peer Iqbal mara

peer Iqbal mara تونسہ شریف کی عوام کے لیے آواز اٹھانا
تونسہ شریف کے لوگوں کو ظلم سے بچا نا

01/09/2026
31/08/2026

الحمدللہ! کارڈیالوجی ہسپتال ڈیرہ غازی خان واقعی ہمارے علاقے کے عوام کے لیے ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ میں دل کی گہرائیوں سے کارڈیالوجی ہسپتال ڈیرہ غازی خان کے تمام موجودہ عملے کو، چاہے وہ چھوٹے سے چھوٹا ملازم ہو یا بڑے سے بڑا افسر، ڈاکٹرز ہوں، سرجنز ہوں، نرسز ہوں، پیرامیڈیکل سٹاف ہو، صفائی کا عملہ ہو یا دیگر تمام ملازمین، سب کو خراجِ تحسین اور سلام پیش کرتا ہوں۔ یہ تمام لوگ انتہائی خوش اخلاق، باکردار، مہربان اور انسانیت کی خدمت کے جذبے سے سرشار نظر آتے ہیں اور دن رات مریضوں کی خدمت میں مصروف رہتے ہیں۔ خاص طور پر ڈاکٹر آصف ظریف صاحب کو بھی دل کی گہرائیوں سے خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں، جو نہ صرف ایک بہترین ڈاکٹر بلکہ انتہائی اچھے، خوش اخلاق، نرم مزاج اور انسان دوست شخصیت کے مالک ہیں۔ ایسے ڈاکٹر اور ایسا خدمت گزار عملہ واقعی ہمارے معاشرے کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ کارڈیالوجی ہسپتال ڈیرہ غازی خان کے تمام ڈاکٹرز، سرجنز اور عملے کو ہمیشہ سلامت رکھے، انہیں مزید ہمت، طاقت اور انسانیت کی خدمت کا جذبہ عطا فرمائے۔ ہم سب عوام کی طرف سے آپ تمام لوگوں کو دل سے سلام پیش کرتے ہیں اور آپ کی بے لوث خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ❤️🙏

30/08/2026

⚠️ تونسہ شریف کے غریب عوام کے مسائل آخر کب حل ہوں گے؟ غریب کی روزی، بزرگ کی عزت اور صاف پانی ہمارا حق ہے! ⚠️

میں، پیر اقبال ماڑھا، چند روز قبل اپنے علاج کے سلسلے میں ڈیرہ غازی خان گیا تھا۔ میں دل کا مریض ہوں اور ڈاکٹروں کے مشورے کے مطابق مجھے دل کا بائی پاس آپریشن کروانا ہے۔ علاج سے واپسی پر مجھے معلوم ہوا کہ جس جگہ میں بیٹھنے کے لیے ایک بینچ استعمال کرتا تھا، وہ وہاں سے اٹھا لی گئی تھی۔ میں نے متعلقہ افراد سے رابطہ کیا تو کہا گیا کہ واپسی پر آپ کو بینچ دے دی جائے گی، لیکن بینچ نہ ملی۔ اس کے بعد میں نے اس معاملے میں اسسٹنٹ کمشنر صاحب سے ملاقات کی اور اپنی پریشانی بیان کی، جس پر اے سی صاحب نے مجھے کہا: "میں موقع دیکھوں گا۔" اس کے بعد ایک نامعلوم شخص وہ بینچ میرے پاس پہنچا گیا، لیکن بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ یہ بینچ دراصل سرکاری عملے یا کمیٹی کے استعمال کی تھی، جس پر کمیٹی کے لوگ بیٹھتے تھے۔ میرا مقصد کسی سرکاری چیز پر اپنا حق جتانا نہیں بلکہ صرف یہ جاننا ہے کہ یہ پورا معاملہ کیا تھا اور اگر بینچ سرکاری استعمال کی تھی تو اسے وہاں سے اٹھانے اور پھر نامعلوم شخص کے ذریعے میرے تک پہنچانے کی حقیقت کیا ہے؟ میں متعلقہ حکام سے درخواست کرتا ہوں کہ اس معاملے کی وضاحت کی جائے تاکہ کوئی غلط فہمی باقی نہ رہے۔

لیکن تونسہ شریف میں مسئلہ صرف ایک بینچ کا نہیں ہے۔ اصل مسئلہ یہاں کے غریب، مزدور، ریڑھی بان اور محنت کش طبقے کے ساتھ ہونے والے رویوں کا ہے۔ عوام میں یہ شکایات بھی سامنے آتی رہی ہیں کہ پیرافورس کی کارروائیوں کے دوران بعض غریب افراد اور ریڑھی بانوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایک واقعے کے بارے میں بتایا گیا کہ تقریباً 65 سالہ ایک بزرگ ریڑھی بان کو مغرب کے قریب اپنی ریڑھی کے معاملے میں سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا، اور مبینہ طور پر اس کی ریڑھی کو کھینچتے ہوئے پیرافورس تھانے لے جایا گیا۔ اگر یہ واقعہ درست ہے تو متعلقہ حکام کو اس کی مکمل تحقیقات کرنی چاہیے، کیونکہ ایک عمر رسیدہ شخص جو اپنی روزی روٹی کے لیے ریڑھی لگاتا ہے، اس کے ساتھ قانون کے نفاذ کے دوران بھی عزت، احترام اور انسانیت کا رویہ ہونا چاہیے۔ ہم قانون کے خلاف نہیں ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ شہر میں نظم و ضبط قائم ہو، تجاوزات کا خاتمہ ہو اور قانون سب کے لیے برابر ہو، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا قانون نافذ کرنے کا طریقہ ایسا ہونا چاہیے کہ سب سے زیادہ بوجھ غریب مزدور اور ریڑھی بان پر پڑے؟ مختلف شہریوں کی جانب سے یہ شکایات بھی سامنے آتی ہیں کہ بعض غریب افراد پر پانچ پانچ ہزار اور دس دس ہزار روپے تک کے جرمانے عائد کیے جاتے ہیں۔ اگر کسی نے قانون کی خلاف ورزی کی ہے تو قانونی کارروائی ضرور ہونی چاہیے، لیکن ایک دیہاڑی دار مزدور کے حالات، اس کی آمدنی اور اس کے بچوں کے گھر کے خرچے کو بھی سامنے رکھنا چاہیے۔ ایک ایسا شخص جو صبح سے شام تک محنت کرکے اپنے بچوں کے لیے روٹی کماتا ہے، اس کے لیے پانچ یا دس ہزار روپے کا جرمانہ بہت بڑی سزا بن جاتا ہے۔ تونسہ شریف کے لوگ زیادہ تر محنت کش، مزدور، ریڑھی بان، چھوٹے دکاندار اور دیہاڑی دار افراد ہیں۔ ان کے چھوٹے چھوٹے کاروبار ہی ان کے گھروں کا واحد سہارا ہیں، اس لیے انتظامیہ اور متعلقہ اداروں سے گزارش ہے کہ قانون کے نفاذ کے ساتھ ساتھ انسانیت اور غریب کی مجبوری کو بھی ضرور دیکھا جائے۔

اور جب ہم تونسہ شریف کے عوامی مسائل کی بات کرتے ہیں تو ایک انتہائی اہم مسئلہ پینے کے پانی کا بھی ہے۔ شہریوں کی جانب سے بار بار یہ تشویش ظاہر کی جاتی ہے کہ شہر کے بعض سرکاری بوروں کے پانی کا TDS لیول تقریباً 800 یا اس سے زیادہ ہے۔ یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے اور اس کی فوری، غیر جانبدار اور سائنسی بنیادوں پر جانچ ہونی چاہیے۔ صرف TDS کی بنیاد پر پانی کو زہریلا قرار دینا درست نہیں، کیونکہ پانی کی مکمل جانچ میں جراثیم، آرسینک، فلورائیڈ، نائٹریٹ، بھاری دھاتیں اور دیگر نقصان دہ اجزاء کا ٹیسٹ بھی ضروری ہوتا ہے۔ لیکن اگر واقعی متعدد سرکاری بوروں کے پانی میں TDS کی مقدار بہت زیادہ ہے تو یہ عوامی صحت کے حوالے سے ایک اہم تشویش ضرور ہے۔ تونسہ شریف کا غریب آدمی مہنگا منرل واٹر خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتا، وہ سرکاری بوروں اور پانی کی سپلائی پر انحصار کرتا ہے۔ اس لیے میرا حکومت پنجاب، ضلعی انتظامیہ، اسسٹنٹ کمشنر تونسہ شریف اور متعلقہ اداروں سے بھرپور مطالبہ ہے کہ تونسہ شریف کے تمام سرکاری بوروں کے پانی کا فوری اور مکمل لیبارٹری ٹیسٹ کروایا جائے، ہر بور کی رپورٹ عوام کے سامنے جاری کی جائے، اور جہاں پانی معیار کے مطابق نہ ہو وہاں فوری طور پر صاف اور محفوظ پانی کا متبادل انتظام کیا جائے۔

ہماری آواز کسی فرد یا ادارے کے خلاف ذاتی دشمنی نہیں، بلکہ عوامی مسائل کے حل کے لیے ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ غریب کی عزت محفوظ ہو، بزرگوں کے ساتھ احترام سے پیش آیا جائے، مزدور کی روزی روٹی کا خیال رکھا جائے، جرمانوں اور کارروائیوں میں انصاف ہو، اور تونسہ شریف کے عوام کو صاف اور محفوظ پینے کا پانی فراہم کیا جائے۔

آج سوال صرف ایک بینچ کا نہیں، صرف ایک ریڑھی بان کا نہیں اور صرف پانی کا بھی نہیں۔

سوال یہ ہے کہ تونسہ شریف کے غریب عوام کی آواز آخر کب سنی جائے گی؟

کیا ایک مزدور کو عزت ملے گی؟

کیا ایک بزرگ ریڑھی بان کے ساتھ انسانیت سے پیش آیا جائے گا؟

کیا غریبوں پر عائد بھاری جرمانوں کی شکایات کا جائزہ لیا جائے گا؟

کیا تونسہ شریف کے سرکاری بوروں کے پانی کا مکمل ٹیسٹ ہوگا؟

اور کیا عوام کو ان کے بنیادی حقوق دیے جائیں گے؟

میں متعلقہ حکام، اسسٹنٹ کمشنر تونسہ شریف، ضلعی انتظامیہ اور پیرافورس کے ذمہ دار افسران سے مؤدبانہ اپیل کرتا ہوں کہ ان تمام معاملات کا سنجیدگی سے نوٹس لیا جائے، حقائق سامنے لائے جائیں اور غریب عوام کے مسائل کا فوری اور منصفانہ حل نکالا جائے۔

ہم قانون کے خلاف نہیں، ناانصافی کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔
ہم اداروں کے خلاف نہیں، بلکہ عوام کے حقوق کی بات کر رہے ہیں۔
ہم چاہتے ہیں قانون بھی ہو، نظم بھی ہو، لیکن ساتھ انصاف، انسانیت اور غریب کی عزت بھی ہو۔

تونسہ شریف کے عوام کو صاف پانی دو،
غریب مزدور کو عزت دو،
بزرگوں کا احترام کرو،
اور قانون کو سب کے لیے برابر رکھو۔

✍️ پیر اقبال ماڑھا









#پیرافورس



















30/08/2026

‎غور سے سنو اور شیعر کرو‎ Part 14

30/08/2026

غور سے سنو اور شیعر کرو

Address

Taunsa
32100

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when peer Iqbal mara posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share