گھر میں رہ رہا ہوتا"
ایک دور میں یہ بات اتنی تواتر سے سنی کہ مجھے بھی یہی محسوس ہونے لگا کہ حلال کی کمائی سے سائیکل بھی نہیں خریدی جا سکتی، کہاں گاڑی بنگلہ۔
اس احساس نے ذہن میں یہ بات ڈال دی کہ محنت کی حلال کمائی سے بس پیٹ کا نظام ممکن ہے، کچھ اور کرنا ہے تو حرام راستے پر چلنا پڑے گا۔
پھر سیدنا عثمان غنی کی سیرت نظروں سے گزری، عبدالرحمٰن بن عوف کو پڑھا، حضرت خدیجہ کو پڑھا تو معلوم ہوا اسلام کی بنیاد میں معاشی طور پر مستحکم افراد کا کلیدی کردار رہا ہے۔
موجودہ دور میں بھی معاشی طور پر مضبوط افراد دوسروں کا سہارا بنتے ہیں۔ امیر لوگ دوسروں کی تعلیم اور روزگار کا ذریعہ بنتے ہیں۔
غریب بیچارہ تو ایک وقت کی کھا کر دوسرے وقت کے لئے فکر مند ہونا شروع ہو جاتا ہے۔
لہٰذا خود کی صلاحیتوں کو پہچان کر خود کو معاشی ترقی کی راہ پر ڈالنا پڑے گا۔ آج نہیں تو دس سال بعد ہم بھی ایسی پوزیشن میں ہوں گے جہاں ہم دوسروں کا سہارا بن سکیں گے۔
روپے چھوڑو ڈالر کماؤ۔۔ پاکستان کو امیر بناؤ
پو ری دنیا ہماری منڈی ہے۔ تجارت کرو ۔ رسول خدا کی سنت پر عمل کرو .